قومی و بین الاقوامی ایشوز

کشمیر ۔مؤثر حکمتِ عملی کی ضرورت

 بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی بلی 5اگست کو تھیلے سے باہرآچکی ہے اور اس کے بعدسے مقبوضہ کشمیرمیں مسلسل کرفیو اورریاست کودنیاکی تاریخ میں سب سے بڑی جیل بناکرمودی سرکارنے جوکرناتھاکرلیامگرجب اس کاردعمل آیاتواپنے کئے کوسنبھالنے کے لئے اب اس کی دوڑیں لگی ہوئی ہیں۔پاکستان نے توجس طرح اس معاملے کواٹھایاوہ ہمارافرض تھامگرجس طرح دنیامیں مودی پرتنقیدہورہی ہے وہ اس سے پہلے سنی گئی نہ دیکھی گئی اوریقینا سب سے پہلے مقبوضہ کشمیرکے عوام کی اوراس کے بعدپاکستان کی کامیابی بھی ہے مگرصحیح معنوں میں دیکھاجائے تو یہ ایک اخلاقی فتح ہے ۔بھارت نے پاکستان کو جس طرح کھلی اورپوشیدہ دونوں قسم کی جنگوں میں الجھانے کی سازش کی تھی پاکستان نے دونوں محاذوں پر مودی اور اس کی ٹیم کے چھکے چھڑادیئے ہیں پاکستان میں بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کوبھارت کے ساتھ جنگ کااعلان کر دینا چاہئے۔ بعض لوگ تویہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کوبھارت پرحملہ کردیناچاہئے۔ ہمیں ان لوگوں کی نیت پرکوئی شک نہیں مگریہ ان کی سادگی ہے جوایسی باتیں کرتے ہیں کیونکہ اصل میں توپاکستان حملہ کئے بغیراوربراہِ راست لڑے بغیربھی یہ جنگ جیت سکتاہے ۔
5اگست کوجب مودی نے مقبوضہ کشمیرکاخصوصی درجہ ختم کرنے کی کوشش کی اوربھارتی آئین سے 370اور35Aکی دفعات نکال دیں تویہ پاکستان کے لئے یقینا بہت بڑاچیلنج تھا۔یہ ایک طرح سے 1947کے بعدکشمیرپربھارت کا دوسراحملہ تھا۔کشمیرجوپاکستان کی شہ رگ ہے۔پاکستان کی شہ رگ پراس حملے کے بعدپاکستان کے پاس دوراستے تھے۔1۔اپنی شہ رگ پرہاتھ ڈالنے والے پرفوری حملہ کردیتا۔2۔فوری ردعمل کے بجائے سازش سمجھ کر اورصلاح مشورے کے بعدبھارت کی سازش اسی پرالٹ دیتا۔پاکستان جوگزشتہ کئی ماہ سے تحمل اوربرداشت کی پالیسی پرگامزن تھا۔ اب بھلا بھارت کے اشتعال دلانے پرکیسے اس کامقصدپوراکردیتا۔پاکستان کوجنگ میں الجھاناہی بھارت کااصل مقصد ہے ۔پاکستان اس وقت نہ صرف خطے بلکہ دنیامیں آگے بڑھ رہاہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بارسول ملٹری قیادت میں مثالی ہم آہنگی پائی جارہی ہے۔ اس کے ثمرات سمیٹنے کے وقت ہم جنگ میں کودپڑیں گے توہم جیت کربھی ہارجائیں گے۔جب جنگ ہوتی ہے توپھرباقی سب کام دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اوریہی بھارت چاہتاہے کہ پاکستان کو جنگ میں الجھادواوراپنے جیسابنادوکہ جہاں آدھی سے زیادہ آبادی کوچھت تودورکی بات مناسب  ٹائلٹ تک میسرنہیں ۔
جنگی جنون بھارت جیسے ملکوں کامحبوب مشغلہ ہوتاہے کیونکہ وہ اپنے عوام کی بنیادی ضرور یات پوری کرنے سے قاصرہوتے ہیں اس لئے عوام کادھیان بٹانے کے لئے جنگی جذبات کوبڑھاوادیتے ہیں تاکہ ان کی کارکردگی کی طرف کوئی انگلی نہ اٹھے اورلوگوں کادھیان جنگ کی طرف لگارہے ۔مودی سرکارنے اس کے لئے چاررخی پالیسی اختیارکر رکھی ہے ۔1 ۔ملک کے اندرمسلح جتھوں کی تیاری2 ۔کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی3 ۔پراکسی یعنی پاکستان کے اندردہشتگردی کروانا(مثال کلبھوشن یادیو)4 ۔کولڈسٹارٹ ڈاکٹرائن اس کے علاوہ پاکستان کے اندراپنے ہمدردوں کواستعمال کرکے پاکستان کے اداروں کے متعلق غلط فہمیاں اورابہام پیدا کرنا اور پھیلانا۔ میڈیا کے ذریعے پراپیگنڈہ پر مبنی بے بنیاد الزام تراشی کرکے پاکستان کوبدنام کرنا اور جواب الجواب میں الجھائے رکھناوغیرہ شامل ہیں۔چونکہ مودی نے پچھلے دورمیں بھی اور فروری 2019 میں دوسری بارکامیابی کے بعدبھی یہی وتیرہ اپنائے رکھا اس لئے پاکستان کے ادارے بھی اس کی'واردات' بخوبی بھانپ چکے ہیں اوردوسری طرف بھارت کے اندر بھی اپوزیشن جماعتیں اوردیگرسمجھ دارلوگ بھی جان چکے ہیں کہ مودی سرکارکے کیاارادے ہیں ۔اس لئے پاکستان نے اپنی دفاعی حکمت عملی انہی خطوط پراستوارکرلی جبکہ بھارت کے اندرسے مودی کی پالیسیوں کی مخالفت بھی شروع ہوگئی۔مودی کی بہت سے لوگوں کو سمجھ آگئی مگرمودی کوسمجھ نہ آئی اوردوبارہ انتخابات کے ساتھ اس نے مزیدپرپرزے نکالنے شروع کردیئے۔
فروری ہی میں پلوامہ کا واقعہ ہواجوبھارتی فوجیوں کی طرف سے کشمیری مسلمانوں کے ساتھ روارکھے گئے سلوک کاردعمل تھا۔پلوامہ میںبھارتی کانوائے  پرتباہ کن حملہ کرنے والامقامی نوجوان تھاجس کی بھارتی فوجیوں نے تذلیل کی تھی اس نوجوان کے والدین کے ساتھ بھی توہین آمیزبرتائوکیاتھاجس کااس نے یہ بدلہلیا۔مودی نے اس میں پاکستان کاہاتھ ہونے کاالزام لگایاجو جھوٹاثابت ہوا تو کھسیانی بلی کھمبانوچے کے مصداق سرجیکل سٹرائیک کے دعوے کرنے لگا۔ان دعوئوںکے غبارے سے بھی پاکستان نے26فروری کوہوانکال دی۔''ایک پائلٹ ادھر(مقبوضہ کشمیر)میں واپس جاگرا اور دوسرا ادھر (آزادکشمیر) میں آگرا ور دھر لیا گیا۔ بھارت کے سرجیکل سٹرائیک کے دعوئوں کا بھانڈہ بیچ چوراہے پھوٹ چکا تھا۔ اس کے بعد کے واقعات تاریخ ہیں۔
ایسے دشمن کے ساتھ نمٹنے کے لئے صرف بہادری کافی نہیں ہوتی۔ تھوڑی بہت چالاکی، ہوشیاری اور خبرداری بھی درکار ہوتی ہے۔ دشمن سے نمٹا جا سکتا ہے مگر کمینے اور جھوٹے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہتھیار کے علاوہ حکمت عملی اور دانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان نے حکمت کا ہتھیار استعمال کیا اور مکار دشمن کا مکر اسی پر الٹ دیا۔ سب سے پہلے قومی اتحاد پیدا کیا۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قرارداد پاس ہوئی۔ مقبوضہ کشمیر کا درجہ ختم کرنے کو یکطرفہ اور ناقابل قبول اقدام قرار دے کر اسے پوری قوم سے منظور کروایا۔ مقبوضہ کشمیر کے بہنوں بھائیوں کی ہمت افزائی کی۔ عسکری قیادت نے یہ کہتے ہوئے ان کو حوصلہ دیا کہ ہم موجود ہیں اور آخری حد تک جائیں گے۔ حکومت نے اہم حکومتوں کو مسئلے کی فوری اہمیت سے آگاہ کیا۔ سلامتی کونسل کا اجلاس ان کوششوں کا نکتہ عروج تھا جس نے پاکستان کے مؤقف پر مہر تصدیق ثبت کر دی اور بھارت کو پوری دنیا میں تنہا کر کے رکھ دیا۔ 
پھر دنیا نے دیکھا کہ بھارت کی اپنی  پارلیمنٹ کے اندر مودی کے فیصلے کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی گئیں۔ بھارت جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اسے بھارتی آئین نے جوڑ کر رکھا ہوا ہے اس کے متعلق اپوزیشن نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کر کے بھارتی آئین تبدیل نہیں کیا بلکہ اسے قتل کر دیا ہے۔ گویا بھارت کے اتحاد کی بنیاد ہلا کر رکھ دی ہے۔ یقیناً ایسا ہی تھا۔ مقبوضہ کشمیر کے بھارت نواز فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی بولے اور ان کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ بھارتی آئین قتل ہو چکا تھا اسی لئے شمال مشرق میں ناگالینڈ کی ریاست نے آزادی کا اعلان کر دیا اور اسی لئے بھارتی پنجاب میں بھی ایک بار پھر خالصتان کی تحریک نے سر اٹھا لیا جسے بھارت نے ہزاروں سکھ نوجوانوں کو قتل کر کے دبا دیا تھا اور جہاں کئی دیہاتوں سے بیس بیس سال تک کوئی بارات نہیں نکلی تھی۔ بھارت یہی واردات مقبوضہ کشمیر میں کرنے جا رہا ہے اور اب تک دس ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کر کے وادی سے باہر بھارت کے اندر جیلوں میں منتقل کر چکا ہے جن میں زیادہ تعداد نوجوانوں اور کم عمر لڑکوں کی ہے۔ 
 کشمیری نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ برہان وانی کی شہادت کے بعد سے جاری ہے اور بھارت نے 5 اگست سے پہلے کے مہینوں میں باقاعدہ لسٹیں بنا رکھی تھیں۔ برہان وانی کے نوجوان خون نے تحریک آزادی میں نیا خون شامل کر کے اس میں نیا ولولہ بھر دیا تھا جس کو مودی سرکار نے خطرے کی گھنٹی تصور کرتے ہوئے نوجوانوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ مودی سرکار کے اپنے ذرائع سے کہا جاتا ہے کہ تقریباً 500 سرگرم (بقول ان کے) دہشتگردوں میں سے تقریباً اڑھائی سو ٹھکانے لگا دئیے گئے ہیں اور اڑھائی سو باقی ہیں۔ یہ کہتے ہوئے مودی سرکاری یہ بھول جاتی ہے کہ پھر دنیا یہ بھی پوچھے گی کہ صرف 250 نوجوانوں کے لئے 9 لاکھ فوج مقبوضہ وادی میں بھیج رکھی ہے؟ نہیں اصل میں یہ کشمیریوں کی پوری نسل ختم کرنے کی بھیانک سازش ہے۔ ہریانہ کے جاہل وزیراعلیٰ کا اپنے لوگوں کو کشمیر میں شادیاں کرانے کا بھونڈا بیان اسی سوچ کا عکاس ہے۔ اس پر ہریانہ ہی کے ایک نوجوان دانشور کی تقریر سوشل میڈیا کی بدولت سننے کو ملی جس میں وہ اس بے وقوف وزیراعلیٰ کی یہ کہتے ہوئے کلاس لے رہا ہے کہ ہریانہ میں بچیوں کو پیٹ میں مار دینے کی شرح بھارت میں سب سے زیادہ ہے۔ یعنی اپنے ہاں بچیاں پیدا نہیں ہونے دیتے اور شادیوں کے لئے لڑکیاں کشمیر سے لائو گے۔
مودی نے  جو آگ کشمیریوں کے لئے لگائی ہے اس میں بہت جلد وہ خود بھسم ہونے والا ہے۔ اس ظالم مودی سے جنگ ہوگی، ضرور ہوگی مگر بارڈر پر گولہ بارود سے جنگ اس ظالم کو مضبوط کر دے گی۔ اس سے جنگ ہوگی مگر وہ پہلے بھارت کے اندر ہوگی اور وہ صرف مقبوضہ کشمیر والے نہیں لڑیں گے وہ خالصتان والے لڑیں گے، آسام والے لڑیں گے، ، ناگالینڈ، تریپورہ، میزورام والے لڑیں گے،کانگریس اور دیگر اپوزیشن والے لڑیں گے، بھارتی مسلمان لڑیں گے ، امن پسند اور انسان دوست ہندو لڑیں گے، بھارت کی سول سوسائٹی لڑے گی کیونکہ اگر وہ نہ لڑے تو بھارت اکٹھا نہیں رہ سکے گا۔ بھارت مودی جیسے انتہا پسند کی قیادت میں تو کبھی اکٹھا نہیں رہا۔ بھارت کو پہلی بار مسلمانوں نے اکٹھا کیا اور پھر 800 سال تک مسلمانوں کی قیادت میں ہی اکٹھا رہا۔ ہندوئوں کوزمامِ اقتدار سنبھالے ابھی 72 سال ہوئے اور انہوںاس نے یہ حال کر دیا۔ مودی کی حرکتیں اس کی اپنی موت کو آوازیں دے رہی ہیں۔ بھارت کے اتحاد کو قتل کرنے والی ہیں۔ پاکستان کو صرف حکمت عملی سے چلنے کی ضرورت ہے۔ مودی جیسا مست ہاتھی اپنی مستی میں آپ مارا جائے گا۔


مضمون نگار اسلام آباد میں ایک اردو  اخبار  اور ایک انگلش میگزین کے ایڈیٹر ہیں ' اس کے علاوہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن پر ان کے تبصرے بھی نشر ہوتے رہتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 81مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP