متفرقات

کہانی آواران کے ایک پرائمری سکول کی

یہ جون 2020 کی بات ہے کہ جب آواران کے گاؤں انعامی بنٹ کے ایک پرائمری سکول کے استاد اور شاگرد کا مکالمہ سوشل میڈیا پر عام ہوا کہ جس میں چوتھی جماعت کا طالب علم ظہیر احمد پریشانی کے عالم میں اپنے استاد محمد جان سے استفسار کر رہا تھا کہ آخر کب ہمارے جھونپڑی نما سکول کی جگہ ایک پکے سکول کی عمارت کی تعمیر ہو گی اور ہم اچھے ماحول میں پڑھائی کر سکیں گے۔ ناامیدی میں ڈوبے شاگرد نے استاد سے کہا کہ سر اب ہمیں پاک فوج کو کہنا چاہئے کہ ہمارے سکول کا بند وبست کر دے۔ بے بس استاد بچوں کی معصومانہ گفتگو سنتا رہا اور بالآخر اس نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ ان کی آواز پاک فوج اور حکومتی اداروں تک ضرور پہنچائے گا۔



دراصل گورنمنٹ پرائمری سکول انعامی بنٹ کا ماجرا کچھ یوں ہے کہ اس کی عمارت ایک برساتی نالے کے قریب واقع تھی اور 2007 کے سیلاب میں بہہ گئی۔ جب ایک عرصے تک حکومت نے سکول کی تعمیر نو نہ کی تو علاقے کے مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک بڑی جھونپڑی بنائی تاکہ بچوں کی تعلیم بہر طور جاری رہ سکے۔ محمد جان بھی بڑی جانفشانی اور تندہی کے ساتھ گزشتہ آٹھ سالوں سے 80 سے زائد بچوں کو اسی جھونپڑی میں تعلیم دیتا آ رہا ہے۔ اس کا خستہ حال سکول بلوچستان کے طول و عرض میں واقع سیکڑوں سکولوں میں سے ایک تھا کہ جو حکومتی توجہ سے محروم چلے آ رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی عوامی سطح پر تعلیم کی اہمیت کا ادراک اور احساس بہر حال امید کی ایک کرن ہے۔
ہوا یوں کہ جون 2020 میں فیس بک پر چلنے والی استاد اور بچوں کے مکالمے کی ویڈیو آئی جی ایف سی بلوچستان سائوتھ تک پہنچی، جس پر انہوں نے فی الفور کمانڈنٹ آواران ملیشیا کو مطلوبہ سکول کی تعمیر کی ہدایت کی۔
نئے سکول کے لئے زمین کے بندوبست کے بعد اس کی تعمیر جولائی کے آغاز میں شروع ہوئی اور تین کمروں، بمع ضروری فرنیچر، واش رومز اور پلے گرائونڈ پر مشتمل اس نئے سکول کا افتتاح 30 ستمبر 2020 کو کر دیا گیا۔ اس موقع پر علاقے کے عوام بھی بڑی تعداد میں نیا سکول دیکھنے آئے کہ جس کی چابیاں آواران کے باہمت اور پر عزم استاد محمد جان کے حوالے کر دی گئیں۔
 ماسٹر محمد جان اب اچھے، ہوادار اور روشن کلاس رومز میں بچوں کو بخوبی پڑھاتا ہے اور طالب علم ظہیر احمد بھی اپنے باقی ساتھیوں سمیت مزے سے  سکول میں پڑھتا ہے اور فراغت میں اس میں لگے جھولوں سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے۔
گورنمنٹ پرائمری سکول انعامی بنٹ کی طرح کے کتنے ہی سکولز ہیں کہ جن کی کئی سالوں سے پاک فوج اور ایف سی بلوچستان حتی الامکان مدد کرتی آ رہی ہے۔ صرف ایف سی بلوچستان ساؤتھ ہی، کہ جس کا قیام 2017 میں ہوا، اس وقت بلوچستان کے جنوب مغربی علاقوں میں 13 ایف سی پبلک سکولز چلا رہی ہے جن میں چار ہزار سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں۔ ان کے علاوہ 8 مختلف سکولوں کی ذمہ داری بھی ایف سی بلوچستان ساؤتھ نے اٹھا رکھی ہے جن میں چودہ سو سے زائد بچے بالکل مفت پڑھ رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ایف سی بلوچستان خاران میں ایک سپیشل چلڈرن سکول بھی چلا رہی ہے جہاں پچاس معذور بچے زیر تعلیم ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مزید کئی دیہات میں واقع سکولوں کی بہتری کے لئے بھی وہاں پر تعینات ایف سی ونگز ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت بلوچستان دیگر مختلف شعبوں کے ساتھ ساتھ تعلیم کے میدان میں اپنے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے صوبے کی نسل نو کے روشن مستقبل کی راہ ہموار کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔ کیونکہ بہر حال فوج اور ایف سی اپنے تئیں ایک حد تک ہی تعلیم و صحت اور دیگر شعبوں میں سول انتظامیہ کی معاونت کر سکتی ہے۔



 ننھے ظہیر احمد کی طرح ملک کے ہر بچے کا بنیادی حق ہے کہ اسے معیاری تعلیم و تربیت کے مواقع ملیں تاکہ وہ آگے چل کر اپنے خوابوں کے جہان کو  پا سکے۔
ایک صورت ہے کہ بچ جائے یہ دنیا احمد
خواب ہر آنکھ کو، پھر خواب کو تعبیر ملے ||

یہ تحریر 103مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP