ستمبر سپیشل

ہم پاکستان ہیں

وہ درجن بھر مہینوں سے ذرا ممتاز لگتا ہے
ستمبر کس لئے آخر ہمیشہ خاص لگتا ہے
اس سوال کا جواب ہر وہ پاکستانی دے سکتا ہے جس کے دل میں پاکستان کا عشق اور اس کے محافظوں کی محبت دھڑکن بن کر دھڑکتی ہے۔
میرا اور پاک فوج کے جریدے ''ہلال'' کا رشتہ بھی ماہِ ستمبر میں ہی جڑا  اور باقی کسی اور مہینے میں مجھے لکھنے کے لئے ٹاپک سوچنا پڑتا ہے لیکن ماہِ ستمبر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے میرا دل نوکِ قلم پر موجود ہوتا ہے اور بخدا میں لفاظی نہیں کررہی۔ یہ ماہِ ستمبر ہی تو ہے کہ جس میں رب العزت نے اپنے عطا کئے ہوئے انعام پاکستان کے تحفظ کے لئے اپنے چنے ہوئے بندوں کو اس قابل بنایا کہ انہوںنے ساری دنیا کو بتا دیا کہ شیرِ خدا حضرت علی المرتضی، سیف اﷲخالد بن ولید رضی اﷲ تعالیٰ عنہما، طارق بن زیاد، صلاح الدین ایوبی، خیر الدین باربروسہ اور شیرِمیسور سلطان ٹیپو شہید کے نقشِ قدم پر چلنے والے آج بھی جب اﷲ اکبر کہہ کر میدان میں اُترتے ہیں تو اصحابِ بدر کی فتح و نصرت کے صَدقے اﷲ کی طرف سے کامیابی ضرور ملتی ہے۔



ستمبر1965 میںجب ارضِ مقدس پر دشمن نے رات کے اندھیرے میں شب خون مارنے کی کوشش کی تو پوری قوم نے یکجان ہو کر اپنے محافظوں کے ساتھ بزدل دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔
کچھ عرصہ پہلے ایک تقریب میں مجھ سے کسی نے پوچھا کہ آپ فوج کے لئے بہت لکھتی ہیں، آپ کے خاندان میں کوئی آرمی میں ہے۔ میںنے مسکرا کر جواب دیا''پوری آرمی میرا خاندان ہے'' اور اپنے خاندان سے محبت اور اس کی سلامتی اور حفاظت کے لئے کون ہوگا جو دعاگو نہ رہتا ہو۔ہر ماہ ِ ستمبر میںمیرا مضمون وطن کے ان بیٹوں کے نام ہوتا ہے جو مقدس وردی میں ملبوس میری دھرتی ماں کی بری، بحری اور فضائی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اس بار میں اپنے قارئین کی ملاقات ایک ایسے خاندان سے کروانا چاہتی ہوں جن کے نام نہ صرف اُمتِ مسلمہ کے مجاہدین کے ناموں پر ہیں بلکہ یہ اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پرچلتے ہوئے ایک  جہاد میں مصروف ہیں اورارضِ پاک کی آنے والی نسلوں کے بہترین مستقبل کے امین بھی ہیں۔کچھ حقیقتیں افسانوں کی کہانیوں سے کہیں زیادہ دلچسپ، دل نشین اور آئیڈیئلزم کے معیارکی حد کو چھُو جانے والی ہوتی ہیں۔
 یہ کہانی ہے پاکستان کے مشہور و مقبول اور انتہائی محترم سینیئر ڈاکٹر سیدٹیپو سلطان کی۔ طبی اور سماجی حلقوں میں ڈاکٹر ٹیپوکانام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔  Anaesthesiaکے شعبے میںSpecialization کر کے Dow Medical College میں تدریس اور بطورِ پرنسپل خدمات سرانجام دینے کے بعد بحریہ یونیورسٹی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے پرنسپل رہے۔ آج کل SIUT میں ڈاکٹر ادیب رضوی کے ساتھ مسیحائی میں ان کے ہم قدم ہیں۔
گزشتہ تین دہائیوں میں کراچی کا شاید ہی کوئی ایسا ڈاکٹر ہو جو اُن کا شاگرد نہ رہا ہو اور عملی طور پر ان کے ساتھ کام نہ کرچکا ہو۔
ڈاکٹر ٹیپو سلطان کی کہانی اس لحاظ سے بھی بہت دلچسپ ہے کہ ان کا خاندان پاکستان کا واحد خاندان ہے جس کی ایک چھت کے نیچے 34 ڈاکٹر ہیںجو اپنے اپنے شعبوں میںسپیشلسٹ ہیں اور جس لگن سے وہ کام کرتے ہیں بے ساختہ یہ شعر ذہن میں آتا ہے ۔
ملک الموت کو ضد یہ ہے کہ جاں لے کے ٹلوں
سربسجدہ ہے مسیحا کہ میری بات رہے
اس دلچسپ کہانی کا آغاز ہوتا ہے جب تقسیم کے بعد1948 میں پٹنہ شہر کے ڈپٹی میئر ابو ظفر آزاد اپنی شریکِ حیات عطیہ ظفر اور دو بیٹوں سید ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ کی انگلی تھامے ہجرت کرکے کراچی آئے۔ کراچی پہنچ کر آگرہ تاج کالونی میں قیام کیا اور اپنے آپ کو تعلیم کے شعبے سے وابستہ کرتے ہوئے غریب بچوں کے لئے غازی محمدبن قاسم سکول کی بنیاد رکھی جہاں بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی تھی۔ یہ سکول اب ایک کالج کی شکل اختیار کرچکا ہے اور اب بھی علم کی روشنی سے مزید نئے چراغ منور کررہا ہے۔
بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ابو ظفر خود بھی اپنی تعلیمی استعداد میں اضافہ کرتے رہے اور کراچی یونیورسٹی سے بی اے اور M.Edکی ڈگری حاصل کی۔ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی شریک حیات، جو اس وقت تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں تھیں، کی تعلیم کا بھی بندوبست کیا۔ محترمہ عطیہ ظفر کی تو دلی مراد بر آئی۔اعلیٰ تعلیم ان کی بھی خواہش تھی۔ جیسے ہی انہیں موقع ملا انہوںنے تعلیم کے میدان میں قدم رکھا اور درجہ بدرجہ آگے بڑھتے ہوئے طب کے شعبے کو اختیار کرتے ہوئے Dow Medical Collegeکراچی سے ایم بی بی ایس پاس کیا۔ یہاں سب سے دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ جب ڈاکٹر عطیہ ایم بی بی ایس کے آخری سال میں تھیںاُسی وقت ان کے سب سے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر ٹیپو سلطانDow Medical Collegeمیں ایم بی بی ایس  فرسٹ ایئر کے طالب علم تھے۔
ڈاکٹر عطیہ ظفر اور خاص طور پرجناب ابوظفر کی دلی خواہش تھی کہ اُن کے سب بچے ڈاکٹر بنیں اور ان کا یہ خواب پورا ہوا۔ پروفیسر ڈاکٹر سید ٹیپو سلطان، پروفیسر سراج الدولہ سید، ڈاکٹر شیر شاہ سید، ڈاکٹر چاند بی بی، ڈاکٹر شاہین ظفر، ڈاکٹر صفیہ ظفر اور ڈاکٹر غوثیہ ظفر۔ یہ سب بچے نہ صرف ڈاکٹر بنے بلکہ ہر بچے نے اپنی فیلڈ میں Specialization کی اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان سب بچوں کی شادیاں بھی ڈاکٹروں سے ہوئیں اور اب تیسری نسل میں بھی ڈاکٹرزہیں اور مزید بن رہے ہیں۔ یعنی ایک چھت کے نیچے ایک وقت میں ایک ہی خاندان کے 34 ڈاکٹر۔
جب میں نے اس خاندان کے افراد سے ان کے ناموں کے بارے میں پوچھا تو انہوںنے کہا کہ یہ ہماری اپنی تاریخ سے محبت کا اظہار ہے بلاشبہ ہمارے اسلاف کی زندگیاں ایک مشعلِ راہ ہیں جن پر چل کر ہی ہم اپنے بزرگوں کی امانت پاکستان کی حفاظت اور ترقی کو یقینی بناسکتے ہیں۔ ہمارے نام ہمارے سچے جذبوں کا اظہار ہیں مگر ہم سب کوشش کرتے ہیں کہ اپنے کام سے اپنے اسلاف اور پاکستان کا نام اونچا کرسکیں۔ ہمیں پاکستان سے عشق ہے۔ پاکستان کی تاریخ سے عشق ہے اور ستمبر کا مہینہ عشق کو ہر سال جِلا بخشتا ہے۔
ڈاکٹر عطیہ ظفر نے پہلے لیاری میں ایک چھوٹے سے کلینک کی بنیاد رکھی جہاں غریبوں کا مفت علاج کیا جاتا تھا۔1965 میںاس کلینک کو ملیر شفٹ کردیاگیا اور اس وقت ڈاکٹر ٹیپو اپنے تعلیمی دور میں اپنی والدہ کے کلینک میں بطورِ کمپائونڈربھی کام کرتے رہے۔یہ کلینک آہستہ آہستہ ترقی کرتا ہوا ملیرکے ایک بڑے جنرل ہسپتال  میں تبدیل ہوگیا۔' عطیہ ظفر جنرل ہسپتال '۔ تمام بچے جو ڈاکٹر بن چکے تھے، نے اپنی والدہ کا بھر پور ساتھ دیا۔
ابوظفر کو خدا نے نہایت دردمند دل عطا کیاہے۔ ابو ظفر آزاد کی تعلیم میں گہری دلچسپی کے ساتھ ساتھ خدمتِ خلق کا جذبہ بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہواہے۔ اور انہوںنے اپنے بچوں کو بھی اسی بات کی تلقین کی کہ کبھی بھی اپنی خواہشات اور نفس کے غلام نہ بننا اور اﷲ کے بندوں کی خدمت کرنے میں جس حد تک جاسکتے ہو، قدم بڑھانا اور واقعی ان کی فرمانبردار اولاد نے والد کے اس حکم کی دل و جان سے تعمیل کی۔
بہن بھائیوں نے اپنی والدہ کے ساتھ مل کر کراچی کے ایک پسماندہ ترین علاقے 'کوہی گوٹھ'میں ایک ہسپتال کی بنیادرکھی۔ لانڈھی کی 20 لاکھ سے زائدکی آبادی میں طبی امدادکا ذریعہ 'کوہی گوٹھ' ہسپتال معاشرے کے اس حصے کی خدمت میں مصروف ہے جوبچوں، بوڑھوںاور خواتین سب کو نئی زندگی کی اُمید دے رہا ہے اور وہ بھی مفت علاج کی صورت میں۔
کوہی گوٹھ ہسپتال خواتین کی ایک نہایت خطرناک بیماریFistulaکا پاکستان میں واحد اور سب سے بڑا مرکز ہے۔ دُنیا میں افریقہ کے کچھ ممالک کے علاوہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں اس بیماری کا مکمل علاج کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر شیر شاہ سید جو گائنا کالوجسٹ ہیں اور International Society for Fistula Surgeons کے صدر بھی ہیں۔ وہ خاص طور پر ایتھوپیا سے اس بیماری کے علاج کی ٹریننگ لے کر آئے۔ اس بیماری میں زیادہ تر غریب لوگوں کی عورتیں زچگی کے عمل کے دوران مبتلا ہوتی ہیں اور یہ غریب لوگ اتنا مہنگا علاج برداشت نہیں کرسکتے۔ چنانچہ کوہی گوٹھ ہسپتال ان غریب مریض خواتین کے لئے زندگی کی اُمیدبن چکا ہے اور اندرون سندھ، تھرپارکر اور دور دراز علاقوں سے خواتین علاج کے لئے یہاں آتی ہیں۔ اس ہسپتال میں ہر طرح کا علاج ، سرجری اور ادویات بغیر کسی قیمت کے مریضوں کو مہیا کی جاتی ہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ پورے ہسپتال میں کوئی Cash Counter نہیں ہے۔
آج یہ ہسپتال ترقی کے مختلف مراحل طے کرتا ہوا بہت بڑا ادارہ بن چکا ہے جہاں نہ صرف دور دراز سے لوگ علاج کے لئے آتے ہیں بلکہ وہ ہسپتال جس کا آغاز 40 بستروں سے ہوا تھا اب200 بستروں تک پہنچ چکا ہے۔ اور اب تک تقریباً3 لاکھ سے زائد مریض خاص طور پر خواتین اور بچے یہاں سے مفت علاج کی سہولت حاصل کرچکے ہیں۔
ڈاکٹر شیرشاہ سید نے اسی ہسپتال میں Fistula Research and   Training Centreبھی قائم کردیا ہے جہاں دنیا بھر سے ڈاکٹرز آکر Technicians  Midwifery  اور دیگر شعبوں میں بیماریوں سے نبرد آزما ہونے کی مفت ٹریننگ دیتے ہیں۔
کوہی گوٹھ ہسپتال کے کوالیفائیڈ ڈاکٹرز کی ٹیم پاکستان کے دور دراز پسماندہ علاقوں میں جاکر سرجیکل کیمپس لگاتے ہیں اور وہاں بھی مریضوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ 
کوہی گوٹھ ہسپتال سے دو سال کی Midwifery  training لینے کے بعدخواتین اپنے علاقوں میںbirth centreچلاتی ہیں اور ماں اور بچے کو بیماری سے بچانے کی جدو جہد کرتی ہیں۔
ابو ظفر، عطیہ ظفر کا خاندان ایک اور محاذ پر بھی اس قوم کی خدمت کا عزم لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ کوہی گوٹھ ہسپتال سے منسلکMalir University of    Science and Technology (MUST) بھی قائم کی جا چکی ہے جہاں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ وہ طالب علم جو معاشی طور پر کمزور ہیں ان کو نہایت رعایتی فیس اور کافی حد تک بغیر فیس کے اعلیٰ تعلیم دی جارہی ہے۔ اس خاندان کا کہنا ہے کہ ہر چیز کے لئے حکومت کی طرف دیکھنے سے بہتر ہے کہ ہم سب بڑھ کر اپنے اپنے حصے کا دیا جلائیں اور اس ملک کے لئے ایک صحت مند اور تعلیم یافتہ معاشرہ تشکیل دیں۔ 
یہ خاندان واقعی ہم سب پاکستانیوں کے لئے ایک ایسی زندہ مثال ہے کہ اگر ملک سے محبت اور خدمت کا جذبہ اور کچھ بڑا کرنے کی لگن ہو تو رکاوٹوں کے باوجود خواب پورے ہو جاتے ہیں۔ ملک کی خدمت کا جو خواب ابوظفر اور عطیہ ظفر نے دیکھا، ان کی محنت اور ان کی اولاد کی مخلصانہ کوششوں کی وجہ سے عطیہ جرنل ہسپتال کوہی گوٹھ ہسپتال اور  Malir University of Science and Technology (MUST)کی صورت میں سب کو نظر آرہا ہے اور میرا ذاتی خیال ہے کہ پاکستان ایسے ہی بے لوث لوگوں کی محبت اور محنت کی وجہ سے قائم بھی ہے۔ اﷲ ہم سب کو اپنے ملک کے لئے کچھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔


مضمون نگارمیڈیا سائیکالوجسٹ اور رائٹر ہیں۔ 
[email protected]
 

یہ تحریر 113مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP