قومی و بین الاقوامی ایشوز

کشمیر کا مقدمہ ۔۔۔سیاسی اور سفارتی ڈپلومیسی کا محاذ

 دنیا میں اب جنگوں کا میدان جنگی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ سفارتی اور ڈپلومیسی کے فرنٹ میں ممکن ہوگا ۔ جو بھی ممالک اپنے آپ کو ڈپلومیسی کے محاذ پر مؤثر اور مضبوط بنائیں گے وہی ممالک اپنے لئے عالمی برادری کے سفارتی میدان میں جگہ بناسکیں گے کیونکہ اب طاقت یا ہتھیار کو بنیاد بنا کر جنگ جیتنا ممکن نہیں اور نہ ہی عالمی برادری میں اس عمل پر کوئی بڑی پذیرائی یا قبولیت مل سکے گی ۔ اب دنیا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ مسائل جنگ سے نہیں بلکہ سیاست ، جمہوریت ، آئین اور مکالمہ کے بیانیہ کے ساتھ لڑی جائے گی ۔ پاکستان تواتر کے ساتھ اسی فکر کو بنیاد بنا کر اپنا مقدمہ عالمی برادری میں پیش کررہا ہے کہ ہم مسائل کو جنگ سے نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر حل کرنا چاہتے ہیں لیکن کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ اس سوچ اور فکر کو داخلی او رخارجی محاذ پر ایک مؤثر کنجی کے طور پر استعمال کیا جائے ۔
پاکستان کی حالیہ صورتحال میں پاک بھارت تعلقات او ربالخصوص مقبوضہ کشمیر کا حالیہ بحران ایک سنگین نوعیت اختیار کرچکا ہے ۔ بہت سے سیاسی پنڈت بحران کے تناظر میں جنگ کی پیش گوئی بھی کررہے ہیں ۔ حالانکہ مسئلے کا حل جنگ سے زیادہ سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پر اپنے کارڈ کو درست حکمت عملی کے تحت کھیلنے میں ہے او ریہی حکمت عملی پاکستان کی ہونی چاہئے ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر پر کئے جانے والے حالیہ فیصلے کے نتیجے میں پاکستان پر سیاسی او رسفارتی محاذ پر ڈپلومیسی کا دبائو بڑھ گیا ہے، کیونکہ مسئلہ محض کشمیر تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ پاک بھارت تعلقات سمیت جنوبی ایشیا یا اس خطے کی سیاست سے جڑے مسائل سنگین صورتحال اختیار کرگئے ہیں ۔ایسی صورتحال میں پاکستان اپنے اوپر دباؤ کو کم کرنے اور مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر کشمیریوں کے ساتھ مکمل سیاسی او رسفارتی یکجہتی کرنے اور بھارت کو دو ٹوک جواب دینے کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کرے ؟ یہ وہ بنیادی نوعیت کا سوال ہے جو اہل دانش کی سطح پر زیر بحث آنا چاہئے کہ پاکستان ایسی کیا حکمت عملی اختیار کرے جو اس مسئلے کی سنگینی کو کم کرسکے ۔اسی طرح یہ نکتہ بھی زیر بحث ہونا چاہئے کہ ہمارے پاس ایسے کون سے کارڈز ہیں جو ہم اپنی مؤثر حکمت عملی کے لئے ڈپلومیسی کے محاذ پر کھیل سکتے ہیں ۔
عمومی طو رپر بھار ت کا بنیادی نکتہ ہی یہ تھا کہ کشمیر کے تنازعے میں پاکستان اور بھارت براہ راست فریق ہیں او راس پر کسی تیسرے فریق کو کسی بھی قسم کی مداخلت کا حق نہیں ۔ لیکن بھارت نے آرٹیکل 370اور 35-A ختم کرکے خود ہی تیسری قوت سمیت عالمی ممالک او راداروں کی مداخلت یا ثالثی کے کردار کا موقع پیدا کیا ہے ۔اس وقت پاکستان کے پاس اچھا موقع ہے کہ وہ عالمی برادری کو کشمیر او رحالیہ فیصلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات پر جھنجوڑ سکے کیونکہ اس وقت بحران کے دو پہلو ہیں ۔اول بندوق اورطاقت کے مقابلے میں ہم سیاسی طور پر کشمیر کے ایک ایسے پرامن حل کی طرف پیش رفت کریں جو فریقین کے لئے قابل قبول ہو۔دوئم مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی بدترین پامالی کو روکنا ہوگا جو عالمی برادری کا بڑا مینڈیٹ بھی ہے ۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت کے حالیہ فیصلے سے ہمیں کوئی سیاسی تنہائی ملی ہے وہ غلطی پر ہیں ۔ اس وقت عالمی برادری میں بھارت کا مقبوضہ کشمیر کے تنازعے میں ہونے والا فیصلہ عالمی برادری سے جڑے ممالک اورسیاسی ، قانونی اورانسانی حقوق سے جڑے اداروں میں دباؤ عملی طور پر بھارت پر بڑھا ہے ۔سلامتی کونسل کا کئی دہائیوں کے بعد کشمیر پر اجلاس بلانا او رچین کے ہماری حمایت کرنے کے عمل نے ڈپلومیسی کا ایک نیادروازہ کھولا ہے او راس سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہئے ۔اسی طرح اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری سمیت ایمنسٹی انٹرنیشل،انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس اور ہیومین رائٹس واچ سے جڑے ادارے بھارتی اقدام پر سخت تنقید کررہے ہیں ۔دوسری جانب دنیا کی سول سوسائٹی سے جڑے ادارے امریکہ ، برطانیہ، نیوزی لینڈ، کینیڈا، برسلز سمیت کئی ممالک میں لوگ بھارتی اقدام اور بالخصوص انسانی حقوق کی پامالی پر سراپا احتجاج ہیں ۔خود بھارت سے بھی مودی سرکار کی مخالفت میں آوازیں اٹھ رہی ہیں او ران کے بقول مودی سرکار کا اقدام بھارت کے آئین کی خلاف ورزی ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پچھلے چند برس میں کشمیریوں کی مزاحمت نے اس مسئلے (کشمیر) کو عالمی مسئلے کے طور پر دنیا کی توجہ کا مرکز بنادیا ہے ۔
یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اگر اس موقع پر عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ نے مسئلہ کشمیر کے حل میں کوئی بڑا مؤثر کردار ادا نہ کیا تو اس مسئلے کی شدت کے نتائج بہت خوفناک ہوسکتے ہیں ۔ عالمی برادری کی کوشش یہی ہونی چاہئے کہ کشمیریوں کی حالیہ سیاسی جدوجہدکو کسی بھی طو ر پر مسلح جدوجہد کی شکل میں نہ دھکیلا جائے ۔ یہ عالمی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ اس کا حالیہ اقدام عالمی برادری میں ایک بڑی تشویش کے طو رپر دیکھا جارہا ہے ۔لیکن یہ کام محض زبانی باتوں سے نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کے لئے اقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتیں بھارت کو ایک بڑی ویک اپ کال دیں یعنی موجودہ بھارتی پالیسی کسی بھی صورت میں قبول نہیں ۔کیونکہ اگر پاکستان او ربھارت کے درمیان کشمیر کے تناظر میں حالات بگڑتے ہیں یا جنگ کا ماحول پیدا ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی عالمی برادری کے کمزور کردار سے جڑی ہوگی ۔بہت سے سیاست سے جڑے پنڈتوں کے بقول اس حالیہ کشیدگی سے افغان امن بھی متاثر ہوسکتا ہے ۔
پاکستان نے بھارت کے حالیہ اقدام پر جو بھی سفارتی فیصلے کئے ہیں جن میں مختلف نوعیت کی پابندیاں بھی شامل ہیں یقینی طور پر یہ کڑوی گولیاں ہیں اور یہ فیصلے ہم نے خوشی سے نہیں کئے ، بلکہ بھارت نے اپنے جارحانہ عزائم سے ہمیں ان فیصلوں کی طرف دھکیلا ہے ۔کیونکہ پاکستان عملاً اس وقت امن کی خواہش رکھتا ہے او رتسلسل کے ساتھ بھارت کو حالات کی بہتری کا عملی پیغام بھی دے رہا ہے مگر بھارت نے دو طرفہ سطح پر مذاکرات کے تمام تر دروازوں کو بند کر رکھا ہے اور وہ کوئی بھی سیاسی فیصلہ کرنے کے لئے تیار نہیں جو دونوں ملکوں میں بداعتمادی کی فضا کو اعتماد سازی میں تبدیل کرسکے ۔بھارت کے حالیہ یک طرفہ اقدامات نے دونوں ملکو ں کے درمیان پہلے سے جاری ماحول کو اور زیادہ خراب کردیا ہے جو اس خطے کی سیاست کے لئے بڑا خطرہ ہے ۔
 حالیہ بھارتی اقدام پراس وقت ہمیں کشمیریوں کی حمایت میں چین ، امریکہ ، برطانیہ، ترکی ، سعودی عرب، ملائیشیا ، اقوام متحدہ ، انٹرینشل جیورسٹ کونسل سمیت بہت حوصلہ افزا جواب ملا ہے ۔ امریکہ ، چین اور ترکی ہمارے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ۔ یقینی طور پر خود بھارت کے لئے بھی یہ بڑا دھچکا ہے کہ عالمی برادری کشمیر کے حالیہ فیصلے پر کیونکر سرگرم ہوئی ہے اوراسے محض بھارت کا داخلی مسئلہ سمجھنے کے لئے تیار نہیں۔کشمیر پر برطانوی پارلیمنٹ کے 45ارکان کا یو این سیکرٹری جنرل کو خط بھی ہماری بڑی سفارتی کامیابی ہے او رچین نے جو عملی مظاہرہ کیا اسے ہم اپنے ڈپلومیسی کے فرنٹ پر بہتر طور پر استعمال کرسکتے ہیں ۔ اسی طرح امریکی صدر کا ثالثی کے کردار کی بحث کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے اس بحث کو اور زیادہ شدت دینی ہوگی تاکہ یہ بحث مقبول ہو او ربھارت پر ایک بڑا دباؤپیدا کرسکے ۔یہ جو عرب دنیا اور دیگر ممالک سے ہمیں وہ مدد نہیں ملی جو ہمیں درکار ہے اس پر مایوسی یا سخت ردعمل دینے کے بجائے ہمیں ایک نئی حکمت عملی کے تحت ان ممالک کو اپنی طرف مائل کرنا ہوگا۔ خاص طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر ان کو اپنے قریب لایا جاسکتاہے۔
پاکستان کو اپنے ڈپلومیسی کے محاذ پر چھ اہم فیصلے کرنے ہوںگے ۔ اول، دنیا بھر میں ڈپلومیسی فرنٹ پر ایک سرگرم او رفعال کردار جس میں جذباتیت کم اور شواہد کی بنیاد پر مواد زیادہ ہو اور عالمی برادری کو یہ باو ر کروانا ہوگا کہ ان کی خاموشی مجرمانہ غفلت ہوگی ۔ دوئم، بھارت پر دباؤ بڑھانے کے لئے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بنیاد بنا کر مؤثر حکمت عملی کو ترتیب دینا۔ کیونکہ عالمی برادری مانتی ہے کہ بھارت کا مقدمہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے تناظر میں بڑا خوفناک ہے ۔ سوئم،  ہمیں سفارت کاری کے محاذ پر موجودہ اور سابق سفارت کاروں ، موجودہ اور سابق ارکان اسمبلی ، پارلیمنٹ ، کشمیر کمیٹی ، اہل دانش، میڈیا سے جڑے افراد اور سول سوسائٹی کو اس حالیہ محاذ پر مؤثر طور پر استعما ل کرنا ہوگا۔چہارم ،ہمیں سیاسی اور سفارتی سطح پر کشمیریوں میں اس احساس کو برقرار رکھنا ہے کہ ہم بدستور کشمیروں کی حمایت میں کھڑے ہیں او ران کو قائل کرنا ہوگا کہ وہ اپنی جنگ اور مزاحمت کو سیاسی او رپرامن جدوجہد تک ہی محدود رکھیں۔ کیونکہ یہی وہ نکتہ ہے جو اِن کے لئے عالمی حمایت پیدا کرسکتا ہے ۔پنجم،  ہمیں میڈیا اور سوشل میڈیا کے فرنٹ پر میڈیا ڈپلومیسی کو مضبوط بنانا ہوگا او رجو متبادل آوزیں بھارت سے آرہی ہیں ان کو بنیاد بنا کر عالمی میڈیا میں اپنا سفارتی مقدمہ لڑنا ہوگا ۔ششم، ہمیں اپنے داخلی مسائل کی سنگینی کو کم کرکے اس میں استحکام پیدا کرناہے او رایک ایسا اتفاق رائے سفارتی محاذپر قائم کرناہے جو ہمیں عالمی برادری میں یکجا کرسکے ۔ 
ہمیں بھارت کے سامنے اس مقدمے کا بنیادی نکتہ رکھنا ہوگا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر ایک بڑا گرم مسئلہ ہے اس کو نظرانداز کرکے یا حل کئے بغیر ہم دونوں ملکوں کے تعلقات بھی بہتر نہیں بناسکیں گے لیکن بھارت اور پاکستان کے سامنے ایک بڑا فریق کشمیر بھی ہے او رجو بھی فیصلہ ہو وہ کشمیریوں کی مشاورت اور قبولیت کی بنیاد پر ہونا چاہئے ، کیونکہ یہ جدوجہد ان کی ہے اور فیصلہ بھی وہی ہونا چاہئے جو وہ چاہتے ہیں اور دونوں ملکوں کو ایسے فیصلوں سے گریز کرنا ہوگا جو کسی پر مسلط کئے جائیں ۔ اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان پہلے ہی اپنا مؤقف پیش کرچکا ہے کہ اصل فیصلہ کشمیریوں کا ہوگا اور وہی بنیادی فریق ہیں۔ہمیں اپنی حکمت عملی میں کشمیری قیادت سے رسمی یا غیر رسمی تعاون کے امکانات کو آگے بڑھانا ہوگا اور ان کی مرضی او رمنشا کو اپنی حکمت عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔
ہمیں ڈپلومیسی کے محاذ پر کشمیر کے تناظر میں نئے تھنک ٹینک قائم کرنے ہوںگے اور میڈیا کو اس معاملے میں زیادہ سرگرم او رفعال بنانا ہوگا تاکہ وہ زیادہ مؤثر او رذمہ دارانہ انداز میں اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں پر جواب دے سکے او راس جواب میں غصہ کم او ردلیل یا شواہد کے پہلو زیادہ مضبوط نظر آنے چاہئیں ۔ اسی طرح اب جو بھارت سمیت دنیا بھر سے بھارت کے طرز عمل پر مختلف آوازیں اٹھ رہی ہیں ان کو بنیاد بنا کرانہیں اپنی سفارت کاری میں ہمیں اپنی حکمت عملی کا حصہ بنانا چاہئے ۔ جو بیان امریکہ کے سابق وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر نے دیا کہ اب اگر دونوں ممالک یعنی بھارت او رپاکستان کے درمیان کشمیر کے تناظر میں حالات بگڑیں گے تو اس کی براہ راست ذمہ داری بھار ت پر ہوگی۔ ایسی کئی آوازیں ہماری حمایت میں اٹھ رہی ہیںجن سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری خارجہ پالیسی میں کشمیر بنیادی مسئلہ ہے او راس کو جب تک ہم سیاسی ، سماجی اور قانونی بنیادوں پر مستحکم نہیں کریں گے مسئلہ حل نہیں ہوگا، ہمیں ا س نکتے پر بھی زور دینا ہے کہ اگر بھارت فوری طو رپر پاکستان کی جانب سے مثبت اقدام کی طرف بڑھنا چاہتا ہے توو ہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی بند کرے اوروہاں جو پابندیاں ہیں اسے فوری طو رپر ختم کرے۔بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ محض قانون سازی کرنے سے جاری سیاسی تحریکیں ختم نہیں ہوتیں بلکہ ان میں اور زیادہ شدت یا ردعمل پیدا ہوتا ہے جو تحریک کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مستحکم کرتا ہے ۔
مصنف پاکستان کے ممتاز تجزیہ کار او رمصنف کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں اور کئی اہم ملکی تھنک ٹینکس کے رکن بھی ہیں ۔ جمہوریت ، گورننس ، دہشت گردی اور علاقائی تعلقات پر ان کی گہری نظر ہے۔


[email protected]


 

یہ تحریر 97مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP