قومی و بین الاقوامی ایشوز

ہم، ہمارے ڈیم اور مخالف بیانیہ

پانی زندگی ہے۔ پانی حیات کی علامت ہے۔ پانی قدرت کا وہ عطیہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں، یہ یا تو ہے یا پھر نہیں ہے۔ کوئی سائنسی کرشمہ کوئی کلیہ اس کی روانی کو دریاؤں سمندروں میں جاری و ساری نہیں کرسکتا۔ انسان کی بودوباش اور بقا کی ضمانت بھی پانی کی دستیابی سے مشروط ہے۔ جہاں پانی کی روانی نہ ہو، وہاں بستیاں اُجڑ جاتی ہیں زندگی کی رمق روٹھ جاتی ہے اور ویرانی اپنے پنجے گاڑھ لیتی ہے۔

پاکستان قدرت کی اس نعمت سے تیزی سے محروم ہورہا ہے۔ اپنوں کے ستم اور کوتاہ نظری نے وطنِ عزیز کو دائمی خشک سالی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا مٹی کی بھرائی کرکے تعمیر کیا گیا ڈیم یعنی تربیلا ڈیم بنانے والے ملک میں ساٹھ کی دہائی کے بعد کوئی قابل ذکرکثیرالمقاصد ڈیم نہ بنا سکے۔ دنیا کا سب سے بڑا کینال سسٹم رکھنے والے پاکستان کی زرعی پیداوار گھٹتی چلی گئی اور کوئی نیند سے نہ جاگا۔ کسی نے سندھ طاس معاہدے کی فائل کو غفلت کی کوٹھڑی سے باہر نہ نکالا۔ ہماری اس طویل مجرمانہ نیند کا فائدہ بھارت نے اٹھا لیا۔ اس نے سندھ طاس معاہدے کی دھجیاں اڑادیں اور ہمارا انڈس واٹر کمیشن چَین کی بانسری بجاتا رہا۔ بھارت چھوٹے بڑے ڈیم بناتا رہا اور ہم پانی پر سیاست سے باز نہ آسکے۔ ہمارے پلوں کے نیچے سے پانی بہ گیا، مستقبل تاریک ہوتا چلاگیا، پانی اور بجلی کی کمی کا عفریت ہمیں نگلنے کو تیار ہوگیا اور ہم ،میں نہ مانوں کی تکرارمیں الجھے رہے۔



خیر! اب سپریم کورٹ آف پاکستان نے بذات خود ایک بڑا بروقت اور مستحسن قدم اٹھاتے ہوئے ملک میں ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے لئے فنڈ جمع کرنے کا سلسلہ بذریعہ ایس ایم ایس، بینک اکائونٹ اور براہِ راست عطیات کی شکل میں جاری ہے۔ پاکستان کے عوام اور ملک کے چھوٹے بڑے تمام اداروں نے اعلیٰ عدلیہ کے اس فیصلے کا کھلے دل اور مثبت سوچ کے ساتھ خیرمقدم کرتے ہوئے اس میں حصہ ڈالنا شروع کردیا ہے۔ حکومتِ پاکستان بھی سپریم کورٹ کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔ مگر اب بھی کچھ ناعاقبت اندیش، کوتاہ نظر لوگ اپنے مفاد کے لئے ڈیم فنڈ کی مخالفت کررہے ہیں، ان کے خیال میں چندہ جمع کرنے کے بجائے حکومت بیرونی مدد یعنی قرضہ لے کر ملک میں پانی کے ذخائر بنائے کیونکہ عوام کی سہولت کی چیز عوام کے ہی چندے سے بنانا حماقت ہے نیز اس کے لئے اربوں روپے درکار ہیں جن کا جمع کرنا ناممکن ہے۔ دوسرا گروہ تو ڈیم کی تعمیر کے ہی خلاف ہے۔اپنے حق میں یہ گروپ دلیل دے رہا ہے کہ منصفی کرنے والوں کو رفاہ عام کے کاموں سے دور رہنا چاہئے، سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار سیاسی حدود سے متصادم ہورہی ہے جو غلط ہے۔ ان کی دلیل یہ بھی ہے کہ ڈیم بنانا اعلیٰ عدلیہ اور چیف جسٹس کا اختیار نہیں ہے اس قدم سے سپریم کورٹ متنازعہ ہورہی ہے اور سیاسی شہرت کے حصول کا مرتکب ہورہی ہے۔؟

عوام کی دلیل یہ ہے کہ دیر آید درست آید۔ انہیں دائرہ اختیار سے مطلب ہے نہ سیاسی مُوشگافیوں سے۔ انہیں ادراک ہے کہ ڈیم بنانے کے لئے جو رقم چاہئے وہ اپنے زور بازو پہ جمع کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لیکن پھر بھی ہر شخص اپنی استطاعت کے حساب سے فنڈ میں شریک ہورہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مہنگے داموں ٹینکر خریدتی، بہتے پسینے کے ساتھ لائنوں میں لگ کر'ذلت سہ کر' گلی محلوں میں لگے نلکوں سے پانی کے کنستر اور بالٹیاں بھرتی قوم کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ پاکستان کا میٹروپولیٹن سٹی کراچی، جس کی سڑکیں کبھی پانی سے دھو دھلا کرصاف کی جاتی تھیں آج وہاں کے اکثر رہائشی علاقوں میں پانی ناپید ہے۔ عید بقرعید، شادی بیاہ ہو یا غم کا کوئی موقع کراچی کے لوگ سب سے پہلے پانی کا ٹینکر پکڑنے بھاگتے ہیں۔ کیونکہ حکومتوں اور واٹر بورڈ کی نااہلی سے یہ شہر پانی کے بدترین بحران کا شکار ہوچکا ہے۔ بلدیاتی اداروں، واٹر بورڈ کے کرپٹ عناصر اور ٹینکر مافیا کے گٹھ جوڑ نے غیر قانونی ہائیڈرینٹس اور پانی چوری کرنے کا ایسا منظم اور گھناونا جال بچھایا ہے جس نے شہرِ قائد کے باسیوں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ ایسا راتوں رات تو نہیں ہوا۔ کافی عرصے کی دیدہ دلیری اور ہٹ دھرمی نے اس معاملے کو اس سنگین نہج تک پہنچایا ہے کہ لوگوں کی جیبوں پر پانی خریدنے کا اضافی بوجھ متواتر پڑ رہا ہے۔

سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی سے ہٹ کر باقی ملک کے حالات بھی یہی ہیں۔ بلوچستان خشک سالی کا شکار ہے۔ کوئٹہ ، پشاور،اسلام آباد اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں سمیت چاروں صوبوں کے ہر ضلع و دیہات میں پانی کی شدید قلت ہے۔ زرعی پیداوار کم ہوچکی ہے، پورے ملک میں لوگ یا تو آلودہ پانی پی رہے ہیں یا پھر پینے کا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ اس لئے وہ سپریم کورٹ کو کسی مسیحا کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ لیکن مٹھی بھر لوگ یہ بات سمجھ ہی نہیں سکتے کیونکہ ان کے مفادات اور خیالات کچھ اور ہی ہیں، ان کی آنکھوں پر ایسی پٹی بندھی ہے جس نے ان کی وہ بینائی ہی چھین لی ہے جو ان کو مستقبل دکھا سکے، وہ جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹ رہے ہیں۔

چونکہ ہمارے ''اپنے'' ہی نشیمن پر بجلیاں گرانے کی قسم کھائے بیٹھے ہیں لہٰذا دشمن کے پاس تو کھلا موقع آگیا کہ وہ ان کی لغزشوں کو اپنی طاقت بنالے۔ ابھی صرف پیسہ جمع ہورہا ہے ڈیم کی تعمیر تو شروع بھی نہیں ہوئی اور بھارت میں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے خلاف صف ماتم بچھ گئی۔ وہاں پانی کے ذخیرے جیسے پاکستان کے انتہائی اندرونی معاملے پر پراپیگنڈے کرتے ہوئے ہمارے داخلی معاملات میں دخل اندازی کی جارہی ہے۔ دیا مر بھاشا ڈیم کے محل وقوع کو نشانہ بناتے ہوئے واویلا شروع کردیا گیا ہے کہ یہ علاقہ یعنی گلگت بلتستان متنازعہ ہے لہٰذا پاکستان یہاں کوئی بھی منصوبہ شروع کرنے سے باز رہے۔ حالانکہ بھارت کا اپنا کشن گنگا اور بگلیہار منصوبہ نہ صرف متنازعہ ہے بلکہ ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کی بدترین مثال ہے۔

 اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انسانی حقوق کونسل کا دروازہ ورلڈ سندھی کانگریس کے ذریعے کھٹکھٹا دیا گیا ہے کہ پاکستان صوبہ سندھ کے عوام کی خواہشات اور ان کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیامر، بھاشا ڈیم بنانا چاہتا ہے۔ اس سے سندھیوں کی دل آزاری کے ساتھ ساتھ ان کی مکمل تباہی اور بربادی کا سامان کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ڈیم ماحولیاتی آلودگی کا سبب بھی بنے گا وغیرہ وغیرہ۔

سوال یہ ہے کہ ملک ہمارا، ڈیم ہمارا، سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے سندھ پر حق ہمارا۔ عوام ہم، سندھی، بلوچی ہم، پٹھان، پنجابی، بلتی ہم، گلگت بلتستان کا خوبصورت علاقہ وطن عزیز سے ملحق۔ پانی کی کمی کا شکار ہم، ادارہ ہمارا جو دیا مر بھاشا ڈیم بنانے کے لئے آگے بڑھا۔ ڈیم فنڈ میں جمع ہونے والے عطیات ہمارے۔ پھرکسی کو کیا تکلیف لاحق ہوئی۔ بات ساری یہ ہے کہ عوامی حقوق کے یہ نام نہاد چیمپیئن اور ان جیسے کئی قسم کے لوگوں کے چہروں کو ہم جانتے ہیں۔ پاکستان کا ہر محب وطن چاہے وہ سندھی، پنجابی، پٹھان، بلوچی یا کشمیری ہو ان سب گماشتوں کے پاکستان مخالف اور بھارت نواز ایجنڈے سے واقف ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ فورمز انگلینڈ میں بیٹھ کر بھارتی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ بلوچستان کے شرپسند عناصر کو کتنی پذیرائی دی جاتی ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس وقت کون کون کیوں اور کس کے ایما پر دیا مر بھاشا ڈیم کو متنازعہ بنا رہا ہے۔ ہر پاکستانی جانتا ہے کہ  پاکستان میں صوبائیت اور لسانیت کو پانی اور حقوق کے نام پر ہوا دے کر لوگوں کے جذبات کو بھڑکایا جارہا ہے تاکہ بھارت کا ہمارے وطن کو بنجر کرنے کا منصوبہ کامیاب ہوجائے۔ ہر سندھی، پنجابی، پٹھان، بلوچی، بلتی اور کشمیری جانتا ہے کہ ایسا کرنے والا ہرشخص پاکستان کے خلاف بھارت کی فورتھ اورففتھ جنریشن وار

(Fourth and Fifth Generation War)

کا ہرکارہ ہے جو ہمدردی کے لبادے میں پاکستانی عوام کی پیٹھ میں خنجر گھونپنا چاہتا ہے۔

پاکستان کے ڈیم کے مخالف لوگوں کی کمزور یادداشت کے پیش نظر یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ بھارت پاکستان کا پانی چوری کررہا ہے۔ بھارت سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہورہا ہے۔ بھارت نے پاکستانی اعتراضات کے باوجود پانی کے ذخائر بنا کر پاکستان کو بے آب وگیاہ صحرا بنانے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔

لیکن انسانی حقوق اور ماحول کے محافظ یہ خود ساختہ وکیل یہ بھول گئے ہیں کہ اقوام متحدہ بھارت کے ڈیم اور پانی کے منصوبوں کو انسانی حقوق اور ماحول دوستی کے اصولوں کے لحاظ سے مضر قرار دے چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارتی آبی ذخائر کے منصوبوں کی وجہ سے دریائے گنگا کے بیسن کے زیرزمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہوچکی ہے یہ منصوبے مٹی اور زمین کے غیرفطری 'خطرناک کٹائو اور حد سے بڑھتی سیم کا باعث بن رہے ہیں جو زمین کی قدرتی زرخیزی کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ ان آبی منصوبوں نے بھارت کے غریب عوام کی بڑی تعداد کو بے گھر کردیا ہے جو حکومتی سرپرستی سے بھی محروم ہیں۔ ہمارے نام نہاد ہمدرد پاکستان کے ڈیم کی مخالفت کرتے ہوئے یہ بھی بھول رہے ہیں کہ ہائڈرو پاور ڈیم کے بے ہنگم منصوبے ماحولیاتی اعتبار سے حساس کیرالہ اسٹیٹ میں بدترین سیلاب کا سبب بن گئے۔ وہ بھول گئے کہ بھارت کی حکومت نے یو این ہیری ٹیج

(Heritage)

کیرالہ میں ماحولیاتی پروٹوکول کو نظر انداز کرکے بے حد مائننگ کی ہے جو وہاں کے عوام کے حقوق اور صحت مندانہ ماحول کی خلاف ورزی ہے۔ پھر کیرالہ کے ان بیچارے لوگوں کو نوکریاں ختم ہوجانے کا ڈراوا دے کر ان کی زبان بندی کردی گئی ہے اورجب گزشتہ دنوں کیرالہ میں شدید بارشیں ہوئیں تو  ڈیموں کے اسپل ویز ایک ساتھ کھول کر معصوم لوگوں کو بے رحم سیلابی ریلوں کے بیچ  بے آسرا چھوڑدیا گیا۔

پاکستان کے ڈیم کے مخالف لوگوں کی کمزور یادداشت کے پیش نظر یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ بھارت پاکستان کا پانی چوری کررہا ہے۔ بھارت سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہورہا ہے۔ بھارت نے پاکستانی اعتراضات کے باوجود پانی کے ذخائر بنا کر پاکستان کو بے آب وگیاہ صحرا بنانے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ بھارت کی آبی جارحیت کی وجہ سے پاکستان کے بیس کروڑ لوگ متاثر ہورہے ہیں پھر یہی بھارت بغیر بتائے دریاؤں میں پانی چھوڑدیتا ہے جس سے پاکستان میں سیلابی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے جس سے پاکستانیوں کے حقوق اور ان کی سماجی اور معاشی زندگی کا استحصال ہوتا ہے۔ قدرتی نباتات تو ایک طرف یہاں تو کھڑی فصلیں اور کھیت کھلیان تباہ ہوجاتے ہیں۔ علاوہ ازیں بھارت کی ہٹ دھرمی اور ضد سیاچن گلیشیئر پر ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن چکی ہے۔

پھر بھی الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق بھارت پاکستان میں پانی کے ذخائر بننے کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ پاکستان کے بنجر ہونے کا فائدہ انڈیا جس طرح اٹھا سکتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے پاس صرف 30دن کے پانی کا ذخیرہ ہے جبکہ بھارت کے پاس یہ ذخیرہ 120 سے 220 دن تک پہنچ چکا ہے۔ 2025 تک پاکستان مکمل خشک اور بنجر ہوسکتا ہے۔ پاکستان 145 ملین ایکڑ فٹ پانی سالانہ حاصل کرتا ہے لیکن اس میں سے صرف13 فیصد کے قریب پانی بچ پاتا ہے۔ ڈیم نہ ہونے کے باعث 29 ملین ایکڑ فٹ سیلابی پانی ضائع ہوجاتا ہے۔  آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان آبی قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اس صورتحال میں کسی بھی ذی شعور شخص کے لئے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ کیوں بھارت پاکستان میں ڈیم بننے کے خلاف واویلا کرتا ہے؟ اور کیوں بھارت نواز گروپ ہمارے درمیان بیٹھ کر ہمیں ہی پیاسا مارنے کی کوشش میں مصروف ہیں؟ لیکن اب پاکستان جاگ رہا ہے، جس طرح پاکستانیوں نے اپنے ملک سے دہشت گردی کی جڑیں اکھاڑ پھینکیں بالکل اسی طرح اب پاکستانی اپنے پانی کی لڑائی لڑیں گے۔اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ واٹر سمپوزیم کا مقصد بھی یہی ہے کہ پاکستان کو پانی کے حوالے سے لاحق خطرات پر روشنی ڈال کر ان کے تدارک کی راہیں ہموار کی جائیں۔ اور اس سلسلے میں جو بھی قدم مناسب ہو وہ اٹھایا جائے جیسے انڈس بیسن کی قانونی حیثیت کا تعین اور پانی کے ذخائر کی تعمیر اور دیکھ بھال وغیرہ۔

 ہم بدترین آبی قلت کا شکار ہیں، ہم قحط اور خشک سالی سے چند سال کی دوری پر کھڑے ہیں جب کہ غیر ذمہ دار رویے اور وقتی فائدے کے لئے دئیے جانے والے بیانات قومی نقصان کا ذریعہ بن رہے ہیں اور ہمیں اس کی فہم تک نہیں۔ ہم ایک دوسرے کی مخالفت اور سیاست میں اتنا آگے نکل جاتے ہیں کہ ہمارے ملک کے مفاد کو ٹھیس پہنچنا شروع ہوجا تی ہے۔ اب بھی وقت ہے حالات کو پرکھیں اور اپنے کل کے لئے سوچیں اور دشمن کو ایسا موقع نہ دیں کہ وہ ہمیں پیاسا کرکے ماردے۔ پانی ہماری زندگی ہے، ڈیم ہماری بقا کے لئے لازم ہے۔ صنعتوں کا پہیہ چلانا ہے تو بجلی چاہئے۔ لہٰذا پرپز ڈیم ہمارے لئے لازم ہیں پھر کیوں ہم خود ہی اپنے پاوں پر کلہاڑی ماررہے ہیں؟ لیکن سچ یہ ہے کہ اب ڈیم بھی بنیں گے اور فصلیں بھی سیراب ہوں گی کیونکہ محب وطن پاکستانی اپنا مستقبل تاریک نہیں ہونے دیں گے۔ وہ ہر اس سازش کو ناکام بنائیں گے جو ارض پاک  کے لئے نقصان کا باعث ہو۔ پھر سازشی چاہے ملک کے اندر چھپے ہوں یا باہر پاکستانی ان کے دام میں نہیں آئیں گے۔


مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 141مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP