قومی و بین الاقوامی ایشوز

ہندوستانی اقلیتیں تاریخی دوراہے پر

نریندر مودی اور اس کے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ساتھیوں نے ایک بڑے کام کا بیڑا اٹھایا ہے۔ یعنی تاریخ کا پہیہ الٹے رخ پر چلا دینا، کئی ہزار سال میں جو تبدیلیاں اِس خطے میں آئی ہیں ان کو ختم کر دینا، ہندوستان کو مہا بھارت کے زمانے میں لے جا نا، جب ہندومت خطے کا واحد مذہب تھا، جب برہمن ، بھگوان کے چہیتے بن کر عیش و عشرت کی زندگی گزارتے تھے اور باقی ذاتیں ان کی خدمت کرتی تھیں۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک تاریک دور تھا۔ مذہبی بنیادوں پر انسان ذات پات کے شکنجے میں اس طرح جکڑے ہوئے تھے کہ  شودر اور ملیچھ جانوروں سے بھی بد تر زندگی گزار رہے تھے۔ اس غیر فطری معاشرے کی اصلاح مقامی سطح پر مختلف تحاریک نے کی۔ گوتم بدھ نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیااور باہر کی دنیاسے جب بھی کوئی مذہب اس علاقے میں نمودار ہوا تو معاشرے کے پسے ہوئے طبقے نے ہندومت چھوڑ کر اس کو اختیار کیا۔ بعد والے زمانوں میں نچلے طبقے کا بڑی تعداد میں اسلام اور عیسائیت قبول کرنا اسی کا عکاس ہے۔ہندوستان ہمیشہ سے ایک گھٹن زدہ اور دنیا سے کٹا ہوا معاشرہ رہاتھا۔ دوسرے مذاہب کی تعلیمات غیر ہندو اقوام کی آمد اوراِن کی حکومت کے زمانے میں ہندومت کی اِس حد تک اصلاح ہوئی کہ نچلی ذاتوں نے سکھ کا سانس لیا۔



ذات پات کا نظام ، پہلے کی طرح جابر اور ستمگر نہ رہا، اور شودروں کو بھی ترقی کرنے کے مواقع مل گئے۔اگرچہ ہندو اشرافیہ نے اِس کو قبول نہیں کیااور جب بھی موقع ملا، ذات پات کا نظام دوبارہ لانے کی کوشش کی۔
ہندومت کے مطابق سمندر کا سفر کرنے سے بندہ لا مذہب ہو جاتا ہے۔ لیکن مسلمانوں اور بعد میں بر طانوی حکومت کے زیراقتدارہندووں نے تعلیم، ملازمت اور کاروبار کے لئے سمندر کا سفر کرنا شروع کر دیا۔جس سے ان کو تعلیمی اورکاروباری ترقی کے مواقع ملے۔
ستی کی رسم پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے دورِ حکومت میں پابندی لگا دی گئی اور ہندو بیوائوں کی زندگی کو تحفظ مل گیا۔ورنہ اِس سے پہلے سماجی دباؤ کے باعث، ہندو بیوائیں بڑی تعدادمیں مرحوم شوہر کے ساتھ جل کر راکھ ہوجاتی تھیں۔ برصغیر کی تقسیم کے بعدنوآزادبھارت کو سیکولر ملک قرار دیا گیا۔ لیکن آہستہ آہستہ مذہبی اقلیتوں کی اہمیت و کردار ختم ہوتا گیا۔ہندو اکثریت جسے 1000سال کے بعد دوبارہ حکومت ملی تھی۔ بھارت ماتا کو 'پوِتر' بنانے کا خواب دیکھنے لگی۔ رفتہ رفتہ ہندومت اپنی تنگ نظری اور اکثریتی تعصب کی پرانی شکل میں بحال ہونے لگا اور اب یہ حالات ہیں کہ اکژیت اقلیتوں سے یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ ہندومت میں دوبارہ شامل ہو جائو یا پھر ملک چھوڑ دو۔ اقلیتوں کی مذہبی رسوما ت پر اعتراض کئے جارہے ہیں۔ تاریخ کو مسخ کرکے مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کی جارہی ہے۔ مسلمان حکمرانوں کو جھوٹ کا سہارالے کر منفی انداز میںیاد کیا جارہا ہے۔ برصغیر کی تاریخ کو مسخ شدہ اور گمراہ کن حا لت میں بالی وڈ کی فلموں کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اورنگ زیب عالمگیر ، علاؤالدین خلجی جنہوں نے انصاف اور رواداری سے حکومت کی اور کبھی مذہبی بنیادوںپر ہندوئوں کا استحصال نہیں کیا، ان کوظالم اورجابر حکمرانوں کے طورپر پیش کیا جاتا ہے۔ تنگ نظری اورتعصب اتنا زیادہ ہے کہ ٹیپو سلطان کو جنگ آزادی کا ہیرو نہیں مانا جاتا کیونکہ وہ مسلمان تھا۔ نریندر مودی ،جس نے بحیثیت وزیر اعلیٰ ریاست گجرات ہندوانتہا پسندوں کو آزادی دی تھی کہ جس طر ح چاہیں مسلمانوں کا قتل عام کر لیں اب بد قسمتی سے ملک کا وزیر اعظم ہے۔ 2014سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت میںاب تک ہزاروں واقعات ہو چکے ہیں کہ مسلمانوں کو ہندوئوں نے سر عام تشدد کرکے شہید کر دیا مگر مجال ہے کہ مرکزی حکومت نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے کوئی قدم اُٹھا یا ہو یا ان کی مذمت کی ہو۔پولیس سرسری انداز میں تفتیش کرکے ملزموں کو بے قصور قرار دے دیتی ہے ورنہ عدالت سے بریت مل جاتی ہے۔ پچھلے دنوں ایک مقدمے میں، جس کی باقاعدہ ویڈیو موجود ہے کہ ہندو انتہا پسند ایک مسلمان پھیلوخان کو قتل کر رہے ہیں،  عدالت نے قاتلوں کو باعزت بری کر دیا۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ جس کا مقصد بھارت سے اقلیتوں کا خاتمہ ہے، سرکاری سرپرستی میں کام کر رہی ہے۔اقلیتوں کودبائو اور لالچ سے دوبارہ ہندو بنایا جا رہا ہے۔ سرکاری سرپرستی میں تقریبات کرائی جاتی ہیں اور ان کو َ'' گھر واپسی'' کا  نام دیا جاتا ہے۔آسام میں مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائی کرنے کے لئے ان کی شہریت کی دوبارہ جانچ پڑتال کرائی گئی ہے۔ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کے تحت اقلیتوں کو کہا گیا کہ اپنی شہریت کو ثابت کریں اور 1970سے پہلے کے کاغذات ثبوت کے طور پر پیش کئے جائیں ۔ آسام میں 19لاکھ افراد کو جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، غیر ملکی قرار دے دیا گیا ہے۔بھارتی حکومت جن شہریوں کو D یعنی Doubtful (مشکوک) قرار دیتی ہے ان سے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق چھین لیا جاتا ہے ۔ مرکزی حکومت نے ریاستوں کوحکم جاری کیا ہے کہ مشکوک شہریت کے حامل لوگوں کے لئے حراستی مراکز "Detention centres" بنائے جائیں اوراس وقت تک ان لوگوں کو وہاں پر رکھا جائے جب تک کسی اور ملک میں ان کو بھیجا نہیں جاتا۔یہ ساری کارروائی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کی زندگی عذاب بنانے کے لئے ہے۔لمحہ فکریہ یہ ہے کہ کوئی اور ملک ان شہریوں کو کیوںلے گا جب کہ یہ نسل در نسل اسی علاقے کے باسی ہیں ۔ ممکن ہے ر و ہنگیا کے مسلمانوں کی طرح ان لوگوں کو سمندر میں دھکیل کر جان چھڑالی جائے۔
کشمیریوں کو اپنے علاقے میں ہی اقلیت بنانے کی تیاری مکمل ہے۔ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی تاکہ دوسرے علاقوں سے ہندوئوں کو یہاں پر آباد کیا جا سکے ۔ امکان ہے جس طرح اسرائیل نے مقبوضہ عرب علاقوں میں یہودی بستیاں آبادکرکے توازن کو بدلا ہے یہی سب کچھ کشمیر میں کیا جائے گا  اور پھر اس کے بعد اگلا مرحلہ ہو گا پاکستان اور بنگلا دیش کے وجود پر ضرب  لگانا تاکہ دونوں ملک مکمل طور پر ہندوستان کے زیر سایہ اور زیر اثر چلے جائیں اور اگر ایسا نہ ہو توٹکڑے ٹکڑے کرکے مٹا دیئے جائیں۔    اس گھناؤنے منصوبے کی نقل سپین اور فلسطین میں مسلمانوں کے انخلا کے واقعات سے کی جا رہی ہے اور وہی حربے اورہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ ابھی تک کے واقعات پر عالمی طاقتوں اور برادری کی مجرمانہ خاموشی کی وجہ سے بھارتی قیادت کو یقین ہے کہ ان پر کوئی بیرونی دبائو نہیں آئے گا۔ اب دیکھیں کہ انتہا پسند ہندو اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوتے ہیں کہ نہیں۔


[email protected]

یہ تحریر 149مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP