قومی و بین الاقوامی ایشوز

افغانستان کا متوقع منظر نامہ

ایک بات پرتقریباً سبھی کا اتفاق ہے کہ آئندہ چند مہینے اس جنگ زدہ ملک کے لئے بہت اہم ہیں۔ ان مہینوں کے دوران طالبان ‘ داعش کے عزائم بھی سامنے آجائیں گے اور ریاست اورپڑوسیوں کے ساتھ تعلقات‘ نئی صف بندی کے خدوخال بھی کافی حد تک واضح ہو جائیں گے۔ اس صورت حال میں افغان قیادت کو پاکستان کے ساتھ مخاصمت سے احتراز اور مثبت رابطوں کو قائم رکھنا چاہئے۔

پڑوسی ملک افغانستان گزشتہ مہینے سے دہشت گردوں کے شدید ترین حملوں کی زد میں ہے۔ عالمی اورعلاقائی ماہرین اور تجزیہ کاروں کو پہلے ہی سے اندازہ اور پختہ یقین تھا کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد ایک آزمائشی اور بڑی جنگ کا آغاز ہوگا۔ اس رائے یا پیش گوئی کے متعدد اسباب تھے۔ تاہم بڑی وجہ یہ تھی کہ امریکیوں سمیت متعدد دوسری متعلقہ قوتوں کو بھی ہمیشہ یہ خدشہ رہا کہ افغان فورسز غیرملکی افواج کے بغیر طالبان کا مقابلہ نہیں کر پائیں گی۔ یہ خالصتاً فورسز کی صلاحیت‘ مورال اور ڈسپلن کا معاملہ تھا۔ اگست کے مہینے میں افغانستان کے دارالحکومت کابل کو جس تواتر اور شدت کے ساتھ نشانہ بنایا گیا اس کے باعث افغان حکومت کے علاوہ بعض وہ طاقتیں بھی تشویش میں مبتلا ہوگئیں جنہوں نے افغانستان میں فوجی‘ سیاسی اور اقتصادی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔

افغانستان میں ویسی ہی صورت حال پیدا ہوگئی جیسے کہ پاکستان کے اندر بیت اﷲ محسود کی موت کے بعد قیادت اور تنظیم کے معاملے پر ٹی ٹی پی میں پیدا ہوگئی تھی۔ حکیم اﷲ محسود نے اپنی دھاک بٹھانے کے لئے نہ صرف یہ کہ تنظیم کے اندر سخت رویے اورطریقے اپنائے بلکہ انہوں نے خود کو لیڈر ثابت کرنے کے لئے پاکستان کے اندر حملوں کی شدت اور تعداد میں بھی بے تحاشا اضافہ کیا۔ یہ کسی بھی گوریلا تنظیم یا لیڈر کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور طریقہ واردات بھی کہ وہ اندرونی اختلافات سے توجہ ہٹانے کے لئے مخالف فریق (ریاست وغیرہ) پر حملے تیز کریں۔

یہ درست ہے کہ اس عرصہ کے دوران افغان فورسز نے متعدد علاقوں میں آپریشن کرکے لاتعداد طالبان کو ٹھکانے بھی لگایا تاہم کابل کے بارے میں متعدد بار خدشہ پیدا ہونے لگا کہ شاید یہ حکومت کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے اور ساتھ ساتھ یہ خطرہ بھی بڑھنے لگا کہ حالات کہیں 90 کی دہائی کی طرح کسی اور جانب تو نہیں جارہے؟

یہ سوال یا خدشہ بہرحال بے جا نہیں تھا کہ اگر کابل کی سکیورٹی کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا تو دیگر علاقوں کی کیا صورت اور حالت بنے گی؟ خدشات اور سوالات بے جا اس لئے بھی نہیں کہ کابل اور افغانستان ایسے حملے، اور ایسے حالات، ماضی میں دو تین بار دیکھ اور بھگت چکے ہیں۔ عوام بھی موجودہ حالات میں 80 اور 90 کی دہائی میں جانا قطعاً پسند نہیں کریں گے۔

جنیوا معاہدے کے بعد جب روسی افواج افغانستان سے نکل گئیں تو مجاہدین اور نجیب اﷲ حکومت کے درمیان کئی ماہ تک ایسی خونریز جنگ لڑی گئی کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ کابل میں ایک اہم فوجی سربراہ کی جانب سے مسلح بغاوت ہوئی۔ اس کے بعد جلال آباد پر حملے ہوئے اور حالات اس قدر سنگین ہو گئے کہ نجیب اﷲ کو بحیثیت صدر خود کئی روز تک جلال آباد میں بیٹھناپڑا ملک کا پورا سسٹم ہل کر رہ گیا اور حالات بگڑتے گئے۔ یہ سلسلہ نجیب اﷲ کے استعفیٰ تک جاری رہا۔ ان کے بعد مجاہد کمانڈرز اور گروپ آپس میں ایسے لڑ پڑے کہ عوام پچھلی جنگ کو بھول گئے۔ نہ کوئی شہر محفوظ رہا اور نہ کوئی علاقہ۔اس سلسلے کا انجام1994-95 کے دوران طالبان کے ظہور اور پھیلاؤ کی صورت میں نکلا۔ طالبان کو کس نے سپورٹ کیا اور انہوں نے قوت کیسے پکڑی‘ اس بحث سے قطع نظر حقیقت یہی ہے کہ طالبان کا ظہور مجاہدین کی آپس کی مسلسل لڑائیوں اور بدامنی کا ایک نتیجہ تھا۔ اور یہی وجہ تھی کہ عوام کے علاوہ بعض روشن خیال اور قوم پرست لوگوں نے بھی ابتدا میں طالبان تحریک کی حمایت کی۔ان میں متعدد اہم پشتون نیشنلسٹ لیڈر بھی شامل تھے۔ طالبان کی آمد کے بعد لمبے عرصے تک شمالی اتحادکے لیڈروں اور طالبان کا جھگڑا چلتا رہا اور ایک بار پھر کابل میدانِ جنگ بنا رہا۔ نائن الیون کے بعد پھر سے ایک خونریز دَور کا آغاز ہوا کیونکہ طالبان عالمی فورسز کی آمد کے باوجود لڑتے رہے۔ سال 2004 تک وہ نسبتاً خاموش رہے تاہم اس کے بعدبتدریج ان کی سرگرمیاں بڑھتی گئیں اور حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا۔ یہ درست ہے کہ 2002 کے بعد افغانستان کافی پُرامن رہا تاہم ماہرین اس کا کریڈٹ انٹرنیشنل فورسز کو دیتے رہے اور ان کا مشترکہ موقف یہ رہا کہ عالمی افواج کے انخلاء کے بعد افغان فورسز کا اصل امتحان شروع ہوگا اور یہ کہ اصل اور فیصلہ کن جنگ2015 یا اس کے بعد شروع ہوگی۔

داعش کے لئے ملا عمر کی غیر موجودگی اور طالبان کے باہمی اختلاف کے باعث مقبولیت کا راستہ کھل چکا ہے۔ بہت سے ہارڈ کور افغان کمانڈر پہلے ہی سے داعش کے ساتھ مل چکے ہیں۔ اگر اختلافات کے باعث افغان طالبان کی تحریک ٹوٹ جاتی ہے تو مزید لوگ ابوبکر بغدادی کے رومانس اور داعش کی مقبولیت کے باعث اس میں شمولیت کو وقت کا تقاضا سمجھیں گے اور یوں افغان عوام اور عالمی اتحادیوں کو مجاہدین ‘ طالبان اور القاعدہ کے بعد اب داعش کو بھی ’’بھگتنا‘‘ پڑے گا۔

اس لئے یہ کہنا کہ حالیہ کشیدگی خلافِ توقع ہے‘ درست نہیں ہوگا۔ فرق صرف یہ ہے کہ اگست کا مہینہ مسلسل حملوں کے باعث کچھ زیادہ ہی بھاری ثابت ہوا اور دارالحکومت کابل کو بار بار نشانہ بنانے کی طالبان پالیسی نے متعلقہ حلقوں کی تشویش میں کچھ زیادہ اضافہ کیا۔

2015ء کے آغاز سے طالبان کے حملوں میں اضافہ ریکارڈ ہوا تھا۔ پہلی دفعہ یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ 40,30 برسوں کے دوران شمالی افغانستان پر بڑے حملے شروع ہوگئے۔ امر واقعہ یہی ہے کہ شمالی افغانستان سوویت جنگ سے لے کر موجودہ دور تک بوجوہ جنگ کے شعلوں سے محفوظ رہا۔2001 کے بعد بھی حالت یہ تھی کہ شمال کے متعدد صوبوں میں انٹر نیشنل ٹروپس کی تعینانی کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی اور لوکل فورسز اور عوام ان علاقوں کی سکیورٹی ڈیل کرتے رہے۔ تاہم 2015 کے دوران طالبان ‘ حزبِ اسلامی اور آخر میں نئی قوت داعش نے اپنے اپنے طور پر شمالی افغانستان کو نشانہ بنانا شروع کیااور حالات تیزی سے ابتری کا شکار ہونے لگے۔ اس رجحان یا رویے نے ریاست کو پریشان کرکے رکھ دیا کیونکہ شمالی افغانستان کو سنٹرل ایشیا کے گیٹ وے کی حیثیت حاصل ہے اور طالبان کی موجودگی یا حملوں نے دوسروں کے علاوہ سنٹرل ایشین ریاستوں‘ روس اور بعض ملٹی نیشنلز کو بھی بڑی تشویش اور خوف میں مبتلا کردیا۔ اسی عرصے کے دوران داعش نے سرحدی صوبہ ننگرہار (انٹری پوائنٹ) میں جنگ چھیڑ دی۔ انہوں نے نہ صرف افغان فورسز پر حملے کئے بلکہ افغان طالبان کے ساتھ بھی ان کی جھڑپیں ہوئیں۔ حالات اس قدر خراب ہوگئے کہ افغان حکومت کو باضابطہ طور پر امریکیوں کی تیکنیکی اور فوجی معاونت لینی پڑی اور ڈرون کو حرکت میں لایا گیا۔

ہم نے محسوس کیا کہ افغان لیڈر شپ خصوصاً اشرف غنی اور عبداﷲ عبداﷲ کی ٹیموں کے درمیان واضح تناؤ اور اختلافات موجود ہیں جو ریاستی معاملات پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ لگ یہ رہا ہے کہ لیڈر شپ کو ان خطرات اور خدشات کا ادراک نہیں جو افغانستان کو درپیش ہیں۔

یہ سلسلہ جاری تھا کہ 22 جون کو افغان پارلیمنٹ کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی گئی جبکہ ملک کے تقریباً12 سے16 صوبوں میں حملے شروع ہوگئے۔ ان حملوں سے ثابت ہوا کہ افغان طالبان ‘ داعش اور دیگر کی سرگرمیاں آدھے افغانستان تک پھیل گئی ہیں۔ یہ بہت خطرناک حالات کی نشاندہی تھی۔

7جولائی2015 کا دن جاری منظر نامے کا ایک اہم دن ثابت ہوا۔ اس روز مری( پاکستان) میں افغان طالبان اور افغان حکومت کا پہلا باضابطہ مذاکراتی عمل ہوا۔ فریقین کے اس عمل کو پاکستان‘ چین اور امریکہ سمیت دنیا بھر کی معاونت اور حمایت حاصل تھی۔ یہ ایک بڑا قدم تھا۔ اس کے فوراً بعد ملا عمر سے منسوب ایک ایسا بیان جاری ہوا جس نے توقعات اور امیدوں میں مزید اضافہ کیا۔ تاہم صورتحال اس وقت پھر سے خراب ہوگئی جب29 جولائی کو انکشاف ہوا کہ طالبان کے سپریم کمانڈر اور امیر المومنین ملا محمدعمر سال2013 میں انتقال کرگئے ہیں اور بعض دیگر کمانڈرز ان کی تحریک کو ان کے نام اور ایجنڈے سے چلاتے آرہے تھے۔ طالبان نے جب اس خبر کی تصدیق کی تو اس سے ایک نئے منظر نامے نے جنم لیا۔ بہت سے حلقے پہلے ہی سے بوجوہ دعویٰ کررہے تھے کہ ملا محمدعمر نہیں رہے تاہم باقاعدہ اعلان اور تصدیق نے نہ صرف طالبان میں بے چینی پیدا کی بلکہ اس تمام عمل کو بھی متاثر کیا جو مذاکرات اور رابطوں کی صورت میں ایک مثبت جانب بڑھ رہا تھا۔ موت کی تصدیق کے بعد اگر ایک طرف طالبان تحریک ایک مضبوط قیادت سے محروم ہوگئی تو دوسری طرف نئی قیادت کے معاملے پر شدید اختلافات بھی سامنے آنے لگے۔

اگر افغان حکومت نے پلاننگ کا مظاہرہ کیا تو ملا عمر کی غیر موجودگی اور باہمی اختلافات کی موجودہ صورت حال سے فائدہ بھی اٹھایا جاسکتا ہے کیونکہ حملوں کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ طالبان کمزور ہوگئے ہیں ۔

افغانستان میں ویسی ہی صورت حال پیدا ہوگئی جیسے کہ پاکستان کے اندر بیت اﷲ محسود کی موت کے بعد قیادت اور تنظیم کے معاملے پر ٹی ٹی پی میں پیدا ہوگئی تھی۔ حکیم اﷲ محسود نے اپنی دھاک بٹھانے کے لئے نہ صرف یہ کہ تنظیم کے اندر سخت رویے اورطریقے اپنائے بلکہ انہوں نے خود کو لیڈر ثابت کرنے کے لئے پاکستان کے اندر حملوں کی شدت اور تعداد میں بھی بے تحاشا اضافہ کیا۔ یہ کسی بھی گوریلا تنظیم یا لیڈر کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور طریقہ واردات بھی کہ وہ اندرونی اختلافات سے توجہ ہٹانے کے لئے مخالف فریق (ریاست وغیرہ) پر حملے تیز کریں۔

افغان طالبان کے نئے امیر یا کمانڈر ملا اختر منصور نے بھی یہی طریقہ اپنایا اور حملوں کی تعداد میں بے حد اضافہ کیا۔ 30 جولائی کو ان کی تعیناتی کا اعلان ہوا جو کہ 2 اگست کو کنفرم کرایا گیا 4 اگست سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں حملوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ 6 اگست سے لے کر11 اگست تک کابل کو آٹھ بار نشانہ بنایا گیا۔ جبکہ متعدد دیگر صوبوں میں بھی حملے کرائے گئے۔ اس دوران چار دن ایسے بھی آئے جب ہر روز کابل کو ایک یا دو بار نشانہ بنایا گیا۔ یہ صورت حال ان حلقوں کے لئے بہت باعثِ تشویش ثابت ہوئی جنہوں نے 1995-96 میں طالبان کے کابل میں داخلے کا منظر نامہ دیکھ رکھا تھا۔ ان حملوں نے تلخ واقعات کی یادیں تازہ کرکے بہت منفی نفسیاتی اثر ڈالا۔ ان مسلسل حملوں میں زیادہ تر مواقع پر فورسز خصوصاً پولیس اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی اپنائی گئی۔ تاہم تین چار حملوں کے نتیجے میں درجنوں شہری خصوصاً بچے اور خواتین بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹے۔ افغان طالبان کے اندرونی اختلافات سے توجہ ہٹانے کے لئے یہ حربہ استعمال کرنا‘ ماہرین کی نظرمیں نئی مگر متنازعہ قیادت کے لئے لازمی تھا تاہم اپنے ٹارگٹس تک پہنچنا اور کابل جیسے شہر کو مفلوج بنانا یقیناًاختلاف زدہ طالبان کی صلاحیت اور قوت کا ایک عملی مظاہرہ بھی ثابت ہوا۔ اب سوال یہ ہے کہ ملا عمر کے انتقال کے بعد افغانستان اور خطے کا منظر نامہ کیا ہوگا؟

اس پر دو سے زائد آراء موجود ہیں تاہم ایک بات کافی واضح ہے کہ افغانستان کا معاملہ پھر سے بہت پیچیدہ ہوچکا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ طالبان کی گروپ بندی سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوگا اور اس پس منظر کے باعث مجوزہ مذاکراتی عمل بھی شدید متاثر ہوگا۔ اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ مرکزیت یا لیڈر شپ کی محبوبیت نہ ہونے کے باعث مختلف گروپ ایک منظم تنظیمی ڈھانچے کے فیصلے کے پابند نہیں رہیں گے اور اس کے نتیجے میں وہ والی صورت حال بھی بن سکتی ہے جو ٹی ٹی پی کے معاملے پر ماضی قریب میں پاکستان کے اندربنی تھی۔ جب ایک مرکزی گروپ مذاکرات کرنے میں مصروف تھا اور دو تین گروپ اس کی مخالفت میں حملے کروا رہے تھے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ داعش کے لئے ملا عمر کی غیر موجودگی اور طالبان کے باہمی اختلاف کے باعث مقبولیت کا راستہ کھل چکا ہے۔ بہت سے ہارڈ کور افغان کمانڈر پہلے ہی سے داعش کے ساتھ مل چکے ہیں۔ اگر اختلافات کے باعث افغان طالبان کی تحریک ٹوٹ جاتی ہے تو مزید لوگ ابوبکر بغدادی کے رومانس اور داعش کی مقبولیت کے باعث اس میں شمولیت کو وقت کا تقاضا سمجھیں گے اور یوں افغان عوام اور عالمی اتحادیوں کو مجاہدین ‘ طالبان اور القاعدہ کے بعد اب داعش کو بھی ’’بھگتنا‘‘ پڑے گا۔

ایک تھیوری یہ ہے کہ اگر افغان حکومت نے پلاننگ کا مظاہرہ کیا تو ملا عمر کی غیر موجودگی اور باہمی اختلافات کی موجودہ صورت حال سے فائدہ بھی اٹھایا جاسکتا ہے کیونکہ حملوں کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ طالبان کمزور ہوگئے ہیں اور قیادت کے فقدان کے باعث ان کو مختلف طریقوں سے اور بھی کمزور کیا جاسکتا ہے۔ ایسے باخبر ماہرین کی بھی کمی نہیں جن کا خیال ہے کہ افغانستان میں تین چار ماہ تک ایک بڑی اور فیصلہ کُن جنگ ہونے جارہی ہے۔ ایسے ماہرین اس پسِ منظر میں پاکستان‘ ایران اور امریکہ کے کردار اور انڈر سٹینڈنگ کو بھی بہت اہمیت دے رہے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ اگر پاکستان افغانستان اور امریکہ نے مشترکہ حکمتِ عملی اپنائی تو حالات میں غیر متوقع تبدیلی آجائے گی اور افغانستان کے علاوہ خطے کا مستقبل بھی محفوظ ہوجائے گا تاہم اس کے لئے وہ افغان ریاست کے اہم رہنماؤں کی باہمی انڈر سٹینڈنگ کو بھی ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ مستقبل کا منظر نامہ جنوری2016 کے بعد ہی واضح ہوگا۔ دوسری طرف اس تمام تر معاملے میں مذاکراتی عمل کے مستقبل کا سوال بھی بہت اہم ہے۔

ممتاز دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیر (ر) سعد محمد نے رابطے پر بتایا کہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔ اس میں پیش رفت اس وقت تک مشکل ہے جب تک طالبان کے باہمی تنازعات حل نہیں ہو جاتے اور ملا اختر منصور ایک مضبوط مقام حاصل نہیں کرپاتے۔ ان کے مطابق تشدد اور جنگ کا سلسلہ غالباً اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ایک بامقصد مذاکراتی عمل کا باقاعدہ آغاز نہیں ہو جاتا۔ ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ امن کے قیام کے کافی روشن امکانات موجود ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اب افغان عوام امن چاہتے ہیں اور ان کی اس ضرورت اور خواہش کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جبکہ علاقائی قوتیں بھی اب ایسا ہی چاہتی ہیں۔ سینئر صحافی سلیم صافی کو خدشہ ہے کہ داعش بوجوہ ان حالات سے فائدہ اٹھا سکتی ہے اور اگر داعش کا راستہ نہیں روکا گیا تو یہ تنظیم پاکستان کو بھی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ان کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی کو تیز کیا جائے اور مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔

بحیثیت پاکستانی مجموعی طور پر ہم نے افغانستان کے اندر کوئی اجنبیت محسوس نہیں کی تاہم عوام کے چہروں پر اپنے حال اور مستقبل کے حوالے سے خوف اور بے یقینی قدم قدم پر دیکھی۔ ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ افغان حکومت وہ کچھ ڈیلیور نہیں کررہی جس کی عوام اور افغانستان کو ضرورت ہے۔

ملا عمر کے انتقال کے بعد نئے منظر نامے سے پیدا شدہ صورت حال کے تناظر میں افغانستان کے مستقبل اور پاکستان کے کردار کے حوالے سے افغان قیادت‘ سکالرز اور سیاسی حلقے کیا سوچ رہے ہیں اس کے بارے میں حال ہی میں کابل میں دس روز تک قیام کرنے والی سینئر صحافی فرزانہ علی کچھ یوں کہتی ہیں: ’’ہم نے کابل میں دس روز گزارے۔ ابتدائی چھ روز کافی اطمینان اور امن سے گزرے تاہم ملا عمر اور جلال الدین حقانی کی موت کی خبروں کے بعد حالات اچانک خراب ہوگئے۔ ایک روز میں چھ بار کابل کو نشانہ بنایا گیا۔ میں نے دورانِ سروے محسوس کیا کہ عوام خوف اور عدمِ تحفظ کی حالت سے دو چار ہیں۔ ان کو اپنے معاشی مستقبل کی بھی فکر لاحق ہے کیونکہ فارن ٹروپس کی واپسی کے بعد نہ صرف یہ کہ امداد کی شرح کم ہوگئی ہے بلکہ بے شمار ترقیاتی پراجیکٹس بھی بندہوگئے ہیں۔ ہم نے سنا ہے کہ افغانی اپنے حالات کی زیادہ تر ذمہ داری اب بھی پاکستان پر ڈال رہے ہیں۔ یہ ان کے لئے ایک نفسیاتی مسئلہ بن گیا ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ پاکستان ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کررہا۔ ہم نے محسوس کیا کہ افغان لیڈر شپ خصوصاً اشرف غنی اور عبداﷲ عبداﷲ کی ٹیموں کے درمیان واضح تناؤ اور اختلافات موجود ہیں جو ریاستی معاملات پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ لگ یہ رہا ہے کہ لیڈر شپ کو ان خطرات اور خدشات کا ادراک نہیں جو افغانستان کو درپیش ہیں۔ ہم پنج شیر گئے تو ہمارا اندازہ تھا کہ وہاں پاکستان مخالف جذبات زیادہ ہوں گے‘ تاہم وہ ہمارے ساتھ بہت شفقت اور احترام سے پیش آئے۔ اس کے برعکس کابل میں پاکستان مخالف جذبات کافی زیادہ تھے‘ ہم نے یہ بھی محسوس کیا کہ بعض طاقتور افغان حلقے اب ڈیورنڈ لائن کے ایشو کو پھر سے اٹھانے کی کوشش میں ہیں۔ ہم نے ان کو بتایا کہ اس رویے سے نہ صرف یہ کہ آپ کو نقصان ہوگا بلکہ تعلقات میں بہتری کے امکانات بھی متاثر ہوں گے۔ بحیثیت پاکستانی مجموعی طور پر ہم نے افغانستان کے اندر کوئی اجنبیت محسوس نہیں کی تاہم عوام کے چہروں پر اپنے حال اور مستقبل کے حوالے سے خوف اور بے یقینی قدم قدم پر دیکھی۔ ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ افغان حکومت وہ کچھ ڈیلیور نہیں کررہی جس کی عوام اور افغانستان کو ضرورت ہے۔‘‘ افغانستان میں کیا تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں اس کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ بہت سے عوامل‘ خدشات اور کرداروں نے اس ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے تاہم ایک بات پرتقریباً سبھی کا اتفاق ہے کہ آئندہ چند مہینے اس جنگ زدہ ملک کے لئے بہت اہم ہیں۔ ان مہینوں کے دوران طالبان ‘ داعش کے عزائم بھی سامنے آجائیں گے اور ریاست اورپڑوسیوں کے ساتھ تعلقات‘ نئی صف بندی کے خدوخال بھی کافی حد تک واضح ہو جائیں گے۔ اس صورت حال میں افغان قیادت کو پاکستان کے ساتھ مخاصمت سے احتراز اور مثبت رابطوں کو قائم رکھنا چاہئے۔

یہ تحریر 275مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP