متفرقات

کیا قربانیاں صرف فوج ہی کو دینی ہیں؟

کیا اپنی جان قربان کردینا اتنا آسان ہوتا ہے؟ کیا یہ پتہ ہونے کے بعد بھی کہ یہ راستہ آپ سے آپ کی سب سے قیمتی چیز آپ کی زندگی چھین لے گا اس راستے پر چلنا اتنا ہی آسان ہے جو ہمارے فوجی جوان اس راہ پر چل نکلتے ہیں؟ ہم جیسوں کے لئے تو نہیں کیونکہ ہم اس وطن کی مٹی سے آج تک وہ محبت کرہی نہیں پائے، اصل محبت تو اس دھرتی سے وہ سپاہی، قوم کے غیور بیٹے کرتے ہیں جو اپنی ماں کی محبت، بہن کی شرارتیں او رلاڈ پیار اور باپ کی شفقت سب کچھ بھلا کر اس عزم سے نکلتے ہیں کہ چاہے جان ہی کیوں نہ دینی پڑے، ہم دیں گے لیکن دشمن کی بری نظر تو کیا اس کو سوچنے بھی نہیں دیں گے کہ وہ اس ملک کو میلی آنکھ سے دیکھے۔ کیا یہ صرف ہماری فوج ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کی حفاظت کرے۔ دن رات جان ہتھیلی پر رکھ کر صرف اس دھرتی کی ایک پکار پر لبیک کہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دے اور آخر میں پھر اپنی جان بھی اس ملک پر وار دے؟ اور پھر بدلے میں لوگ اسی فوج کو تنقید کا نشانہ بنائیں۔ تو کیا اس سے بہتر یہ نہیںہے کہ وہ ہم جیسے بے حس لوگوں کا ساتھ چھوڑ دیں اور آرام سے اپنے گھروں میں بے لوث محبتوں کے ساتھ زندگی گزاریں؟



لیکن نہیں وہ ہم جیسے بے حِس تو نہیں، ہماری طرح اپنا ضمیر بیچنے والے تو نہیں، وہ تو قوم کے وہ سپوت ہیں جن کو دھرتی ایک دفعہ پکارتی ہے اور وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر آجاتے ہیں اور اپنی زندگیوں کے نذرانے دیتے چلے جاتے ہیں۔ تمہیں کیا لگتا ہے ان مائوں کے لئے یہ آسان ہوتا ہوگا کہ اپنے جگر گوشوں کو بھول جائیں؟ ان بہنوں کے لئے آسان ہوتا ہوگا کہ اپنے ان بھائیوں کو بھول جائیں جنہوں نے ان کے ناز اٹھائے؟ اس باپ پر کیا گزرتی ہوگی جس کا جوان بیٹا شہید ہوگیا۔ لیکن ان والدین اور ان بہنوں کا عزم تو دیکھیں وہ اس شہادت پر فخر محسوس کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے مزید بیٹے ہوتے تو ہم ان کو بھی قربان کردیتے۔ تو کیا یہ فوج کا ہی فرض ہے کہ وہ قربانیاں دیتی رہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں۔۔۔؟ نہیں بالکل نہیں! اگر تمہیں ذرا سی بھی اس ملک، اس دھرتی سے محبت ہے تو خدا کے لئے کچھ کرو۔ ایک ساتھ مل بیٹھو اور اپنے اختلافات کو بھول جائو۔ پتہ نہیں کیوں تم لوگ حالات کی نزاکت کو نہیں سمجھتے، کیا تم لوگوں کے ضمیر زندہ نہیں ہیں؟ کیا تم لوگوں کے دل مردہ ہوگئے ہیں جن میں کوئی احساس باقی ہی نہیں رہا ،جن کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی؟ خدا را ابھی بھی سنبھل جائو اور ان بزدلوں کو اپنے ملک سے مار بھگائو جو آئے دن معصوم لوگوں کو ناحق ماررہے ہیں۔ فوج اکیلے کیا کیا کرے،کس کس طرف سے ملک کا دفاع کرے؟ مجھے یقین ہے کہ اگر ایک دفعہ ہم میں اتفاق ہوگیا، ہم مل بیٹھے، ہماری نسلوں میں اتفاق ہوگیا تو ہم یہ جہاں کیا باقی جہاں بھی فتح کرلیں گے اور دوسری بات کسی دوسرے ملک اپنی ڈگریاں لے جانے کے بجائے اس ملک کے لئے کچھ کرو، اگر نہیں تو بڑھاپے میں بھی اس ملک میں واپس آنے کی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان کو تمہاری بوڑھی ہڈیوں کی نہیں بلکہ تمہارے جوان خون کی ضرورت ہے۔۔ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو ہمارا ملک ترقی کی ان منازل پر جا پہنچے گا کہ ہمیں دوسرے ملکوں میں جا کر ان کی غلامی نہیں کرنی پڑے گی اور اگر ہم اب بھی نہ سنبھلے تو وہ دن دور نہیں جب دوسری قوتیں ہمارا نام تک مٹادیں گی اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنے لئے کیا کرتے ہیں۔ کس راستے کا انتخاب کرتے ہیں؟ کسی بلند مقام پر پہنچنے کا یا پھر بیٹھ کر خود اپنی تباہی کا انتظار کرنے کا…۔


 

یہ تحریر 147مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP