متفرقات

گرم مسالے کی سیاست

ذکر اس وقت کا جب لونگ،کالی مرچ  اور دار چینی سونے چاندی کے عوض خریدی گئی
عفت حسن رضوی

گزشتہ سال لندن کی مشہور زمانہ ،بے حد وسیع و شاندار برٹش لائبریری جانا ہوا، دنیا کے علوم یہاں کتابوں اور ملٹی میڈیا لائبریری کی صورت میں موجود ہیں۔ جب لندن کے کسی شاپنگ مال میں دل نہیں لگتا تھا تو میں یہاں چلی جاتی تھی۔ ایک دن زیر زمین موجود لائبریری کے ہسٹری سیکشن جانا ہوا، کتابوں کو کمپیوٹر پر بنی کیٹلاگ سے تلاش کیا تو دیکھا مسالا جات پر کئی کتابیں موجود تھیں، یہ کتابیں قطعاً کھانا پکانے کی تراکیب پر مبنی نہ تھیں، موضوع بحث تھا یورپ کی تاریخ میں گرم مسالوں کے لئے ہونے والی سیاست ،معاشی مسابقت اور جنگیں۔
ہمیں تو بریانی کھاتے ہوئے منہ میں آنے والی لونگ کی تیز خوشبو ناگوار  گزرتی ہے ، مگر سولہویں صدی میں اسی لونگ اور دیگر گرم مسالا جات کی خوشبو انگریزوں کو برصغیر کھینچ لائی تھی۔ یہ قصہ ہے پندرہویں صدی کا جب سپین اور پرتگال  کے تاجر انڈیا ، انڈونیشیا، چین اور سری لنکاسے ثابت گرم مسالے بحری جہازوں پر لاد کر ان کی تجارت پورے یورپ میں کرتے تھے، ان مسالوں  میں سب سے مہنگا آئٹم  لونگ تھا جسے یونانی دوا ، کھانوں اور خوشبوجات بنانے میں استعمال کیا جاتا تھا ، لونگ تک یورپ کے صرف  امیر کبیر ، راجے  اور شاہی  خاندان کے افراد کی ہی پہنچ تھی۔ برصغیر سے مسالے جاتے تھے تو چین سے چائے کی پتی بڑے پیمانے پر یورپ جاتی۔ بدلے میں یورپ کے پاس  بیچنے کے لئے ایسی کوئی قابل ذکر جنس نہ تھی جسے مارکیٹ کیا جاسکتا۔
پندرہویں صدی کے آخر میں ملکہ برطانیہ الزبتھ ون نے  ایک چارٹر کے تحت برطانوی تاجروں کی کمپنی قائم کردی جس کا مقصد مسالا جات کی  منڈی میں پرتگال اورسپین کی اجارہ داری ختم کرنا تھا۔ سولہویں صدی کے پہلے ہی سال  تاجروں کی اس کمپنی لندن ٹریڈنگ ٹو ایسٹ اینڈیز نے انڈونیشیا کے شہر سماٹرا اور جاوا پر اپنے  جہاز لنگر اندازکئے ۔لندن کے ان تاجروں نے  سونے اور چاندی کے بدلے کیا خریدا؟ کالی مرچ۔ جی ہاں چار بڑے بحری جہاز انڈونیشیا سے کالی مرچ لے کر برطانیہ پہنچے۔ 
ہمیں تو ثابت گرم مسالے ، سستے اور وافر مقدار میں مل جاتے ہیں اس لئے یہ سوچنا بھی عجیب لگتا ہے کہ کوئی سونے چاندی کے بدلے کالی مرچ ، الائچی ، زیرہ وغیرہ بھی خرید سکتا ہے۔ زیرے سے یاد آیا ،  چند سال پہلے ایران جانا ہوا تھا ، تہران میں خشک میوہ جات کے ایک بڑے تاجر نے بتایا تھا کہ پاکستان  اور انڈیا کے سفید  زیرے کو یہاں طلائِ ہندی کہا جاتا ہے،یعنی سونے سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ ہم تو خیر سے اس سفید زیرے کو آلو کی بھجیا ، چاول، سبزی، دال لگ بھگ سب کھانوں  میں بگھار کی صورت میں مٹھی بھر بھر کر ڈالتے ہیں، یہ سوچے بنا کہ کوئی اسے سونا بھی کہتا ہے۔
بات ہورہی تھی ، کالی مرچ سے بھرے جہازوں کی ۔ پھر یوں ہوا کہ انگریز کو گرم مسالے کا چسکا لگ گیا۔  لندن کے ان تاجروں نے انڈونیشیا کے ساحلی علاقے سماٹرا میں پہلا دفتر کھولا، جہاں سے یہ مزید آگے بڑھے۔ انگریزوں کے پاس بیچنے کے لئے سوائے اون کے کچھ تھا نہیں ، یہاں انڈیا پر مغلوں کی حکمرانی تھی ، آگرہ ، دِلّی ، لاہور میں مغلوں کی حکومت کے تحت بنائے گئے بازار قیمتی کپڑوں ، مسالوں،غذائی اجناس ، پتھروں اور دھاتی اشیا سے بھرے پڑے تھے۔ اب بھی  لاہور کے دہلی گیٹ کے ساتھ واقع مسالا جات کی اکبری منڈی  موجود ہے، یہ بادشاہ اکبر نے قائم کی تھی۔ اسے ایشیا میں مسالا جات کی سب سے بڑی مارکیٹ کہا جاتا ہے۔ انگریز تو انڈونیشیا کی کالی مرچوں پر ہی فدا ہوگئے تھے، انڈیا کے بازار دیکھے تو ان کی رال ٹپکنے لگی۔ یہ بازار گرم مسالوں کے خزانوں سے لبالب بھرے پڑے تھے۔ بس پھر لندن کے ان تاجروں کا یہ گٹھ  جوڑ ایسٹ انڈیا کمپنی بن گیا۔سولہویں صدی کے دوسرے عشرے میں انگریز مغلوں کا اعتماد جیتنے میں کامیاب رہے ،بنگال ،بمبئی اور لاہور میں ٹریڈنگ کے دفاتر قائم کئے گئے۔ 
ادھر ایسٹ انڈیا کمپنی کا معاملہ مسالا جات کی تجارت سے ہوتا ہوامغلوں کی بادشاہت گرانے اور برصغیر کو کالونی بنانے تک جا پہنچا ۔ ادھر چین سے چاندی کی دھات کے بدلے چائے کی پتی خریدنے والے برطانوی تاجروں نے چین کو افیون کی سمگلنگ شروع کردی۔ افیون کی کاشت انڈیا میں خفیہ طور پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت کی جاتی تھی۔ یعنی چائے کی پتی کے بدلے چین کو افیون کے نشے پر لگادیا گیا۔ اب یہ عالم ہے کہ چائے برطانیہ کا قومی مشروب لگتا ہے، برطانوی چائے کے اتنے شوقین ہیں کہ انہوں نے سری لنکا، بنگلہ دیش میں باغات خرید رکھے ہیں  جہاں انگلش ٹی اگائی جاتی ہے، ویسے یہ بھی عجب ہے کہ پیدا سری لنکا میں ہوتی ہے مگر مشہور انگلش ٹی ہے۔
میں ہاتھ میں انگلش ٹی کا کپ تھامے جنوبی ایشیا کی تاریخ میں گرم مسالوں  کی سیاست کا یہ فسانہ پڑھ رہی تھی کہ یوں لگا جیسے کسی نے تانبے کی دیگ کا ڈھکن کھول دیا ہو ، اور مٹن پلاؤ کی خوشبو بھوک چمکانے لگی ہو۔ ارد گرد دیکھا تو  برٹش لائبریری میں سب خاموشی سے کتابوں اور کمپیوٹرز میں غرق تھے۔  دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگی کہ کیا ضرورت تھی گرم مسالے کی یہ کہانی پڑھنے کی۔میں نے پیدل ہی برٹش لائبریری سے  یوسٹن سٹیشن کی راہ لی۔ جس کے عقب میں  ڈرمونڈ سٹریٹ پر واقع راوی کباب ہے۔ یہ ایک پاکستانی خاتون کابنایا ہوا ریسٹورنٹ ہے ، جہاں پاکستان بلکہ یوں کہہ لیں پنجاب کے دیسی کھانوں کے خالص  ذائقے ملتے ہیں۔
 میں پہلے ہی گرم مسالوں ، ایسٹ انڈیا کمپنی، کالی مرچ، لونگ ،دار چینی وغیرہ کے تاریخی قصے پڑھ کر آئی تھی، ڈرمونڈ کے راوی پہنچ کر بھی یہاں کے شیف سے انٹرویو شروع کردیا۔ بڑے مزے کی بات یہ ہے کہ ایسے دیسی ریسٹورنٹس میں آپ کو ایشین افراد تو نظر آئیں گے ہی مگر یہاں گورے بھی بڑی تعداد میں نہاری، بریانی مزے لے کر کھاتے نظر آتے ہیں ۔ یہیں ایک صاحب سے بات چیت ہوگئی جو کہ انگلینڈ کے شہر ناروچ کے باسی تھے ، بتانے لگے کہ انہیں  ثابت کھڑے مسالوں والے  رنگین چاول  بہت پسند ہیں، میں سمجھ گئی موصوف کا اشارہ بریانی کی طرف ہے،پھر کہنے لگے کہ مچھلی کا سالن صرف پاکستانی اور بنگالی ہوٹلوں پر لذیذ ملتا ہے۔ دراصل  لاکھ کوشش کے باوجود  برطانیہ کے مقامی کھانے،  انڈین،بنگالی اور  پاکستانی  کھانوں کے آگے ٹک نہیں سکے اسی لئے کری یعنی سالن اب انگریزوں کی پسندیدہ ترین ڈش ہے۔ لندن میں دیسی کھانے کی مانگ کئی دہائیوں سے ہے، اصل بات تو یہ ہے کہ ہمارے مسالے دار چٹ پٹے کھانوں کی  خوشبو کا واحد راز  جنوبی ایشیا کے گرم مسالے ہیں ۔کیوں  جی! آپ کو بھی بھوک لگ گئی ؟ جائیں جاکر بادیان کے پھولوں سے دم کئے چاول اور زیرے ،ہینگ سے بگھاری ہوئی دال بنائیں اور خود پر رشک کرتے ہوئے کھائیں کہ آپ پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں۔ 


مضمون نگار نجی نیوز چینل میں ڈیفنس کاریسپانڈنٹ، بلاگر اور کالم نگار ہیں، انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس امریکا اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کی فیلو ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 117مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP