متفرقات

گلگت بلتستان ۔۔۔ایجنسی سے عبوری آئین تک کا سفر

لک کے شمال میں واقع گلگت  بلتستان ایک منفرد جغرافیہ ،ثقافت، روایات،وسائل اور سیاسی و سماجی تاریخ رکھتا ہے۔ یہاں سیاسی نشیب و فراز کا ایک لامتناہی سلسلہ عشروں سے چلا آرہا ہے۔ ارتقاء کا ایک خوبصورت سفر یہاں کے باسیوں کی ذہنی ،سماجی وسیاسی پختگی کا مظہر ہے۔ نومبر1947میںمقامی آبادی اپنی مدد آپ کے تحت ڈوگرہ سرکار کو بدترین شکست دے کر اس خطے کو آزاد کرانے میں کامیاب ہوئی اور16نومبر1947کو الحاق پاکستان کا مرحلہ بھی مقامی قیادت کی مرضی و منشا پراحسن طریقے سے تکمیل پاتا ہے۔ سردار عالم گلگت کے پولیٹیکل ایجنٹ مقرر ہوتے ہیں اور اس علاقے کو ایجنسی میں تبدیل کرکے ایف سی آرکا نفاذ کیا جاتا ہے۔ عوامی سطح پر اس کے مذکورہ فیصلے کی کوئی خاص پذیرائی نہیں ہوتی ہے۔ لیکن سیاسی ارتقاء کا یہ پہلا قدم عوام کو ایک نئے دور سے آشنا کراتا ہے اور یہ سلسلہ 1949تک چلا جاتا ہے ،28اپریل 1949کو دو کشمیری رہنمائوں سردار ابراہیم اور غلام عباس کے ساتھ وزیر بے محکمہ مشتاق گورمانی کے دستخطوں سے ایک معاہدہ طے پاتا ہے جسے معاہدہ کراچی کہتے ہیں۔ اس معاہدے کی رُو سے یہ خطہ( گلگت  بلتستان) انتظامی طور پر ریاست پاکستان کے زیرِ انتظام آجاتا ہے۔ ایوب خان کے زمانے میں گلگت  بلتستان کو پہلی مرتبہ جمہوری تصور دیا جاتا ہے اور یوں 1960کی دہائی میں زرعی صنعتی پروگرام کے نام پر ایک نئے سیاسی نظام کی شروعات ہوتی ہیں۔ گلگت  بلتستان میں بنیادی جمہوریت کے نام پر ایک ادارہ 1961میں  بلتستان اور 1964میں گلگت میں قائم ہوتا ہے جس کے تحت پہلی دفعہ یونین کونسلیں ،تحصیل کونسلیں اور ضلع کونسلیں تشکیل دے کر بالغ رائے دہی کی بنیاد پر عوامی نمائندوں کا انتخاب ہوا اس عمل سے عوام میں جمہوری رویے پروان چڑھنے لگے جبکہ عوام کا اعتماد ریاست اور ریاستی اداروں پر پہلے سے زیادہ بڑھ گیا۔ 1970کی دہائی تک ارتقاء کایہ عمل اسی طرح جاری رہا مگر 1970میں پہلی بار سیاسی اصلاحات کے ساتھ گلگت  بلتستان میں ایک مشاورتی کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا۔اس کونسل کے انتخابات 30دسمبر 1970کو منعقد ہوئے اور کُل 21منتخب و نامزد اراکین سامنے آئے۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے گلگت  بلتستان کی سیاست کو مزید ارتقائی عمل سے گزارتے ہوئے مشاورتی کونسل کا نام تبدیل کرکے ناردرن ایریاز کونسل رکھا اور خطے کا نام بھی جو کہ گلگت  بلتستان تھا اب ناردرن ایریاز بن گیا۔اس دور میں گلگت  بلتستان میں2نئے اضلاع کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔اسی طرح شمالی علاقہ جات کونسل کی تیسری مدت کے انتخابات 11اکتوبر1979کو منعقد ہوئے،چوتھی مدت کے انتخابات 26اکتوبر 1983کو، پانچویں مدت کے انتخابات 11نومبر1987کو، چھٹی مدت کے انتخابات نومبر1991کو منعقد ہوئے جس میں ایک مذہبی طبقے نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا ،ساتویں مدت کے الیکشن اکتوبر1994میں منعقد ہوئے۔ یہ الیکشن پہلی دفعہ سیاسی جماعتی بنیادوں پر ہوئے کیونکہ اس سے قبل جتنے بھی الیکشن ہوتے رہے وہ یا تو آزاد انہ حیثیت سے ہوئے یا مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہوتے رہے۔گلگت  بلتستان کی جمہوری و سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب 1999-2000کے دوران اُس وقت کی وفاقی حکومت نے لیگل فریم ورک آرڈر1994   میں ایک ترمیم کے ذریعے ناردرن ایریاز کونسل کا نام تبدیل کرکے ناردرن ایریاز قانون ساز کونسل رکھ دیا جبکہ پہلی مرتبہ سپیکر کے عہدے کے علاوہ تین خواتین کی مخصوص نشستیں بھی مقرر کردی گئی اور 1999میںآٹھویں مدت کے انتخابات منعقد ہوئے۔ 12اکتوبر2004کو نویں انتخابات منعقد ہوئے۔دسویں انتخابات کے انعقاد سے قبل جنرل(ر)پرویز مشرف کے دور میں گلگت  بلتستان میں سیاسی عمل کو مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ ہوا۔ گلگت  بلتستان جو خطے کا پرانا نام تھا۔ اُسے عوامی و منتخب نمائندوں کی متفقہ رائے سے بذریعہ اسمبلی قرارداد بحال کیا گیا ،انہی دنوں جنرل (ر)پرویز مشرف کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور مرکز میں ایک مرتبہ پھر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی اور آصف علی زرداری پاکستان کے صدربن گئے۔چونکہ گلگت  بلتستان سطح پر 2009میں دسویں انتخابات کا انعقاد ہونا تھا اس سے قبل پیپلز پارٹی کی قیادت نے جنرل (ر)پرویز مشرف دور کے گلگت  بلتستان کے لئے تیار شدہ سیاسی اصلاحاتی مسودے میں ضروری ترامیم کے بعدایک صدارتی آرڈر جاری کیا جسے گورننس آرڈر 2009کا نام دیا گیا، اسی آرڈرکی رُو سے گلگت  بلتستان کو پہلی بار صوبائی طرز کا نظام دیا گیااور گورنر و وزیر اعلیٰ جیسے منا صب متعارف کرائے گئے گو کہ اس آرڈر کو کسی بھی قسم کا آئینی تحفظ نہیں دیاگیا اس آرڈر کی کوکھ سے گلگت  بلتستان کونسل کے نام سے ایک اور ادارے کا قیام عمل میں آیا جس کے چیئرمین وزیر اعظم پاکستان قرار پائے۔ کونسل کے کل ممبران کی تعداد12جن میں سے چھ وفاق سے نامزد اورچھ گلگت  بلتستان اسمبلی کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آتے ہیں۔ گلگت  بلتستان کے 52شعبوں کے اختیارات اور قانون سازی کا حق کونسل کو دے دیا گیا



جس پر گلگت  بلتستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز نے اختیارات کی وفاق کو منتقلی پر تحفظات کا اظہار کیامگر دوسری جانب آرڈر2009کو سیاسی ارتقاء کا بڑا قدم بھی تسلیم کیا گیامگر آئینی حقوق قومی اسمبلی و سینیٹ میں نمائندگی کا مطالبہ نوجوان نسل کا پاپولر ٹرینڈ بنتا رہا۔اور عوامی مطالبے پر سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے سرتاج عزیز کی سربراہی میں گلگت  بلتستان و فاٹا کی محرومیوں کو ختم کرنے کے لئے الگ الگ آئینی اصلاحاتی کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایات جاری کیں۔فاٹا کے لئے تو خوش خبری سنادی گئی مگر گلگت  بلتستان کے لئے آرڈر 2018کے نام سے مالی و سیاسی اختیارات دینے کا اعلان ہوا۔ اس نئے آرڈر میں گلگت  بلتستان کونسل کے اختیارات کم کرکے صوبے کے سپرد کئے گئے اور کونسل کی محض مشاورتی حیثیت برقرار رکھی گئی۔ تاہم مذکورہ آرڈر کو عوامی سطح پر پذیرائی نہیں ملی کیونکہ گلگت  بلتستان کی نوجوان نسل وفاق کے بڑے اداروں میں نمائندگی چاہتی ہے۔ اس آرڈر کو بعض مقامی شخصیات نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کیا چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے کچھ سماعتوں کے بعد وفاقی حکومت کو تنبیہہ کی کہ وہ جلد از جلد گلگت  بلتستان کی محرومیوں کے خاتمے کے لئے سرتاج عزیز کی سفارشات کو رپورٹ کی شکل میں عدالت میں پیش کریں یا خود حکومت گلگت  بلتستان کے لئے آئینی،مالی و سیاسی اختیارات کا اعلان کرے۔ اِسی تناظر میں نئے منتخب وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ایک کمیٹی تشکیل دی۔چونکہ گلگت  بلتستان مسئلہ کشمیر کا ایک اہم فریق ہونے کی وجہ سے مکمل آئینی صوبہ نہیں بن سکتا لیکن یہاں کے محب وطن مکینوں کے حقوق متنازعہ نہیں ہیں، اس لئے خطے کو مسئلہ کشمیر کے حل تک عبوری آئین دے کر وفاق کے تمام بڑے اداروں میں نمائندگی بھی دی جاسکتی ہے،اس عمل سے امید واثق ہے کہ مسئلہ کشمیر پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، یہاں یہ بات بھی خصوصی طورپر اعلیٰ حکام کے نوٹس میں لانا ضروری ہے کہ گلگت  بلتستان کی نوجوان نسل اپنے ملک سے بے پناہ محبت کرتی ہے مگر اپنے پورے آئینی حقوق کی بھی متمنی ہے۔ جب یہ نسل اپنے مطالبات کے لئے آواز اٹھاتی ہے تو دشمن کے ایجنٹ بھی میدان میں اپنا کام دکھانا شروع کرتے ہیں اور پوری کوشش کرتے ہیں کہ پرامن مطالبات کو پرتشدد احتجاج اور مرکز گریز تحریک میں تبدیل کیا جائے۔ اگر گلگت  بلتستان کی نوجوان نسل کے مطالبے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو دشمن گلگت  بلتستان کے حوالے سے پروپیگنڈے اور منفی رویوں کے فروغ میں پیش پیش رہے گااور خطے کی مکمل متنازعہ حیثیت سے دشمن کی سازشوں کو تقویت ملے گی۔اس لئے ہمیں بغیر کسی وقت کے ضیاع کے گلگت  بلتستان کے باشندوں کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اور یہ کام اس مہارت سے کرنا ہوگا کہ کسی صورت میں مسئلہ کشمیر کی عالمی سطح پر قانونی حیثیت کو متاثر نہ کرے۔


 [email protected]

 

یہ تحریر 167مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP