ہلال نیوز

گلگت  بلتستان کے لوگوں میں جذبۂ الوطنی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے


آئی ایس پی آر کی معاونت سے شائع ہونے والی کتاب'' شہدائے یاسین'' کی تقریب رونمائی کا انعقاد
رپورٹ: بہرام خان شاد
گلگت  بلتستان کی سب ڈویژن یاسین کو شہیدوں اور غازیوں کی وادی کہا جاتا ہے۔اس وادی کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ یہاں سے حوالدار لالک جان جیسے بہادر سپوت پیدا ہوئے۔وادی یاسین گلگت  بلتستان کے انتہائی شمال مغرب میں ضلع غذر کا ایک سب ڈویژن ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ وادی بہت چھوٹی مگر یہاں جانثاروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔اگر آپ وادی کا سفر کریں تو یہاں آپ کو ہر قدم پر پاکستانی پرچم لہراتے نظر آئیں گے۔ یہ پرچم کسی بیوروکریٹ ، جج یا کسی سیاستدان کے گھر پہ نہیں بلکہ یہ ان شہداء کے مزاروں پر ہیں جنہوں نے اس دیس کی خاطر اپنی جانیں قربان کی ہیں۔
ضلع غذر کو گلگت  بلتستان میں سب سے زیادہ (60)عسکری تمغے لینے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ ان میں سے کل 24تمغے سب ڈویژن یاسین سے تعلق رکھنے والے شہداء اور غازیوں نے حاصل کئے ہیں۔ جن میں ایک نشان حیدر، ایک ستارۂ جرأت،پانچ تمغۂ جرأت،تین ستارہ بسالت اور چودہ تمغۂ بسالت شامل ہیں۔
گزشتہ دنوںوادی یاسین کے شہداء پر مبنی ایک مستندکتاب ''شہدائے یاسین''کے نام سے منظر عام پر آئی ہے۔ جس کو بہرام خان اور عبدالمراد نے وادی یاسین کے شہداء پر چارسال کی تحقیق کے بعد آئی ایس پی آر کی وساطت سے نومبر 2018 میں شائع کروایا ہے، جس میں تقسیم ہند سے لے کر 2017 تک کل 174شہداء کے تذکرے شامل ہیں۔
 ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور نے کتاب کے لئے اپنا خصوصی پیغام جاری کرکے نہ صرف گلگت  بلتستان بلکہ قومی سطح پر بھی اس کی اہمیت کو اجاگر کیا اور گلگت  بلتستان کے لوگوں کے ساتھ اپنی محبت اور خلوص کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے عوام کا دل جیت لیا جس سے گلگت  بلتستان کے لوگوں اور پاک فوج کے درمیان رشتہ مزید مضبوط ہوگیا۔
آغاخان ایجوکیشن پروگرام فار گلگت  بلتستان و چترال کے جی ایم بریگیڈیئر ریٹائرڈ جناب خوشی محمد نے طلباء میں تحقیقی صلاحتوں کو اجاگر کرنے کے لئے کتاب '' شہدائے یاسین'' کو ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کرتے ہوئے تمام اے کے ایس پی کی لائبریریز کے لئے ضروری ٹھہرایا۔
صدر مملکت کے حالیہ دورہ یاسین کے دوران اُنہیں یہ کتاب پیش کی گئی جس سے صدر مملکت یہ پیغام لے کر گئے کہ یہاں کے عوام اور پاک فوج کے درمیان ایک گہرا رشتہ ہے اور عوام کی ملک کے لئے بے پناہ قربانیاں ہیں۔
اس کتاب کی باقاعدہ تقریب رونمائی مؤرخہ 28جولائی2019ء بمقام طاؤس یاسین،یاسین آرٹس کونسل کی تعاون سے منعقد کی گئی ۔ تقریب کے مہمان خصوصی آئی جی پی گلگت  بلتستان ثناء اللہ محمود عباسی تھے اس کے علاوہ مہمانوںمیں سیکرٹری سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ گلگت  بلتستان مومن جان اور  جان مدد یو این ایس آفیشلز کے علاوہ ضلع غذر سے بالعموم اور تحصیل یاسین سے بالخصوص، 3000 کے قریب خواتین و حضرات بشمول شہداء کے لواحقین نے شرکت کی۔
 محفل کے مہمان خصوصی آئی جی پی گلگت  بلتستان ثناء اللہ عباسی نے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے کہا ''تحصیل یاسین گلگت  بلتستان کو ایک منفرد علاقہ پایا جہاں سب سے زیادہ شہداء ہیں اور لوگوں کے دلوں میں بھی حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے جس کی بنیادی وجہ یہاں کے لوگوں کا تعلیم یافتہ اور باشعور ہونا ہے''۔
سیکرٹری سوشل ویلفیئرمومن جان نے کہا کہ وادی یاسین کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کے بہادر و مارشل لوگوں نے کبھی بھی بیرونی جارحیت کو قبول نہیں کیا۔ راجا غازی گوہر آمان سے لے کر شہید حوالدار لالک جان تک ہمیشہ بیرونی یلغار کے سامنے ڈٹ گئے۔کتاب کے Co-Authorعبدالمراد نے کتاب کا خلاصہ پیش کیا اور سامعین سے داد وصول کی۔اس موقع پر شہداء کے لواحقین اور معزز مہمانو ں کو تین سو کے قریب کتابیں بطور تحفہ پیش کی گئیں۔
 

یہ تحریر 82مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP