ہمارے غازی وشہداء

ہم حرفِ وفا خون سے تحریر کریں گے

پاک فوج کے پہلے شہید آفیسرمیجرمحمد یوسف خان خلیل کے بارے میںمیجر جواد انجم (ریٹائرڈ) کی تحریر

میجر محمد یوسف 1915 کو پشاورکے ایک چھوٹے سے گائوں تہکال بالا میں پیدا ہوئے۔بچپن ہی سے یوسف کو اپنے والدرسالدار محمد خان کی طرح فوجی بننے کا شوق تھا ۔اپنے خوابوں کی تکمیل کی غرض سے یوسف نے اسلامیہ کالج پشاور میں داخلہ لیا ۔وہ  ایک نمایاں طالب علم تھے اورانہوں نے غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔وہ اسلامیہ کالج پشاور کی فٹ بال ٹیم کے کپتان بھی رہے۔وہ 1936 سے 1937 تک خیبر یونین کے صدر بھی رہے۔ کالج کے دِنوں میں بحیثیت رہنما طالب علم یوسف کو 1936میں قائد اعظم کے اسلامیہ کالج کے پہلے دورے کے موقع پر استقبال کرنے کا نمایاں اعزاز حاصل تھا ۔یہ ان کی زندگی کے سب سے یاد گاردنوں میں سے ایک دن تھا۔ 1937 میں گریجویشن کے بعد یوسف نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فوج میں شمولیت اختیار کی اور برٹش انڈین آرمی کی کو ر آف سگنلز میں کنگزکمیشن حاصل کیا۔ انہوں نے آفیسر ٹریننگ سکولMHOW (ملٹری ہیڈکوارٹرز آف ویسٹرن انڈیا) میں تربیت حاصل کی ۔یہ ایک ملٹری اکیڈمی تھی جو کہ انگریزوں نے دوسری جنگ عظیم کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر فوجی افسروں کی تربیت کے لیے عارضی طور پر قائم کررکھی تھی۔ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے کمیشن لینے کے بعد یوسف کو برما بھیج دیا گیاتھا جہاں انہوں نے دو سری جنگ عظیم کے دوران عسکری خدمات سرانجام دیں۔ دوسری جنگ عظیم میں برما کے محاذ پر لڑنے کے بعدمیجر یوسف کا تبادلہ سدرن کمانڈ سگنلز رجمنٹ پونا کینٹ(ہندوستان)کیا گیا تھا۔ تقسیم پاک و ہند سے پہلے یوسف کو فورتھ انڈین ڈویژن سگنل رجمنٹ جالندھر رپورٹ کرنے کے احکامات ملے جو کہ بعد میں بائونڈری کمیشن فورس ( جس کا ہیڈ کوارٹر مشرقی پنجاب لاہور میں تھا)کا حصہ بنی جو مشرقی پنجاب میں سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور رہی۔ یہی رجمنٹ بالآخر پاکستان کے حصے میں آئی اور 11سگنل بٹالین کے نام سے پاکستان آرمی کا حصہ بنی۔عیدالفطر کے فوراً بعد 20اگست1947 کو یوسف نے پونا سے بائونڈری کمیشن فورس مشرقی پنجاب جانے کے لیے ایک اہم سفر کا آغاز کیا۔میجر یوسف ہمیشہ.38 بور یوالور پاس رکھتے تھے جو کہ ان کے چچا (برٹش نیول آفیسر)نے ان کو تحفے میں دیا تھا۔ سفر سے پہلے، میجر یوسف نے کِرکی ریلوے سٹیشن پر درخت کے تنے میں گولی چلا کر اپنے ریوالور کو آزمایا تھا۔جمعدار ایڈجوٹینٹ حاکم خان نے یہ مشق دیکھی۔



24 اگست1947 کو ایک سکھ جتھے نے مشرقی پنجاب کی پٹیالہ ریاست کے ضلع بٹھنڈہ میں مانسہ ریلوے اسٹیشن پر ریل گاڑی کو روکا ۔کچھ سکھ، فوجی وردیاں پہنے ہوئے ان چار برٹش آفیسرز والی بوگی میں داخل ہوئے۔ ان لوگوں نے خصوصی طور پر میجر یوسف سے شناخت کے بارے میں دریافت کیا۔ اپنی خوبصورت اور گلابی رنگت کی وجہ سے اور اپنے ہمراہ آفیسرز کے تعاون سے میجر یوسف  برٹش آفیسر ظاہر ہوئے ۔پس میجر یوسف نے انتہائی دانش مندانہ طریقے سے سکھوں کوچکما دیا مگر جب انہوں نے پلیٹ فارم پروہ خوفناک منظر دیکھا جہاں مسلمانوں بشمول عورتوں اور بچوں کا قتل عام ہو رہا تھا تو وہ پیچھے نہ رہ سکے۔ان کے برٹش آفیسرز دوستوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی مگر جان کو لاحق خطرے کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے .38 بور ریوالور کے ہمراہ بے بسی سے قتل ہونے والوں کو بچانے کے لیے باہر نکلے۔ میجر یوسف نے بھاری تعداد میں مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے گولی چلائی مگر اچانک ان کو سینے میں نیزہ مارا گیا اور وہ زمین پر گر پڑے۔ یہ دیکھتے ہوئے عوام ان پر بھوکے بھیڑیوں کے ریوڑ کی طرح جھپٹ پڑے اور ان کو نیزوں اور تلواروں سے مارنا شروع کیا اور آخر کار ان کو ٹکڑوں میں کاٹ ڈالا رائل سگنلز کے آر ایس ایم مچل  نے اس دردناک منظر کو دیکھا ۔
 معصوم لوگوں کی خاطر لڑتے ہوئے ان کو شہادت  نصیب ہوئی ۔میجر یوسف خان نئے مقام پر فرائض سرانجام دینے کے لیے تو نہ پہنچ سکے مگر اپنے فرائض کی خاطر لڑتے ہوئے یہ خوبصورت اور بہادر مسلمان آفیسر پاکستان فوج کے پہلے  شہید آفیسر کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔



میجر یوسف نے پسماندگان میں سے ایک بیوہ اور تین بیٹے چھوڑے۔ ان کی اہلیہ ان کی شہادت کے 58 سال بعد چل بسی۔ ان کی اہلیہ گھریلو خاتون تھیں جنہوں نے اپنی تمام زندگی اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں صرف کی۔بڑا بیٹا Explorationانجینئر بنا ،منجھلے بیٹے نے اپنے والد کی طرح پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور سب سے چھوٹا بیٹا پشاور یونیورسٹی سے وائس چانسلر کی حیثیت سے سبکدوش ہوا۔اِس وقت ان کا سب سے چھوٹا بیٹا زندہ ہے اور انھوں نے  سگنل ٹریننگ سینٹر(STC) کی ٹیم کو اپنے شہید والد کے بارے میں آرٹیکل لکھنے میں  بھرپورتعاون اور مدد فراہم کی ۔
پاکستان آرمی  کے پہلے شہیدآفیسر نے  بہادری ، قربانی اور فرض شناسی کا جو بلند معیار قائم کیا بلاشبہ وہ پاک آرمی کے افسروں اور جوانوں کے لیے ہمیشہ ایک زندہ اور اعلیٰ مثال رہے گا ۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی میجر  یوسف کی اس عظیم قربانی کو قبول فرمائے اور ان کو اجر عظیم عطا فرمائے۔  آمین ||


[email protected]

یہ تحریر 22مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP