نقطۂ نظر

کیا یہ محض اتفاق تھا  یا

ڈھاکہ کی ایک بڑی سڑک سے گزرتے ہوئے گردو نواح کی شادابی اور ہریالی کا نظارہ کررہاتھا کہ ڈرائیور نے خاموشی کو توڑتے ہوئے اچانک مجھ سے سوال کیا کہ سر! ہمارے بانگے بندھو یعنی فادر آف دی نیشن شیخ مجیب الرحمن کا گھر نہیں دیکھیں گے۔ میںنے جواباً اس سے پوچھا کہ اگر اُسے دیکھنے کے لئے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے تو ضرور دیکھیں گے۔ یہاں سے کتنا دُور ہے؟ وہ پہلے ہی اس انتظار میں تھا۔ کہنے لگا سر وہ گھر اب میوزیم کی طرح ہے، اسے دیکھنے کے لئے کسی اجازت کی ضرورت نہیں فادر آف دی نیشن کی رہائش گاہ کی حیثیت سے حکومت خو د اس کی دیکھ بھال کرتی ہے۔
ایک چھوٹے سے گھر کے سامنے کئی گاڑیوں کے ساتھ گاڑی پارک کرکے ڈرائیورنے کہا سریہ ہمارے بانگے بندھو کا گھر ہے جہاں ٹورسٹوں (سیاحوں) کی چہل پہل ہے۔ آپ اندر سے دیکھ آئیں۔ میں گاڑی میں آپ کا انتظار کرتا ہوں۔ میں گھر کی چاردیواری میں داخل ہوا تو چھوٹے سے سرسبز و شاداب دالان سے گزرتے ہوئے  مجھے1971 کی یادوںنے گھیر لیا اور مجھے یاد آنے لگا کہ یہی راستہ ہے جہاں سے چل کر پاکستان کے بڑے بڑے لیڈران شیخ مجیب الرحمن  سے ملنے اور سیاسی بحران کا حل ڈھونڈنے کے لئے آتے تھے، یحییٰ خان  سے پیغاموں کا تبادلہ ہوتا تھا۔ ان دیواروںنے وہ دردناک منظر دیکھا ہوگاجب مذاکرات کی نام نہاد ناکامی کے بعد مارچ 1971 میں آرمی ایکشن ہوا اور شیخ مجیب الرحمن کو گھر سے گرفتار کرلیاگیا۔ دراصل اس ایکشن کا نتیجہ ہی متحدہ پاکستان کا خاتمہ تھا۔ وقت پر صورت حال کو بگڑنے سے بچا لیا ہوتاتوآرمی ایکشن کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ صدیوں پر محیط عالمی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سیاسی مسائل کبھی بھی، آرمی ایکشن یا گولی کے ذریعے حل نہیں ہوتے، انہیں سیاسی انداز سے حل کرنا پڑتا ہے کیونکہ سیاست اور جبر یا گولی ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
چند منٹوں کے بعد میں گھر میں داخل  ہوا سیڑھیاں چڑھ کر اوپر والی منزل کی جانب جارہا تھا اور مجھے یہ دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا تھا کہ گھر کو سرسبز وشاداب پتوں نے گھیر رکھا ہے۔ بلکہ گھر پر سرسبز پتوں کا سائبان سا بنا ہوا ہے۔ اوپر والی منزل اور سیڑھیوں میں شیخ مجیب الرحمن اور ان کے خاندان کی تصاویر آویزاں تھیں۔ گھر میں سادہ فرنیچر شیخ مجیب الرحمن کی سادگی کی عکاسی کررہاتھا۔ سیاحوں کی ریل پیل تھی جو گیلری میں میز پر پڑے ہوئے پمفلٹ اُٹھا کر پڑھ رہے تھے اور ادھراَُدھر ٹہل رہے تھے۔ گویا گھر میں اُسی طرح رونق، آمد ورفت اور چہل پہل تھی جس طرح مرحوم شیخ مجیب صاحب کی زندگی میں ہوتی تھی۔ فرق صرف یہ تھا کہ شیخ صاحب کی زندگی میں اس گھر میں سیاسی کارکن اور لیڈر حضرات آتے تھے جبکہ آج کل یہ گھر سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے اور شام کے سائے ڈھلتے ہی گھر کسی قبرستان کی مانند ویران ہو جاتا ہے۔ میں اوپروالی منزل کی گیلری میں کھڑا سوچ رہا تھا کہ کبھی اس گھر میں سیاسی حکمتِ عملی بنتی تھی، گرما گرم مباحث اور مذاکرے ہوتے تھے۔ بنگلہ دیش کے قیام کے لئے سوچ بچار ہوتی تھی اور حکمتِ عملی بنتی تھی۔ آج یہ گھرمحض ایک میوزیم بن کر رہ گیا ہے۔ زمانہ اسی طرح رنگ بدلتا ہے، وقت اسی طرح کروٹیں لیتاہے۔ کشتیاں ڈوب جاتی ہیں اور مسافر پانی میں بہہ جاتے ہیں۔ لیکن وقت کادھار اسی طرح بہتا رہتا ہے۔ سوچنے والوں کے لئے ان تمام تبدیلیوں اور ان تمام انقلابات میں غور وفکر کا بے پناہ سامان پوشیدہ ہے۔ اسی لئے قرآنِ حکیم غور وفکر اور تدبر پر بے حد زور دیتا ہے۔
میں اپنے خیالات میں گم کھڑا تھا کہ ایک نوجوان میرے پاس آیا جو بظاہر میوزیم  کا ایک ملازم لگتا تھا۔ '' آپ پاکستان سے آئے ہیں'' میںنے جواب دیا''جی ہاں'' '' میں آپ کی کوئی خدمت کرسکتا ہوں'' ''شکریہ، میں بانگے بندھو کا گھر دیکھ رہا ہوں۔ اور بہت کچھ سوچ رہا ہوں۔'' '' یہ آپ کے سامنے جو سیڑھیاں ہیں انہیں بے پناہ  تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ انہی سیڑھیوں سے اُترتے ہوئے شیخ مجیب الرحمن کو گولی ماری گئی، قاتل گھر کے اندر نیچے والی منزل میں نشانہ باندھے کھڑے تھے،انہی سیڑھیوںپر شیخ مجیب صاحب کے اہلِ خانہ یعنی خاندان کے ممبران کو گولی سے ہلاک کیا گیا اور پھر انہی سیڑھیوں پر تقریباً ایک دن شیخ مجیب اور اُن کے اہلِ خانہ کی لاشیں بے کفن پڑی رہیں۔'' میں ان سیڑھیوں کو غورسے دیکھ رہا تھا اور شیخ مجیب مرحوم کی تصویر میرے لاشعور سے نکل کر ذہن پر پھیلتی جارہی تھی۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اس گھر کے سارے مقیم شیخ صاحب کے ساتھ ہلاک ہوگئے۔ جس میں ان کے بیٹے اور بیٹیاں بھی شامل تھیں۔ بنگلہ دیش کی موجودہ وزیراعظم محترمہ حسینہ واجد شیخ مجیب الرحمن کی صاحبزادی ہیں جو1971 میں بیرون ملک تھی اور بچ گئیں۔'' یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ میں 1999 میں ڈھاکہ گیا تھا اور اس وقت وہاں عوامی لیگ کا راج تھا۔
سیڑھیاں قدرے گول تھیں۔ میںنیچے اُتر رہا تھا تو اس نے ایک سیڑھی کی جانب اشارہ کرکے بتایا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں شیخ مجیب الرحمن ہلاک ہوئے۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور نیچے آگیا۔ بار بار اس کا ایک فقرہ میرے کانوں سے ٹکرا رہا تھا کہ شیخ مجیب صاحب کے اہلِ خانہ اور بیٹے یعنی میل ممبرز اُن کے ساتھ ہی ہلاک ہوگئے۔ اس کے ساتھ ہی میرے ذہن میں عجیب و غریب قسم کے سوالات، وسوسے اور اندیشے جنم لینے لگے اور مجھے یوں لگا جیسے میرا ذہن مختلف قسم کے خیالات کی آماجگاہ بن گیا ہے۔ مختصر سے دالان میں رکھی ہوئی ایک کرسی پر بیٹھ کر میںسوچنے لگا کہ پاکستان توڑنے میں جو کردار ملوث تھے اُن میں اندراگاندھی کا کیا انجام ہوا۔ وہ ایک پاور فل وزیراعظم تھی اور آئرن لیڈی کہلاتی تھی اور بالآخر وہ اپنے ہی محافظوں کی گولی کا نشانہ بنی۔ اندرا گاندھی کے دوبیٹے تھے۔ سنجے گاندھی جہاز کے حادثے میں مرگیا جبکہ راجیوگاندھی وزارتِ عظمیٰ کے مزے لوٹنے کے بعد بم دھماکے میں چل بسا۔ اس کے ساتھ ہی اندرا گاندھی کے خاندان کے تمام میل ممبران نوجوانی میں ہماری آنکھوں کے سامنے موت کے منہ میں چلے گئے۔ ہمارے مقبول عوامی وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو ایک قتل کے الزام میں پھانسی چڑھادیئے گئے۔ کسی بھی قانون کے تحت انہیں یہ سزا نہیں دی جاسکتی تھی۔ چنانچہ اب ہمارے ہاں اُن کے لئے عدالتی قتل کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ ان کے خوبصورت بیٹے تھے۔ شاہنواز بھٹو فرانس میں غیرفطری موت مرا جبکہ دوسرا مرتضیٰ بھٹو اپنی بہن کی وزارتِ عظمیٰ کے دورمیں کراچی میں سڑک پر گولیوں کا نشانہ بنا۔ ان تمام واقعات میں غور وفکر کا بے پناہ سامان موجود ہے اور یہ تمام واقعات ایک دوسرے سے یوں پیوست لگتے ہیں جیسے ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہوں۔ یعنی ان تمام حادثات میں اس وقت غیر فطری موت نے ڈاکہ ڈالا۔ جب یہ کردار اپنے اپنے اقتدار کے عروج پر تھے اور پھر ان کے جانشینوں یعنی بیٹوں کا غیر فطری انجام، سبھی پہلو سوچ کی دعوت دیتے ہیں اور غور پر مجبور کرتے ہیں۔ دوسری طرف اس وقت کا حکمران یحییٰ خان اگرچہ فطری موت مرا لیکن زندگی کے آخری سانس تک قیدی رہا اور ذلت و رسوائی اس کا مقدر ٹھہری۔ سوچ کی اس لہر میں بہتے بہتے ایک سوال۔ فقط ایک سوال۔۔ میرے ذہن کے نہاں خانوں میں اُبھر کر میرے حواس پر چھا گیا کہ کیا یہ سب کچھ محض اتفاق تھا یا قدرت کا انتقام ؟ اگر اتفاق تھاتو صرف ایک ملک یا خاندان تک محدود کیوں نہ رہا، دو ملکوں تک محدود کیوں نہ رہا، ایک نسل تک محدود کیوں نہ رہا؟ تاریخ عالم ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ جب روس اور مشرقی یورپ کی مانند ملکوں کے اتحاد ٹوٹتے رہے، ملک بکھر کر کئی حصوں میں تقسیم ہوتے رہے اور اس ٹوٹنے کے عمل میں جو کردار ملوث تھے وہ انہیں ملکوں میں نارمل زندگی گزارتے رہے اور اب بھی گزار رہے ہیں۔ ان میں نہ کوئی غیر فطری موت مرا نہ اُن کی آئندہ نسلوںکا یہ انجام ہوا۔۔ تو پھر سب کچھ یہاں پر ہی کیوں ہوا؟ صرف پاکستان توڑنے والوں کا ہی یہ انجام کیوں ہوا؟ کیا یہ محض اتفاق تھا یا۔۔۔۔ !! پاکستان کے خلاف منصوبے بنانے والو اِسے غور سے پڑھو اور عبرت حاصل کرو۔ یہ اتفاق نہیں، قدرت کا انتقام تھا !!


مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔ 
[email protected]
 

یہ تحریر 82مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP