ہمارے غازی وشہداء

کیپٹن حسنین نواز شہید  تمغہ بسالت

زندگی سب کو پیاری ہوتی ہے کیونکہ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے۔ ہر انسان اس کو کامیابی کے ساتھ گزارنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا'' ہم نے ہر انسان کو احسن طریقے سے پیدا فرمایا'' لیکن یہ کون لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے اپنی زندگیوں کو قربان کر دیتے ہیں ؟ بحیثیت انسان کبھی ہم نے یہ سوچا کہ کیا یہ لوگ چند روپوں کی خاطراپنی زندگیوں کو قربان کر دیتے ہیں، کیا اِ ن کا مقصد شہرت ہوتا ہے ؟ جب ہم عیش و آرام کے ساتھ سردیوں میں گرم لحافوں میں چھپ کر چائے کافی کی چُسکیاں لے رہے ہوتے ہیں۔ یہ جری جوان ٹھٹھرتی سردی میں اپنوں سے دور اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہوتے ہیں ۔کھیلنے کودنے  کی عمر میں وہ سرحدوں پر کھڑے ملک و ملت کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں ۔ والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ،بہن بھائیوں کے دل کا سکون ایک بھائی جب جُد ا ہو کر ہمیشہ کے لیے اللہ کے پاس چلا جاتا ہے تو، وچھوڑا دل پر بہت گہرے نقوش چھوڑ جاتا ہے ، گھر کا گھر ویران اور سُونا لگتا ہے ۔ ماں کی تو دنیا ہی اُجڑ جاتی ہے، بیوی ساری زندگی یادوں کے سہارے گزارتی ہے ۔وہ یہ سب کچھ کس کے لیے برداشت کرتے ہیں ؟صرف قوم کو زندگی دینے کے لیے ، قوم کو امن سکون اور آشتی دینے کے لیے ۔ 
ننکانہ صاحب صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں واقع ہے ۔تاریخ کے لحاظ سے یہ چھوٹا سا شہر بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔اسی سر زمین پر دھرتی کا ایک عظیم سپوت  12 فروری 1992ء کو سکول ٹیچر ملک محمد نواز گوہر کے ہاں پیدا ہوا۔ ملک فیملی سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان بچپن سے ہی الگ طبیعت کا مالک ، سادہ، صاف گو، ہنس مُکھ اور یاروں کا یار تھا ۔ والد محترم ملک محمد نواز گوہر نے اپنے لا ل کا نام محمد الا حسنین نواز رکھا۔ ابتدائی تعلیم ننکانہ صاحب کے ایم سی ہائی سکول سے حاصل کی اور میٹرک کرنے کے بعد ایف ایس سی کے لیے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ننکانہ صاحب میں داخلہ لیا۔یہاں پر بھی کیپٹن حسنین نواز اپنی مثال آپ تھا ۔ وہ کمال کا لکھاری تھا،بیڈمنٹن کا بہترین کھلاڑی ،سکول کالج یونیورسٹی کے سٹیج پر حکومت کرنے والا کمال کا سلجھا ہوا انسان تھا۔اپنے دوستوں میں بہت چاہت اور محبت رکھنے والا انسان تھا ۔
ایف ایس سی کرنے کے بعد(NUST)نسٹ اسلام آباد میں الیکٹریکل انجینئرنگ میں داخلہ لیا۔اُن کے والد محترم نے انٹرویو میں بتایا کہ اُن کا بیٹا بہت ہونہار طالب علم تھا ۔وہ ہر مضمون میں اول آتا تھا۔سی جی پی اے بہت اچھا لیتا تھااور سب سے مزے کی بات کہ وہ کبھی والدین پر بوجھ نہ بنا ۔وہ اتنا لائق طالبعلم تھا کہ اُسے جو وظیفہ ملتا اُسی سے اپنے تعلیمی اخرجات پورے کر لیتااور کم ہی والدین کو پیسوں کی فرمائش کرتا تھا۔الیکٹریکل کی ڈگری کے ساتھ اُسے گولڈ میڈل بھی ملا تھا ۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ وہ دوسری سرگرمیوں میں بھی کمال مہار ت رکھتا تھا ۔  نعت خوانی بھی کرتا تھا اور کئی انعامات ، شیلڈز حاصل کرتا تھاالغرض وہ ایک کمال شخصیت کا مالک تھا ۔ کھانے میں اجوائن گوشت، چکن روسٹ کا دلدادہ تھااور گھر میں بنے کھانے پسند کرتا تھا، رس گلے ، گلاب جامن کو بھی شوق سے کھاتا تھا۔ اپنی یونٹ میں فٹ بال ٹیم کا کپتان تھا۔مزاج کا کما ل انسان ، تین بھائیوں میں سب سے بڑا بھائی تھا، اپنی ماں کے ساتھ بہت زیادہ اُنس رکھتا تھا اس لیے ماں اب بھی اپنے پیارے لخت ِ جگر کو بہت یاد کرتی اور روتی ہے ۔
الیکٹریکل کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد اُ س نے اپنی خواہش کی تکمیل اور وطن کے ساتھ محبت میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں 2014ء میں ڈائریکٹ کیپٹن کا امتحان پاس کرنے کے بعد 92 سگنل بٹالین میں شمولیت اختیار کی۔شہادت سے پہلے میجر کی ٹریننگ مکمل کر چکے تھے ، لیکن جو اللہ کو منطور تھا وہی ہوا ، کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس کم سن جوان کو اللہ نے قبول فرما لیا ہے اور وہ اللہ کے اُن عظیم المرتبہ بندوں کی صف میں کھڑا ہونے جار ہا  ہے جس کی خواہش ہر فوجی کی ہوتی ہے لیکن کس کے نصیب میں ہوتی ہے، یہ کوئی نہیں جانتا۔ جب بیٹا فوج میں شامل ہوا تو باپ نے بیٹے کو نصیحت کی''بیٹا تم آفیسر بن گئے ہو، الحمدللہ، کبھی کسی ماتحت کو گالی نہ دینا، اُسے برا بھلا مت کہنا، کبھی سگریٹ نوشی نہ کرنا، الکوحل کے قریب بھی مت جانا اور اگر اپنے ملک کو ضرورت پڑے تو اپنی جان کی پروا مت کرنا۔'' وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اتنا شفیق اور مہربان تھا کہ ایک مرتبہ ایک حوالدار کا کوئی کیس پھنسا ہوا تھا جو کیپٹن نے حل کروایا۔کھانا کھانے کے لیے میس جاتا تو کُک کو ویری گڈ کہتا اور حوصلہ بڑھاتا۔فوج میں شمولیت کے بعدوالدین نے کیپٹن حسنین کی شادی  ایک صاحب علم و دانش خاتوں جنہوں نے پی ایچ ڈی میتھ کر رکھا ہے ،سے کر دی جس سے اللہ کریم نے ایک خوبصورت بیٹے سے نوازا۔



پیشہ ورانہ اعتبار سے اُن کی کارکردگی ہمیشہ شاندار رہی اُن کے ایک سینئر آفیسر کرنل شاہد منظور نے کہا'' وہ ایک فرض شناس، سلجھی شخصیت کا مالک اور کمال کا انسان تھا۔
15 اکتوبر  2017 اتوار کا دن جب پاک فوج نے کرم ایجنسی میں دہشگردوں کے خلاف کارروائی شروع کی جس میں پاک فوج کے جوانوں نے دہشتگردوں کوبہت نقصان پہنچایا۔  اس آپریشن میں پاک فوج کے جوانوں کو بہت کامیابی نصیب ہوئی۔ کچھ دہشتگرد بھاگ کر افغانستان کے بارڈر کی جانب چلے گئے ، خرلاچی کے مقام پرسہولت کاروں کی تلاش کا کام شروع کیا اور کامیابی نے پاک فوج کے جوانوں کے قدم چومے اور کافی دشمن جہنم واصل بھی ہوئے ۔ بم ڈسپوزل ٹیم اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی تھی کہ اسی دوران ایک دھماکہ ہوا جس میں پاک فوج کے جوان زخمی ہوگئے۔ کیپٹن حسنین اپنے جوانوں کو اٹھانے کے لیے آگے بڑھے اور اپنے جوانوں کو ریسکیوکرنے لگے کہ دوسرا دھماکہ ہو گیا لیکن کیپٹن حسنین اپنے زخمیوں اور شہداء کو اٹھانے میں مصروف رہے ، اسی دوران ان کے ساتھیوں نے منع کیا سر آپ آگے نہ جائیں آپ کی جان کو خطرہ ہے کیونکہ دو دھماکے ہو چکے ہیں تیسرا بھی ہو سکتا ہے  لیکن انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں اپنے سولجرز ، اپنے جوانوں کو چھوڑ کر اپنی جان بچانے کے لیے رُک جاؤں۔ نہیں میں آگے جا کر اپنے سپاہیوں کا خیال رکھوں گا۔  اسی دوران تیسرا دھما کہ ہو گیا اور کیپٹن حسنین کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے رب کریم سے جاملے اور ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید ہوگئے ۔ کیپٹن حسنین نواز شہید کے ساتھ حوالدار جمعہ گُل، سپاہی سید یار اور سپاہی قادر خان نے بھی شہادت پائی۔ باپ کے مطابق جب آخری بار فون پر بات ہوئی تو بیٹے نے کہا'' میرے بیٹے کا خیال رکھنا اور پریشان مت ہونا اور بہادری کی اعلیٰ مثال پیش کرنا'' کیونکہ اگر میں سرخرو واپس لوٹ آیا تو غازی نہیں تو شہادت کے عظیم رتبے پر فائض ہو جائوں گااور میرا جسد خاکی پاکستان کے سبز پرچم میں آئے گا۔
پہلی نماز جنازہ ایف سی گرائونڈ پارہ چنار میں ادا کرنے کے بعد تمام شہداء کا جسد خاکی اُن کے آبائی علاقوں میں روانہ کر دیا گیا۔جب شہید حسنین نواز کا جسد خاکی اُن کے آبائی علاقہ ننکانہ صاحب لایا گیا تو رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے ، سول سوسائٹی اور علاقے کے لوگوں کی بڑی تعدا د اُمڈ آئی۔ شہید کے والد نے اپنے بیٹے کو فوجی سلیوٹ پیش کیا اور چوما۔ نماز جنازہ دولر والا قبرستان میں پڑھائی گئی جس میں علاقے کے لوگوں سمیت عسکری قیادت نے بھی شرکت کی ۔کیپٹن حسنین نوا زاپنی یونٹ کے پہلے شہید ہیں۔
23  مارچ 2017 ء  میں  شہید حسنین نواز کے لیے تمغہ بسالت کا اعلان بھی کیا گیا ۔


[email protected]
 

یہ تحریر 84مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP