متفرقات

ہم بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں

میں کافی عرصے سے سپیشل بچوں کے سکولزکا دورہ بھی کر رہی ہوں اور کئی جگہوں پر ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا ۔ان سکولز میں ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں۔۔یہ بہت پیارے بچے ہوتے ہیں۔۔۔ ان کو جب بھی کسی فنکشن میں پرفارم کرتا دیکھتی ہوں تو ان کی صلاحیتوں کی معترف ہو جاتی ہوں۔۔
سپیشل بچوں کی ٹرم ہم معذور یا پسماندہ افراد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔عام بندے کو ان بچوں کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہوتا۔۔۔عموماً ان کو معاشرے کا ناکارہ حصہ سمجھا جاتا ہے ۔۔۔جبکہ ایسا ہے نہیں۔۔۔ ہماری تھوڑی سی محبت اور توجہ سے یہ بچے معاشرے میں فعال کردار ادا کرسکتے ہیں۔



''معذوری'' کے وسیع درجات اور مختلف کیفیات ہیں، جن میں کچھ واضح ہیں اور کچھ غیر واضح۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کسی حادثے کے باعث  ہو یا  پیدائش کے وقت سے ہی موجود ہو، یا وقت کے ساتھ ساتھ وقوع پذیر ہوئی ہو۔ اس کی مختلف اقسام ہیں یعنی جسمانی، دماغی اور سیکھنے کی معذوریاں، دماغی امراض، سماعت یا بینائی کی معذوریاں، مرگی، دوا اور الکوحل پر انحصار، ماحولیات سے حساسیت، اور دیگر صورتیں ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے کنونشن (برائے معذور افراد کے حقوق) کے مطابق ۔۔۔ وہ افراد جنہیں طویل المیعاد جسمانی ،ذہنی یا حسیاتی کمزوری کا سامنا ہو جس کی وجہ سے انہیں معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے میں رکاوٹ پیش آتی ہو انہیں معذور کہا جاتا ہے۔
 جن سکولز کی میں بات کر رہی تھی ان میں جسمانی معذوری اور ذہنی معذوری دو قسم کے ادارے ہوتے ہیں ۔۔۔جن میں یہ بچے موجود ہوتے ہیں۔
پہلے میں ذکر کروں گی جسمانی معذوری کے بچوں کا ۔۔۔۔ ان میں سماعت سے محروم ،گویائی سے محروم، بینائی سے محروم اور جسمانی طور پر اپاہچ بچے شامل ہوتے ہیں۔یہ جسمانی نقص کا شکار ہوتے ہیں باقی ان کا ذہن ایک عام بندے کی طرح ہی کام کرتا ہے ۔۔۔یا بعض اوقات تھوڑا سا سست رفتار لیکن بہر حال ان میں سیکھنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔۔ ۔ ایسے بچوں کو ہینڈل کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے ۔۔۔ ان کے لئے ماہر اساتذہ ہوتے ہیں جو ان کو ان کی معذوری کے مطابق تعلیم دیتے ہیں جبکہ ذہنی معذوری کے شکار بچے کافی مشکل ٹارگٹ ہوتے ہیں۔۔۔۔
ذہنی معذوری کی کئی اقسام ہیں لیکن ان میںجو زیادہ عام ہیں، میں ان کا ذکر کرنا چاہوں گی۔۔۔۔ان میں ڈاؤن سینڈروم(Down   Syndrome)  اور آٹزم(Autism) نمایاں ہیں۔
ڈاؤن سینڈروم کے بچے وہ ہوتے ہیں جو دیکھنے میں منگول دکھائی دیتے ہیں۔ان کی گردن موٹی، سر بڑا ، چہرہ گول اور آنکھیں بڑی اور کچھ باہر کو نکلی ہوتی ہیں۔یہ ایک سنگین جینیاتی نقص کا شکار بچے ہوتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور سے یہ بچے بہت خوش طبع ہوتے ہیں۔ ان کی ایک اپنی ہی دنیا ہوتی ہے، جس میں وہ مگن رہتے ہیں۔ ان میں سے اکثر کی زبان میں لکنت ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کی توجہ کا دائرہ کار محدود ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ عام بچوں کی طرح مختلف دلچسپیاں نہیں رکھتے بلکہ اپنی توجہ بہت ہی کم چیزوں پر مرکوز رکھتے ہیں۔ایسے بچوں کی عام اسکول میں تربیت مشکل ہوتی ہے کیونکہ اساتذہ کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان بچوں کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو کس طرح ابھارا جائے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے شکار افراد معذوری کے باوجود قدرت کی دیگر صلاحیتوں سے مالا مال ہوتے ہیں جن کی بدولت اس بیماری کے شکار مریض بھی معاشرے میں ایک باعزت زندگی بسر کر سکتے ہیں بشرطیکہ ان کو توجہ ، محبت اور شفقت سے سکھایا جائے ۔۔۔یہ سلو لرنرزSlow Learners ہوتے ہیں لیکن آخر کار سیکھ ہی جاتے ہیں۔۔۔ان کے ساتھ مستقل محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔اس کے علاوہ ان کی کچھ مشقیں اور ورزشیں ہوتی ہیںجن کا مسلسل استعمال ان کو بہتری کی طرف لاتا ہے ۔۔۔۔ ایسے بچوں کو گھر میں رکھنے کی نسبت سپیشل ایجوکیشن کے سکول میں بھیجنازیادہ مناسب ہے جہاں ان کو مستقل طور پرتربیت دی جاتی ہے۔۔۔گھر میں اگر ان کوکوئی فل ٹائم اور مکمل توجہ دے پائے تو اس صورت میں تو ٹھیک ہے لیکن توجہ نہ ملنے کی صورت میں ان کے مرض میں شدت آجاتی ہے ۔لہٰذا سب سے بہتریہی ہے کہ  ان کو سکول ہی بھیجاجائے ۔۔
دوسرے نمبر پہ آٹزم Autismآتا ہے ۔۔یہ ایک نشوونمائی معذوری ہے۔۔۔ جوکسی شخص کی  دوسرے لوگوں سے بات چیت اور تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہے۔۔اس کو آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر(اے ایس ڈی)بھی کہتے ہیں جس سے مراد ہے کہ یہ مخصوص رویوں اور نشوونما کے مسائل اور مشکلات کا سیٹ ہے۔ اے ایس ڈی بچے کی ترسیل، سماجی اور کھیلنے کی مہارت کو متاثر کرتا ہے۔
اے ایس ڈی میں لفظ ''سپیکٹرم'' کا مطلب یہ ہے کہ ہر بچہ منفرد ہے اور اس کی اپنی خصوصیات ہیں۔ یہ خصوصیات مل کر اس کو ایک مخصوص ترسیل اور رویوں کی پروفائل دیتی ہیں۔ جیسے جیسے آپ کا بچہ بڑا ہوگا اور نشوونما پائے گا اس کی مشکلات کی نوعیت تبدیل ہوتی جائے گی۔ عموماً اے ایس ڈی ASD والے افراد میں پوری زندگی کے لئے سماجی اختلافات یا رویوں کے اختلافات  پائے جاتے ہیں۔
ایسے بچے اپنے نام پر ردعمل ظاہر نہیں کرتے۔
کوئی مخاطب کرے تو توجہ نہیں دیتے۔
کھلونوں سے عمومی طریقے سے نہیں کھیلتے بلکہ غیر معمولی انداز میں کھیلتے ہیں ۔
کبھی بہت تنک مزاجی کامظاہرہ کرتے ہیں اور کبھی سستی کا۔۔۔ان کا کوئی  موڈمستقل نہیں ہوتا بلکہ بدلتا رہتا ہے ۔
عموماً ان کا موڈ فورًا تبدیل ہوتا ہے ،یکدم سستی سے چڑچڑا پن یا چڑچڑے پن سے فورًا سستی۔۔۔
یہ عام طور پر نظر ٹکا کر بات نہیں کرتے بلکہ مستقل طور پہ ادھر ادھر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔۔
ان کا ارتکاز ایک جگہ نہیں ہوتا ۔۔۔عرف عام میں ہم ان کو ہائپر ایکٹو کہہ سکتے ہیں۔۔۔
آٹزم اے ایس ڈی ذہنی بیماری نہیں گنی جاتی اور نہ اس کا باقاعدہ طور پر کوئی طبی علاج ہے۔۔۔
اس بچے کو وہ تمام سماجی ترسیلی مہارت سکھانی چاہئے جس کی نشوونما کے تمام مراحل پر ضرورت پڑ سکتی ہے اور اس کی نگرانی کسی ایسے شخص کے سپرد ہونی چاہئے جوکہ اے ایس ڈی اور اس کے علاج کا ماہر ہو ۔
ان کی تربیت میں والدین یا دیکھ بھال کرنے والوں کے علاوہ اساتذہ کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔۔۔ اے ایس ڈی کی تربیت کے بغیر خاندان، کلاس کے اساتذہ اور دوسرے دیکھ بھال کرنے والوںکے لئے بچے کی مدد کرنا مشکل ہو سکتی ہے۔لہٰذا ان کو پہلے خود اس معذوری کو ٹریٹ کرنے کی باقاعدہ تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے۔۔۔
اس مضمون میں بہت سے ماہر لوگوں کی نظر میں کئی خامیاں ہوںگی لیکن  میں نہ تو ماہر نفسیات ہوں نہ سپیشل سکول کی استاد اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر۔۔۔۔لہٰذا اس مضمون میں، میں نے کوشش کی ہے عام بندہ ان بچوں کی معذوری سے واقفیت حاصل کرکے ان سے محبت اور توجہ سے پیش آئے۔۔۔۔ تاکہ یہ بچے معاشرے کا ناکارہ حصہ بننے سے بچ کر کارآمد شہری بن سکیں۔


مضمون نگار کا تعلق شعبہ تعلیم اور ادب سے ہے۔ سابقہ ایم پی اے، سماجی کارکن، ہیومن رائٹس ایکٹیویسٹ اور ماہرِ ماحولیات ہیں۔
 

یہ تحریر 181مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP