قومی و بین الاقوامی ایشوز

کشمیر میں جاری تشدد کی داستان 

رواں سال کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر دو رپورٹیں سامنے آئی ہیں۔ 560صفحات پر مشتمل پہلی رپورٹ جموں کشمیر میں لاپتہ افراد کے والدین کی ایسوسی ایشن اور کولیشن آف سول سوسائٹی کے باہمی اشتراک سے بنائی گئی ہے۔ اس رپورٹ کا ٹائیٹل ہے  Torture: Indian State's Instrument of Control in Indian Administered Jammu and Kashmir."  دوسری رپوٹ  43صفحات پر مشتمل ہے جسے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم نے مرتب کیا ہے۔ دونوں رپورٹوں میں کشمیر یوں کو تحفظ فراہم کرنے والے اداروں کی طرف سے کئے جانے والے تشدد کا ذکر ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں پاکستان کو بھی گلگت بلتستان میں کشمیریوں کے حوالے سے سوال اٹھایا گیا ہے۔تاہم اس کی تردید میں پاکستان نے منصوبہ بندی کے ساتھ کئے جانے والے مظالم اور انسانی حقوق کی عد م فراہمی میں فرق کو واضح کیا ہے ۔ بہر حال پاکستان نے رپورٹ کا پوری طرح خیر مقدم کیا ہے جبکہ انڈیا نے اسے ایک من گھڑت سازش قراریتے ہوئے مسترد کر دیا ۔



دونوں رپورٹوں میں احتجاج کنٹرول کرنے کے لئے انڈین سکیورٹی فورسز کا پیلٹ گن کا مسلسل استعمال ،ماضی میں انسانی حقوق کو پامال کئے جانے والے واقعات کو مکمل طور پر فراموش کرنا، خاص طور پر جبری طور پر لاپتہ افراد کے معاملے کوانڈین فورسز کی طرف سے جنسی تشدد،سرچ آپریشن کے دوران تشدد کا استعمال اور اس کے نتیجے میں عام شہریوں کی اموات کا واقع ہونا،احتساب کے راستے میں حائل جموں کشمیر سپیشل پاور ایکٹ،پبلک سیفٹی ایکٹ میں ترمیم کی درخواست جس کے تحت کسی بھی شخص کا بغیر کسی چارج کے دو سال تک ٹرائل کیا جاسکتا ہے،پبلک سیفٹی ایکٹ کے سیکشن 10 کے بعد کشمیریوں پر مقدمے کشمیر سے باہر بھی چلائے جارہے ہیں۔ جس کی وجہ سے نہ صر ف ملزمان بلکہ ان کے خاندان والوں اور وکلاء کو بھی تکلیف کا سامنا ہے،جیل میں مسلمانوں پر سخت تشدد کیا جاتا ہے اورقیدیوں کو زبردستی گندگی ، پاخانہ ، لال مرچ کھانے ، پیٹرول، پیشاب اور گندہ پانی پینے پر مجبور کئے جانے جیسے مشترکہ احوال شامل ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے حوالے سے انڈیا کا اعتراض ہے کہ اس میں کراس بارڈر دہشت گردی کا ذکر نہیں کیا گیا ۔9 ستمبر کے واقعے کے بعد سے انڈیا کو دہشتگردی کی ایک ایسی ڈھال مل گئی ہے جس کے پیچھے اس نے بڑی آسانی سے کشمیر میں کئے جانے والے انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات کو چھپا دیا ہے۔  کشمیریوں کو ہر طرح کے تشدد سے گزار ا جاتا ہے تاکہ وہ انڈیا سے آزادی کا مطالبہ چھوڑ دیں۔ لیکن انڈیا اس تمام واقعے کو دہشت گردی کے کھاتے میں ڈال کر سارا ملبہ پاکستان پر  ڈال دیتا ہے۔ 
امریکہ کا حامی ہونے کی وجہ سے انڈیا کے لئے یہ بات انتہائی آسان ہے کہ وہ کشمیر میں جاری جدو جہدِ آزادی کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑ کر اپنا دامن جھاڑ لے۔ اسرائیل کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے انڈیا نے بھی قانونی چارہ جوئی کے ذریعے فلسطین کی طرح کشمیر کو انڈیا میں ضم کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔  جس کے لئے بھارتی آئین کے آرٹیکل 35 A کو بدل کر ہندوئو ں کو کشمیر میں جائیداد کی خریدو فروخت کی اجازت دے کر کشمیر میں ان کی آبادکاری کو فروغ دیا جارہا ہے۔ انڈیا جانتا ہے کہ اسرائیل کے اس ماڈل کو دنیا کا کوئی بھی ملک مسترد نہیں کرے گا۔ 
اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کی گئی سپیشل رپورٹ کے لکھاری جوین مینڈیز کے مطابق یہ رپورٹ اقوام عالم کی توجہ حاصل کرنے میںضرور  کامیاب ہو گی۔ 
 اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چیف نے اقوام متحدہ کو کمیشن آف انکوائری بنانے کا مشورہ دیا ہے تاکہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی پر تحقیقات ہو سکیں۔ کمیشن آف انکوائری صر ف سنگین قسم کے واقعات کی تحقیقات کے لئے عمل میں لایا جاتا ہے۔  
کشمیر میں تشدد کو ایک بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔  اس کی ایک جھلک ان اعدادوشمار میں نظر آتی ہے۔ٹارچر رپورٹ کے مطابق 432 افراد جن پر تحقیق کی گی ہے اُن میں سے 24 خواتین ہیں جن میں سے 12 کو پولیس نے جبری جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔  44 لوگ ایسے ہیں جو کسی نہ کسی طرح کے ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ شہریوں کے قتل کی وارداتوں میں شبانہ روزاضافہ ہو رہا ہے۔ صر ف گزشتہ سال586  لوگوں کا قتل کیا گیا جن میں 160 عام شہری تھے۔ ڈاکٹر ودآؤٹ بارڈر کی تحقیق کے مطابق 2015 میں تقربیاً 19 فیصد آبادی ذ  ہنی دباؤ کا شکار تھی ۔ 
اقوام متحدہ کی انسداد برائے تشدد کنونشن کے دستخط کنندہ ہونے کے باوجود انڈیا نے اسے ابھی تک تسلیم نہیں کیا ۔  انڈیا نے  2010میں ٹارچر سے بچاؤ کا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا لیکن 2014  میں بالآخر اسے ڈراپ کر دیا گیا۔  
کشمیر میں تشدد صرف علیحدگی پسند ی پر ہی نہیں کیا جاتا بلکہ اس کا نشانہ ہر اس شخص کو بنایا جاتا ہے جو یا تو آزادی کو سپورٹ کرتا ہو یا اس کے لئے آواز بلند کرے۔  جیسے کہ صحافی ۔صحافیوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سو ںکو جیل میں صرف اس لئے ڈال دیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے صحافتی دور کے کسی حصے میں کبھی یا تو عسکریت پسند افراد کی پشت پناہی کی ہو یا ان کی آواز کو لوگوں تک پہنچایا ہو۔ تاریخ کی اس اکھاڑ پچھاڑ کی وجہ سے بہت سے صحافیوں کو نوے کی دہائی میں کئے گئے جرم کی سزا بھگتنی پڑ رہی ہے۔  جیسا کہ غلام جیلانی قادر ی کو اس لئے حراست میں لیا گیا کیونکہ انہوں نے 1993 میں 'پانی ایک کہانی' میں کسی عسکریت پسند کا انڈیا کے خلاف بیان قلمبند کیا تھا ۔
قادری کی حراست کے بعد کشمیر میں ایک انجانا خوف سرایت کر گیا ہے جس کی وجہ سے صحافی ڈرے سہمے رہتے ہیں ۔ سلطان آصف نامی صحافی کو صرف اس لئے اٹھا لیا گیا کیونکہ اس نے 2018   میں رپورٹنگ کرتے ہوئے ایک عسکریت پسند تنظیم کا ذکر کیا تھا۔  نہ صر ف یہ بلکہ اخبارات کو دباؤ میں ڈالنے کے لئے انہیں اشتہارات دینے پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے ۔ ان اخباروں میں سر فہرست کشمیرریڈرز اور گریٹر کشمیر شامل ہیں۔ ان دونوں اخبارات کا شمار کشمیر کے مشہور انگریزی اخبارات میں ہوتا ہے۔ صحافیوں کے تحفظ کے لئے بنائی گئی کمیٹی کے مطابق مودی کی حکومت کا مقصد اپنے اوپر کی جانے والی ہر قسم کی تنقید پر بند باندھنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کے اس اقدام سے حالات مزید خراب ہوں گے اور کشمیریوں میںجذبۂ آزادی کو تقویت ملے گی۔   
حق خود ارادیت کے جذبے کو دہشت گردی کا نام دینا اور آزادی کے لئے لڑنے والوں کو ناسور ثابت کر کے ان کا قتل کرنے سے مودی بین الاقوامی دنیا کو تو بیوقوف بنا سکتا ہے لیکن اپنے خطے میں انڈیا کی ساخت اور ان کی عزت کو ناقابلِ تلافی نقصان سے نہیں بچا سکتا ۔  


[email protected]
 

یہ تحریر 108مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP