اداریہ

یومِ پاکستان ٢٠١٩

قوم ہر سال ٢٣ مارچ کا دن یومِ پاکستان کے طور پر مناتی ہے اور اس امر کا اعادہ کرتی ہے کہ یہ پاک سرزمین جس کے قیام کے لئے لاہور کے منٹو پارک میں ٢٣ مارچ ١٩٤٠ء کو قرارداد پاس کی گئی اور قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں جس قوم نے صرف ٧ برس کی قلیل مدت میں اس قرارداد کو حقیقت میں تبدیل کر دکھایا، وہ اس ریاست خداداد کی حفاظت، سلامتی اور استحکام کے لئے بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ بلاشبہ تکمیلِ پاکستان کا سفر ابھی جاری ہے۔اس کے لئے اپنے قیام سے لے کر اب تک اس مملکت خداداد کو متعدد چیلنجز اور مسائل کے انبار کا سامنا رہا ہے جن سے یہ قوم نمٹتی آئی ہے۔  یہ قوم آج بھی ٢٣ مارچ ١٩٤٠ کے جذبوں سے سرشار ہے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے یک جان دوقالب ہے۔ اس قوم نے دہشت گردی ایسے عفریت پر قابو پانے کے لئے ١٧ برس جنگ لڑی ہے اور آج بھی یہ اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور وہ دن دور نہیںجب یہ قوم درپیش تمام چیلنجز پر قابو پانے میں کامیاب ٹھہرے گی کہ یہ آج بھی قائداعظم کے ان افکار کی عملی تصویر بنی دکھائی دیتی ہے جس میں انہوںنے فرمایا تھا '' ہم نے پاکستان حاصل کر لیا ہے لیکن یہ ہمارے مقصد کی ابتداء ہے۔ ابھی ہم پر بڑی ذمہ داریاں ہیں۔ حصولِ پاکستان کے مقابلے میں اس ملک کی تعمیر پر کہیں زیادہ کوششیں صرف کرنی ہیں اور اس کے لئے قربانیاں بھی دینی ہیں۔''
 پاکستان الحمدﷲ اب ایک ایٹمی قوت ہے لیکن امن اس کی اولین ترجیح رہی ہے۔پاکستان نے جنوبی ایشیائی خطے میں امن کے قیام کے لئے بے شمار قربانیاں دی ہیں جس کے ثمرات خطے میں امن کی بہتر ہونے والی عمومی حالت سے لگایا جاسکتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب بھارت نے آج بھی مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اب کشمیری نوجوان انتقام کی آگ میں جل رہے ہیں اور بھارت سے سخت نفرت کرتے ہیں۔ پلوامہ خودکش دھماکہ بھی ایک کشمیری نوجوان نے کیا، لیکن بھارت نے کشمیر سے آٹھ لاکھ سے زائد فوج واپس لے جانے کے بجائے دہشت گردی کے اس واقعے کی ذمہ داری بھی پاکستان پر عائد کردی۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت جنگی جنون میں مبتلا ہے۔ اس نے حال ہی میں اپنے جنگی طیاروں کے ذریعے پاکستان کے اندر دراندازی کی لیکن پاک فضائیہ کی بروقت کارروائی کی بدولت وہ کامیاب نہیں ہوپائے اور اپنے پے لوڈ گرا کر راہِ فرار اختیار کی۔ اس کے اگلے ہی روز بھارت کے مزید دو طیاروں نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی جن کو ہمارے شاہینوں نے دلیرانہ انداز میں نشانہ بنایا۔ ایک کا ملبہ آزادکشمیر جبکہ دوسرے کا ملبہ مقبوضہ کشمیر میں گرا۔ ایک بھارتی پائلٹ کو پاک فوج نے حراست میں لے لیاجسے حکومتِ پاکستان نے چند روز بعد واپس بھجواکر ایک بہترین مثال قائم کی۔ بہرطور وزیراعظم پاکستان نے قوم سے خطاب میں واضح انداز میں کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن پاکستان کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے بھی بھرپور اور دوٹوک انداز میں بھارتی دھمکیوں کو رد کیا ہے اور پاک فوج کے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ پاک فوج ہمہ وقت تیار ہے۔ مادر وطن کی حفاظت سے مقدس کوئی چیز نہیں۔
 اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ہمیشہ امن کی پالیسی پر گامزن رہا ہے لیکن وہ اپنے دفاع سے بھی کبھی غافل نہیں رہا اور اس کی افواج اور دیگر ادارے کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لئے تیار رہتے ہیں کہ بہترین دفاعی تیاری ہی امن کی ضمانت ہوا کرتی ہے۔ لہٰذا یومِ پاکستان ٢٠١٩ء کا پیغام بھی یہی ہے کہ پاکستان بطور ریاست خود کو دفاعی اعتبار سے مضبوط ترین رکھتے ہوئے خطے میںقیامِ امن، خوشحالی اور ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا رہے گا کہ ذمہ دار اور باشعور اقوام کا یہی انداز اور وتیرہ ہوا کرتا ہے۔
  پاکستان ہمیشہ زندہ باد
 

یہ تحریر 513مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP