یوم یکجہتی کشمیر

۵۔ فروری۔۔۔یوم یک جہتی کشمیر

انسانی تاریخ ان قوتوں کے فیصلوں سے بوجھل ہے جنہیں زمین میں اقتدار ملاتووہ انصاف نہ کر سکیں۔ان فیصلوں سے جب تک لہو رستا رہے گا،وہ جرائم زندہ رہیں گے جو انسانیت کے خلاف سر زد ہوئے اور ایسے فیصلہ سازوں کا شمار ان کرداروں میں ہوگا جو مسلسل انسانیت کی نفرت کے مستحق ٹھہرائے گئے۔ایسا ہی ایک فیصلہ اہلِ کشمیر کو ،عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقِ خودارادیت سے محروم رکھنا ہے۔


اس میں شبہ نہیں کہ دنیابھرمیں بنیادی حقوق کے علم بردار کشمیریوں کے ساتھ ہیں اورانہیں معلوم ہے کہ کشمیریوں کا یہ مطالبہ انصاف پر مبنی اور بین الاقوامی سطح پر طے شدہ حق خود ارادیت کے مطابق ہے۔مسئلہ حکومتوں کے ساتھ ہے جو کشمیر اور فلسطین کے معاملے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر نے کو تیار نہیں اور ان تاریخی غلطیوں کی اصلاح پر آمادہ نہیں جنہوں نے بیسویں صدی کے دو سب سے بڑے المیوں کو جنم دیا۔


بیسویں صدی سلطنتوں کے خاتمے کی صدی ہے۔انسان ایک نئے عہدِ حریت میں داخل ہورہاتھا۔اس صدی کے ابتدائی ماہ وسال اضطراب کے دن ہیں۔شرق وغرب میں آزادی کی تحریکیں اٹھ رہی تھیں اور سیدناعمر کے صدیوں پہلے کہے ہوئے یہ الفاظ عالمگیرتحریکِ آزادی کاعنوان بن گئے تھے کہ لوگوں کو ان کی ماؤں نے آزاد جنا ہے،انہیں غلام نہیں بنایاجاسکتا۔
استعماری قوتوں نے جان لیا تھا کہ اب لوگوں پر ان کی مرضی کے خلاف تسلط قائم نہیں رکھا جا سکتا۔انہیں اقوامِ عالم کو آزاد تو کرنا تھا لیکن ان کی یہ خواہش بھی تھی کہ آنے والے دنوں میں بھی وہ ممکن حد تک اپنا تسلط باندازِ دیگر قائم رکھیں۔اس کے لئے انہیں اخلاقی اصول قربان بھی کرنا پڑیں تووہ ان سے بھی دریغ نہ کریں۔اس سوچ کے تحت دنیا کے بعض خطوں کو ایسے تنازعات کے حوالے کرنے کا فیصلہ ہوا جو باقی رہیں۔ان میں فلسطین اور کشمیر بطورِ خاص اہم ہیں۔ان فیصلوں سے آج تک لہورس رہا ہے۔یہ دونوں فیصلے ریاستِ برطانیہ کے نامہ ٔ  اعمال میں درج ہیں۔
فلسطین کے باب میں عربوں سے وعدہ خلافی کی گئی  اورکشمیر کے معاملے میں پاکستان سے اورکشمیریوں سے بھی۔جارج حبیب انٹونیس نے اپنی معروف کتاب 'بیداری عرب'(The Arab Awakening) میں اس 'میکماہن مراسلت' کی حقیقت کو بیان کردیا ہے،جس کی ا شاعت سے اس لئے گریز کیا جاتا رہا کہ لوگ اُس وعدہ خلافی کو جان نہ جا سکیں جو فلسطین کے معاملے میں عربوں سے روا رکھی گئی۔
کشمیر کے معاملے میں بھی یہی رویہ اپنایا گیا۔پہلے اسے غیر ضروری طور پرمتنازع بنایا گیا۔پھرایک جعلی الحاقی دستاویزکے ذریعے، کشمیر پرقبضے کے لئے بھارت کی مدد کی گئی اورتیسرے مرحلے میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کومؤثر بنانے میں اپنے کردار سے رو گردانی کی گئی۔ اس کی روداد کسی ریاست کی اخلاقی ساکھ کے لئے کم سے کم الفاظ میں شرم ناک ہے۔
    تقسیم ہند سے پہلے ریاست کشمیر کابرطانوی ہند کے ساتھ ایک معاہدہ تھا۔چونکہ جغرافی اعتبار سے کشمیر کے لئے یہی موزوں تھا کہ وہ پاکستان ہی کے ساتھ وابستہ رہے،اس لئے ابتدا میں کشمیرکے مہاراجہ نے ان ہی شرائط کے ساتھ پاکستان سے وہی معاہدہ کیا جو برطانوی ہند سے کیا گیا تھااوربعد میں اِسے مستقل کیا جاناتھا۔ اس دوران میں مہاراجہ نے جو ہندو تھا،دوسری ریاستوں کے ہندو مہاراجاؤں سے رابطہ بڑھایا جو مسلمانوں کے خلاف تعصب رکھتے تھے۔ان کی مدد سے آر ایس ایس اوردوسری انتہا پسند تنظیموں کے فوجی تربیت یافتہ دستے کشمیر میں اتارے گئے۔انہوں نے مہاراجہ کے دست و بازو کا کردار ادا کیا۔مقامی آبادی کو یہ گوارا نہیں تھا لہٰذا اس نے مزاحمت کی اور یوں کشمیر میں آزادی کی جدو جہد کا آغاز ہو گیا۔
 عوامی مزاحمت دو ماہ جاری رہی۔اس کے بعد مہاراجہ کے حامی ان فوجی دستوں کو شکست ہوئی اور24۔ اکتوبر1947 کوسردار محمد ابراہیم کی قیادت میںریاست جموں وکشمیر کی آزاد حکومت قائم ہو گئی۔مہاراجہ بھاگ کر بھارت چلا گیا۔یہ کہا جاتا ہے کہ کشمیر کی بھارت کے ساتھ الحاق کی شرط پر، مہاراجہ سے فوجی مدد کا وعدہ کیاگیا۔ یوں بھارت نے اپنی فوج کشمیر میں اتاردی۔
یہ وہ وقت تھاجب لارڈ ماؤنٹ بیٹن بھارت کے گورنرجنرل تھے۔وہ چاہتے تو بھارت کوفوج بھیجنے سے روک سکتے تھے۔المیہ یہ ہے کہ برطانوی محقق الیسٹر لیمب نے اپنی کتاب''ایک المیے کا جنم''Birth of a Tragedy..Kashmir 1947  میں یہ بتایا ہے کہ مہاراجہ کا بھارت کے ساتھ الحاق کا کوئی معاہدہ نہیں ہواتھا۔اس حوالے سے جو دستاویزات پیش کی جاتی ہیں،وہ جعلی ہیں۔
یہ کہانی یہاں تمام نہیں ہوئی۔بھارت خود اقوام ِ متحدہ کے پاس گیااورپھر ان قراردادوں پر عمل درآمد کے لئے کبھی تیار نہیں ہواجن میں کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ان قراردادوں نے برطانیہ اور دوسری عالمی قوتوں کو یہ موقع فراہم کر دیا تھاکہ وہ اپنی اس تاریخی غلطی کی تلافی کریں تاکہ انسانوں کے جان و مال کا تحفظ ہو۔ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوا۔عالمی قوتوں نے اہلِ کشمیر کو اس نتیجے تک پہنچایا کہ انہیں عالمی قوتوں سے خیر کی کوئی امید نہیں کرنی چاہئے۔
اس میں شبہ نہیں کہ دنیابھرمیں بنیادی حقوق کے علم بردار کشمیریوں کے ساتھ ہیں اورانہیں معلوم ہے کہ کشمیریوں کا یہ مطالبہ انصاف پر مبنی اور بین الاقوامی سطح پر طے شدہ حق خود ارادیت کے مطابق ہے۔مسئلہ حکومتوں کے ساتھ ہے جو کشمیر اور فلسطین کے معاملے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر نے کو تیار نہیں اور ان تاریخی غلطیوں کی اصلاح پر آمادہ نہیں جنہوں نے بیسویں صدی کے دو سب سے بڑے المیوں کو جنم دیا۔


تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جب کسی قوم میں ایک قوت کے خلاف اس درجے کی نفرت پیدا ہو جائے،اسے محکوم نہیں رکھا جا سکتا۔آج اس بات کا امکان ختم ہو چکا کہ کشمیری بھارت کے ساتھ رہ سکیں۔جبر سے یہ تسلط کتنے دن باقی رہتا ہے،اس کا فیصلہ بھی عنقریب ہو جائے گا۔مودی سرکار نے چونکہ یہی رویہ بھارت کی اقلیتوں اور دوسرے محروم طبقات کے ساتھ بھی روارکھا ہے،اس لئے یہ نفرت صرف کشمیر تک محدود رہنے والی نہیں۔یہ خود بھارت کے اندر سرایت کر چکی ہے۔


اس پس منظر میں ہرحق شناس انسان پر یہ لازم ہو جا تا ہے کہ وہ ان المیوں پر آواز اٹھائے اور عالمی قوتوں کویاد دلاتا رہے کہ یہ المیے آپ کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں اور ان کا حل بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔موجودہ حالات میں اس کی ضرورت دو چند ہو گئی ہے۔بالخصوص مودی حکومت کے ان اقدامات کے بعد جو بین الاقوامی معاہدوں اوراقوامِ متحدہ کی قرارداوں کے صریحاً خلاف ہیں۔
مودی انتظامیہ نے جس طرح لداخ کو اپنا حصہ قراردیا اور کشمیریوں کو ان کے اپنے ہی وطن میں اجنبی بنانے کی سازش کی،اس پر پوری وادی مشتعل ہے۔یہ اب محض مسلمانوں کا مسئلہ نہیں رہا۔کشمیر کا ہندو بھی خوف زدہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کی تہذیبی اور قومی شناخت کو ختم کیا جا رہا ہے۔یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ اہلِ کشمیر اپنے داخلی اختلافات کے باوجود اس نقطے پر جمع ہیں کہ بھارت کے ساتھ ان کا نباہ نہیں ہو سکتا۔
فاروق عبداللہ جیسے لوگ اب اس نتیجے تک پہنچ چکے کہ ان کے والد نے بھارت کے ساتھ چلنے کاجو فیصلہ کیاتھا وہ درست نہیں تھا۔بھارت نے ہمیشہ کشمیریوں کو ایک مفتوح قوم سمجھا اور ان کے ساتھ بے رحمی کا معاملہ کیا۔فاروق عبداللہ جیسے لوگوں کواچھی طرح اندازہ ہو چکا کہ ایک عام کشمیری کے دل میں بھارت کے لئے کتنی نفرت ہے۔اس لئے ان کا سیاسی مستقبل تب ہی محفوظ رہ سکتاہے جب وہ بھارت کے بجائے اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہوں۔مودی سرکار نے اہلِ کشمیر کو متحد کر دیا ہے اور اس اتحاد کا بنیادی نکتہ بھارت سے نفرت ہے۔
تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جب کسی قوم میں ایک قوت کے خلاف اس درجے کی نفرت پیدا ہو جائے،اسے محکوم نہیں رکھا جا سکتا۔آج اس بات کا امکان ختم ہو چکا کہ کشمیری بھارت کے ساتھ رہ سکیں۔جبر سے یہ تسلط کتنے دن باقی رہتا ہے،اس کا فیصلہ بھی عنقریب ہو جائے گا۔مودی سرکار نے چونکہ یہی رویہ بھارت کی اقلیتوں اور دوسرے محروم طبقات کے ساتھ بھی روارکھا ہے،اس لئے یہ نفرت صرف کشمیر تک محدود رہنے والی نہیں۔یہ خود بھارت کے اندر سرایت کر چکی ہے۔
ہمارے لئے اہم سوال یہ ہے کہ تاریخ کے اس موڑ پر ہم نے اپنی ذمہ داری کس طرح ادا کی۔کیا ہم نے اہلِ کشمیر کے معاملے میں اپنا انسانی فریضہ ادا کیا؟کیا ہم نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی؟کیا ہم نے دنیا کو متوجہ کیا کہ کشمیر میں ان تمام اقدار کاخون کیاجارہا ہے جن پر دورِ جدید کے انسان کوناز ہے؟ہمارا نام کس فہرست میں لکھا ہے؟ظلم کو دیکھ کر خاموش رہنے والوں میں یا ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں میں ؟
5 فروری کی تاریخ ہمیں یاد دہانی کراتی ہے کہ ہماراجواب کیا ہونا چاہئے؟اس میں شبہ نہیں کہ ظلم کے خلاف لازم ہے کہ انسان سال کے سارے دن کھڑا رہے۔یہ دن ہمیں اسی کی یاد ہانی کراتا ہے کہ ہمیں مسلسل جد وجہد کر نی ہے۔ہم میں سے ہر آدمی جواب دہ ہے ۔اپنے ضمیر کے سامنے اور بعد از مرگ اپنے پروردگار کے سامنے۔یہ جواب دہی ہماری حیثیت کے مطابق ہے۔ ہم صحافی ہیں تو اس کی ایک نوعیت ہے۔ہم تاجر ہیں تو اس کی نوعیت اور ہے۔ہم استاد ہیں تو ہماری ذمہ داری ایک تاجر سے مختلف ہو گی۔
آج کا انسان بنیادی انسانی حقوق کے معاملے میں حساس ہے۔جان،مال،عزت وآبرو کا تحفظ اور آزادی کو بنیادی انسانی حقوق میں شمار کیاجاتا ہے۔دنیا کا کوئی باضمیر انسان اس بات کو قبول کر نے پر آمادہ نہیں کہ انفرادی یااجتماعی طور پر انسان کی جان لی جائے ،اس کی آبرو پر حملہ کیا جا ئے یا اس کی نسل کشی کی جائے۔کشمیر میں ان سب حقوق کی ایک ساتھ پامالی ہو رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ خود بھارت میں باضمیر لوگ انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں پر سراپااحتجاج ہیں۔
 ہمیں ان باضمیر لوگوں کو جمع کر نا ہے۔ انہیں باخبر رکھنا ہے تاکہ کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے لئے ایک عالمگیر تحریک اٹھائی جا سکے۔یہ کام سوشل میڈیا کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔سوشل میڈیا پر پاکستانی نوجوان بہت متحرک ہیں۔ اگر انہیں ایک مثبت سمت مل جائے تو وہ اس مقصد کے لئے ایک کامیاب مہم چلا سکتے ہیں۔
اس ضمن میں دو کام کئے جا سکتے ہیں۔ایک یہ کہ سوشل میڈیا گروپس کے ذریعے کشمیر کے مسئلے پرآگاہی کو عام کیا جا ئے۔کشمیر کی تازہ ترین صورتِ حال سے دنیا کو باخبر رکھا جائے۔انہیں بتایا جا ئے کہ اس وقت کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔مودی سرکار کس طرح بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی کی بھی مرتکب ہوئی ہے۔اس کے لئے انسانی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کے لئے مصروف تنظیموں کی بے شمار رپورٹس موجود ہیں جن سے مدد لی جا سکتی ہے۔
دوسرا کام جو کیاجا نا چاہئے وہ مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کے ساتھ سوشل میڈیا کی معرفت تعلق کو بہتر بنایا جائے۔اس سے جہاں ہمارے لوگوں  کوبراہ راست اور صحیح معلومات ملیں گی وہاں مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو یہ پیغام ملے گا کہ وہ تنہا نہیں ہیں بلکہ پاکستان کے عوام ان کے ساتھ ہیں۔ہم انہیں پاکستان میں ہونے والی ان سرگرمیوں سے باخبر رکھ سکتے ہیں جو کشمیر کی آزادی کے لئے ہو رہی ہیں۔اس طرح عوامی سطح پر موجود رشتہ مزید مضبوط ہو گا۔
آنے والے دنوں میں قوموں کو اپنے مفادات کے لئے ہمہ جہتی جنگیں لڑنی ہیں۔ان میں سب سے مؤثر سوشل میڈیا کی جنگ ہے۔بھارت نے جھوٹ کو پھیلانے کے لئے جو جعلی ویب سائٹس بنائیں،ان کا بھانڈا تو پھوٹ چکا۔سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک سچ کے فروغ کے لئے کام نہیں کر سکتے؟ ہمیں کسی خفیہ نیٹ ورک کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم یہ کام علانیہ کر سکتے ہیں کہ پاکستان کشمیر کے معاملے میں اپنا مؤقف دنیا کے ہر فورم پر پیش کر تا آیا ہے اور اسے کبھی یہ خوف نہیں رہا کہ اسے کسی محاذپرشرمندگی کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے۔
خفیہ کام وہ کرتے ہیں جنہیں جھوٹ کا کاروبار کرنا ہو۔ کشمیر کامقدمہ حق اور سچ کا مقدمہ ہے جسے ڈنکے کی چوٹ پر پیش کیا جا سکتا ہے اور پاکستان پیش کرتا آیا ہے۔اس لئے پاکستان کے نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر علانیہ کشمیر کا مقدمہ پیش کرنا چاہئے۔اس کے لئے سماجی تنظیمیں تعلیمی اداروں میں مہم چلا کر نوجوانوں کو متحرک کر سکتی ہیں۔
5 فروری اس کے لئے سب سے مناسب دن ہے جب یاد دہانی اور تذکیر کی ایک مہم اٹھنی چاہئے۔اگر مقبوضہ کشمیر،آزاد کشمیر اور پاکستان کے نوجوان مل کر ایک ابلاغی تحریک اٹھاسکیں تو آگاہی کی ایک ایسی عالمگیر مہم چلائی جا سکتی ہے جوایک طرف دنیا کو اس مسئلے کی طرف متوجہ کرے اور دوسری طرف اس فطری یک جہتی اور ہم آہنگی کو نمایاں کرے جو پاکستان اور کشمیر کے لوگوں میں موجود ہے۔اس کے بعد دنیا کو بآسانی سمجھ میں آ جائے گا کہ مقبوضہ کشمیر میں ''کشمیر بنے گا پاکستان'' کا نعرہ کیوں لگتا ہے اور یہ نعرہ کسی طرح کشمیریوں کے دل کی آواز ہے۔یہ نعرہ لگانے والے باہر سے نہیں آتے۔یہ نعرہ کشمیر کے نوجوانوں نے اپنے بزرگوں سے سنا اور انہوں نے اسے آبا ء واجداد کی وراثت سمجھ کر اپنایا ہے۔ ||


 مضمون نگار معروف دانشور ،سینیئر تجزیہ کار اورکالم نویس ہیں۔

[email protected]


 

یہ تحریر 140مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP