قومی و بین الاقوامی ایشوز

ہندوستانی پروپیگنڈے کاایک اور وار

تنازعہ کشمیر کی وجہ سے گلگت بلتستان بھی تکنیکی بنیادوں پر عالمی فورمز پر متنازعہ علاقہ تصور کیا جاتا ہے مگر دوسری طرف گلگت بلتستان کے لاکھوں انسان خود کو پاکستان کا محب وطن سپاہی سمجھتے ہیں۔ ملک کی دفاعی سرحدوں پر آئے روز گلگت بلتستان کے نوجوانوں کی لہو رنگ قربانیاں کسی طور متنازعہ نہیں ہیں۔ گلگت بلتستان والوں کو متنازعہ کہہ کر پکارنا ان کے خون کے ساتھ مذاق ہے۔ یہاں کے باسیوں نے١٩٤٧میں تقسیم کے وقت اپنے سے طاقت ور ڈوگرہ سرکار کو پسپا ہونے پر مجبور کیا ہے۔گلگت بلتستان کا پاکستان سے تعلق انمٹ اور نظریاتی ہے جبکہ نظریہ کسی جغرافیائی تقسیم اور دستاویزی ثبوت کا محتاج  نہیں ہوتا۔ گلگت بلتستان کے لوگ تمام تر گلے شکووں کے باوجود پاکستان سے خوش ہیں اور جب بھی ریاست کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی درکار ہوتی ہے توگلگت بلتستان کے جوان سینہ تان کر ہندوستانی فوج کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں جبکہ اس کے برعکس مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیریوں کی زندگی تنگ کر دی گئی ہے۔بھارتی مقبوضہ علاقوں میں کشمیر کے مسلمان ہندوستان کے مظالم سے تنگ آچکے ہیں اور اپنی آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں مگر کشمیر کے لالہ زار اب انڈین فوجی چھائونی میں بدل چکے ہیں جہاں آئے روز کشمیری جوانوں کی لاشیں گرتی ہیں' مائوں بہنوں کی عزتیں تار تار کی جا رہی ہیں اور معصوم بچوں کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے۔


الوک ہند بانسل اور ان کے حواریوں کو گلگت بلتستان سے محبت جتانے کے بجائے ان مظلوم ہندوستانیوں کی فکر کرنے کی ضرورت ہے جو ہندوستان میں ہندوئوں کے مظالم سے تنگ آکر آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں


ہندوستان طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانا چاہتا ہے۔ حالانکہ حق خودارادیت سے دنیا کا کوئی بھی چارٹر انکار نہیں کر سکتا ۔ پاکستان کشمیریوں کی سفارتی جنگ لڑ رہا ہے اور ہر فورم پر کشمیریوں پر ہونے والے بدترین مظالم کو نہ صرف اجاگر کرتا ہے بلکہ انڈین منافقت کو بے نقاب بھی کرتا رہتا ہے ایسے میں انڈیانے اپنے خفیہ اداروں کے ذریعے متبادل حکمت عملی کے طور پر  پراپیگنڈہ توپ خانہ کھولا ہوا ہے جس کی سرپرستی انڈین خفیہ ایجنسی ''را''کر رہی ہے۔ اسی ایجنسی سے وابستہ کیپٹن الوک بانسل(Alok Bansal) کی کتاب "Gilgit Baltistan and its Saga of Unending Human Rights Violations"  بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے۔کیپٹن الوک بانسل بھی کلبھوشن یادیو کی طرح انڈین نیوی میں کئی سال تک بطور افسر اعلٰی عہدوں پر کام کرتے رہے ہیں۔موصوف آج کل ایشین یورپین ہیومن رائٹس فورم کے سیکرٹری جنرل بھی کہلاتے ہیں جبکہ انڈین فاؤنڈیشن دہلی کے صدر بھی ہیں۔الوک  کی مذکورہ کتاب میں تاریخی حوالے اپنی جگہ لیکن جس پراپیگنڈے کا مصالحہ لگایا گیا ہے وہ قابل مذمت ہے۔یہ کتاب ٢٩١ صفحات پر مشتمل ہے جس میں گلگت بلتستان کو پاکستان سے متنفر کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔تنازعہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھارتی حمایتی لباس پہنایا گیا ہے۔کتاب میں کہیں بھی مقبوضہ کشمیر کے مظلوم انسانوں پر ہونے والی انڈین بربریت کا ذکر تک موجود نہیں ہے اور نہ ہی بلتستان کے علاقوں میں انڈین گولہ باری سے شہید کئے جانے والے گلگت بلتستان کے مکینوں کا تذکرہ ہے۔کتاب میں گلگت بلتستان کو مقبوضہ وادی بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے حالانکہ گلگت بلتستان کی طرز زندگی عوامی اظہار رائے کی آزادی مقبوضہ کشمیر سے ہزار گنا بہتر اور آزاد ہے۔گلگت بلتستان میں بہتر سالوں سے پاکستان کے آئین میں باضابطہ شامل ہونے کی تحریک چل رہی ہے جبکہ کشمیر میں ہندوستان سے آزادی اور خلاصی کی تحریک چل رہی ہے۔


وفاق کی جانب سے صرف تین سالوں میں گلگت بلتستان کے لئے ایک کھرب انتیس ارب کے ترقیاتی منصوبے منظور ہوئے ہیں۔اس خطے میں پہلی دفعہ میڈیکل کالج،انجینئرنگ کالج،یونیورسٹی جبکہ صحت کے شعبے میں کینسر ہسپتال اور امراض قلب کا ہسپتال تعمیر ہو کر آخری مراحل میں ہے گلگت بلتستان کا باسی اندرون پنجاب،سندھ،بلوچستان اور کے پی سے زیادہ خوشحال اور خوش ہے۔


 گلگت بلتستان کا ہر شہری خود کو پاکستان کا سپاہی سمجھتا ہے جبکہ سرینگر کے چوک چوراہوں پر لاکھوں کشمیری روز پاکستان کا پرچم بلند کر کے جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں اِکادُکا فرقہ وارانہ فسادات عوامی باطنی کمزوریوں کا نتیجہ تھا جس کے تانے بانے بھی ہندوستان سے مل سکتے ہیں ورنہ گلگت بلتستان کے مختلف مسالک کے آپس میں رشتے ناتے ہیں۔ یہاں کے لوگ آپس میں ایک مضبوط ثقافتی زنجیر کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔الوک بانسل پاکستانی ریاستی اداروں پر الزام تراشی کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکتے تو معلوم ہوتا کہ پاکستان اور گلگت بلتستان کی بدامنی کی کوکھ سے کئی بھارتی کیپٹن بانسل اور کلبھوشن برآمد ہوتے ہیں۔یہ خون آلود درو دیوار،یہ بے گناہوں کا ٹپکتا خون، اِن مسلکی و لسانی جھگڑوں اور فسادات کی کہانی میں کہیں نہ کہیں ہندوستان کی چیرہ دستیاں بھی شامل ہیں۔ انسانی حقوق کی بحالی کا نام نہاد نعرہ مستانہ بلند کرنے والے الوک بانسل کی کشمیر میں ہونے والی خونریزی سے چشم پوشی کیوں؟ کشمیر کے گلستانوں سے خوشبوئوں کے بجائے بارود کی بو آ رہی ہے مگر الوک بانسل کوئی کتاب نہیں لکھتے؟ یہ تضاد، یہ انسانی سروں کا کھیل کب تک جاری رہے گا۔الوک بانسل کی کتاب میں حقائق کو مسخ کیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان میں تعمیرو ترقی کا سفر شروع ہوچکا ہے ،لوگ پہلے سے زیادہ خوشحال اور پڑھے لکھے ہیں۔ یہاں ہر سال چودہ اگست کو شایان شان طریقے سے یومِ آزادی منایا جاتا ہے جبکہ ٢٧ اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے جس میں بھارت کی جانب سے کشمیر پر ناجائز قبضے کی بھر پور مذمت کی جاتی ہے۔٢٠ فروری٢٠١٩کو  گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں الوک بانسل کی کتاب پر مذمتی قرارداد منظور کئی گئی ہے جس میں حقائق سے نابلد الوک بانسل کے منفی پراپیگنڈے کو رد کرتے ہوئے کتاب کو ایک سازش قرار دیا گیا ہے۔ وزیر زراعت حاجی جانباز،وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ اور رکن اسمبلی راجہ جہانزیب کی جانب سے لائی گئی اس قرارداد پر اسمبلی میںحکومتی اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے اراکین نے بھرپور تبصرہ کرتے ہوئے الوک بانسل کو بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کا ایجنٹ قرار دیا۔جبکہ اس بات کا بھی اظہار کیا گیا کہ گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان سے خوش ہیں جبکہ بھارت کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی افسوس ناک ہے۔بھارت میںاس کتاب کی تقریب رونمائی بہت پرتپاک انداز میں کی گئی ہے جس میں ہندوستان کی کئی اہم شخصیات نے نہ صرف شرکت کی ہے بلکہ تقریب رونمائی کی تقریب سے خطاب بھی کیا ۔تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ تقریب رونمائی کے بعد مذکورہ کتاب پر دہلی میں سیمینارز کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور ہندوستانی عزائم کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ سیمینار الوک بانسل کی کتاب اور گلگت بلتستان کی نام نہاد ہمدردی میں منعقد کیا جاتا ہے لیکن مقررین صرف سی پیک پر تبصرہ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہوتے ہیں اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب کی آڑ میں گلگت بلتستان کے لوگوں سے جس فریب پر مبنی محبت کا اظہار کیا جاتا ہے یہ ایک بہانہ ہے اور''سی پیک ''نشانہ ہے۔ بھارتی لکھاریوں کو ستر برس بعد گلگت بلتستان کی فکر کیوں لاحق ہے اس سے پہلے وہ کہاں تھے۔بھارتیوں کو یہ ادراک ہونا چاہئے کہ گلگت بلتستان کا ایک ایک فرد پاکستان کا سپاہی ہے۔ اس خطے میں ایک ہی غیر مشروط محبت پائی جاتی ہے اور وہ پاکستان سے ہے وفاق کی جانب سے صرف تین سالوں میں گلگت بلتستان کے لئے ایک کھرب انتیس ارب کے ترقیاتی منصوبے منظور ہوئے ہیں۔اس خطے میں پہلی دفعہ میڈیکل کالج،انجینئرنگ کالج،یونیورسٹی جبکہ صحت کے شعبے میں کینسر ہسپتال اور امراض قلب کا ہسپتال تعمیر ہو کر آخری مراحل میں ہے گلگت بلتستان کا باسی اندرون پنجاب،سندھ،بلوچستان اور کے پی سے زیادہ خوشحال اور خوش ہے۔ پنجاب کا کسان خود گندم پیدا کر کے فی بوری چار سے پانچ ہزار روپے میں بیچتا ہے جبکہ گلگت بلتستان والوں کے لئے وفاق کی جانب سے گندم پر رعایت ہے اور وفاقی حکومت گلگت بلتستان والوں کو گندم ١٤٠٠ روپے فی بوری کے حساب سے اُن کی دہلیز پر پہنچاتی ہے۔گلگت بلتستان کے طلبہ و طالبات کے لئے ملک بھر کے تمام پروفیشنل اداروں میں کوٹہ مختص ہے۔ گلگت بلتستان کا آئینی سوال بھی ہندوستان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے حل نہیں ہو پا رہا کیونکہ کشمیر ایشو پر پاکستان کے غیر لچکدار مؤقف پر ہندوستان کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔الوک بانسل اور ان کے حواریوں کو گلگت بلتستان سے محبت جتانے کے بجائے ان مظلوم ہندوستانیوں کی فکر کرنے کی ضرورت ہے جو ہندوستان میں ہندوئوں کے مظالم سے تنگ آکر آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں۔اس وقت ہندوستان میں درجنوں ایسی علیحدگی پسند تحریکیں موجود ہیں جو خود کو بھارت سے الگ کرنا چاہتی ہیں۔


 [email protected]
 

یہ تحریر 45مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP