قومی و بین الاقوامی ایشوز

ہمارے عسکری وجود پر سنگ باری

سٹیفن فلپ کوہن نے اپنی کتاب The Idea of Pakistan کے دوسرے باب کی اختتامی سطروں میں افواجِ پاکستان میں اتحادِ فکر و عمل کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جہاں پاکستان کے دیگر تمام ریاستی ادارے جمود، زوال اور انتشار کی جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہیں وہاں افواجِ پاکستان کا ادارہ ابھی تک متحد، منظم اور فعال ہے۔اِس اعترافِ حقیقت کے بعد انہوں نے ہر مرحلے پر، حیلے بہانے سے ہمارے عسکری وجود پر مسلسل اور متواتر سنگ باری جاری رکھی ہے۔ یہ بات بڑی معنی خیز ہے کہ وہ ہمارے فوجی حکمرانوں کی اُن غلطیوں پر تو تحسین و آفرین کی صدا بلند کرتے ہیں جو ان آمروں نے وقتاً فوقتاً امریکہ کے دبائو میں آ کر کی ہیں۔مگر وہ انہی حکمرانوں کے اچھے کاموں کو بُری نظر سے دیکھتے ہیں۔ کوہن صاحب کو ہمارے فوجی حکمرانوں کی دو غلطیاں بے حد سنگین نظر آتی ہیں۔ اوّل یہ کہ امریکہ کی تمام تر نوازشات کے باوجود افواجِ پاکستان میں اب تک امریکہ کے پرستار جرنیلوں کا کوئی ''کیڈر'' وجود میں نہیں آسکا۔ دوم یہ کہ پاکستانی فوج کے دل میں جوشِ جہاد اور شوقِ شہادت کا ولولہ ابھی تک زندہ ہے۔ اُن کے لئے اتنی بات کافی نہیں ہے کہ آج کل افواجِ پاکستان کی قیادت نے آئیڈیالوجی آف پاکستان کا دم بھرنا چھوڑ دیا ہے۔ وہ اسے ہماری فوجی قیادت کی عارضی حکمتِ عملی سمجھتے ہیں۔چنانچہ وہ گہرے دُکھ کے ساتھ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ:



"The military training programs familiarized Pakistan Army officers with America and American strategic policies and fostered a better understanding of American society, but they did not create a cadre of pro"-American" generals."(p.304)

سٹیفن کوہن کو خوب معلوم ہے کہ پاکستانی جرنیلوں کو تھوک کے حساب سے خریدنے میں امریکہ کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ آئیڈیالوجی آف پاکستان سے افواجِ پاکستان کی گہری وابستگی ہے۔ چنانچہ اپنی کتاب میں وہ ایوب خان کی اس خوبی کو خرابی کے رنگ میں یوں پیش کرتے ہیں:

"It was during the Ayub years that Pakistan began the process of official myth-creation in earnest. A large central bureaucracy was created to manufacture an ideology for Pakistan, on that glorified the army as the state's key institution." (p.67)

یہ سراسر کذب و افترا ہے ۔ پاکستان کی آئیڈیالوجی ایوب خان نے تیار نہیں کرائی۔ ہاں وہ اس حد تک ''قصوروار'' ضرور ہیں کہ اُنہوں نے اِس آئیڈیالوجی کے نفاذ کی خاطر ایک مرکزی افسر شاہی کا نظام قائم کیا تھا۔ پاکستان کی آئیڈیالوجی یعنی دو قومی نظریہ قیام پاکستا ن سے صدیوں پہلے وجود میں آ گیا تھا۔ اس آئیڈیالوجی (دو قومی نظریہ) ہی کی کوکھ سے پاکستان پیدا ہوا۔ قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی قائداعظم اور قائدِ ملت نے اِس آئیڈیالوجی کے خدوخال سنوارنے اور نکھارنے شروع کر دیئے تھے۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی جیسے ناموَر مؤرخین اور سیاسی مدبرین نے مسلم انڈیا کی تاریخ کو تاریخ نویسی کے مسلمہ سائنسی معیاروں کے مطابق لکھنا شروع کردیا تھا۔

The Muslim Community of the Indo-Pak Sub-continent

سے لے کر

Ulama in Politics


ہم پاکستان کے غریب اور غیورعوام کی اسلامیت اور پاکستانیت پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ہمارے عسکری وجود کی قوت کا حقیقی سرچشمہ ان ہی غیرت مند کسانوں اور مزدوروں کے بیٹوں پر مشتمل ہے۔امریکی سپاہِ دانش بھی اِس حقیقت سے آگاہ ہے اور اسی لئے ہمارے عسکری وجود پر سنگ باری میں مصروف ہے۔ ہمیں امریکی سپاہِ دانش کے پاکستانی پیادوں (Recruits) سے گلہ ضرور ہے۔ اُن کی سنگ زنی سے ہمارے دل پر چوٹ پڑتی ہے اور ہمیں بے ساختہ فیض احمد فیض یاد آجاتے ہیں۔ راولپنڈی سازش کیس سے لے کر اپنی آخری جلاوطنی تک وہ ہمیشہ فوجی حکومتوں کے ظلم و ستم کا شکار رہے


 

تک بہت سی کتابیں اسلامیانِ ہند کی تہذیبی، سیاسی اوردینی شخصیت کو اُجاگر کر چکی تھیں۔ ایوب خاں نے اقتدار سنبھالتے ہی

Bureau of National Reconstruction

(قومی تعمیر نوبیورو) اور

Pakistan Council for National Integration

(پاکستان کونسل برائے قومی یکجہتی) کے سے اداروں کی بُنیاد رکھی۔ انہوں نے اِن اداروں میں فوجی جرنیل نہیں بلکہ ماہرینِ تعلیم، ماہرینِ تاریخ و سیاست، ادیب اور دانشور لا بٹھائے تھے۔ اِن اداروں کا ریکارڈ اور اِن سے وابستہ اہلِ علم کی تصنیفات اس حقیقت کی شاہد ہیں کہ ایوب خان نے اِن اداروں کے ذریعے عسکریت کا بول بالا ہر گز نہیں کیا تھا بلکہ اس کے برعکس پاکستان کی تہذیبی شناخت کوسائنسی خطوط پر اُستوار کرنے اور دوام بخشنے کا علمی اہتمام کیا تھا۔

ڈاکٹر جاوید اقبال کی کتاب 

The Ideology of Pakistan

کا پہلا ایڈیشن ایوب خاں کے حرفِ اوّل کے ساتھ شائع ہوا تھا اور اس کا پورا نام تھا

The Ideology of Pakistan and its Implementation

۔ ہر چند اس کتاب میں پیش

کی گئی پاکستان کی حقیقی آئیڈیالوجی کو ایوب خاں بوجوہ مکمل طور پر نافذ نہ کر پائے تاہم یہ پاکستان کی فوج اور پاکستان کے عوام کی نظریاتی تربیت ہی کا کرشمہ تھا کہ سن پینسٹھ (٦٥) کے معرکۂ ستمبر میں قومی و ملی جوش و خروش اور ایثار و وفا کے ایسے ایسے مناظر دیکھنے میں آئے تھے جن سے قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ ہو گئی تھی۔ اُس لمحے قومی یکجہتی کا یہ عالم تھا کہ حزبِ اختلاف کی ہی سیاسی جماعت کے امیر سیّد ابوالاعلیٰ مودودی نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان پر حملہ دارالاسلام پر حملہ ہے۔ سائنسی سوشلزم کے علمبردار صفدر میر نے ٹرک پر سوار ہو کر اپنی نظم ''لاہور کو سلام'' پڑھتے ہوئے لوگوں کو دعوت دی تھی: ''علی حیدر، علی حیدر/چلو واہگہ کی سرحد پر/علی حیدر، علی حیدر'' اور لوگ بھارتی افواج سے پنجہ آزمائی کی خاطرسرحد کی جانب دوڑنے لگے تھے۔ اسی صفدر میر کی نظم ''سیالکوٹ کی فصیل'' درج ذیل مصرعوں پر ختم ہوتی ہے:

خدا کی بارگاہ میں

ارض ِ پاک کے شہید

اپنے خون سے سنی ہوئی

وردیوں میں صف بہ صف

کھڑے ہیں اذن رب کے منتظر

چٹان ایسے سینے گولیوں سے چھلنی

عرش کی زمین پر

جوان جبینوں سے لہو کے تازہ قطرے

بوند بوند گر رہے ہیں

یہ ایوب خاں کے دور کی نظریاتی تربیت ہی کا فیضان ہے کہ معرکۂ ٦ستمبرکے دوران اسلام پسندوں اور سائنسی سوشلسٹوں کا رنگ ایک ہو گیا تھا اور ہر مکتبۂ فکر کے علمبردار اور پیروکار گہری اور جبلی پاکستانیت کے ساز پر رزمیہ گیت گانے لگے تھے۔

سٹیفن کوہن ہمارے عسکری وجود کے اندر کار فرما جوشِ جہاد اور شوقِ شہادت سے انتہائی خوفزدہ ہیں۔ اُنہیں اس بات کا گلہ ہے کہ ایوب خاں نے دو قومی نظریہ کی جڑیں اسلامی ہند کی تاریخ میں کیوںتلاش کیں؟ وہ اپنی تقریروں میں دو قومی نظرئیے کے ثبوت میں البیرونی کی ''کتاب الہند'' میں بیان کی گئی تہذیبی اور معاشرتی صداقتوں کا ذکر کیوں کرتے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ افواجِ پاکستان کو پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی سرحدوں کا محافظ کیوں قرار دیتے ہیں؟بات یہ ہے کہ ایوب خاں اور دوسرے فوجی حکمرانوں نے افواجِ پاکستان کو نظریاتی سرحدوں اور جغرافیائی سرحدوں کے یکجان ہونے کا جو درس دیا تھا اُس نے آج بھی امریکی سپاہِ دانش کی اُس مذموم مہم کی کامیابی کی راہ میں بے پناہ مشکلات حائل کر رکھی ہیں جس کا اوّلین مقصد پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا انہدام ہے۔

ہر چند آج کل ہماری فوجی قیادت بعض وجوہ کی خاطر نظریاتی سرحدوں کا ذکر نہیں کرتی تاہم امریکی سپاہِ دانش کا سب سے بڑا خوف ہی یہ ہے کہ افواجِ پاکستان کا دِل ابھی تک نظریاتی سرحدوں ہی میں اٹکا ہوا ہے۔ کیوں نہ ہو، پاکستان کی جغرافیائی سرحدیں تو اُن نظریاتی سرحدوں ہی سے نمودار ہوئی ہیں جو گزشتہ ایک ہزار سال سے ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا کے درمیان قائم و دائم ہیں۔ اگر خدانخواستہ ہماری نظریاتی سرحدیں پامال کر دی گئیں تو پھر جغرافیائی سرحدیں خود بخود مٹ کر رہ جائیں گی۔ سٹیفن کوہن اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں اسی لئے وہ امریکی حکومت کو مختلف پیرایوں میں بار بار یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیںکہ:

"Without question, Pakistan must transform the "Islamic" component of its identity and bring the idea of Pakistan into alignment with twenty first century realities." (p.299)

یہاں اکیسویں صدی کے ''حقائق''سے مراد دُنیائے اسلام کے خلاف جاری سامراجی جنگ میں امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے ناپاک اتحاد سے پھوٹنے والی حقیقتیں ہیں۔ اُن کا مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان اپنی حقیقی نظریاتی بُنیاد کو مٹا کر اُس نئی نظریاتی سرزمین کی جانب فرار کی راہ لے جس کا قدیم نام اکھنڈ بھارت ہے اور جدید نام سائوتھ ایشین یونین۔ اُن کی تجویز یہ ہے کہ اگر پاکستان یہ مطالبہ ماننے سے مسلسل انکار کرتا چلا جائے تو پھر پاکستان کو دُنیا کے نقشے سے ہی غائب کر دینا چاہئے۔ پاکستان کے حکمران طبقے

(core elite)

کی آئیڈیالوجی آف پاکستان سے بیزاری سے سٹیفن کوہن کی بہت سی خوش گمانیاں وابستہ ہیں۔ جانے اُنہیں یہ کس نے بتایا ہے کہ:

"The confidence of core elites in the future of Pakistan is reduced." (p.295)

چلئے، ہم اُن کا یہ مفروضہ بلاچون و چرا مان لیتے ہیں اور اپنے عسکری وجود کی پاکستانیت اور اسلامیت سے اُن کے خوف کی بات چھیڑتے ہیں۔ موصوف امریکی حکومت کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ پاکستان کو بھارت کی غلامی پر آمادہ کرنے کے لئے گُڑ کھلانے کا گُر بھی آزمانا چاہئے اور زہر کھلانے کی متبادل حکمتِ عملی بھی بروئے کار لانے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ چنانچہ اوّل یہ کہ:

"An optimal American policy would be to support the present regime, whether or not Musharraf heads it, but press Pakistan very hard for the political, economic and even ideological changes discussed above, including a new approach to India."

اوپر کی سطروں میں جن نظریاتی قلابازیوں کو پاکستان کی بقا سے لازم و ملزوم ٹھہرایا گیا ہے اُنہیں افواجِ پاکستان کے لئے قابلِ قبول بنانے کی حکمتِ عملی بھی پیش کی گئی ہے۔ صفحہ ٢٦٩ پر بدلی ہوئی صورت حال میں آرمی کے نئے کردار کو بھی متعین کیا گیا ہے۔ افواجِ پاکستان میں نظریاتی فراموش گاری کے مقصد کے حصول کے لئے کوہن صاحب کا نسخہ یہ ہے کہ سرحدوںسے افواجِ پاکستان کی توجہ ہٹا کر اُنہیں بتدریج اندرونِ ملک انتظامی ذمہ داریوں میں اُلجھا دیا جائے۔ اسی طرح افواجِ پاکستان کے لئے اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام قیامِ امن کی ذمہ داریوں کو ملکی سرحدوں کی حفاظت کے فریضے سے زیادہ پرکشش بنا دیا جائے۔ اُنہیں امید ہے کہ یہ پالیسی بالآخر افواجِ پاکستان کے خواب و خیال کو بدل کر رکھ دے گی اور یوں دارالاسلام کی بقا کی خاطر جوشِ جہاد اور شوق شہادت کے خواب و خیال ہر شہر کی ہر ڈیفنس ہائوسنگ سوسائٹی میں ایک نئے کارنر پلاٹ کے حصول کے سے خواب و خیال بن کررہ جائیںگے۔

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سٹیفن کوہن کو اس پالیسی کی ناکامی کے اندیشوں نے بھی گھیر رکھا ہے اور وہ بجا طور پر اس فکر میں مبتلا ہیں کہ آزمائش کی گھڑی آنے پر ہمارے عسکری وجود کے دل میں پھر سے وہی حقیقی خواب و خیال جاگ اُٹھیں گے جو جوشِ جہاد اور شوق شہادت سے آن کی آن میں سرسبز و شاداب ہو جایا کرتے ہیں۔ یہ احساس کوہن صاحب کو مسلسل بے چین رکھتا ہے کہ جہاں تک بھارت کی غلامی کا تعلق ہے ہمارا عسکری وجود امریکی دبائوکو ہر گز برداشت نہ کرے گا۔ شاید اسی لئے آج کل وہ اس وجود کی تباہی کے خواب دیکھنے میںمصروف ہیں۔ چنانچہ موصوف زیرِ نظر کتاب میں متعدد مقامات پر پاکستان کی فوجی شکست سے پاکستان کے عسکری وجود کی تباہی اور قومی وجود کی رُسوائی کا سامان کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنی حکومت کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ اگر گُڑ کھلانے سے کام نہ نکلے تو پھر پاکستان کو زہر دے کر مار ڈالا جائے کیونکہ بھارت اور امریکہ کا مشترکہ مفاد اسی مہم جوئی میں مضمر ہے:

...more drastic options, such as allying with India to contain a Pakistan that seems to be unable or unwilling to reform itself."(p325)

اور

"Other scenarios can also be envisioned: an Indian decision to achieve the military defeat of Pakistan might tempt an American government to side with India to keep the war short." (p.308)

یہ وحشیانہ استدلال ٩/١١سے شروع ہونے والے نئے دورِ وحشت وغارت گری کا ناگزیر شاخسانہ ہے۔ یا تو آپ اپنی اسلامی شناخت سے رضاکارانہ طور پر دستبردار ہو جائیں اور یا پھر اپنی مکمل تباہی کے لئے تیار ہو جائیں۔امریکی      سپاہِ دانش آپ کو صرف دو

Options

ہی دے سکتی ہے۔ یہاں یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ سٹیفن کوہن صاحب ہمیں جن دو راہوں میںسے ایک راہِ عمل کے انتخاب کا حق دے رہے ہیں وہ دونوں راہیں پاکستان کے جداگانہ قومی وجود کی فنا کی راہیں ہیں۔پہلی راہ ''پُرامن'' ہے اور دوسری بھارت اور امریکہ کی مشترکہ فوجی جارحیت سے تباہی کی راہ ہے۔دونوں راہیں اکھنڈ بھارت کی نام نہاد ''نئی نظریاتی سرزمین'' کو جاتی ہیں۔ سٹیفن کوہن پہلی راہ کو ترجیح دیتے ہوئے ہمیں یہ سنائونی سناتے ہیں کہ ہمارا

core elite

پاکستان کی پُرامن نظریاتی ''کایا کلپ'' کی راہ پرگامزن ہے۔

جہاں ہمیں کوہن صاحب کے اِس قول کی صداقت پر شبہ ہے وہاں ہم پاکستان کے غریب اور غیورعوام کی اسلامیت اور پاکستانیت پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ہمارے عسکری وجود کی قوت کا حقیقی سرچشمہ ان ہی غیرت مند کسانوں اور مزدوروں کے بیٹوں پر مشتمل ہے۔امریکی سپاہِ دانش بھی اِس حقیقت سے آگاہ ہے اور اسی لئے ہمارے عسکری وجود پر سنگ باری میں مصروف ہے۔ ہمیں امریکی سپاہِ دانش کے پاکستانی پیادوں

(Recruits)

سے گلہ ضرور ہے۔ اُن کی سنگ زنی سے ہمارے دل پر چوٹ پڑتی ہے اور ہمیں بے ساختہ فیض احمد فیض یاد آجاتے ہیں۔ راولپنڈی سازش کیس سے لے کر اپنی آخری جلاوطنی تک وہ ہمیشہ فوجی حکومتوں کے ظلم و ستم

کا شکار رہے مگر آفرین ہے کہ انہوں نے ہمارے عسکری وجود کی اہمیت کو ہمیشہ ناگزیر سمجھا اور اس کا احترام ملحوظِ خاطر رکھا۔ جب بھی یار لوگ چند فوجی آمروں کے بجائے افواجِ پاکستان کے ادارے کے تقدس کو پامال کرنے کی کوشش کرتے تھے تو وہ بڑی دردمندی اور گہری دل سوزی کے ساتھ اُنہیں سمجھایا کرتے تھے:

جس دھجی کو گلیوں میں لئے پھرتے ہیں طِفلاں

وہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا عَلَم ہے

اگر لشکر کا عَلَم سلامت نہیں تو پھر میرا گریباں کہاں سلامت ہے؟ یہ پرچم تو اسی لئے سربلند ہے کہ میرا، آپ کا، ہم سب کاگریباں اُس برہمنیت کے دستِ ستم سے محفوظ رہے جو ہمیں اچھوت سے بھی نیچے ملیچھ ( ناپاک) کے گہرے اور تاریک غار میں دھکیلنے کو بے تاب ہے!


مضمون نگار ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ 

[email protected]


    فرمانِ قائد

میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آز اد و سربلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کہ اور مسلمانوں کی آزادی، تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض ادا کردیا۔

(خطاب آل انڈیا مسلم لیگ کونسل۔21اکتوبر1939)

 

قائد نے فرمایا کمزور سہاروں سے چمٹے رہنا بہت بڑی غلطی ہے ، خاص طور پر ایسی صورت میںکہ بالکل نئی اور نوزائیدہ مملکت ،زبردست اور بے شمار اندرونی اور بیرونی مسائل میںگھِری ہوئی ہے، ایسے مواقع پر مملکت کے وسیع تر مفاد کو صوبائی یا مقامی یا ذاتی مفاد کے تابع کرنے کا ایک ہی مطلب ہے۔۔۔ خود کشی !

(کوئٹہ۔ 15جون 1948)

 

یہ تحریر 247مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP