متفرقات

گلگت بلتستان: قومی و ملی یکجہتی

یکم نومبر کو ہر سال گلگت کی آزادی کا دن منایا جاتا ہے۔ 1947ء میں آج ہی کے دن ریاست جموں و کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ کی طرف سے گلگت میں متعین گورنر بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کو مقامی فورس گلگت سکائوٹس نے فوجی بغاوت کے ذریعے گرفتار کیا اور اس کے ساتھ ہی گلگت میں آزادی کا سورج طلوع ہوا۔ جمہوریہ گلگت کے نام سے یہاں ایک آزاد ریاست کا قیام عمل میں آیا۔ جس کے راجہ شاہ رئیس خان صدر اور کرنل مرزا حسن خان فوجی سربراہ مقرر ہوئے۔ پندرہ روز بعد گلگت کے عوام نے اسلامی رشتے کی بنیاد پر مملکت خداداد پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا اور اس حوالے سے ہنزہ و نگر دونوں ریاستوں کے سربراہوں نے بھی بانیٔ پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ باقاعدہ الحا ق کی دستاویز پر دستخط کرکے عوامی جذبات و خواہشات کی عملی توثیق بھی کر دی۔ یہ گلگت  بلتستان کی آزادی کا پہلا مرحلہ تھا۔ اس کے بعد  بلتستان میں آزادی کی تحریک شروع ہوئی۔ کم و بیش چھ ماہ کی خونریز جنگ کے بعد 14 اگست 1948ء کو  بلتستان کا علاقہ ڈوگرہ استبداد کے چنگل سے آزاد ہوا۔ اس جنگ میں گلگت سکائوٹس، سکستھ جموں اینڈ کشمیر انفنٹری کے مسلمان فوجی،  بلتستان کے عوام اور چترال سکائوٹس نے یکجان ہوکر جس جرأت و بہادری کا مظاہرہ کیا وہ دنیا کی عسکری تاریخ کا سنہرا باب ہے۔ چونکہ گلگت  بلتستان کی تحریک آزادی کی جڑیں اسلام اور پاکستان سے جڑی ہوئی تھیں، اس لئے ا س علاقے کے حریت پسندوں کا اسلام اور پاکستان کے ساتھ والہانہ جذبے کا مظاہرہ فطری امر تھا۔ ڈوگروں کے ایک سو سات سالہ جارحانہ اور ظالمانہ تسلط سے نجات حاصل کرنے کے لئے گلگت  بلتستان کے عوام نے بھرپور قومی و ملی یکجہتی کے ساتھ جن پُرخطر، کٹھن اور مشکل مراحل کو عبور کیا وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ آزادی کی اس جنگ میں شریک مجاہدین کے پاس نہ بھاری اسلحہ تھا اور نہ ہی وہ عسکری طور پر تربیت یافتہ تھے۔ بس یقین محکم اور عزم و استقلال کے ساتھ نعرۂ تکبیر اور نعرۂ حیدری کی صدائیں بلند کرتے ایک طرف گلگت سے لے کر تراگبل گریز تک جبکہ دوسری طرف سکردو سے لے کر کارگل و لداخ اور زانسکار پدم تک کے وسیع و عریض خطے کو آزاد کرالیا، وہ واقعات تاریخ کے اوراق پر سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ اس دوران معرکۂ بونجی، روندو ایکشن، سکردو چھائونی پر حملہ، معرکۂ تھورگو پڑی، پرکوتہ ایمبوش، گریز، تلیل، بانڈی پورہ، دراس، کارگل، نوبراہ، لداخ اور پدم میں لڑی جانے والی گھمسان کی جنگیں عالمی عسکری تاریخ میں بے مثال ہیں۔ گلگت  بلتستان کے عوام نے آزادی کے بعد1965ئ1971 اور 1999ء میں کارگل جنگ کے دوران جوانمردی کے ساتھ وطن عزیز کے دفاع میں ناقابل فراموش کارنامے سر انجام دیئے۔1947ء سے اب تک گلگت  بلتستان کے ہزاروں جوانوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ ہزاروں لوگ زخمی ہوکر معذور و اپاہج ہو چکے ہیں۔ معلوم نہیں کتنے لوگ بے خانماں ہوئے اور کتنے سہاگ لٹ گئے۔ جبکہ بلتستان اور کارگل و لداخ کے ہزاروں خاندان ایک دوسرے سے بچھڑ گئے۔ یہ سب کچھ یہاں کے لوگوں نے وطنِ عزیز پاکستان کی محبت میں قبول کیا۔ گلگت  بلتستان کے عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ہم اس لکیر کے فقیر ہرگز نہیں جو وائسرائے ہند لارڈ مائونٹ بیٹن نے برصغیر کے نقشے پر ہندوستان کو دو ملکوں، پاکستان اور بھارت، میں تقسیم کرنے کے لئے پنسل سے کھینچی تھی۔ بلکہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے آباء و اجداد نے اپنے علاقے کے جغرافیے کی لکیر اپنے خون سے کھینچی ہے اور اس خونی لکیر کی حفاظت ہم اپنا قومی فریضہ سمجھ کر کر رہے ہیں۔ مگر ہمارے آبائو اجداد نے 1947-48ء  میں جو خواب دیکھا تھا وہ تاحال شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا ہے۔ جس منزل کا تعین کرکے جنگ لڑی تھی، وہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ اس علاقے کی آئینی حیثیت کے تعین کا معاملہ ہنوز حل طلب ہے۔

 گلگت  بلتستان کے عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ہم اس لکیر کے فقیر ہرگز نہیں جو وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے برصغیر کے نقشے پر ہندوستان کو دو ملکوں، پاکستان اور بھارت، میں تقسیم کرنے کے لئے پنسل سے کھینچی تھی۔ بلکہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے آباء و اجداد نے اپنے علاقے کے جغرافیے کی لکیر اپنے خون سے کھینچی ہے اور اس خونی لکیر کی حفاظت ہم اپنا قومی فریضہ سمجھ کر کر رہے ہیں۔

راقم کو اس سال خصوصی طور پر جشن آزادی گلگت  بلتستان کی تقریب میں شرکت کا موقع نصیب ہوا۔ کمانڈر ایف سی این اے میجر جنرل احسان محمود خان نے اس سال انتہائی محبت و خلوص کے ساتھ شایان شان طریقے سے آزادی کی تقریب منعقد کروائی اور اس تقریب میں کم و بیش سو غازیوں کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کو مدعو کرکے گلگت  بلتستان کی تاریخ میں ایک نئی روایت قائم کی۔ در اصل اس طرح کی تقریبات کو منانے کا مقصد تجدید عہد کرنا ہے اور اس مقصد کے لئے ہر طبقۂ فکر اورہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت لازمی ہوتی ہے۔ چنانچہ ایف سی این اے کے زیر اہتمام یوم آزادی گلگت کی اس تقریب میں جنگ آزادی کے بزرگ غازیوں، منتخب عوامی نمائندوں، اعلیٰ سول و فوجی افسروں، علمی و ادبی شخصیتوں، صحافیوں، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی جن کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ اس موقع  پر پاک فوج، جی بی سکائوٹس، پولیس اور طلبہ کے چاق و چوبند دستوں نے سلامی پریڈ اوررنگا رنگ پروگرام پیش کئے۔ گلگت  بلتستان کے گورنر راجہ جلال حسین مقپون، وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن اور کمانڈر ایف سی این اے میجر جنرل احسان محمود خان کے خطاب اس تقریب کا اہم حصہ تھے۔ ان حضرات نے اپنے اپنے خطاب میں جنگ آزادی گلگت  بلتستان کے شہیدوں کو خراج عقیدت اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی سلامتی و استحکام،قومی یکجہتی اور ملک کی تعمیر و ترقی میں سب کو اتحاد و یگانگت کے ساتھ مثبت کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔ کمانڈر ایف سی این اے میجر جنرل احسان محمود خان نے گلگت  بلتستان کے لوگوں سے جس پیار و محبت اورخلوص کا مظاہرہ کیا، اس سے علاقے کے لوگوں کے قومی جذبے کو مہمیز ملا ہے اور اس علاقے میں فوج اور عوام کے درمیان موجود اعتماد کو مزید تقویت ملی ہے۔ ملّی یکجہتی اور وطن عزیز پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدات کے تحفظ کے لئے تجدید عہد کرتے ہوئے گلگت  بلتستان کی فضائوں میں گویا یہ شعر گونج رہا ہے:  

خونِ دل دے کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب

ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

ہم کمانڈر ایف سی این اے کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے قومی یکجہتی اور ملکی سلامتی و استحکام کے لئے اہم پیش رفت سمجھتے ہیں۔ ساتھ ہی ان کے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں جس میں انہوں نے اگلے سال 14  اگست2019ء کو یوم آزادی  بلتستان کی مناسبت سے سکردو میں بڑے پیمانے پر تقریب منعقد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

ہم پاکستان کے محافظوں کو سلام پیش کرتے ہیں جن کے وجود وطن عزیز کی سلامتی و استحکام اور فکری و عملی تعمیر و ترقی کا ضامن ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں:

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے

وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

خدا کرے کہ میرے ایک بھی ہم وطن کیلئے

حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو


[email protected]

یہ تحریر 121مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP