تنازعہ کشمیر

کشمیر کے لئے  بلوچستان کی محبت

اس سال یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر میں2016 کی حسین یادوں میں اس طرح کھوگیاکہ جب میں ایف سی بلوچستان میں78 ونگ لورالائی سکائوٹس کمانڈ کررہا تھا جو کہ مینحتر میں واقع تھا۔ سرد موسم میں ایک خوبصورت دوپہر کو میں بلوچ قبائل کے علاقے بہلول میں پوسٹوں پر تعینات اپنے ٹروپس سے ملنے گیا تو راستے میں ، میں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ ہمارے بلوچستان کے بچے، بوڑھے اور جوان مجھے جموں و کشمیر کے ہندوستان کے تسلط سے آزادی کے لئے مارچ کرتے اور نعرے لگاتے دکھائی دیئے۔ انہوں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے۔ انتہائی غربت، پسماندگی، ناخواندگی اور صحت و تعلیم جیسے مسائل میں گھِرے ہوئے اس علاقے کے لوگوں کو کشمیر سے اس قدر دلچسپی میرے لئے حیران کن تھی۔ میں بھی اُن بلوچ بھائیوں کے ساتھ آزادیٔ کشمیر کے لئے اس اجتماع میں شامل ہوگیا۔ میں نے اُن سے بات چیت کی اور اُن کے خیالات جاننے کے بعد میں اُن کے جذبۂ حب الوطنی سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ اسی ملاقات میں اُن لوگوں سے یہ طے پایا کہ اس بار ہم سب مل کریومِ یکجہتی کشمیر منائیں گے۔ اس سلسلے میں راقم اور چند وہ لوگ قبائل کے سرداروں مینحتر سے حاجی امان اﷲ حمزہ زئی، ملک ہزار خان حمزہ زئی اور سردار کریم حمزہ زئی زڑتھانہ سے ملک غازی خان، ملک وہاب ماڑہ تنگی سے ملک مجان، کہرڈ سے ملک عصمت، سری ڈھاکہ سے ملک اجو، تحصیل مرغہ کبزئی، بلوچ بیلٹ سے سرداررضا خان موسیٰ خیل ، سردار بابر ، موسیٰ خیل موجودہ ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی سے ملے جنہوں نے اس یکجہتیٔ کشمیر ریلی کے لئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ہم ضلع موسیٰ خیل کے ڈپٹی کمشنر نبیل آغا جو کہ انتہائی عمدہ اور نفیس شخصیت کے مالک ہیں، سے بھی ملے جنہوں نے ہر ممکن مدد اور تعاون کیا۔ تحصیل کنگری سے سردار یعقوب کی اجتماعی محبتوں سے یومِ کشمیر  شایانِ شان  طریقے سے منایا۔ 



میں نے اس بارے میں قریبی ایف سی ہیڈکوارٹر سے بھی رابطہ کیا تو اُن کے تعاون سے یومِ یکجہتی کشمیرکے موقع پر ہم نے ایک موٹرسائیکل اور کار ریلی کے انعقاد کا فیصلہ کیا اور کشمیر سے متعلق کچھ بینرز اور پاکستان کے جھنڈے تقسیم کئے۔
5 فروری کو صبح نو بجے باقاعدہ ریلی کاآغاز ہوا جس کی قیادت میں نے خود کی۔ ریلی کا آغاز N-70 پر مینحتر شہر سے ہوا جو کہ چیچلو، سری ڈھاکہ، ڈب اور کنگری کے علاقوں سے ہوتی ہوئی واپس مینحتر میں اختتام پذیر ہوئی۔ اس ریلی میں دور دراز کے علاقوں سے لوگوں نے انتہائی جوش و جذبے سے شرکت کی جو کہ ہماری توقعات کے برعکس تھا اور میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب بلوچستان کے عوام کی پاکستان کے لئے محبت تو روزِ روشن کی طرح عیاں تھی اور ہرقسم کے شک و شبہ سے بالاتر تھی لیکن کشمیر کے بارے میں اس علاقے کے لوگوں جن میں بلوچ اور پشتون بیلٹ دونوں اطراف کے لوگ شامل تھے، اُنہوں نے جس محبت، جذبے اور ولولے کا اظہارریلی کے اختتام پر اپنی تقریروں میں کیا وہ جذبہ دیدنی تھا۔ اس ریلی کی سب سے خوبصورت اور حوصلہ افزا بات یہ تھی کہ ایک نوجوان جو کہ پولیو کی وجہ سے اپنی ٹانگوں سے معذور تھا، اُس نے بھی ریلی میں شرکت کی اور مقبوضہ کشمیر سے اپنی بھرپور محبت کا والہانہ اظہار کیا۔
ریلی کے اختتام پر شرکاء کو بتایا کہ آج کشمیرکے لوگوں کا حوصلہ اور بھی بلند ہوگا جب اُنہیں یہ معلوم ہوگا کہ صوبہ بلوچستان کے عوام بھی اُن کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کررہے ہیں اور بلوچستان کی فضائیں بھی '' کشمیربنے گا پاکستان'' کی صدائوں سے گونج رہی ہیں۔ 

یہ تحریر 30مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP