سفر در سفر

گولان کی پہاڑیاں

اسرائیل نے کچھ عرصہ پہلے شام اور اسرائیل کی سرحد پر واقع گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کا باقاعدہ حصہ بنانے کا اعلان کیا ہے .
اسرائیل نے شام کی ان پہاڑیوں پر 1967میں چھ روزہ جنگ کے بعد قبضہ کیا تھا۔ بارہ سو کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ان پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کو بین الاقوامی برادری نے کبھی تسلیم نہ کیا۔ لیکن امریکہ کی پشت پناہی کی وجہ سے اسرائیل نے عالمی رائے عامہ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بیس ہزار سے زائد اسرائیلیوں کو اس علاقے میں بستیاں قائم کرنے کے لئے بھیج دیا۔
اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے گولان کی پہاڑیوں کو صدر ٹرمپ کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان بھی کردیا ہے۔



عرب ممالک کی تنظیم عرب لیگ کے سالانہ اجلاس میں 22 رکن ممالک نے مقبوضہ گولان پہاڑیوں کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے منسوب کرنے کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کی۔ لیکن بدقسمتی سے عرب ممالک کے درمیان پائے جانے والے باہمی اختلافات کی وجہ سے عرب لیگ کا یہ فیصلہ بھی صدا بصحرا ثابت ہوا۔
اپریل 2003 میں امریکہ عراق جنگ کی رپورٹنگ کے دوران مجھے شام اور اسرائیل کی سرحد پر واقع گولان کی ان تاریخی پہاڑیوں کو دیکھنے کا موقع بھی ملا ۔گولان کی یہ پہاڑیاں دمشق سے67 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ یہ پہاڑیاں چار عرب ممالک کو ملاتی ہیں۔یہاں سے لبنان 25کلومیٹر، فلسطین تیس کلومیٹر اور شام کا دارالحکومت دمشق 67 کلومیٹر ہے۔
دمشق سے گولان تک کا علاقہ خوبصورت سرسبز وادیوں پر مشتمل ہے ان وادیوں کے دائیں جانب کوہ سفید کا سلسلہ ہے۔ اس پہاڑ پر سارا سال برف جمی رہتی ہے۔دمشق سے تیس کلومیٹر تک سفر کرنے کے بعد پہلی چیک پوسٹ آتی ہے یہاں ضروری دستاویزات کی پڑتال کی جاتی ہے۔ اس سارے علاقے میں شامی فوج نے مورچہ بندی کی ہوئی ہے سڑک کے دونوں اطراف دور تک دفاعی مورچے بنائے گئے ہیں بڑے بڑے گڑھے کھود کر ان میں پانی جمع کیا گیا ہے تاکہ ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کو آگے بڑھنے سے روکا جاسکے۔ اس علاقے کو دمشق کی آخری دفاعی لائن بھی کہا جاتا ہے۔ اس فوجی علاقے کو کراس کرنے کے بعد خان اربنہ کا چھوٹا سا شہر آتا ہے اس شہر سے آگے اقوام متحدہ کی عملداری شروع ہوتی ہے۔ شام اور اسرائیل کی سرحد تک دس میل کے اس علاقے کا انتظام اقوام متحدہ کی فوج کے پاس ہے۔ 
گولان کا علاقہ شام کا ایک صوبہ ہے جسے گورنریٹ کہا جاتا ہے القنطیرہ گورنریٹ کا صدر مقام ہے۔ القنطیرہ اور بولان ایک ہی صوبے کے دو نام ہیں۔
مقامی طور پر گولان کا مطلب ایک ایسی گونج ہے جو پہاڑی وادیوں میں گھومتی ہوئی ہوا کی آواز سے پیدا ہوتی ہے یعنی:
 "circular movement of the wind" اس علاقے میں سفر کرنے والوں کو ایک دن میں چار موسموں سے گزرنا پڑتا ہے دو گھنٹوں کے سفر کے دوران چاروں موسموں کے تازہ پھل کھائے جاسکتے ہیں.
گولان کی پہاڑیاں جغرافیائی اعتبار سے کئی ملکوں کا مقام اتصال یا ملاپ ہیں۔ یہ پہاڑیاں شام، اسرائیل، اردن اور فلسطین کو ملاتی ہیں۔ یہاں پانی کی بہتات ہے۔دریائے اردن بھی یہیں سے نکلتا ہے۔ دریائے اردن Aldan River اور Banias River کا منبع بھی یہی علاقہ ہے۔یہ دونوں دریا اب اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔ اس علاقے میں بارشیں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔یہاں سو سے زائد میٹھے چشمے ہیں۔ زمین زرخیز اور سرسبز و شاداب ہے۔
ہمیںالقنطیرہ کا تاریخی شہر بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ شامی زبان میںالقنطیرہ کا مطلب ایک ایسا پل ہے جو مختلف علاقوں کو ملاتا ہو۔ 
1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیل نے جب گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کیا توالقنطیرہ شہر بھی اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا اسرائیلیوں نے اڑھائی لاکھ سے زیادہ باشندوں کو طاقت کے زور پر علاقہ بدر کر کے القنطیرہ شہر کو اسرائیل کی چھائونی قراردے دیا۔اسرائیلیوں نے شہر کو بلڈوزروں اور ٹینکوں کی مدد سے تباہ و برباد کیا پتھر کے بنے ہوئے گھروں کو بموں سے اڑا دیا گیا ۔
اقوام متحدہ نے گولان کے علاقے اور القنطیرہ کی تباہی کو جنگی جرائم میں شمار کیا۔اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ یہ شہر جنگ کے دوران تباہ نہیں ہوا، لیکن اقوام متحدہ کی جائزہ ٹیم کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے جنگ کے بعد اس شہر کو ایک منصوبے کے تحت تباہ کیا۔
یہ شہر اب ایک میوزیم کی شکل اختیار کرگیا ہے اس شہر کے اجڑے ہوئے  گھروں میں صرف ایک گھر اب بھی آباد تھا اور یہ گھر''زید بن جان کری ستاء '' کا ہے۔ ہم نے اس گھر میں ایک گھنٹے تک قیام کیا زید جان 1936 میں القنطیرہ میں پیدا ہوا۔ اپنے آبائی شہر کی تباہی اور بربادی اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ عزیز و اقارب اور دوست احباب قتل ہوتے ہوئے دیکھے لیکن شہر چھوڑنے کو راضی نہ ہوا۔ اقوام متحدہ کے نمائندوں نے بھی اسے کہا کہ وہ یہاں سے چلا جائے۔ لیکن وہ نہ مانا۔ ستر سال سے زائد عمر کے اس بوڑھے کی بیوی بھی اس کے ہمراہ یہاں رہتی ہے اس کی باتیں اور جذبہ دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ وطن کی مٹی کتنی عزیز ہوتی ہے۔ اس کی آنکھوں کی چمک اور جذبات زندگی کی علامت ہیں۔ وہ اب بھی پر امید ہے کہ یہ علاقہ شام کو واپس مل جائے گا اور ایک دن آئے گا کہ گولان کی پہاڑیاں آزاد ہوں گی اور اسے اس کے کھیت بھی واپس مل جائیں گے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ میں پہاڑی کے دامن میں واقع اپنے آزاد کھیتوں میں جائوںگا،فصل کاشت کرونگا اور چشموں کے پاس بیٹھ کر اپنے شہید بچوں کو یاد کیا کروں گا۔


مضمون نگار سینئر صحافی اور کالم نویس ہیں
[email protected]
 

یہ تحریر 100مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP