متفرقات

گلگت  بلتستان میں لکڑی سے بننے والے برتن

ملک کے شمالی خطے اپنی خوبصورتی کی وجہ نہ صرف سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں بلکہ اس خطے کی ثقافت بھی پورے ملک میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ یہاں کے عوام نے آج بھی اپنے آباؤ اجداد کی رسموں کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ آج دنیا ترقی کے میدان میں بہت آگے نکل چکی ہے اور نت نئی ایجادات ہورہی ہیں مگر اس خطے کے عوام نے آج بھی اپنے کلچر کو زندہ رکھا ہوا ہے جو زندہ قوموں کی ایک نشانی ہے۔ 



گلگت  بلتستان کے روایتی لکڑی کے برتن آج بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز ہیں اور یہ برتن گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں موجود کاریگر اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں جن کو یہاں آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں خریدتے ہیں اور خطے کے یہ کاریگر ان برتنوں کو فروخت کرکے اپنے بچوں کی کفالت کرتے ہیں مگر گزشتہ دو سالوں سے کرونا کی وجہ سے جہاں دیگر کاروباری افراد کو مالی نقصان کا سامنا ہے تو وہاں لکڑی کے برتن بنانے والے افراد بھی مالی مشکلات سے دو چار ہیں مگر یہاں کے کاریگر پر امید ہیں کہ بہت جلد اس وباء سے نجات ملے گی اور ان کا کاروبار ایک بار پھر زور شور سے شروع ہوگا۔ گلگت  بلتستان کے خوبصورت ترین علاقے غذر میں لکڑی کے برتن یہاں کے مقامی کاریگر صدیوں سے بنارہے ہیں اور ان کو مقامی لوگ بھی خریدتے ہیں۔ جب ان برتنوں کی مانگ بڑھ گئی تو ضلع غذر کے ہیڈکوارٹر گاہکوچ میں ایک کارخانہ بھی کھول دیا گیا ہے جہاں مقامی کاریگروں کی بڑی تعداد ان برتنوں کو بنانے میں مصروف عمل ہے اور آج کل سب سے زیادہ مانگ لکڑی کے بنے ہوئے ڈنر سیٹس کی ہے جس کی مقامی سطح پر ڈیمانڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے کارخانے کے مالک نے کاریگروں کی تعداد بھی بڑھا دی ہے۔ جب اس حوالے سے گاہکوچ میں موجود لکڑی کے برتن بنانے والے کارخانے کے مالک گوہر نبی سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ لکڑی کے ڈنر سیٹس کی مانگ اس وقت گلگت  بلتستان کے علاوہ چترال میں بھی ہے اس وجہ سے اس صنعت کے فروغ کے لیے اگر حکومتی سطح پر اقدامات اٹھائے جائیں تو اس صنعت کی ترقی سے علاقے کی بیروزگاری میں بڑی حد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھاان برتنوں کی بناوٹ کے لئے وہ اخروٹ، خوبانی اور چنار کی لکڑی کو پہلے کاٹ کر دو سے تین ماہ تک پانی میں رکھتے ہیں، تاکہ لکڑی مضبوط ہو جائے اور ٹوٹنے سے محفوظ رہے۔یہ بہت ہی محنت طلب کام ہے ہم لوگوں سے چنار، اخروٹ، خوبانی اور دیگر درخت خرید لیتے ہیں، اس لکڑی کو کارخانے میں لاکر مختلف سائز میں ان کی کٹائی ہوتی ہے، اس لکڑی کو پھر پانی میں رکھ دیا جاتا ہے جس کے بعد اس کو ہم اپنے کارخانے میں لاکر کاریگروں کے حوالے کرتے ہیں جہاں اس لکڑی سے نہ صرف کھانے پینے کے برتن بنائے جاتے ہیں بلکہ خطے کی موسیقی کے آلات بھی بنتے ہیں جن میں ستار ،بانسری اور دیگر موسیقی کے سامان شامل ہیں۔ ہمارے خطے میں علاقائی موسیقی کی صدیوں پرانی ثقافت آہستہ آہستہ معدوم ہوتی جارہی تھی مگر اب مقامی سطح پر علاقائی موسیقی کے آلات بننے پر خطے کی یہ قدیم رسم دوبارہ زندہ ہوگئی ہے اور یہاں بننے والے موسیقی کے سامان کو بیرونی ممالک سے آنے والے سیاح بھی بڑی تعدار میں خریدتے ہیں۔ گلگت  بلتستان کے مختلف علاقوں کے لوگوں نے آج بھی اپنے آبا ؤ اجداد کی رسموں کو زندہ رکھا ہوا ہے اور خطے کے بالائی علاقوں میں لوگ اب بھی کھانے پینے کے لئے لکڑی کے برتنوں کا استعمال کرتے ہیں۔ اب شہری علاقوں میں لکڑی کے بننے والے ڈنر سیٹ کا استعمال شروع ہوگیا ہے بتایا جاتا ہے کہ لکڑی کے برتن صحت کے لئے انتہائی مفید ہیں۔
 ضلع غذر میں اس  وقت بھی لوگوں نے اپنے آباؤ اجداد کے قدیمی گھروں کو محفوظ کیا ہوا ہے جس کو دیسی گھر بھی کہا جاتا ہے۔ اس گھر کی چھت پر قیمتی لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے، گھر میں چار ستون ہوتے ہیں جس پر اس وقت کے کاریگروں نے اپنے ہاتھوں سے پھول کشید کئے ہوئے ہیں۔ آج کل کے اس جدید دور میں بھی مقامی افراد اس طرح کے گھر تعمیر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور صرف گھر کی چھت اور چار ستونوں کی لکڑی پر ہی لاکھوں روپے خرچ کردیئے جاتے ہیں۔ گھر کے چار ستون پوری چھت کا وزن اٹھا لیتے ہیں اور چھت پر قیمتی لکڑی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اخروٹ کے چار ستون بنانے میں ایک کاریگر کا ایک ماہ لگتا ہے اور ان ستونوں پر ہاتھوں کی محنت سے پھول بنائے جاتے ہیں۔ یہ ستون بہت ہی دیدہ زیب ہوتے ہیں یہاں کے عوام نے مہنگائی کے اس دور میں بھی اپنے آباؤ اجداد کے بنائے ہوئے ان گھروں کو نہ صرف محفوظ کیا ہے بلکہ مکان بناتے وقت اس طرح کے پرانے گھر کو ضرور تعمیر کرتے ہیں تاکہ ان کا یہ کلچر زندہ رہے۔
 گلگت  بلتستان میں لکڑی کے برتن علاقائی موسیقی کے اوزار اور دیسی گھروں کے ستون بنانے والے کاریگروں کی اگر حکومت سرپرستی کرے تو یہ کاریگر مزید نت نئے لکڑی کے اوزار بناسکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی اور گلگت  بلتستان کی صوبائی حکومت اس صنعت پر توجہ دے تو اس سے نہ صرف اس خطے میں بیروزگاری کا خاتمہ ہوسکتا ہے بلکہ ملک ان برتنوں کو بیرونی ممالک بھیج کر اچھا خاصا زرمبادلہ بھی کما سکتا ہے۔ ||

یہ تحریر 227مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP