متفرقات

گلگت بلتستان میں پائی جانے والی دنیا کی نایاب ٹرائوٹ مچھلی 

 گلگت بلتستان پاکستان کا وہ خوبصورت ترین خطہ ہے جہاں کے صاف و شفاف پانیوں میں دنیا کی نایاب مچھلی ٹرائوٹ بکثرت پائی جاتی ہے اور اس خطے کا رخ کرنے والے سیاح یہاں کی جھیلوں اور چشموں میں موجود ان ٹرائوٹ مچھلیوں کا شکار کرکے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ محکمہ فشریز کی جانب سے 10 مارچ سے 9 اکتوبر تک آٹھ ماہ کے لئے ٹرائوٹ مچھلی کے شکاریوں کو فشنگ لائسنس جاری ہوتے ہیں اور ان سے لائسنس فیس کی مد میں پانچ ہزار روپے وصول کئے جاتے ہیں جبکہ یہاں آنے والے سیاحوں کو روزانہ فشنگ کا بھی لائسنس جاری کر دیا جاتا ہے اور روزانہ ٹرائوٹ مچھلی کا شکار کرنے والے سیاحوں سے دو سو روپے وصول کئے جاتے ہیں۔ اس طرح محکمہ فشریز گلگت بلتستان  حکومت کے خزانے میںسالانہ لاکھوں روپے جمع کراتا ہے۔ ٹرائوٹ مچھلی کے شکار کے لئے سوائے فشنگ راڈ کے کسی اور چیز سے فشنگ کرنے کی ممانعت ہے اور اگر کوئی غیر قانونی شکار کرے تو ایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔ ایک شکاری کو روزانہ چھ مچھلیوں کے شکار کی اجازت ہے۔

 گلگت بلتستان خصوصاً ضلع گلگت، غذر، استور اور بلتستان کے صاف پانیوں میں اس وقت لاکھوں کی تعداد میں دنیا کی یہ نایاب مچھلی ٹرائوٹ نشوونما پا رہی ہے۔ یہ مچھلی سرد علاقوں کے صاف پانیوں میں رہتی ہے۔ گلگت بلتستان میں جب سردیوں کے موسم میں جھیلوں اور ندی نالوں میں برف جم جاتی ہے تو یہ مچھلی برف کے نیچے پانی میں نشوونما پا رہی ہوتی ہے۔ 
1937 میں انگریزوں نے کشمیر سے ٹرائوٹ مچھلیاں  لاکر گلگت بلتستان کے دریا، جھیلوں اور ندی نالوں میں چھوڑی تھیں جس کے بعد اس خطے میں ٹرائوٹ کی افزائش بڑھتی گئی اور آج یہاں کے مقامی لوگوں کے علاوہ یہاں آنے والے سیاح ٹرائوٹ کا شکار کرتے ہیں۔ یہ شکارگیم فش کے نام سے مشہور ہے۔ اب تو یہاں کے عوام نے باقاعدہ طور پر فش فارمنگ بھی شروع کر دی ہے اور گلگت بلتستان کے مقامی افراد نے درجنوں کی تعداد میں فش فارم بنائے ہیں اور ٹرائوٹ مچھلی فروخت کرکے وہ افراد لاکھوں روپے کماتے ہیں۔ اس وقت غذر کی تحصیل اشکومن کا گائوں برگل فش فارمنگ کے حوالے سے بہت مشہور ہے۔ یہاں کے فش فارم مالکان کے پاس ٹنوں کے حساب سے ٹرائوٹ مچھلی موجود ہے جو نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ ملک کے دیگر شہروں کو بھی فراہم کی جاتی ہے اور اب وفاقی اور گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نے بھی اس شعبے کی طرف توجہ دینا شروع کر دی ہے اس حوالے سے برگل گائوں میں ٹرائوٹ مچھلی کو محفوظ کرنے اور نایاب مچھلی بین الاقوامی مارکیٹ تک پہنچانے کے لیے مجوزہ بلڈنگ کی تعمیر کا کام بھی زور شور سے جاری ہے۔ اس عمارت کے مکمل ہونے کے بعد ٹرائوٹ مچھلی کی باقاعدہ پیکنگ ہوگی اور نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرونی ممالک تک یہ نایاب مچھلی پہنچا ئی جائے گی۔ حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے ان اقدام پر فش فارمنگ کے مالکان بہت خوش ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ٹرائوٹ مچھلی کو محفوظ کرنے کا عمل شروع ہوتے ہی ان کے کاروبار میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس حوالے سے غذر سمیت گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع میں فش فارمنگ کا شعبہ روز بروز ترقی پا رہا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ فش فارمنگ کے شعبے سے وابستہ ہورہے ہیں۔ ضلع غذر اور ضلع استور میں فش فارمنگ سے وابستہ افراد کو اگر کوئی شکایت ہے تو وہ یہاں کی خستہ حال سڑکیں ہیں جس کی وجہ سے اس شعبے سے وابستہ افراد کو ٹرائوٹ مچھلی بروقت مارکیٹ پہنچانے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے اگر وفاقی حکومت یہاں کی شاہراہوں کی حالت بہتر بنائے تو اس سے نہ صرف سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ فش فارمنگ کا یہ شعبہ ایک صنعت میں تبدیل ہوسکتا ہے جس سے ہزاروں افراد کو روزگار ملنے کے علاہ حکومت اس نایاب مچھلی کو بیرونی ممالک بھیج کر کروڑوں روپے کا زرمبادلہ کما سکتی ہے۔ ||


مضمون نگار مقامی صحافی  ہیں اور ایک نیوز چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔
[email protected]


 

یہ تحریر 192مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP