ہمارے غازی وشہداء

بریگیڈیئر شمس الحق قاضی

قائداعظمؒ فوج کی اہمیت سے کماحقہ‘ آگاہ تھے۔ درحقیقت برصغیر میں پہلی ملٹری اکیڈمی ڈیرہ دون کا قیام قائداعظمؒ کی کاوشوں کا ہی نتیجہ تھا۔ انہوں نے پاکستان کے لئے علیحدہ فوج کا مطالبہ کیا اور مشترکہ فوج کی تجویز رد کر دی
ممتاز دانشور‘ تحریک پاکستان کے نامور کارکن‘ بریگیڈیئر ریٹائرڈ شمس الحق قاضی 5مئی 1920 کو مری کے علاقے بڑوہا میں پیدا ہوئے۔انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے 1943میں پرائیویٹ گریجویشن کرنے کے بعد 21مئی 1944کو انڈین ملٹری اکیڈمی ڈیرہ دون سے کمیشن حاصل کیا۔ 1946-47 میں جی ایچ کیو نئی دہلی کے سٹاف میں تقرری کے دوران روزنامہ ڈان کے لئے سپیشل ملٹری کارسپانڈنٹ (Correspondent)رہے اور اس کے علاوہ کالم نویسی بھی کی۔آپ تحریکِ پاکستان اور قیامِ پاکستان کے چشم دید گواہ بھی ہیں۔ آپ مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ بھی رابطے میں رہے۔ گزشتہ دنوں ہماری بریگیڈیر صاحب سے ایک تفصیلی نشست ہوئی جس میں انہوں نے قیامِ پاکستان اور اس سے متعلقہ موضوعات پرروشنی ڈالی ۔اِس کی مختصر روداد ہلال کے قارئین کی دلچسپی کے لئے پیشِ خدمت ہے۔
بچپن بچپن میں ہمارے گاؤں میں خاص قسم کی محفلیں ہوا کرتی تھیں۔ جن میں ’’جنگ نامہ‘‘ پڑھا کرتے تھے۔ وہ کہانیاں سچی تھیں یا افسانوی مگر وہ اثر ضرور چھوڑ جاتی تھیں۔ لامحالہ اس کا اثر مجھ پر بھی ہوا‘ جس طرح بچوں سے پوچھا جائے کہ بڑے ہو کر کیا بنو گے تو کوئی کہتا ہے کہ ڈاکٹر اور کوئی پائلٹ بننے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔ اسی طرح میرا بھی شوق تھا کہ فوجی بنوں وردی پہنوں۔ میں نے اپنی تعلیم کی تکمیل کی اور فوج میں چلا گیا۔ میں جب فوج میں ملازم ہوا تھا تو دوسری جنگ عظیم کا زمانہ تھا۔ بطور کیڈٹ 1943میں بھرتی ہوا تھا۔ ملٹری اکیڈمی ڈیرہ دون میں جانے سے پہلے دو ماہ کی خصوصی ٹریننگ‘ آفیسر ٹریننگ سکول (OTS) لاہور میں ہوا کرتی تھی۔ جو آج کل FCکالج کی بلڈنگ ہے۔ کیپٹن سرور شہید نشانِ حیدر OTSلاہور میں میرے ساتھ ٹریننگ پلاٹون میں صوبیدار محمد سرور بھی تھے جو کمشن حاصل کر کے ٹریننگ لینے آئے تھے۔ وہ چونکہ جونیئر کمشنڈ آفیسر رینک سے آئے تھے اس لئے انہیں فوج کے سارے اسرارورموز اور معاملات کا علم تھا۔ ہم سارے کیڈٹ ان سے بہت کچھ سیکھتے رہے۔ ان کی وجہ سے ہی ہماری پلاٹون اپنے کیڈر میں نمایاں رہی تھی۔ وہی صوبیدار محمد سرور بعدمیں کیپٹن سرور شہید نشان حیدر کے نام سے دوام پا گئے۔ وہ پاکستان کے پہلے نشانِ حیدر تھے۔ وہ میرے بہت اچھے دوست تھے‘ وہ بہت سادہ اور اقبال کے صحیح معنوں میں مرد مومن تھے۔ ان کی شہادت 27جولائی 1948کو کشمیر کے سیکٹر اُوڑی کے مقام پر ہوئی تھی۔ وہ ان دنوں پنجاب رجمنٹ کی سیکنڈ بٹالین کے کمپنی کمانڈر تھے۔ 3مئی 1956کو جب پاکستان کے پہلے صدر سکندر مرزا نے افواج پاکستان اور سول اعزازات کی منظوری دی تو کیپٹن سرور شہید کی شجاعت کے پیش نظر پاکستان کا سب سے بڑا عسکری ایوارڈ نشان حیدر کا اعلان ہوا۔ 3جنوری 1961کو اس وقت کے صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے شہید کی اہلیہ محترمہ کرم جان کو وہ ایوارڈ دیا۔ ڈیرہ دون اکیڈمی اور قائداعظم بات چونکہ ڈیرہ دون کی ہو رہی تھی اور میں نشان حیدر کی تاریخی حقیقت کی طرف نکل گیا تھا۔ میری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ نئی نسل کو زیادہ سے زیادہ ان کے ماضی سے آگاہ کیا جائے۔ میری خواہش ہے کہ میں یہاں ڈیرہ دون کے تاریخی قیام اور اس کی ضرورت سے بھی آگاہ کرتا چلوں۔ برِصغیر میں اس وقت کیڈٹ اکیڈمی کی ضرورت کا مطالبہ قائداعظم نے کیا تھا۔ اس تمام سلسلے میں میرے عظیم قائد کی مساعی قابل تحسین اور لائق ستائش ہے۔ بلکہ یوں کہنا

s1

زیادہ قرین انصاف ہو گا کہ ڈیرہ دون کی فوجی اکیڈمی قائداعظم کے کہنے پر ہی بنی تھی۔ عام مشہور ہے کہ فوج نے تحریک پاکستان میں کچھ نہیں کیا اور پاکستان صرف وکلاء نے بنایا ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں فوج ہمیشہ سے ایک مقتدر قوت کے طور پر نمایاں رہی ہے۔ قائداعظم فوج کی اہمیت سے بہت زیادہ آگاہ تھے۔ انہیں اس ادارے کا شدت سے احساس تھا۔ لیکن ہمارے سیاسی دانشوروں نے اپنی یادداشتوں میں کہیں بھی فوج کے تحریک پاکستان میں کردار کا ذکر نہیں کیا۔ پہلی جنگ عظیم میں انگریزوں کو فوجی افرادی قوت کی اشد ضرورت تھی۔ انہوں نے انڈین گورنمنٹ سے اس سلسلے میں کہا کہ ہندوستان کے سیاسی راہنماؤں سے رابطہ کر کے انہیں کہیں کہ وہ لوگوں کو فوج میں بھرتی پر تیار کریں۔ جب قائداعظم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے انگریز سرکار کو صاف جواب دے دیا تھا۔ 1917میں دہلی میں اسمبلی کے بجٹ سیشن میں خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا تھا کہ ہم آپ کو افرادی قوت کس طرح دیں۔ آپ ہمارے لوگوں پر اعتماد کریں تو تب ہم بھی ایسا سوچیں‘ ہم اپنے نوجوانوں کو محض گن فوڈر(fodder) کے طور پر لڑنے کے لئے بھیجتے رہیں۔ ہمارے افسران کیوں نہیں لئے جاتے۔ اس میں شک نہیں کہ پہلی جنگ عظیم کے موقع پر فوج میں ہندوؤں‘ گورکھوں‘ سکھوں اور دیگر غیرمسلم قوموں کی اکثریت ہو گئی تھی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ہندو اکثر اس قسم کی قراردادیں منظور کیا کرتے تھے کہ ہندوؤں کو فوج میں بھرتی کیا جائے۔ ان کا محرک تلک بی جی ہوا کرتا تھا۔ تلک بی جی کی خواہش تھی کہ جب انگریز ہندوستان خالی کر دے گا تو بعد میں فوج کنٹرول سنبھال لے گی اور اگر فوج میں ہندو کمیونٹی اکثریت میں ہو گی تو مسلمان حسب حال غلام ہی رہیں گے اور ہندو لالہ راج کرے گا۔ تلک بی جی کی پوشیدہ خواہشات سے قائداعظم بخوبی آگاہ تھے مگر اس کے باوجود مسلمان نوجوانوں کو صرف مرنے کے لئے فوج میں بھیجنے کے حق میں نہیں تھے۔بہرطور قائداعظم کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں فرنگیوں نے ہامی بھر لی تھی کہ وہ جنگ عظیم اول کے خاتمے پر قائداعظم کے اس مطالبے پر ضرور عمل کریں گے۔ ادھر وارکونسل جس کا پہلا اجلاس دلی میں اور دوسرا بمبئی میں ہوا تھا ‘میں تلک بی جی ہندوؤں کی بھرتی پر زور دیتا رہا۔ فروری 1925میں ’’انڈین سینڈھرسٹ‘‘ کمیٹی بنائی گئی۔ جس کے سربراہ سراینڈریوسکین تھے۔ جو ان دنوں چیف آف جنرل سٹاف انڈین آرمی تھے۔ اس کمیٹی کے ممبران میں قائداعظم بھی تھے۔ اس انڈین سینڈھرسٹ کمیٹی نے ایک سب کمیٹی بھی بنائی تھی جس کے سربراہ قائداعظم تھے۔ وہ جب کمیٹی کے دیگر ممبران کے ہمراہ یورپ کے دورے پر گئے کہ دوسرے ملکوں کی کیڈٹ اکیڈمیوں کا جائزہ لیا جا سکے تو برطانیہ کے سوا دیگر تمام ملکوں کی تائید انہیں حاصل ہوئی کیونکہ سینڈھرسٹ اکیڈمی نے ڈیرہ دون انڈین ملٹری اکیڈمی کی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کالے افسروں کے ماتحت گورے کام نہیں کریں گے۔ باوجود اس قسم کی

مخالفت کے قائداعظم پختہ عزم کے ساتھ اپنے مطالبے پر ڈٹے رہے۔ بالآخر 1927میں جب قائداعظم نے ایک بار پھر اسمبلی خطاب میں بھرپور انداز میں یورپ کے دورے کی روداد سناتے ہوئے سینڈھرسٹ والوں کے رویے پر تنقید کی اور اس کے بعد جب ایک قرارداد مذمت منظور کی گئی تو پھر انڈین ملٹری اکیڈمی ڈیرہ دون کے قیام کی منظوری کے سوا انگریز سرکار کے پاس کوئی چارہ کار نہیں رہا تھا۔ ان حالات کی روشنی میں قائدِاعظم کی فوج سے والہانہ محبت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ ’’ ڈیرہ دون‘‘ اکیڈمی سے ’’کالے‘‘ فوجی افسروں کا پہلا بیچ 1934 میں پاس آؤٹ ہوا تھا جس میں محمدموسیٰ خان بھی شامل تھے جو بعد میں9 اکتوبر1958 کو پاکستان آرمی کے ڈپٹی کمانڈر انچیف اور پھر28 اکتوبر 1958 یعنی بیس دن بعد کمانڈر انچیف ہوئے۔ وہی جنرل موسیٰ خان 18ستمبر 1966 کو مغربی پاکستان کے گورنر بنائے گئے تھے اور زندگی کے آخری دنوں میں 30 دسمبر1985کو انہیں بلوچستان کا گورنر بنایا گیا تھا اور گورنر ہی کی حیثیت سے وہ12 مارچ1991 کو جہانِ فانی سے عدم سدھار گئے تھے۔

s2

بہر طور اس طرح اس خطے میں مقامی لوگ فوج میں کمشن لینے لگے وگر نہ مسلمانوں کو صرف صوبیدار میجر تک ہی ترقی دی جایاکرتی تھی۔ جسے وائسرائے کمشن کہا جاتا تھا اور کنگ کمشن یعنی سیکنڈ لفٹین ہمیشہ انگریز ہی ہوا کرتا تھا۔ فوج اور سیاست فوج کے حوالے سے ہی قائداعظمؒ کی ایک بات بتانا چاہتا ہوں کہ جب آزادی کی تحریک زوروں پر تھی تو انگریزوں نے مسلمانوں سے کہا کہ اپنی قوت بتائیں کیونکہ اس سے پہلے کانگریس ہی دعویدار تھی کہ تمام پارٹیوں کی وہی ترجمان ہے۔ خیر قائداعظم ؒ نے مسلمانوں کی اکثریت اور دیگر ضروری معاملات چلانے کے لئے ملاقاتیں شروع کردیں۔ مسلم لیگ کے پاس فنڈز کی کمی تھی جس پرقائدِاعظم محمدعلی جناحؒ نے اخبارات اور دیگر ذرائع سے اپیل کرا دی کہ مسلم لیگ کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کرائیں۔ میں نے اپنے تمام دوستوں‘ فوج کے ساتھیوں سے سو سو روپے اکٹھے کئے اور وہ ساری رقم ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین کو دے دی جو انہوں نے بینک میں جمع کراکے رسید دے دی لیکن ہم میں سے ایک فوجی افسر نے جن کا تعلق ملتان کے ایک زمیندار گھرانے سے تھا‘ انہوں نے مجھے سو روپیہ دینے کی بجائے اپنے بینک کو لکھا کہ ہر ماہ ان کے اکاؤنٹ سے ایک سو روپیہ قائدِاعظم کو بھیج دیا کریں۔ بینک نے ارشاد کی تعمیل تو کی مگر قائدِاعظمؒ نے اپنے سیکرٹری کے۔ ایچ خورشید سے کہا کہ کیپٹن ابراہیم ترین کو سو روپیہ واپس بھیج دو ساتھ ایک خط لکھا جس میں درج تھا کہ ’’آپ کے جذبے کی صداقت اپنی جگہ‘ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ سرکاری ملازمین کو سیاست سے دُور رہنا چاہئے۔‘‘
قائدِاعظم کی فوجی افسران سے ملاقات تحریکِ پاکستان کی ہر روز بدلتی صورتِ حال میں فیصلے تبدیل ہوتے رہتے تھے۔میں چونکہ بطور ایک کالم نگار علمی و ادبی فوجی اور سیاسی حلقوں میں جانا جاتا تھا اس لئے قائدِاعظم نے مجھ سے کہا کہ چند سینئر مسلمان فوجیوں کی لیاقت علی خان سے ملاقات کراؤں‘ اس سلسلے کی پہلی ملاقات میرٹھ کے ایریا کمانڈر بریگیڈیر محمداکبر خان رنگروٹ کی تھی جو دیسی( مسلم اور غیر مسلم) افسروں میں سب سے سینئر تھے۔ میرے وہ کمانڈر بھی تھے اور دوست بھی۔ ویسے بھی وہ وقت اس قسم کی باتوں کا نہیں تھا۔ مقصد بلند تھا‘ پاکستان کا حصول مطمع نظر تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب میں جی ایچ کیو کے مسلمان افسران کا ایک وفد لے کر قائدِاعظمؒ کی خواہش پر ان سے ملنے گیا۔ وفد کی قیادت میں کررہا تھا حالانکہ میں اُس وقت کیپٹن تھا اور وفد میں کرنل بریگیڈیر کے عہدے کے لوگ شامل تھے۔ ان دنوں چونکہ جی ایچ کیو میں لیفٹیننٹ کرنل کو ہل جو کشمیری پنڈت اور نہرو کا رشتہ دار تھا‘ جو بعد میں لیفٹیننٹ جنرل ہوگیا تھا‘ باقاعدہ ایک خفیہ تنظیم قائم کررکھی تھی۔ خیرکرنل کوہل کا خیال تھا کہ جب انگریز چلے جائیں گے تو ہم مارشل لا لگا دیں گے اور قبضہ کرلیں گے۔ اس سارے منصوبے کو پنڈت نہروکی حمایت حاصل تھی۔ سو میں نے بھی اس کا توڑ کرتے ہوئے

جب میں اپنا یہ وفد لے کر 10 اورنگزیب روڈ دہلی قائدِاعظم کی رہائش گاہ پر پہنچا تو گفتگو ہوئی۔ تبادلہ خیالات میں زیادہ تر قائدِاعظم ہی بولتے رہے کہ ’’میں گورنمنٹ سے کہہ رہا ہوں کہ ہر چیز تقسیم ہوگی‘ صرف ملک ہی نہیں ہوگا بلکہ فوج بھی تقسیم کرنی ہوگی۔‘‘
s3نوجوان مسلمان افسروں کی ایک تنظیم بنائی ہوئی تھی۔ اس کا پہلا اجلاس سکواڈرن لیڈر سعیدالدین کے گھر ہوا تھا بعد میں اجلاس بھی تقریباً وہیں ہوتے رہے۔ اس تنظیم میں معروف دانشور کرنل گلزار جو بعد میں بریگیڈیرہوئے‘ محمدخان جنجوعہ‘ میجر سلیمان جو بعد میں بریگیڈیر ہوئے اور پاک آرمی کے پہلے سگنل آفیسرانچیف بھی‘ نیول لیفٹیننٹ شیخ مقبول الٰہی جو بعد میں بری فوج میں آگئے تھے اورکرنل مقبول الٰہی درویش کے نام سے جانے گئے‘ ان کے علاوہ صفدر ملک‘ کرنل غنی اور میجر ڈاکٹر محمود احمد‘ وہ ڈاکٹر آف فلاسفی تھے‘ فوج میں آنے سے پہلے علی گڑھ یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے۔ فیلڈمارشل محمدایوب خان کا شمار ان کے شاگردوں میں ہوتا تھا۔ خیر جب میں اپنا یہ وفد لے کر 10 اورنگزیب روڈ دہلی قائدِاعظم کی رہائش گاہ پر پہنچا تو گفتگو ہوئی۔ تبادلہ خیالات میں زیادہ تر قائدِاعظم ہی بولتے رہے کہ ’’میں گورنمنٹ سے کہہ رہا ہوں کہ ہر چیز تقسیم ہوگی‘ صرف ملک ہی نہیں ہوگا بلکہ فوج بھی تقسیم کرنی ہوگی۔‘‘ دوران گفتگو ذرا سا موقع ملا تو میں نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ جناب ہم جو یہاں جی ایچ کیو کے فوجی افسران موجود ہیں یا ہمارے دیگر ساتھی جو جہاں کہیں بھی ہے‘ ہم سب پاکستان کے حصول کے لئے آپ کے حکم پر خون کا آخری قطرہ تک نچھاور کردیں گے‘ آزادی کی اس جد وجہد میں آپ ہمیں کسی طور بھی اپنے سے الگ نہیں پائیں گے۔ اس قسم کے جذبات کے اظہار کے بعد میرا خیال تھا قائدِاعظمؒ میری گفتگو کی داد دیں گے‘ سراہیں گے کہ مجھے آپ کی محبت اور جذبوں کا احساس ہے‘ مجھے آپ سے اسی قسم کے خلوص کی توقع ہے‘ آپ بہت اچھے لوگ ہیں‘ لیکن قائدِاعظمؒ نے میری توقعات کے بالکل برعکس اور سپاٹ جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت اگر آپ لوگ ایسا نہیں کریں گے تو پھر ہمیشہ کے لئے غلام بن جاؤ گے۔ قائداعظمؒ کے وہ الفاظ ہو بہو آج بھی مجھے یاد ہیں کہ If you don\'t do it, you will go under slavery یوں کہنا ہوگا کہ وقت کی مناسبت سے قائدِاعظم کی سوچ میں تبدیلی آچکی تھی۔ قائدِاعظم سمجھتے تھے کہ جب تک فوج حاصل نہیں ہوتی اس وقت تک خالی ہاتھ انگریز اور ہندو لالوں سے درحقیقت اصل آزادی کا حصول نا ممکن سی بات ہے۔ اس طرح لوگوں پر وہ حقیقت آزادی کے بعد آشکار ہوئی۔
اے پاک وطن ترے جیالوں کو سلام
اے پاک وطن ترے جیالوں کو سلام

عزت و ناموس کے رکھوالوں کو سلام

دشمن کے لئے آہنی دیوار بنے ہیں

جان رکھ کر ہتھیلی پہ تیار کھڑے ہیں

ان جری‘ ان شیروں‘ ان متوالوں کو سلام

اے پاک وطن ترے جیالوں کو سلام

خالدؓ کی قوت اِن میں حیدرؓ کی دلیری ہے

اقوام پہ غالب ہے یہ فوج جو میری ہے

اقبال کے شاہینوں ان دل والوں کو سلام

اے پاک وطن ترے جیالوں کو سلام

جنگلوں کے مسافر ہیں کُہساروں کے راہی ہیں

یہ فوج محمدی کے جاں باز سپاہی ہیں

جُرأت کی رنگین مثالوں کو سلام

اے پاک وطن ترے جیالوں کو سلام

غزالہ انیس

یہ تحریر 193مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP