ہمارے غازی وشہداء

کیپٹن نواب زادہ جاذب رحمن شہید

جب بھی قومی ترانے کی صدا فضا میں گونجتی ہے، جب بھی یہ پرچم آب و تاب سے ہوا میں لہرایا جاتا ہے، جب بھی ہم پرُسکون اورپُرفضا ماحول میں سانس لیتے ہیں تب ہمارے ذہن کے کسی گوشے میں ایک سوچ جنم لیتی ہے کہ اس پرچم کی سربلندی اور پُرسکون فضا کے لئے دھرتی کے جیالوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ آپریشن ضرب ِ عضب ہو یا سوات آپریشن، جس دلیری سے یہ افواج لڑیں اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ دشمن کو یہ سبق ملا کہ وہ دنیا کی بہترین عسکری قوت سے لڑرہا ہے۔ آج ایک شیر دل جوان کا تذکرہ کرنے لگی ہوں ۔ 
کیپٹن نواب زادہ جاذب رحمن ٧ نومبر١٩٩٣ کوکوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ بچپن سے ہی مشکلات سے کھیلنے کا شوق رکھتے۔ گھڑ سواری کے ماہر تھے۔ نیزہ بازی کے فن میں بھی مہارت حاصل تھی ۔ سکول جاتے تواکثر کلاس کی تعداد کے مطابق ایک جیسی چیزیں لے کر جاتے، خوشیاں تقسیم کرنے کے شوقین تھے۔ آپ نے میٹرک اور ایف ایس سی کیڈٹ کالج کوہاٹ سے کی۔ مختلف کالجوں سے ٹیسٹ پاس کئے۔ آئی ایس ایس بی کے لئے فارم جمع کروائے اور والدہ سے کہا کہ میںاپنے ملک کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ دولت کی فراوانی اس قدر تھی کہ اگر تعلیم مکمل کرکے کوئی بزنس کرتے تو زندگی آسانی سے گزرجاتی۔ کیڈٹ کالج کوہاٹ کے پرنسپل بریگیڈیئر انعام الحق نے بھی کیپٹن جاذب کے والدین سے کہا کہ یہ بہت ذہین اور محنتی ہے، ایم بی بی ایس کروائیں۔ جاذب اپنے گھر والوںکے بہت لاڈلے تھے۔ ان سے اپنی ہربات منوا لیتے اسی لئے پاک فوج میں بھی جانے کی اجازت آسانی سے مل گئی۔ پاک فوج سے جب اُنہیں کال آئی تو وہ خوشی کے مارے پھولے نہ سمائے۔ کیپٹن جاذب کو جنون کی حد تک آرمی میں جانے کا شوق تھا۔ وردی سے محبت تھی۔ جب بھی پرچم دیکھتے سلیوٹ کرتے۔ فوجی دیکھتے تو سلیوٹ کرتے۔ چیف آف آرمی سٹاف کو ٹیلی ویژن پر دیکھتے تو کھڑے ہو جاتے اور سلیوٹ کرتے۔
١٦ نومبر٢٠١١ کو پی ایم اے١٢٨ لانگ کورس میں شمولیت اختیار کی یوں پاک فوج میں شمولیت کے جنون کوتعبیر ملی۔١٢اکتوبر٢٠١٣ کو PMA کاکول سے پاس آئوٹ ہوئے تو جاذب کراس بیلٹ ہولڈر تھے۔
والدہ کا کہنا تھاکہ جاذب کو تین گاڑیوں میں بارات کی طرح ملٹری اکیڈمی کاکول لے کر گئے ، اس پر جاذب کے ڈرائیور نے از راہِ تفنن ان سے کہا کہ یہ تو شادی اور بارات کی طرح ہے۔ وہی کر لیتے۔ جاذب نے کہا کہ مجھے جنون کی حد تک شہادت کا شوق ہے ۔ میں اپنے والدین کے لئے کوئی غم نہیں چھوڑ کے جانا چاہتا۔ کیپٹن جاذب بہت دلیر اور نڈر تھے۔ ان کے کمانڈنگ آفیسر ان کو چِیتا کہتے۔ وہ بہت اصول پسند تھے۔ایک دفعہ دورانِ سفر جاذب نے کسی پولیس والے کو ایک ڈرائیور سے پیسے لیتے دیکھ لیا تو رُک گئے  اور پولیس والے سے کہا بھائی آپ نے ٹرک والے سے پیسے لے کرجانے دیا۔ اگر اس میں بارود ہوا تو ۔۔۔ ؟ایسے کام دیکھ کر اور باتیں سُن کر افسردہ ہوجاتے اور کہتے کہ پاکستانی قوم دُنیا کو کیا تاثر دے رہی ہے۔ اکثر کہتے کہ ہمارے جوانوں کو دنیا کواچھا تاثر دینا چاہئے ، وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے محسنوں کے نقشِ قدم پر چلتی ہیں اور انہیں خراجِ تحسین پیش کرتی ہیں۔  
کیپٹن جاذب کو کیا معلوم تھا کہ وہ ایک دن قوم کے محسن کے طور پر یاد کئے جائیں گے، ہماری نوجوان نسل کے لئے رول ماڈل ہوں گے۔ ایک ماہ کے اندر جاذب نے کئی آپریشن کئے۔ آپ نے طالبان کے بڑے بڑے لیڈر پکڑے آپ کو فون پر افغانستان سے دھمکی آمیز کالز موصول ہوتیں جن کے جواب میںکیپٹن نواب زادہ جاذب رحمن بڑی دلیر ی سے کہتے کہ تم گیدڑ ہو اور میں شیر ہوں، سامنے سے حملہ کرنا، میں منہ توڑ جواب دوں گا۔ان کے سی او کرنل بلال انہیں ڈانٹتے تو وہ شرارتی آنکھوں سے مسکرا دیتے ڈانٹ کی وجہ یہ ہوتی کہ باوجود اتنی دھمکیوں کے ہر آپریشن کے لئے تیار ہوجاتے اور کہتے جو رات قبر میں ہوگی، اسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔
١٩٦٥ اور ١٩٧١ کی جنگ میں توایک دشمن تھا ہندوستان، لیکن اب جنگ کے انداز بدل گئے۔ دشمن ہماری صفوں میں موجود ہیں۔ پہلے صرف بیرونی دشمن ہوتا تھا، اب اندرونی دشمن بھی ہیں۔ پاک فوج کو سلام جس کی عظیم قربانیوں سے اس ملک کی بہاریں لوٹ آئی ہیں۔کیپٹن نواب زادہ جاذب رحمن اور دوسرے تمام شہداء کے ہم مقروض ہیں ان جوانوں کی دلیری کی بدولت دہشت کے سائے اس ارضِ وطن سے مٹ گئے فوج اور ملک کے دفاع کے لئے انہوںنے اپنی جوانی لُٹا دی۔ ان کی عظیم مائوں کو سلام جنہوںنے ایسے جواہرِ نایاب کو جنم دیا اتنی زبردست پرورش کی۔ 
نواب زادہ جاذب رحمن اس دھرتی کا وہ بہادر سپوت ہے جس نے ٢٥ سال کی عمر میں وہ کردکھایا جو لوگ٧٥ سال کی عمر میں بھی نہیں کرسکے۔ کیپٹن جاذب رحمن شہید کی داستانِ شہادت ، داستانِ فخر و داستانِ شجاعت ہے۔ ایسا محب ِوطن پاکستانی جس نے دھرتی کے سکون کے لئے اپنی جان بطورِ عطیہ دے دی۔ دیر میں بھی کئی کامیاب آپریشن کئے سوات میںبھی لاتعداد انٹیلی جنس بیسڈ کامیاب ملٹری آپریشن کئے۔ آپریشن کے دوران جوانوں کا مورال بلند کرتے۔ انہیں خوف کو دلوں سے باہر نکالنے کا کہتے۔ وہ بہت جذباتی تھے اکثر کہتے تھے وطن کی خاک سے ہمارے خواب منسوب ہیں اور اس خاک پر ناپاک دشمن کا سایہ وطن کے جانبازوں کو گوارا نہیں۔ سرزمینِ پاکستان غازیوں کی سرزمین، سربکف لڑنے والے جانبازوںکی سرزمین ایسے شیروں کی سرزمین ہے جو دھرتی کے دشمنوں کے دانت توڑدیتے ہیں۔ کیپٹن نواب زادہ جاذب رحمن کے ایک سینیئر نے کہا کہ دہشت گرد اُس وقت خود کش حملہ کرتے ہیں جب اُن کی گردن پر پائوں رکھا جاتا ہے اور انہیں سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ کیپٹن نواب زادہ جاذب رحمن نے ان دہشت گردوں کی گردن پر پائوں رکھا۔ دہشت گردوں کا سر براہ جب سامنے آیا تو سی او نے کہا کہ نفری بلائی ہے انتظار کرو تو کیپٹن جاذب رحمن نے کہا کہ میں خود کو نہیں روک سکتا۔ نفری آنے تک یہ بھاگ جائے گا۔ گولیوں کی بوچھاڑ میں کیپٹن جاذب نے دہشت گردوں کے سربراہ کو پکڑ لیا۔
کیپٹن جاذب رحمن کی والدہ کا کہنا تھا کہ جب بھی کسی شہید کی برسی ہوتی ہے تو ہم سب شہداء کی مائیں اکٹھی ہو کر اپنے بیٹوں کی باتیں کرتی ہیں۔ سب مائوںنے اپنے ہونہار ہیرے ہماری اس پُرسکون فضا کے لئے قربان کئے۔ گزشتہ سال جنوری کا آخری عشرہ نوابزادہ  جاذب رحمن نے راولپنڈی میں گزارہ۔ اسی دوران جب وہ اسلام آباد کے بڑے شاپنگ مال میں والدہ کے ساتھ تھے،تو دھمکی آمیز فون افغانستان سے آیا۔ نواب زادہ جاذب رحمن نے انہیں کہا کہ گیدڑوں کے حملوں کا منہ توڑ جواب دوں گا۔ آپ اکثر خوارج کو گیدڑ کہتے۔
والدہ کوہاٹ جارہی تھی اور کیپٹن نواب زادہ جاذب رحمن سوات جارہے تھے۔ والدہ سے کہنے لگے امی اگر میرا جسدِ خاکی پرچم میں لپٹا ہوا آئے تو عام ماں کی طرح نہیں، شیر کی ماں طرح مجھے خوش آمدید کہنا۔ 
سوات سٹیڈیم میں والی بال کھیل رہے تھے کہ تین خود کش بمبار داخل ہوگئے۔ جاذب نے اکیلے بڑی بہادری  سے دو کو جہنم واصل کیا جبکہ تیسرے نے خود کش جیکٹ پھاڑ دی یوں نواب زادہ جاذب رحمن نے جامِ شہادت نوش کیا اور ان کی بامقصد زندگی گزارنے کی خواہش پوری ہوگئی۔
ایک منفرد شخصیت کے حامل نوابزادہ جاذب رحمن شہید خوشیاں تقسیم کرنے کے عادی تھے بچوں سے بہت پیار کرتے تھے۔ وردی اور پرچم کی حرمت کے لئے اپنے پورے خاندان کو اشکبار چھوڑ گئے۔٧ نومبر٢٠١٨کو آپ کے یومِ ولادت کے موقع پر بحریہ ٹائون راولپنڈی اور بحریہ ٹائون کراچی کی مساجد کیپٹن نواب زادہ جاذب رحمن شہید کے نام سے منسوب کی گئیں۔ سلام ایسے جیالوں پر جنہوں نے قوم کی خاطر اپنی زندگی دائو پر لگا دی۔ سلام ان جوانوں کو جنہوںنے جارحانہ آپریشن کرکے دہشت گردوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ سلام اُن والدین کو جنہوںنے بڑھاپے کے سہارے کو مٹی کی آغوش میں سُلا دیا۔
اﷲ رب العزت سے دعا ہے کہ کیپٹن نواب زادہ جاذب رحمن شہید کے درجات بلند کرے۔
 مضمون نگار درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

یہ تحریر 275مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP