متفرقات

کمراٹ۔کوہِ ہندوکش کا جھومر

دراز قد پائن کی گوریاں اپنے سروں پر حیادار چھتریاں سجائے ہلکورے کھاتے پنجگوڑہ کے بہتے پانیوں کے کنارے سیاحوں کو خوش آمدید کہتی ہیں۔صنوبر اور دیودار اپنے مہکتے بدن سے کوہستان کے جنگلات میں گہری سبز خوشبو بکھیرتے جاتے ہیں۔چہار سمت بڑھتے اور پھیلتے پربتوں پر برفیلا نوری پرندہ اپنے سفید پروں کو لامتناہی انداز میں کھولتا ہے اور قادر سائیں ہمارے سروں پر جمالیات کا ہُما بٹھاتا ہے۔کمراٹ کے ہچکولے کھاتے پتھریلے راستوں پرسفر کرتے کرتے ہمارے جِسم تھک چکے تھے۔مگر کمراٹ کے پہلے ہی لمس کو چکھنے کے بعد ہم پر جیسے تازگی اور جوش کا چھڑکائو کر دیا گیا ہو۔ بہار کی تتلیوں کے رنگ ہماری آنکھوں کے پردے میں سما گئے تھے۔کمراٹ میں آسودگی اور خوبصورتی کی علامتوں کا وسیع نظام موجود ہے۔ایک ایسی متنوع وادی جو قدم قدم پر اپنے اشجار کے بدلتے لباس اور سطحِ زمین کے راحت آمیز گھاس کے شیڈز کو دلکش بناتی جاتی ہے۔سنتری اور کہیں نارنگی عکس نمایاں ہیں۔چراگاہوں کی سبز گھاس تو ساہیوال کی گائیوں کے سپنوں کی حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ ایسی مزیدار گھاس چرنے کے بعد خوب دودھ دینا چاہیں گی۔آنکھوں کے کیمرے زوم اِن کرتے ہی تھل گائوں کی کئی رنگدار ندیاں ہمارے جسموں کے پانیوں میں اُترنے لگی تھیںاور ہم تھکے ہوئے وجود کو پوّتر فضائوں میں تروتازہ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر فلاحِ انسانیت کے لیے اتارے گئے تھے تو کیا یہ فطرت کی جمالیات بھی کوئی پیغمبرانہ فریضہ سر انجام دے سکتی ہے جو مخصوص انسانوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے ؟میں نے  اپنے دل میں رب سے سوال پوچھا۔
 اسلام آباد سے تقریباً 384 کلومیٹر کے فاصلے پر صوبہ خیبر پختونخوا  کے ضلع دیر بالا کی وادی کمراٹ کو یہاں کے مقامی افراد پاکستان کا سوئٹزرلینڈ کہتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم راؤشی ڈَب پہنچے۔ مقامی افراد اسے ایسا میدان کہتے ہیں جو کبھی پھولوں سے بھرا ہوا تھا لیکن اب یہاں آلو کاشت ہوتا ہے۔اَپر دِیر سے چار گھنٹے کی مسافت پر کمراٹ ویلی ہمیں قلعہ موج گڑھ کے ریتلے ٹِیلوں سے اُٹھا کر اپنے پاس بُلاتی ہے۔ دریائے پنجگوڑہ کے ساتھ ساتھ سڑک شرینگل سے ہوتی ہوئی وادی کمراٹ تک جاتی ہے۔ پاتراک مقام تک سڑک بہت اچھی ہے۔ اس کے بعد تھل تک بھی سڑک ہے جو کچھ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
فطرت سرکش و بے باک روحوں کو لذتِ دیدار سے نوازتی ہے۔مجھ جیسے بے ہنر کو دو ہنرمند احباب کی رفاقت میسر تھی۔کاوش ہراج جو کفِ زیست میں بھانت بھانت کی بولیاں سجائے ہمارے دِلوں کو تسخیر کرتا رہتا تھا۔وہ ایک انوکھے زاویے سے چیزوں کو دیکھنے کا عادی ہے اور ثمینہ تبسم جو فطرت کی حضوری کی معراج حاصل کرنے کو عجز ومُراد کا بُت بنی خاموش موجِ نسیم کے سنگ اُڑتی چلی جاتی۔شورشِ مال و زر میں محتاجِ نوائے فطرت ہونا بھی کتنا دلچسپ ہے۔
دِیر بالا کی یہ وادی سطح سمندر سے تقریبا 5890 فٹ بلند کوہِ ہندوکش کے دامن میں آباد ہے۔کمراٹ نام سنتے ہی مردانہ وجاہت کا احساس ہوتا ہے۔مگر یہ وادی نرم و نازک احساسِ جمال رکھتی ہے۔منحنی سی یہ وادی اپنے اندر رس بھری آبشاریں اور زندگی سے بھری ندیاں سموئے ہوئے ہے۔تھل جو کمراٹ کے وسط میں آباد ایک گاوں ہے اس میں داخل ہوتے ہی چار صدی قدیم مسجد دارالاسلام ہمیں اپنی محبت میں گرفتار کرتی ہے۔اس پر تاریخی طور پر تو 1953 کی ایک تختی لگی ہوئی ہے۔مگر اِس کے پُر ہیبت ستون اور رنگ دار لکڑی کی دیواریں صدیوں کی داستانیں سناتی ہیں۔اس کے شہتیر اتنے بڑے ہیں کہ باآسانی ایک پُل بنایا جا سکتا ہے۔اس مسجد کے نقش و نگار اور تزئین و آرائش سے کوہستانی باشندوں کی زیبائی کی توصیف کرنے کو دل کرتا ہے۔بہتے دریا کے تیز رو پانی کی جھنکار اور سفید برف پوش پربتوں کے درمیان یہ شہکار دیدہ زیب بھی ہے اور دل پذیر بھی۔
جامع مسجد دارالسلام  دیر کوہستان کے سب سے آخری گائوں تھل میں واقع ہے۔اس مسجد کے دو حصے ہیں، بالائی منزل جستی چادروں سے 1999ء میں تعمیر کی گئی ہے جب کہ زیریں حصہ 1865ء میں تعمیر کیاگیا تھا۔اس ویلی میں کوتگل اور لال گاہ آبشاروں کے بھکشو بھی گیان کے چھینٹے اُڑاتے ہیں۔ان کا سرد برفیلا پانی پائوں کو آتشِ عشق میں چھلانگ لگانے کی دعوت دیتا ہے۔کالے چشمے کے سیاہ پتھروں سے پھوٹتا سفید پانی دودھ جیسا لگتا ہے۔سُنا ہے جنات اس چشمے پر آدھی شب کو گپ شپ کرتے ہیںاور ان کے قہقہوں سے یہ وادی گونجتی ہے۔دوجنگاہ میں بہتے پانیوں کا جھرمٹ بھی ہے اور آخر میں جہاز بانڈہ کا میدان بھی ہے۔اِس مسجد کے ساتھ ہی لکڑی سے بنائی گئی نہروں میں پانیوں کی لمبی قطاریں بہتی چلی جاتی ہیں۔شگفتگی کے نظارے باہم جلوہ گر ہوتے ہیں۔



وادی کمراٹ کے معروف سیاحتی مقامات میں سراج آبشار، کالا چشمہ ،کٹورہ جھیل ہیں۔ وہاں تک ٹریکنگ اور ہائیکنگ کے ذریعہ جایا جا سکتا ہے۔ یہاں تک جانے کے لیے تھل سے بذریعہ جیپ ٹکی بانڈہ جایاجا سکتا ہے۔ٹکی بانڈہ سے تقریباً چار گھنٹے کی ہائیک کے بعد جہاز بانڈہ پہنچا جا تا ہے۔جہاز بانڈہ کے دامن میں ایک خوبصورت آبشار بھی واقع ہے۔
لکڑی کے بنے پُل کے اُس پار پتھروں کے پیچ و خم سے پرے اس وادی کی تابناکی کا نیا دریچہ کُھلتا ہے۔درختوں کی شاخوں پر سپید موتی جھولتے ہیں۔برف باری ہوتی ہے۔اور ان پیڑوں پر بوندوں کی گونج ہمارے کانوں میں اوکتاویو پاز کی نظموں کی صورت سنائی دیتی ہے۔اس وادی سے چشمہء آبِ حیات نکلتا ہے۔بقا کے سلسلے کٹورہ جھیل سے جا ملتے ہیںاور جہاز بانڈہ کے سفید درشن کرنے کے بعد تو سُدھ بدھ ہی نہیں رہتی۔ اتنی غضب ناکی شاید ہی کسی حسین چیز میں ہو جتنی کمراٹ کے وجود کی ہے۔اس وادی پر بہشتِ دوام کی عملی صورت گری کا گمان ہوتاہے۔نظامِ ہست و بود میں نغمہِ شوخ و شنگ اسی آغوش سے پھوٹتا ہے۔شفاف پانیوں کے تار رباب کے سازوں پر بجتے ہیں۔نغمہِ نکہت و رعنائی چھیڑا جاتا ہے اور انسانی دلوں کے مندر سے سیاہ ناگ نکل جاتے ہیں۔ایک وحشت کا فسوں طاری ہوتا ہے جو آگ اور نور کے فرق کو مٹا دیتا ہے۔



پیدل چلتے ہم تینوں نے الگ الگ پگڈنڈیوں پر چہل قدمی کی ٹھان لی۔فطرت کی چلمن سرکتی ہے تو گداز رُتوں سے مخملیں فضا مہک مہک جاتی ہے۔میں برف کے فرشے سے لپٹ لپٹ جاتا تھا اور اِن وسعتوں میں کہیں کھو جانا چاہتا تھا۔کیف کی یہ لذت فراہم کرنا تو کسی انسان کے لیے ممکن ہی نہیں۔ہم تینوں نے اس سُندرتا کی پِینگ پر جی بھر کے جھولے لیے اور واپس آن پہنچے۔
ہمارے میزبان کاوش ہراج کی آنکھوں میں نورانی چمک جاگ اُٹھتی ہے۔وہ قدیم روایتوں کا پاسبان ہے۔وہ سرگوشیوں میں بھی مہمان نوازی کے آداب سے واقف ہے۔وہ ہمارے ایک ایک لمحے کو یادگار بنا دینا چاہتا ہے۔اس نے جنگلات کے بیچوں بیچ آگ جلانے اور لذیذ کھانے کا بندوبست کیا ہے۔اس نے محبت کا ایسا جنگل ہمارے دِلوں میں بویا کہ تاعمر جس کی گھنی چھائوں میں اسے یاد رکھا جائے گا۔



جل پریوں کے قافلے پرجوش اور شوخ پانیوں سے نکل کر کنارے پر آ جاتے ہیں۔غائب ہوتی عدم سے عظیم تخلیق کار کی شبیہ اُبھرتی ہے اور ہم اس حُسنِ فروزاں کی سرابی الجھنوں سے نکل کر نعرہِ مستانہ بلند کرتے ہیں۔ ہمارے سیمابی بدن سے عنابی دریچوں اور گلابی ماحول کی تازگی سے ایک شرابی لمحہ نمودار ہوتا ہے۔جس کی تاثیر سے ہم بادلوں کو پکڑ سکتے تھے،پانیوں سے گفتگو کر سکتے تھے اورگم گشتہ انسانی تاریخ جان سکتے تھے۔
ہمارے بند جسموں کے تابوت سے " الست بربکم " کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ہم بیک آواز کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم نے تجھے پہچان لیا۔ہم تیری ہر نعمت کو جھٹلاتے ہیں مگر آج تجھے پہچان لیا۔ ''من عرف نفسہ فقد عرف ربہ'' جس نے خود کو پہچانا یقینا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ ||


مضموں نگار، شاعر، سفرانچہ نگاراور دو کتابوں کے مصنف ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 74مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP