ہمارے غازی وشہداء

گوہر نایاب  

شہادت کے پس منظر میں لکھی گئی ڈاکٹرفوزیہ سحر ملک کی تحریر

میں اعتزاز کا دوست ہوں میں اس نسل میں سے تعلق رکھتا ہوں جو دہشت گردی کی لہر کے ساتھ بڑی ہو رہی تھی۔جب میں سکول داخل ہوا تو مجھے یاد ہے کہ ہمارے علاقے کے میوزک سنٹر میں پہلا دھماکا ہو اتھا، پھر ایک دھماکا ایک حجام کی دکان پر ہوا، ایک سینما گھر جلا دیا گیا۔یہ سب دھماکے اس وقت ہوئے جب اکثر رات ہوتی تھی اس لیے جانی نقصان نہیں ہوتا تھا ۔کارروائی کے بعدجب مجمع چھٹ جاتاتو میں اپنے دوستوں کے ساتھ وہاں جا کر جائے حادثہ کو دیکھتا رہتا تھا، ابھی مجھے ان حادثات کی سنگینی کا  اتنا احساس نہیں ہوا تھا۔ میرے لیے یہ ایک thrillتھی ۔اکثر بوڑھے کسی بازار میں یا کسی بیٹھک میں بیٹھ کر باتیں کرتے تھے کہ ''انشااللہ یہ طالبان اسلامی نظام قائم کر کے چھوڑیں گے،یہ سینما گھر ،یہ میوزک سنٹر،یہ حجاموں کی دکانیں جہاں شرعی داڑھی کی توہین کی جاتی ہے ،ان سب جگہوں کو  مٹ جانا  چاہیے۔تبھی اسلامی نظام آسکتا ہے۔مجھے یہ باتیں کم ہی سمجھ آتی تھیں ۔میں تو کھانے پینے کا شوقین تھا ۔ماں کے ہاتھ کے مزیدار تہوں والے پراٹھے انڈے کا ہری مرچ والا آملیٹ اور دودھ پی کر سکول کے لیے نکلتا اور راستے میں کاکا کی دکان سے اپنی پسند کا بسکٹ لینا نہیں بھولتا تھا ۔
مجھے سب سے زیادہ مزہ صبح کی اسمبلی میں آتا تھا۔ہیڈ ماسٹر صاحب، اسلامیات کے ماسٹر صاحب،اور میرے دوست ۔ جہاں تلاوت قرآن پاک کے بعد ''علامہ اقبال کی نظم ''لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری''بہت سر ور وجذبے کے ساتھ پڑھی جاتی تھی۔اور پھر قومی ترانہ جسے سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے اور میرے کان دہکنے لگتے تھے۔مجھے آج تک نہیں پتا چلا کہ ان الفاظ کا اثر مجھ پر کیوں زیادہ ہوتا تھا جن میں سے اکثر کا تو مجھے مطلب بھی نہیں آتا تھا۔
وہ دن میری زندگی کی یادوں کے افق  پر ہمیشہ سلگتا رہے گا جب ہمارے علاقے میں دھماکا ہوا تھا۔جس میں محلے کے دو تین لوگ مارے گئے تھے۔یہ کوہاٹ روڈ پر ایک بس سٹاپ پر ہوا تھا۔سب لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ ''طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔''۔۔۔۔اور اس دن مجھے طالبان کی کارروائیوں کی سنگینی کا اندازہ ہوا اور نفرت کی ایک لہر میرے رگ و پے میں دوڑ گئی جب میں نے اپنے گاؤں میں کہرام مچا ہوا دیکھا ۔۔۔ پھر تو ان کارروائیوں میں شدت آ گئی۔ مجھے یاد ہے ایک بار ہم سکول میں املا کر رہے تھے کہ پانچویں جماعت کے ماسٹر ہمارے جماعت میں آئے۔وہ بہت گھبرائے ہوئے تھے۔انہوں نے ہمارے ماسٹر کو باہر بلا کر نہ جانے کیا کہا وہ گھبرا گئے اور یہ کہتے ہوئے اندر آئے :
''خدا ان بد بختوں کو جہنم رسید کرے ،یہ اپنے آپ کو اسلام کا علمبردار کہتے ہیں  اور علم کے دشمن ہیں۔سکولوں کو آگ لگاتے ہیں۔ جانتے ہیں کہ رسول نے  حصولِ علم پر کتنا زور دیا ہے۔یہ کیسی اسلامی تعلیمات کا پرچار کر رہے ہیں۔خدا ان کا بیڑا غرق کرے جو ہمارے مذہب کو بدنام کرنے پر تلے ہیں۔
انہی حالات کے ساتھ ساتھ وقت گزرتا رہا اور میں چھٹی جماعت میں آگیا۔شکر ہے کہ پچھلے چھ ماہ سے ہمارے علاقہ میں کوئی دھماکا نہیں ہوا تھا۔لیکن خطرہ تو بہرحال  ہر وقت موجود تھا۔اس لیے ہمیں سکول میں  باقاعدہ خبردار کیا گیا کہ کوئی بھی مشکوک انسان یا سامان دیکھو تو فورا ایمرجنسی پر فون کرو تاکہ بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔ ہم سب دوست چوکنے  ہو گئے تھے اور میرے دل میں یہ خواہش جاگنے لگی کہ''کاش میں کوئی دہشت گرد پکڑوا سکوں تاکہ لوگ کہیں واہ کتنا بہادر نوجوان ہے۔''
موسم سرما کی چھٹیاں ختم ہوئیں تو اعتزاز اپنے ننھیال سے ہو کر آیا تھاوہ بہت خوش تھاکہ اس نے وہاں فلم RIO دیکھی اور وہ اس  فلم کی سی ڈی بھی لایا تھا اور ہمارا پروگرام تھا کہ ہم جلد ہی کسی دن اس کے گھر میں چل کر اس کے پسندیدہ طوطے کی فلم دیکھیں گے۔۔۔ لیکن وقت کا پروگرام کچھ اور ہی تھا۔
٭  ٭  ٭ 
اعتزاز کی زبانی
آج میرا اٹھنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا باہر بادل چھائے ہوئے ہیں اور سردی بہت زیادہ ہے رات کو میری ماں نے میری جیب میں بہت بادام اور کشمش رکھ دی تھی اور میں کھاتے کھاتے سویا تھا۔ اب ماں کب سے جگا رہی ہیں اور میں ہوں کہ اٹھنے کو جی نہیں چاہ رہا۔ماں نے میری پیشانی چھوئی کہ کہیں میں بیمار تو نہیں لیکن میں تو ہٹا کٹا تھا۔
میرے بابا نے کہا "بھئی اگر نہیں اٹھ رہا تو رہنے دوایک دن میں اس نے کو ن سا کمشنر بن جانا ہے''لیکن میری ماں پڑھائی کے معاملے میں سخت ہیں انہوں نے سختی سے کہا"اٹھتے ہو یا ڈالوں ٹھنڈا پانی''اور میں ٹھنڈے پانی کے تصور سے کانپ گیا اور بولا''اچھا مزیدار سا ناشتہ بنائیں،پراٹھا ،انڈہ ،حلوہ،اور۔۔۔۔''اور میری فرمائش طویل ہوتی دیکھ کر میرے بابا ہنس پڑے"اب یہ تمھیں ٹال رہاہے تاکہ سکول کا وقت گزر جائے"
ماں نے میرا ماتھا چوما اور بولیں "سو بسم اللہ جو کہے گا میں بناؤں گی ۔تو اٹھ کر تیار  ہو جا میرا شہزادہ''اور اتنے محبت بھرے انداز پر میں لیٹا نہ رہ سکا اور بستر سے نکل آیا۔ غسل خانے میں گرم پانی میرا منتظر تھا۔میری ماں کی اپنی ہی ڈاکٹری ہے وہ کہتی ہیں کہ سردی کا بہترین علاج بھاپ اڑاتے گرم پانی کا غسل ،شہد ملا  ہوا گرم دودھ اور خشک میوے ہوتے ہیں۔
میں نہا کر سچ مچ تازہ دم ہو گیاتھا۔ملیشیا کا سکول یونیفارم پہن کر سر پر ٹوپی رکھ کر آئینے میں میں نہیں کوئی ایف سی کا جوان کھڑا تھا ۔میں نے آئینے میں  کھٹ سے سلیوٹ ماردیا۔اور پھر اپنی اس حرکت پرخود ہی ہنستے ہوئے گرم گرم باورچی خانے  میں آ گیا۔جہاں خستہ پراٹھا ،انڈہ اور میوہ جات سے بھرا  گرم گرم حلوہ میرا منتظر تھا۔پھر میں نے جلدی جلدی ناشتہ کیا اور ماں باپ سے پیار لے کر گھر سے نکل آیا۔
میں آج پندرہ منٹ لیٹ ہو گیا تھا  جبکہ کل بھی سکول لیٹ پہنچنے پر  ماسٹر صاحب سے ڈانٹ پڑی تھی۔اس لیے میں  تیز تیز قدم اٹھاتا سکول کی طرف جا رہا تھا۔ میرے دوست پہلے جا چکے تھے اور پھر دور سے مجھے سکول نظر آنے لگا۔اس کے گراؤنڈ میں سب بچے جمع ہو رہے تھے۔ اسمبلی شروع ہونے والی تھی۔ ماسٹر صاحبان بھی اسٹاف روم سے نکل آئے تھے میرا دوست بھی گیٹ کے اندر داخل ہو رہا تھااور میں سکول سے کچھ دور تھا کہ جیسے میرے چھٹی حس بیدار ہو گئی۔ایک نوجوان چادر اوڑھے ہوئے گھبرایا گھبرایا سا میرے سکول کی جانب بڑھ رہا تھا۔مجھے لگا کہ وہ کوئی مشکوک آدمی ہے۔شاید کوئی خودکش حملہ آورہو۔ساتھ مجھے یاد آیا کہ ایمرجنسی نمبر ملانا چاہیے۔۔۔لیکن اب وقت بہت کم تھا۔۔۔ وہ لمحہ لمحہ۔۔۔قدم بہ قدم  میرے سکول کی  طرف جا رہا تھا۔میں چاہتا تو دوسری  ہی جست میں سکول میں داخل ہو جاتا ۔یا پھر یہیں سے واپس پلٹ آتا۔۔۔لیکن پھر وہ دہشت گرد  میرے سکول میں داخل ہو جاتا۔۔۔سارا سکول گراؤنڈ میں جمع تھا اور دہشت گردی کی اس واردات میں ناقابل تلافی نقصان ہو جاتا۔
میں ایک لمحے کو ٹھٹکا ۔۔۔پھر کچھ سوچنا چاہا۔۔۔لیکن سوچنے کا وقت ہی کہاں تھا۔۔۔ اس وقت مجھ ایک فوجی کمانڈر کی طرح فوری''ایکشن''کرنا تھا۔اسی اثنا میں وہ نوجوان سکول گیٹ کے قریب پہنچ چکا تھا۔۔۔میں نے ایک نظر اپنے سکول کی مقدس عمارت  ،معزز اساتذہ اور اپنے وطن کے مستقبل کے دوستوں کی طرف ڈالی اور پھر میں نے ایک فیصلہ کر لیا ۔۔۔"مجھے موت کی اس سوداگرکو یہیں سکول کے باہر روک لینا ہے چاہیے''اور میں لپک کر اس خود کش حملہ آورسے لپٹ گیا۔۔۔یہ سودا اتنا مہنگا نہیں تھا۔
٭  ٭  ٭ 
اعتزاز کی ماں
میں اعتزاز شہید کی خوش نصیب ماں ہوں مجھے ابھی تک یاد ہے جب بھی دہشت گردوں کا ذکر ہوتاتھا میرا بچہ بہت جذباتی ہوجاتا تھا۔
اس روز جب وہ آخری دن ملیشیا  کا نیا یونیفارم پہن کر  اپنی کشادہ پیشانی پر سیاہ ٹوپی سجا کر نکھرانکھرا  سا گھر سے نکل رہا تھا تو مجھے اس پر بہت پیار آیا، وہ تیز تیز قدموں سے سکول کی طرف روانہ ہو گیا ۔۔۔اور چند منٹ کے بعدہی دھماکے کی آواز اور پھر۔۔۔اعتزاز کی شہادت کی خبر مجھ تک پہنچی تووہ اپنی جان قربان کرگیا لیکن اپنے ساتھیوں اور سکول کی عمارت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔
ایک ماں ہونے کے ناطے اپنے خالی آنگن اور سلگتے  ہوئے دل کو دیکھ کر میں کبھی سوچتی ہوں کہ اگر میں روز اپنے بیٹے کو  زبردستی سکول نہ بھیجتی تو شاید  میری گود سونی نہ ہوتی لیکن پھر مجھے فوراً خیال آتا ہے ۔۔۔اگر اس روز اعتزاز سکول نہ جاتا  تو سکول میں موجود کتنے ہی بیٹوں کی ماؤں کی گود سونی ہو جاتی۔۔۔ میرے بیٹے نے گھاٹے کا سودا نہیں کیا۔
دہشت گردی کی یہ جنگ  تو انشااللہ ہم جیت ہی لیں گے کیونکہ جس قوم کا ایک ایک بیٹاشہادت کی آرزو سے سرشار ہو اور اپناآج قوم کے کل پر قربان کرنے کو تیار ہوکوئی اسے کیسے شکست دے سکتا ہے لیکن۔۔۔کوئی تو ہو جو خود کش حملے کے بعد ۔۔۔جائے حادثہ سے ملنے والے ''نوعمر دہشت گرد ''کے سر کو بے جان ہونے سے پہلے''جہاد''اور دہشت گردی''کا فرق سمجھا سکے۔تاکہ اسے پتہ چلے کہ جان دے کر بھی وہ کتنے خسارے میں ہے۔۔۔۔۔آخر اس کی بھی تو  کوئی ماں ہو گی۔۔۔جو اس کی لمبی عمر کی دعائیں مانگتی ہو گی۔۔۔۔؟؟؟ ||


[email protected]

یہ تحریر 107مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP