قومی و بین الاقوامی ایشوز

ہمارے معاشی چیلنجز اور عوام

پاکستان کا ایک بنیادی مسئلہ معاشی بحران ہے ۔ یہ بحران آج کا پیدا کردہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے جاری غلط معاشی پالیسیوں، ترجیحات، سیاسی عدم استحکام اور عالمی مالیاتی اداروں پر حد سے بڑھتے ہوئے انحصار سے وابستہ ہوا ہے۔ جو بھی حکومت اقتدار کے کھیل کا حصہ بنتی ہے اس کی پہلی ترجیح آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں پر فوری انحصار اور ٹھوس پالیسیوں کے بجائے وقتی طور پر اٹھائے گئے اقدامات سے وابستہ ہوتی ہیں ۔ عمومی طور پر ہماری مجموعی سیاست ردعمل کی سیاست سے منسلک ہے اور ہم طویل مدت کی بنیاد پر ٹھوس پالیسیوں کی حکمت عملی کو اختیار کرنے سے گریز کرتے ہیں ۔
عمومی طور پر مضبوط معاشی پالیسیاں سات بنیادی عوامل سے منسلک ہوتی ہیں۔ اول داخلی سیاسی او رمعاشی استحکام کیونکہ ایک مضبوط ومستحکم سیاست ہی مضبوط معیشت کی بنیاد ہوتی ہے ۔ دوئم داخلی اور خارجی سرمایہ کاری کے فروغ سمیت روزگار کے مواقع ، سوئم منصفانہ ٹیکس کلچرکا موجود ہونا اور لوگوں کی ٹیکس نیٹ میں شمولیت ، چہارم ملکی سطح پر کاروبار کے کلچر کا فروغ اور سازگار ماحول، بدعنوانی سے پاک سیاست ، ششم شارٹ ٹرم، مڈ ٹرم او رلانگ ٹرم معاشی روڈ میپ ، ہفتم معاشی سطح پر زیادہ سے زیادہ خودانحصاری کی پالیسی سمیت دیگر امور پر عمل پیرا ہونا ۔
اسی طرح ایک کامیاب معاشی پالیسی کو جانچنے کے لئے Micro and Macro Economics کے درمیان فرق کو بھی سمجھنا ہوگا۔ کیونکہ عمومی طور پر ہم معاشی سطح پر ہونے والی ترقی کے بڑے بڑے اعدادوشمار پیش کرکے اپنی کامیابی کی نوید سناتے ہیں مگر ان اعدادوشمار کی جھلک ہمیں عام ، کمزور او رمحروم طبقات کی معاشی ترقی کے تناظر میں نظر نہیں آتی ۔یہی وجہ ہے کہ عام ، کمزور اور محروم طبقات کا ریاست ، حکومت او رمعاشی اداروں کے درمیان خلیج اور بداعتمادی کا رشتہ موجود ہے ۔آپ معاشی سطح پر اپنے اعدادوشمار کا جائزہ لیںیا تجزیہ کریں تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ معاشی استحکام و ترقی مخصوص طاقت ور طبقات کے مفادات سے جڑی ہوئی ہے ۔ یہ جو ہماری معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں ایک طبقاتی طرز کی تقسیم امیر اور غریب کے درمیان پیدا ہورہی ہے وہ ایک خطرنا ک رجحان کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ ہم معاشی میدان میں کہاں کھڑے ہیں ۔
ہم معاشی صورتحال سے نمٹنے کے لئے مختلف معاشی امور کے ماہرین کی مدد سے علاج تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ان میں سے بیشتر معاشی ماہرین وہ ہوتے ہیں جو عمومی طور پر عالمی مالیاتی اداروں کے لئے کسی نہ کسی شکل میں کام کررہے ہوتے ہیں یا ان کے اپنے مفادات ان عالمی مالیاتی اداروں سے وابستہ ہوتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی بھی حکومت معاشی امور میں پہلے سے موجود روائتی معاشی پالیسیوں سے گریز کرکے کچھ نیا پن دکھانے کی کوشش کرتی ہے تو عالمی مالیاتی ادارے حکمران طبقات میں شامل اپنے ہی معاشی ماہرین کی مدد سے ان غیر روائتی پالیسیوں میں رکاوٹ بنتے ہیں ۔ہمیں بنیادی طور پر معاشی ماہرین کے مقابلے میں سیاسی امور سے جڑے معاشی طرز کے ماہرین درکار ہیں ۔ سیاسی او رمعاشی امو رکے ماہرین عملی طور پر عام آدمی کے مفاد کو سامنے رکھ کر اپنی معاشی پالیسیوں کو ترتیب دیتے ہیں تاکہ عام آدمی بھی ان سے مستفید ہوسکے ۔
ایک بنیادی نکتہ یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لئے ہمیں ڈر اور خوف پر مبنی پالیسی سے گریز کرکے ایک ایسا سازگار ماحول بنانا ہوتا ہے جو کاروباری او رسرمایہ دار طبقے کے مفاد میں ہو۔ کیونکہ بعض اوقات ڈراور خوف پر مبنی پالیسی سے لوگ سرمائے کو میدان میں نہیں لاتے اور اس کی وجہ سے معاشی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے ۔مضبوط اقتصادی پالیسی کی بنیاد ایڈہا ک ازم نہیں اور نہ ہی پہلے سے موجود روائتی طرز کی پالیسی پر قائم رہ کر کچھ نیا ہوسکتا ہے۔ پاکستان پر ایک بڑا دبائوفنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا بھی ہے ۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی خاص طور پر مالیاتی دہشت گردی سے منسلک اقدامات کی بنیاد پر ہمیں پرکھا جارہا ہے ۔ہماری کوشش ہے کہ ہم ثابت کرسکیں کہ ہمارا سفر درست سمت میں ہے ،جبکہ بھارت پوری کوشش کررہا ہے کہ وہ ثابت کرسکے ہم غلط سمت میںہیں اور وہ چاہتا ہے کہ پاکستان پر مالیاتی پابندیاں عائد کی جائیں ۔
مختلف معاشی امور سے وابستہ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر آئی ایم ایف سے  ہمارے معاملات طے ہوجاتے ہیں تو اس کے نتیجے میںعوام کی سطح پر ایک بڑی مہنگائی کا ریلا آئے گا۔حکومت کے لئے یہی وہ بڑا چیلنج ہے جس سے وہ نمٹنا چاہتے ہیں او راسی بنیاد کی وجہ سے انہوں نے اپنی معاشی ٹیم تبدیل کی ہے ۔ وزیر اعظم خاص طو رپربار بار یہ نکتہ دہراتے ہیں کہ وہ عام اورکمزور آدمی کی معاشی حیثیت کو ہر سطح پر بڑھانا چاہتے ہیں ۔لیکن کیا ان کی حکومت اورمعاشی وزیر عوام کو اس گرداب سے باہر نکال سکیں گے ، یہ  ایک بڑا چیلنج ہے ۔کیونکہ لوگ اس کی حد سے زیادہ توقعات رکھتے ہیں ۔
ہمیںیہ سمجھنا ہوگا کہ اس وقت پاکستان معاشی میدان میں غیر معمولی صورت حال کا شکار ہے ۔اس غیرمعمولی صورت حال سے نکلنے کا واحد علاج بھی غیرمعمولی اقدامات سے ہی ہوگا ۔ ہمارے معاشی ماہرین کینسر جیسے مرض کا علاج ڈسپرین کی گولی سے کرنے کی جو کوشش کررہے ہیں اس کا نتیجہ مزید معاشی بدحالی کی صورت میں سامنے آئے گا ۔ اب وقت ہے کہ ہمیں کڑوی گولیاں کھانی ہیں لیکن یہ کڑوی گولیاں محض عام آدمی تک محدود نہ ہوں بلکہ اس میں پہلے طاقت ور طبقات کو شامل کیا جائے۔ہمیں معاشی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پورے ریاستی، حکمرانی او رادارہ جاتی کلچر کو بڑی تیزی سے اصلاحات کی مدد سے بدلنا ہے۔کیونکہ جمہوری نظام کی بنیاد اصلاحات پر مبنی ہوتی ہے لیکن یہ اصلاحات اگر عام آدمی کے معاشی مفاد کو سامنے رکھ کر کی جائیں تو اس سے حکمران اور عام آدمی کا بھروسہ بھی قائم ہوگا کیونکہ جب تک مرض کی درست تشخیص نہیں کی جائے گی تب تک کسی بھی طرح سے درست علاج ممکن نہیں ہوگا۔
کسی بھی سیاسی نظام او رحکومت کی کامیابی کی بڑی کنجی معاشی استحکام ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت کو بھی یہ بحران درپیش ہے اور اس سے نمٹ کر ہی وہ اپنی حکومت کی ساکھ بہتر بناسکتے ہیں ۔اگرچہ انہوں نے ابتدائی طو رپر ایک پندرہ رکنی اقتصادی کونسل تشکیل دی تھی ، لیکن وہ کارگرنہ ہوسکی۔ 
بہرطورجب ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ہم عام آدمی کی معاشی حیثیت کو بدلنا چاہتے ہیں تو اس کا بڑا تعلق معاشی سطح پر چھوٹے روزگار کے مواقع اور ماحول سے ہوتا ہے ۔ حکومت کی بڑی ترجیح مائیکرو انٹرپرینیورشپ جیسے ماڈل ہونے چاہئیں ۔ روزگار دینا اب محض حکومت کے بس میں نہیں وہ صرف اور صرف ایسا ماحول او رمواقع پیدا کرتی ہے جو لوگوں کو خود معاشی میدان میں کچھ کرنے کے مواقع فراہم کرے ۔ خاص طو ر پر نوجوانوں میں یہ شعوراُجاگر ہوگا کہ وہ خود سے آگے بڑھیں او رچھوٹے چھوٹے روزگا رپیدا کریں۔ حکومت ان نوجوانوں کو چھوٹے قرضے جاری کرے او ران کو کاروباری ماحول فراہم کرے۔ خاص طور پر گھروں میں بیٹھی عورتوں کو معاشی عمل میں شریک کرنا ہوگا اور ہمیں اس تناظر میں بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا او رنیپال جیسے ماڈل سے سیکھنا ہوگا ۔
حکمران طبقات کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ معاشی ترقی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوتی۔ اس کے لئے ایک جامع سیاسی اور معاشی نظام درکار ہوتا ہے جو مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہو ۔ یہ عمل ایک مضبوط ادارہ جاتی نظام بھی مانگتا ہے ۔ کیونکہ اداروں کی مدد سے ہی ہم معاشی ترقی سے وابستہ اہداف کو حاصل کرسکتے ہیں۔ ہماری ادارہ جاتی صلاحیت بہت کمزور ہے او ریہی وجہ ہے کہ ہم بہت زیادہ وسائل خرچ کرکے بھی مطلوبہ نتائج کے حصول کو ممکن نہیں بناپارہے ۔ عالمی سطح پر ہماری ترقی اورعام آدمی کے مفاد سے جڑے اعدادوشمار ہمیں بدحالی کی طرف دھکیلتے ہیں ۔ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی ، بے روز گاری ، مہنگائی ، پٹرول ، بجلی ، گیس اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ عام آدمی کی مشکلات میں اضافے کا سبب بنتا ہے ۔اس لئے ہماری مجموعی سیاست کو نئے سرے سے ایسے خطوط او رفریم ورک میں لانا ہوگا جو ہماری ضرورت بنتے ہیں او ریہ عمل  بڑی سیاسی اصلاحات اور اداروں کی تشکیل نو سے جڑا ہوا ہے ۔اگر ہم یہ سب کچھ نہ کرسکے تو معاشی بحران سے نمٹنے کا خواب محض خواب کبھی شرمندئہ تعبیر نہیں ہو گا۔


مضمون نگار ملک کے معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں اور دہشت گردی ، جمہوریت سمیت پانچ اہم کتابوں کے مصنف اور کئی اہم تھنک ٹینکس کے رکن ہیں
[email protected]

یہ تحریر 97مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP