قومی و بین الاقوامی ایشوز

بلوچستان میں علاقائی مداخلت

بھارت کے حالیہ بیانات اور رویّے پر پاکستان حسبِ ضرورت جواب دیتا آیا ہے تاہم اس رویّے پر وہ سنجیدہ حلقے بھی شدید اعتراضات کررہے ہیں جو کہ ماضی میں بھارت کے حامی رہے ہیں اور وہ پاکستان کے اندر رہتے ہوئے پاکستانی ریاست کی بعض پالیسیوں کے مستقل ناقد رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو گروپ یا عناصر بلوچستان کی تحریک یا علیٰحدگی کی بات کررہے ہیں ان کے حملوں اور مزاحمت کا سلسلہ اب فورسز اور ریاست کے علاوہ دوسری قومیتوں اور عوام تک بھی تیزی سے پھیلنے لگا ہے۔ ماضی میں یہ گروپ پنجابی باشندوں کوچن چن کر نشانہ بناتے رہے۔ بعد میں انہوں نے دو مذہبی گروہوں کی معاونت سے شیعہ اور ہزارہ کمیونٹی کونشانہ بنانا شروع کیا۔ اور اب مشاہدے میں آرہا ہے کہ یہ لوگ صوبے کے دوسرے بڑے لسانی گروپ یعنی پشتونوں کو بھی نشانہ بنانے پر اُتر آئے ہیں۔ پشتونوں کو نشانہ بنانے کا معاملہ دیگر کے مقابلے میں سنگین بھی ہے اور خطرناک بھی کیونکہ دیگر گروپ یا حلقے اقلیت میں تھے۔ ان کی قوت بھی کم تھی اور ان کی نمائندہ سیاسی تنظیموں کا اثر رسوخ بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ پشتونوں کا معاملہ بالکل برعکس ہے۔ ہمیں دشمنوں کے اس وار کو سمجھنا ہوگا۔ دشمن ہمیں کئی فرنٹ پر اندرونی لڑائیوں میں الجھانا چاہتا ہے۔ حب الوطنی اور دور اندیشی کا تقاضہ ہے کہ دشمن کی اِن چالوں کو سمجھا جائے اور ان کا مقابلہ کیا جائے۔

بلوچستان کے ایشونے عالمی اور علاقائی سطح پر پھر سے ایک نئی اور بڑی بحث کو جنم دے رکھا ہے۔ بعض پڑوسی ممالک اب کھلے عام اعتراف کرنے لگے ہیں کہ وہ بلوچستان اور فاٹا میں نہ صرف یہ کہ مداخلت کرتے آئے ہیں بلکہ پاکستان کو ’’سبق‘‘ سکھانے کے لئے وہ دوسرے طریقے آزمانے کے علاوہ دہشت گردی کی کھلی معاونت بھی کرتے رہے ہیں۔

قیاس ہے کہ بعض دوسرے ایشوز کی طرح ریاست پاکستان نے بلوچستان کے ساتھ بھی امتیازی رویہ رکھا ہوگا اور عوام کی شکایات یقیناًبجا ہوں گی۔ یہ بھی درست ہے کہ ریاست نے اس صوبے کے حقوق اور اختیارات کے معاملے پر اپنے فرائض پورے نہیں کئے اور محرومی کا احساس بڑھتا گیا۔ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام دیگر صوبوں کے مقابلے میں بے پناہ مشکلات اور مسائل کا شکار ہیں۔ یہ وہ خدشات اور زمینی حقائق ہیں جن کا بلوچستان کے عوام اور سیاسی لیڈر شپ کے علاوہ پاکستانی ریاست کے ذمہ داران متعدد بار خود بھی اعتراف کرچکے ہیں اور ان خدشات کے خاتمے کے لئے سیاسی‘ انتظامی اور معاشی اقدامات کئے بھی جارہے ہیں تاہم اس حقیقت کو بھی سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ محرومیوں سے نمٹنے یا نکلنے کے لئے بندوق اٹھانا کہاں تک درست اور سود مند ہے اور یہ بھی کہ سیاسی جدوجہدکی بجائے تشدد اور بغاوت کا راستہ اختیار کرکے غیر ملکی معاونت حاصل کرنا کہاں تک مناسب ہے؟

خان عبدالولی خان اپنی کتاب’’باچا خان اور خدائی خدمت گاری‘‘ میں ایک جگہ پر رقمطرازہیں ’’مینگل صاحب اور بزنجوسے حیدر آباد جیل میں ملاقات ہوئی تو ہم نے بلوچستان کے معاملے پر بہت تلخ باتیں کیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ بھٹو کے ہاتھوں حکومت کی برطرفی اور فوج کے آپریشن کے باعث بلوچوں میں بغاوت کے آثار پیدا ہو رہے ہیں اور ان کے لئے عوام اور بلوچ جوانوں کو مطمئن کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ وہ مزاحمت کی بات کررہے ہیں اور مجھے کہہ رہے تھے کہ اس کام میں‘ میں ان کا ساتھ دوں۔ میں نے ان پر واضح کیا کہ ریاست‘ بھٹو اور فوج سے مجھے بھی شکایات ہیں۔ بھٹو نے آپ کی حکومت ختم کی تو میں نے مفتی محمود سے استعفیٰ دلوادیا اور حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آیا مگر میں مزاحمت یا بغاوت کی بجائے سیاسی جدو جہد پر یقین رکھنے والا ہوں آپ کو بھی یہی راستہ اپنا نا چاہئے۔ وہ میرے دلائل سے مطمئن نہیں ہوئے تو میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ لوگ بغاوت کا راستہ اپنائیں گے تو ہم ایک ساتھ نہیں چل سکیں گے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ جمہوری طریقے سے ہی حقوق کا حصول ممکن ہے۔ بغاوت کے نتیجے میں آپ کو کچھ ہاتھ نہیں آئے گا اور آپ کی جدو جہد بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ ان پر میری باتوں کا پھر بھی اثر نہیں ہوا تو میں نے کہا کہ آج کے بعد ہمارے راستے الگ ہو رہے ہیں۔ آپ اپنی راہ لیں اورمیں اپنے راستے پر چلوں گا۔‘‘

خان عبدالولی خان اس زمانے میں پشتونوں اور بلوچوں کے سیاسی رہبر اور پاکستا ن کی قومی اسمبلی میں قائدِحزبِ اختلاف تھے۔ اس ملاقات کے بعد بلوچ اور پشتون قوم پرست ایک دوسرے سے الگ ہوئے۔ ولی خان کا موقف کہاں تک درست تھا وہ وقت نے ثابت کیا کیوں کہ عطاء اﷲ مینگل نہ صرف یہ کہ بعد کے ادوار میں بغاوت کی بجائے سیاسی عمل کا حصہ بن گئے بلکہ ان کے صاحبزادے بلوچستان کے وزیرِاعلیٰ بھی رہے اور وہ اب بھی تمام تر شکایات اور خدشات کے باوجود جمہوری جدوجہد کا حصہ ہیں۔

صوبہ بلوچستان کے موجودہ وزیرِاعلیٰ ڈاکٹر مالک بھی گزشتہ روز ایک ٹی وی شو میں کہہ چکے ہیں کہ سال1985 تک وہ بھی دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ مزاحمتی سیاست کے حامی تھے تاہم ایک طویل مشاورت کے بعد انہوں نے سیاسی عمل کا حصہ بننے کا راستہ اپنایا اور وہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہی بہترین راستہ تھا۔ 1970 کے تلخ واقعات کے بعدکے حالات کا اگر جائزہ لیا جائے تو ثابت یہ ہوتا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا سیاسی‘ اقتصادی اور تعلیمی میدانوں میں بلوچستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ بہتر رہا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اسی صوبے کے قوم پرستوں نے تشدد اور مزاحمت کی بجائے جمہوریت کا راستہ اپنایا۔

جس دور میں بلوچ مزاحمت کررہے تھے اس دور میں افغان حکمرانوں کے ساتھ ولی خان اور دیگر قوم پرست لیڈرز کے انتہائی قریبی مراسم تھے۔ افغان حکمرانوں کی خواہش تھی کہ وہ پشتونستان کے ایشو پر نیشنل عوامی پارٹی اور بعد کی این ڈی پی‘ اے این پی کی پھر پور حمایت اور معاونت کریں تاہم ولی خان اور دیگر رہنما اس پیشکش کو مسلسل ٹھکراتے رہے اور یہ انکار ڈاکٹر نجیب کے دور تک قائم رہا۔ اگر پشتون قوم پرست چاہتے تو بلوچوں کے مقابلے میں ان کے پاس زیادہ امکانات تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔ پشتون قوم پر ستوں خصوصاً ولی خان کے بھارت کے ساتھ بھی قریبی مراسم تھے۔ وہاں سے بھی وہ مختلف اوقات میں مدد حاصل کرسکتے تھے۔ انہوں نے مراسم تو قائم رکھے اور الزامات بھی برداشت کئے مگر وہ سیاسی‘ ریاستی معاونت کے حصول سے گریز اں رہے اور وفاق کے سیاسی عمل کا حصہ بنے رہے۔ اس پسِ منظر کا مقصد یہ بتانا ہے کہ دیگر ممالک بوجوہ اس قسم کی پارٹیوں کو استعمال کرنے کی ایک مسلسل پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور پاکستان بھی متعدد مما لک میں ایساکرتا آیا ہے تاہم یہ محروم قومیتوں اور ان کی لیڈر شپ پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرتے ہیں اور تاریخ سے کیا سبق سیکھتے ہیں۔

پاکستان طویل عرصے سے شکایت کررہا ہے کہ بھارت افغانستان کے راستے پاکستانی مفادات کے خلاف مسلسل مداخلت کررہاہے۔ ایک عرصے تک اس شکایت کو محض ایک الزام اور دباؤ کا حربہ قرار دیا جاتا رہا ‘ تاہم سال 2000 کے بعد اس شکایت کو ان حلقوں نے بھی سنجیدگی سے لینا شروع کیا جو کہ پاکستانی ریاست کو ہر دور میں شک کی نظر سے دیکھتے آئے ہیں۔

بلوچستان میں1947 کے بعد اب تک تین بڑے‘ جبکہ نو چھوٹے‘ آپریشن کرائے گئے ہیں۔ ریاست قلات کے معاملے پر جب1948 میں آپریشن کیا گیا تو اس وقت کے چھوٹے صوبوں کی قیادت نے اس پر اعتراضات کئے۔1970 کی دہائی میں بھٹو صاحب نے10 فروری 1973 کے عراقی سفارت خانے پر مارے گئے چھاپے کے نتیجے میں آپریشن کا آغاز کیا تو اس پر بے حد احتجاج ہوا اور پورا سیاسی عمل متاثر ہوا۔ مشرف صاحب کے دور میں بگٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو بھی اکثریتی سیاسی قوتوں بشمول مسلم لیگ(ن)‘ پیپلز پارٹی نے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا اور سیاسی مفاہمت کی کوششیں بھی کی گئی۔ اس آپریشن کے باعث مشرف صاحب اور ان کے بعض وزراء کو عدالتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مین سٹریم سیاسی قوتیں بلوچستان کے ساتھ کھڑی رہیں اور اس کے حق کے لئے مؤثر آواز اٹھاتی رہیں۔ دوسرے صوبوں کے علاوہ صوبہ پنجاب سے بھی بڑے پیمانے پر اس کے حق میں آواز اٹھتی رہی۔ اور شاید اسی عمل کا نتیجہ ہے کہ پاکستان بھر سے بلوچوں کے حقوق کے معاملے میں ان کے حق میں بات کی جاتی رہی ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے یہ بات بہت دلچسپ ہے کہ فاٹا کے حالات ماضی قریب میں اس کے مقابلے میں زیادہ خراب رہے۔ محرومیاں بھی زیادہ رہیں اور نقصانات کی شرح بھی زیادہ رہی۔ تاہم ملک بھر سے جو آواز بلوچستان کے لئے اٹھائی گئی وہ فاٹا کے حق میں نہیں اٹھی۔ اسی طرح جو سپیس عالمی اور علاقائی قوتوں کو بعض علیٰحدگی پسندوں نے بلوچستان میں فراہم کی وہ ان کو فاٹا میں فراہم نہیں کی گئی۔ بلوچ میسنگ پرسنز کا بہت شور مچایا گیا تاہم یہ حقیقت بہت ہی کم لوگوں کو معلوم ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے لاپتہ افراد کی تعداد بھی کئی گنا ہے اس کے باوجود اس صوبے میں علیٰحدگی کی کوئی تحریک یا بات نہیں چلی ۔محرومیوں سے نمٹنے کے لئے تشدد اور غیر ملکی مدد کا راستہ اپنایا جائے شاید اس پسِ منظر کے باعث زیادہ مناسب اور درست نہیں لگ رہا۔

بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کا آغاز ستر کی دہائی میں ہی ہوا تھا۔ بعض بلوچ قوم پرست افغانستان میں کھلے عام تربیتی کیمپ چلاتے رہے اور یہ سلسلہ1980 تک جاری رہا۔ یہی وہ بنیادی سبب تھا جس کو کاؤنٹر کرنے کے لئے اسی عرصے کے دوران پاکستان نے بعض جہادی افغان کمانڈروں کی معاونت اور سرپرستی کا آغاز کیا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ماحول میں تبدیلی آگئی۔ تاہم وہ بھارت‘ برطانیہ‘ افغانستان اور بعض دوست ممالک سے مدد لیتے رہے اور اس کا کھلے عام اعتراف کرتے آئے ہیں۔

ایک بلوچ لیڈر برہمداغ بگٹی نے 2008 میں پاکستانی چینل پر کھلے عام کہا کہ وہ بھارت‘ ایران‘ افغانستان اور برطانیہ سے مدد لیتا آیا ہے اور لیتا رہے گا۔ سال2010 میں مری قبائل کے ایک کمانڈر نے بھی ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی تحریک مزاحمت کو عالمی قوتوں اور علاقائی پڑوسیوں کی معاونت حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ قبل تک برہمداغ بگٹی کے پاس کابل میں تین گھر تھے۔ وہاں ان کو مکمل آزادی رہی۔ سال 2012 کے آخرمیں افغان صدر حامد کرزئی نے سلیم صافی کو دیئے گئے انٹر ویو میں خود اعتراف کیا کہ وہ پاکستان کی ’’مداخلت‘‘ کی پالیسی کے ردعمل میں ان عناصر کی حمایت کررہے ہیں جو پاکستان پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

ایف سی بلوچستان کے سابق سربراہ میجر جنرل عبیداﷲ خٹک نے جون2012 میں بتایا کہ افغانستان کے اندر 24 ایسے تربیتی مراکز موجود ہیں جہاں بلوچوں اور دیگرجنگجوؤں کو پاکستان کے خلاف تربیت دی جا رہی ہے یا سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ یہ دعوے محض پاکستان یا افغانستان کے حکام تک محدود نہیں رہے بلکہ امریکی حکام بھی ایسی باتیں کرتے رہے۔ اگست 2013 کے دوران امریکہ کے خصوصی نمائندے جیمز ڈوبین نے کہا کہ بھارت کے ذریعے بلوچستان میں مداخلت کے معاملے پر پاکستان کی تشویش بے جا نہیں بلکہ حقیقت کے قریب ہے۔ وکی لیکس کی دستاویزات سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ بھارت بلوچستان اور فاٹا میں ایک پالیسی کے تحت مسلسل مداخلت کرتا آیا ہے۔ وکی لیکس کی دستاویزات میں تو پاکستان کے بعض دوست ممالک کے علاوہ امریکہ اور برطانیہ کی مداخلت کے ثبوت بھی بتائے گئے ہیں۔

حال ہی میں امریکہ کے سیکرٹری دفاع چک ہیگل نے آن دی ریکارڈ خود اعتراف کیا کہ بھارت پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہا ہے جس پرامریکہ کو بھی تشویش لاحق ہے ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران بعض بھارتی لیڈروں اور وزراء نے کھلے عام کہنا شروع کر دیا ہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ بڑھانے اور اس سے انتقام لینے کے لئے طالبان‘ بلوچوں اور دیگر عناصر کو استعمال کرنے سمیت دوسرے اقدامات بھی کررہے ہیں۔ بھارت کے حالیہ بیانات اور رویّے پر پاکستان حسبِ ضرورت جواب دیتا آیا ہے تاہم اس رویّے پر وہ سنجیدہ حلقے بھی شدید اعتراضات کررہے ہیں جو کہ ماضی میں بھارت کے حامی رہے ہیں اور وہ پاکستان کے اندر رہتے ہوئے پاکستانی ریاست کی بعض پالیسیوں کے مستقل ناقد رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو گروپ یا عناصر بلوچستان کی تحریک یا علیٰحدگی کی بات کررہے ہیں ان کے حملوں اور مزاحمت کا سلسلہ اب فورسز اور ریاست کے علاوہ دوسری قومیتوں اور عوام تک بھی تیزی سے پھیلنے لگا ہے۔ ماضی میں یہ گروپ پنجابی باشندوں کوچن چن کر نشانہ بناتے رہے۔ بعد میں انہوں نے دو مذہبی گروہوں کی معاونت سے شیعہ اور ہزارہ کمیونٹی کونشانہ بنانا شروع کیا۔ اور اب مشاہدے میں آرہا ہے کہ یہ لوگ صوبے کے دوسرے بڑے لسانی گروپ یعنی پشتونوں کو بھی نشانہ بنانے پر اُتر آئے ہیں۔ پشتونوں کو نشانہ بنانے کا معاملہ دیگر کے مقابلے میں سنگین بھی ہے اور خطرناک بھی کیونکہ دیگر گروپ یا حلقے اقلیت میں تھے۔ ان کی قوت بھی کم تھی اور ان کی نمائندہ سیاسی تنظیموں کا اثر رسوخ بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ پشتونوں کا معاملہ بالکل برعکس ہے۔ ہمیں دشمنوں کے اس وار کو سمجھنا ہوگا۔ دشمن ہمیں کئی محاذوں پر اندرونی لڑائیوں میں الجھانا چاہتا ہے۔ حب الوطنی اور دور اندیشی کا تقاضہ ہے کہ دشمن کی اِن چالوں کو سمجھا اور ان کا مقابلہ کیا جائے۔

بلوچستان میں کرائے گئے سرویز‘ تحقیق اور مردم شماری سے اخذ کئے گئے نتائج کچھ یوں بنتے ہیں کہ صوبے میں پشتونوں کی آبادی چالیس فیصد سے زائد ہے ان کے مقابلے میں ہزارہ (شیعہ) براہوی اور دیگر اقلیتوں کی کل آبادی10 سے12 فیصد تک بنتی ہے۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے70 فیصد بڑے شہر اتفاقاً آبادی کے تناسب سے پشتونوں کے شہر ہیں۔ بلوچ شہروں کی بجائے پہاڑوں اور دیہاتوں میں رہتے ہیں۔ تمام پشتون علاقے جغرافیائی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں اور پشتونوں کی تین بڑی نمائندہ پارٹیاں ملک کی سیاست میں بہت فعال ہیں اس وقت پشتون بیلٹ کی نمائندگی پخونخوامیپ‘ جے یو آئی (ف) اور اے این پی کے ہاتھوں میں ہے۔ تینوں پارٹیاں ملکی سیاست کی اہم قوتیں ہیں۔ محمود خان اچکزئی کی پختونخوا میپ صوبے کی حکومت کی شیئر ہولڈر ہے اور گورنر بھی اس پارٹی سے ہے۔ اگر صوبے میں گڑبڑ کرائی جاتی ہے یامداخلت ہو رہی ہے۔ تو اس کی زد میں یہ پارٹی بھی آتی ہے۔ اور شاید اسی کانتیجہ کہ تاریخ میں پہلی بار اچکزئی کی پارٹی حالیہ کارروائیوں کی نہ صرف کھل کر مزاحمت کررہی ہے بلکہ اس کو علاقائی مداخلت کی اطلاعات اور ثبوتوں پر بھی سخت تشویش ہے۔

یہ پارٹی ماضی میں خطے کے اندر ہر بیرونی ہاتھ کے علاوہ افغانستان کے اندر پاکستان کی مبینہ مداخلت کی مخالف رہی ہے۔ ایسے میں اس کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ سیاسی عمل اور حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود ان ایشوز سے لاتعلق رہے۔ یہ تینوں پارٹیاں اپنی پالیسیوں کے تناظر میں قوم پرست قومیں ہیں اور ان مذہبی گروپوں کی مخالفت میں جو کہ بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں مذہبی طور پر فرقہ ورانہ منافرت پھیلا رہے ہیں صوبے کی بیوروکریسی میں دوسرا شیئر بھی پشتونوں کا ہے جبکہ یہ کسی بھی قوت یا گروپ کو عوامی سطح پر چیلنج کرنے کی صلاحیت اور قوت سے بھی مالامال ہیں۔ ایسی صورت میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جو قوتیں فورسز‘ ریاست اور اقلیتوں کے بعد پشتونوں کو نشانہ بنانے نکل آئی ہیں ان کو شدید ترین مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے اور یہ مزاحمت ان علاقائی اور عالمی قوتوں کو بھی لپیٹ میں لے گی جو کہ حملہ آوروں کی پشت پناہی کرتی آئی ہیں کیونکہ ’کے پی کے‘ کے مقابلے میں بلوچستان کی نمائندہ پارٹیاں زیادہ منظم اور متحرک ہیں۔

اقلیتی بلوچ علیحدگی پسندوں‘ بھارتی وزراء‘ امریکی حکام اور عالمی میڈیا کے اعتراضات کے بعد یہ حقیقت سب پر واضح ہوگئی ہے کہ بلوچستان کی محرومیوں کی آڑ میں بعض پڑوسی بلوچستان میں کھلی مداخلت پر اُتر آئے ہیں اور وہ مزید مداخلت کی اعلیٰ سطحی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ ایسے میں مزید ثبوتوں اور مباحث کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جو لوگ اور گروپ ریاست اور معاشرے کے لئے ناسور بنے ہوئے ہیں ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جائیں‘ صوبوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے‘ سیاسی نظام کو مضبوط کیاجائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر قیمت پر شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

پشتون اور بلوچ قیادت کے درمیان حقوق اور اختیارات کے معاملے پر تعلقات ویسے بھی کچھ مثالی نہیں ہیں۔ اب اگر حملوں کی نوبت بھی آتی ہے تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اور ریاست کے علاوہ بلوچوں پر بھی دباؤ بڑھے گا۔ نئی حکومت کے قیام اور عسکری قیادت کی پالیسیوں کے بعد بلوچستان کے مجموعی حالات میں جو بہتری آئی ہے اس نے صوبے کی سیاست اور معیشت پر کافی بہتر نتائج مرتب کئے ہیں۔ اکنامک کاریڈوراور بعض دیگر منصوبوں سے بھی صوبے کو بہت فوائد ملنے کی توقع ہے۔ جبکہ پاپولر عوامی پارٹیوں اور پاکستان اسٹیبلیشمنٹ کے قریبی تعلقات بھی بہتر مستقبل کی نوید دے رہے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے بہتر تعلقات اور بعض دیگر اقدامات کے بھی صوبے اور ملک کی سیاست پر اچھے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایسے میں بھارت یا کسی بھی غیر ملکی مداخلت کے خلاف یکجہتی ناگزیر ہے اور ایسا ہو بھی رہا ہے۔

وفاق کے حالیہ بجٹ میں بلوچستان کی ترقی کے لئے 84 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سندھ کے لئے192 جبکہ خیبرپختونخوا کے لئے 124ارب روپے ہیں۔ اگر آبادی کے فرق اور تناسب کو سامنے رکھاجائے تو ثابت یہ ہوتا ہے کہ بلوچستان کے لئے رکھا گیابجٹ دیگر صوبوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے یہ اچھے اشارے ہیں اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ بعض قوتیں بدلتے بہتر حالات کو پھر سے خراب کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوگئی ہیں۔ اقلیتی بلوچ علیٰحدگی پسندوں‘ بھارتی وزراء‘ امریکی حکام اور عالمی میڈیا کے اعتراضات کے بعد یہ حقیقت سب پر واضح ہوگئی ہے کہ بلوچستان کی محرومیوں کی آڑ میں بعض پڑوسی بلوچستان میں کھلی مداخلت پر اُتر آئے ہیں اور وہ مزید مداخلت کی اعلیٰ سطحی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ ایسے میں مزید ثبوتوں اور مباحث کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جو لوگ اور گروپ ریاست اور معاشرے کے لئے ناسور بنے ہوئے ہیں ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جائیں‘ صوبوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے‘ سیاسی نظام کو مضبوط کیاجائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر قیمت پر شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

وقت آگیا ہے کہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے ساتھ ساتھ کسی اور کو اپنے معاملات میں بھی کسی قیمت پر مداخلت کرنے نہ دی جائے اور ان قوتوں کا خاتمہ کیا جائے جو پاکستان کے حقیقی چہرے اور معاشرے کو مسخ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اگر ایسا کیا گیا تو پاکستان کے عوام کسی بھی چیلنج کو قبول کرنے کے لئے اپنی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے اور یہ ایک نئے دورکا آغاز ہوگا۔

یہ تحریر 288مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP