متفرقات

ہوائی روزی

قومی ایئر لائن کی سروس کے بارے میں توہم پہلے سے بہت کچھ تحریر کرتے چلے آ رہے ہیں چنانچہ اسی سلسلے میںآج ہم آپکی ملاقات ایک فضائی میزبان سے کراتے ہیں۔ انکل سرگم نے ہوائی میزبان کو '' ہوائی روزی'' کا نام دے رکھا ہے۔
 انکل سرگم:    ہوائی روزی صاحبہ! ہم آپ کو پروگرام میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ آپ کیسی ہیں؟
ہوائی روزی:    آپ کو کیسی لگ رہی ہوں؟
سرگم:    ماشاء اﷲ ۔ مجھے تو آپ آج کچھ اُڑی اُڑی سی لگ رہی ہیں۔
روزی:    اسی لئے تو ہوائی کمپنی میں ہوں۔
سرگم:    یہ بتایئے روزی صاحبہ آپ نے ہوائی کمپنی کیسے جوائن کی؟
روزی:     بچپن سے ہی میرے منہ پہ ہوائیاں اُڑی رہتی تھیں۔ میری  باتیں اکثر لوگوں کے سروںسے گزر جاتی تھیں چنانچہ میری ممی کہا کرتی تھیں کہ تم ملازمت کے لئے کسی ہوائی کمپنی کو بے حد سُوٹ کر تی ہو۔ اس کے علاوہ میری سہیلیاں بھی کہا کرتی تھیں کہ میری مسکراہٹ چونکہ بڑی مصنوعی سی ہے، لہٰذا مجھے ائیر ہوسٹس بننے میں بڑی آسانی ہو گی۔بس انہی وجوہات کو میں نے کیش کرایا اور بطور ایئر ہوسٹس یعنی ہوائی روز ی ایک ہوائی کمپنی میں جاب کر لی۔یہ بتاتی چلوں کہ اس جاب میں فائدہ بڑا ہے، کھانا پینا مفت، میک اپ مفت، سفر مفت ۔
سرگم:کھانے سے یاد آیالوگوں کو ہوائی جہاز میں ملنے والے'' ہوائی کھانے'' کی اکثر شکایت رہتی ہے۔
روزی:    یہ شکایت عموماً اکانومی کلاس کے مسافروں کو ہوتی ہو گی جو عام طور پر بڑے ندیدے ہوتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ کھانا پینااکانومی کلاس کے لوگوں کا ہی مسئلہ ہوتا ہے ،فرسٹ کلاس کے لوگ کبھی کھانے اور پینے کو نہ تو کوئی مسئلہ سمجھتے اور نہ ہی مسئلہ بننے دیتے ہیں۔
سرگم:    کیا فرسٹ کلاس کے لوگ کھانا نہیں کھاتے؟ 
روزی:    کھاتے ہیں،مگر چھپ کے کھاتے ہیں، کسی کو پتہ تک چلنے نہیں دیتے کہ وہ کیا کھارہے ہیں اور کتنا کھا رہے ہیں۔
سرگم:    وہ  تو میں بھی جانتا ہوں کہ بڑے لوگ جب تک پکڑے نہ  جائیں یا ریٹائر نہ ہو جائیںتب تک کسی کو پتہ نہیں چلتا کہ انہوں نے کتنا کھایا ہے ،میں کھانے کے اس معیار کی بات کر رہا ہوں جو دوران پرواز پیش کیا جاتا ہے۔
روزی:    کھانے کا معیار جیسا بھی ہے، ہم جہاز کے عملے والے بھی تو مسافروں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، ہم بھی تو وہی کھانا کھاتے ہیں بلکہ ہمارے گھر والے بھی وہی کھاتے ہیں ، انہوں نے تو کبھی شکایت نہیں کی۔ ویسے بھی ''  اونچی اُڑان پھیکاپکوان'' کا محاورہ بھی تو سچ ثابت کرنا ہوتا ہے کسی نہ کسی نے۔
سرگم:    اونچی اُڑان پھیکاپکوان نہیں، اونچی دوکان پھیکا پکوان ہوتا ہے۔
روزی :    ایک ہی بات ہے، جہاز کا کھا نا بھی اونچی دکان والے ٹھیکے پہ تیار کرتے ہیں۔
سرگم:     ایک سروے سے پتہ چلا ہے کہ جو لوگ پنڈی سے لاہور کا ہوائی سفر کرتے ہیں وہ بہت جلد شوگر کے مریض بن جاتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
روزی:    اس کی ایک وجہ اکا نومی کلاس والوں کاندیدہ پن بھی ہو سکتی ہے۔
سرگم:    ندیدہ پن،کیا مطلب؟
روزی:    جس طرح اکانومی کلاس کے ندیدے مسافر جوس کے ڈبوں پہ ٹوٹ پڑتے ہیں اس سے شوگر نہیں ہو گی توکیا ہو گی؟ لوگوں کو شوگر سے بچنا ہے تو فرسٹ کلاس میں سفرکیا کریں۔ 
سرگم:    آپ اکانومی کلاس میں بند ڈبوں کا جوس ہی کیوں پلاتے ہیں؟
روزی:    لوگوں کو بھی آپ کی طرح بس ہر بات کی خوامخواہ مخالفت کرنے کی عادت سی ہو گئی ہے ،آپ کی طرح ہر بات میں کیڑے نکالنا ہی اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ دراصل ہم پہلے لوگوںکو گلاسوں میں ہی مشروب پیش کرتے تھے مگر لوگوں نے اس میں سے بھی کیڑے نکا لنے شروع کر دیئے کہ گلاس صاف نہیں، اس میں کیا پڑا ہوا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے تنگ آکر گلاسوں کے بجائے بند ڈبوں میں جوس دینا شروع کر دیا کہ نہ رہے گلاس اور نہ ملے شکایت۔
سرگم:    اب کیا  بیچارے اکانومی کلاس کے لوگ شکایت نہیں کرتے؟
روزی:    کریں بھی تو کیسے؟نلکی لگا کر جوس پیتے ہیں، اب کیا پتہ کہ ڈبے میں کیا ہے اور کیا نہیں۔
سرگم:     اگر دوران سفر مسافر غیر معیاری کھانے کی شکایت کریں تو آپ اس کا کیا سدِباب کرتے ہیں ؟
روزی:     کرنا کیا ہے، ہم شکایت جہاز کے کپتان تک فوری طور پہ پہنچا دیتے ہیں جو فوری طور پہ شکایت نمٹا دیتا ہے۔
سرگم:    ویری گڈ، جہاز کا کپتان مسافروں کی شکایت کو کیسے نمٹاتا ہے؟
روزی:    بالکل ویسے ہی نمٹاتا ہے جیسے اس قسم کی فضول شکایتوں کو نمٹانے کی اسے تربیت دی جاتی ہے۔
سرگم:    مثلاً، کیا تربیت دی جاتی ہے جہاز کے کپتان کو مسافروں کی شکایت دور کرنے کی؟
روزی:     یہی کہ جوں ہی کسی مسافر کی طرف سے کھانے پینے کی شکایت ملے وہ جہاز کو ہچکولے دینا شروع کر دے۔
سرگم:    کیا مطلب ؟ کپتان جہاز کو ہچکولے دینا شروع کر دیتا ہے؟ اس سے کیا ہوتا ہے؟
روزی:    وہی ہوتا ہے جو منظور ''نا خدا'' ہوتا ہے۔ جونہی ہوائی جہاز ہوا میں ہچکولے کھاتا ہے توشکایتوں کے مارے لوگ ڈرکے مارے بندے بن جاتے ہیں اورکھانا پینا بھول کر کلمہ پڑھنا شروع کردیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھانے پینے کی فکر چھوڑکر جہاز کے بخیریت اترنے کی دعاؤں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔         
  سرگم:    ہوائی روزی صاحبہ! آپ سے آخر میں ایک ذاتی سا سوال کروں گا۔ آپ پہلے مسافروں کو بڑی پیار بھری مسکراہٹ کے ساتھ پیش آیا کرتی تھیں، آجکل آپ کے چہروں پہ مسکراہٹ کے بجائے اکتاہٹ ہوتی ہے، اس کی کیاوجہ ہے؟۔
روزی:    اس کی وجہ بھی مسافروں کا ندیدہ پن ہی کہا جاسکتا ہے۔اگر ہم کسی مسافر سے مسکرا کر پوچھیں کہ '' سر! آپ کو کچھ چاہئے ؟'' تو وہ جواب میں کہہ دیتے ہیں،'' جی ہاں، آپ کا ایڈریس''۔
سرگم:    ایک آخری سوال۔ آپ کا مستقبل کا کیا پلان ہے مسافروں کو سہولت دینے کا؟
روزی:    ہم نے سوچا ہے کہ مسافروں کی بہتری کے لئے آئندہ مختصر سے مختصر سفر کے لئے بھی ہم اپنے میک اَپ کا سامان زیادہ سے زیادہ ساتھ رکھیں گے۔تاکہ انہیں بھی ہمیں دیکھ کر اچھا لگے اور ہمیں ان سے اپنی اصلیت چھپاکرخوشی ملے۔
سرگم:    وہ کیوں؟
روزی:    آپ کو یاد ہوگا ایک پڑوسی ایئر لائن کا جہاز اغوا ہونے کے بعد جہاز میں دس دن سے پھنسے مسافر ایک ہفتے کے بعدجہاز کی ہوائی میزبانوں کی شکلیں د یکھ کر مزید خوف زدہ ہو گئے تھے۔
سرگم:    سنا ہے اس بجٹ میں میک اَپ کا سامان ٹیکس لگنے سے اور مہنگا ہوجائے گا اس سے آپ کو کوئی فرق پڑے گا؟
روزی:    کیوں نہیں پڑے گا، اگر میک اپ کے بغیر گھر جانا پڑا تو گھر والوں میں سے کوئی بھی ہمیں پہچان نہ پائے گا۔
سرگم:    ناظرین و سامعین! اس کے ساتھ ہی ہوائی روزی صاحبہ سے گفتگو کا سلسلہ ختم کرتے ہوئے آپ سے اجازت چاہتے ہیں ، آپ کا ہمارا اور ہماری ہوائی روزی کا اﷲ ہی حافظ۔


مضمون نگار پاکستان کے مشہور ٹی وی آرٹسٹ اور پروگرام ڈائریکٹر ہیں۔ معروف Puppet ٹی وی شو 'کلیاں' ان کی وجہ شہرت بنا۔ آپ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 201مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP