تنازعہ کشمیر

کشمیر فراموشی ممکن نہیں

چند ماہ قبل وزیراعظم نواز شریف نے جب اقوامِ متحدہ کے سالانہ اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دلانے کا پرانا وعدہ یاد دلایا تومتعدد دانشوروں کی پیشانیوں پر بل پڑ گئے ۔غیر ملکی مالی اور نظریاتی سرپرستی میں سرگرم عمل غیر سرکاری تنظیموں سے وابستہ اِن دانشوروں نے عجب سوالات اُٹھائے۔کسی نے کہا کہ اعلانِ لاہور میں تو اِس کا ذکر نہ تھا تو کسی نے یاد دلایا کہ شملہ معاہدے میں پاک بھارت تنازعات کو دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ شملہ معاہدہ ہو یا اعلانِ لاہور اِن میں سے کسی ایک پر بھی گزشتہ برس ہا برس کے دوران کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تو کیا ہم اِس انتظار میں بیٹھے رہیں کہ کب اِن تنازعات پر مذاکرات کا دروازہ کھلے گا۔یہ دو طرفہ اعلانات اپنی جگہ مگر اقوامِ عالم کی انجمن اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی اپنی اہمیت ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دلانے کا وعدہ وفا کرنے کی یقین دہانی انتہائی برمحل تھی۔ وزیراعظم کی اِس جُرأتِ رندانہ کو اگربھارتی دفترِ خارجہ کے حکام کے بیانات کی روشنی میں دیکھا جائے تو اِس کی اہمیت اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔ بھارتی دفترِ خارجہ کے ایک ترجمان اکبر الدین نے حیدر آباد دکن میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت کشمیر کی جنگ جیت چکا ہے۔اب مسئلۂ کشمیر صرف پاک بھارت دو طرفہ مذاکرات کا موضوع ہے۔اب یہ اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں کبھی نہ اُٹھایا جائے گا۔‘‘ 
(The Express Tribune, August 26, 2013)


بلاشبہ اس قسم کے بیانات مسئلہ کشمیر سے متعلق بھارتی پالیسیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم نے اقوامِ متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کا مطالبہ کر کے بھارتی دفتر خارجہ کے اِس اعلان کوباطل ثابت کر دیا ہے۔ اِس پربھارتی حکومت اور اربابِ دانش کا ردعمل تو سمجھ میں آتا ہے مگر چندپاکستانی دانشوروں کا منفی ردعمل سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں تو برسوں پہلے کی ایک یاد مدد کو آ پہنچتی ہے۔ 
برلن شہر کو اشتراکی اور سرمایہ دار ، دو الگ الگ شہروں میں تقسیم کرنے کی خاطر دیوارِ برلن تعمیر کی گئی تھی۔مشرقی یورپ میں اشتراکیت کے زوال کے نتیجے میں جب دیوارِ برلن کو گِرا دیا گیا تو مشرقی برلن کی ہمبولٹ یونیورسٹی بھی مغربی برلن کے زیرِ انتظام آ گئی۔سرمایہ پرست برلن نے پہلا انتظامی قدم یہ اُٹھایا کہ تمام سینئر اساتذہ کو تعلیم و تدریس سے فارغ کر کے نئے وسیلہ ہائے روزگار بخش دیئے۔ کسی کو کسی انشورنس کمپنی میں لگا دیا گیا تو کسی کو محکمۂ صحت میں کوئی بڑا عہدہ دے دیا۔اسی حکمتِ عملی کے تحت مشرقی برلن کی ہمبولٹ یونیورسٹی میں ساؤتھ ایشین سٹڈیز کے انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ویدا مِن کو ایک این جی او قائم کرنے کا فرض سونپ دیا گیا۔میں اُن دنوں ہائیڈلبرگ اور برلن ہر دو یونیورسٹیوں میں پڑھا رہا تھا۔ چنانچہ ساؤتھ ایشیا میں دیرپا امن کے قیام کی خاطر ایک انجمن کے قیام کی خاطر بُلائے گئے پہلے اجلاس میں مجھے بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔ پروفیسر وِیدامِن نے اپنے تعارفی کلمات میں یہ کہہ کر مجھے حیرت میں مبتلا کر دیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعۂ کشمیر حل ہو جانے کے بعد بھی اُس وقت تک دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک دونوں ملکوں کے نصابِ تعلیم کو یکساں نہیں کر دیا جاتا۔ایسا نصابِ تعلیم مرتب کر دینا چاہیے جس میں بھارت اور پاکستان کے مشترک ہیروز نمایاں کئے جا سکیں۔اسے میں نے سعیِ لاحاصل قرار دیتے ہوئے کہا کہ شیوا جی مرہٹہ ہندوؤں کا ہیرو اور مسلمانوں کا وِلن ہے، جب کہ اورنگزیب مسلمانوں کا ہیرو ہے مگر ہندو اُسے اپنا وِلن سمجھتے ہیں۔ اجلاس میں حتمی فیصلہ یہ ہوا کہ تنازعۂ کشمیر کو بھول کر نصابِ تعلیم و تربیت کی یکسانیت کے لئے کوشاں رہنے ہی پر برصغیر کے امن کا انحصار ہے۔ پروفیسر وِیدامِن کے احترام کے باوجود اِس کے بعد میں نے اِس جرمن غیرسرکاری تنظیم سے کوئی سروکار نہ رکھا۔ آج جب میں پاکستان کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر اِسی منطق اور اِسی استدلال کو بار بار سُنتا ہوں تو مجھے یہ واقعہ یاد آتا ہے اور میں سوچنے لگتا ہوں کہ مشرقی یورپ سے کمیونزم کی پسپائی شروع ہوتے ہی دُنیائے اسلام کی ازسرِنوبیداری اورمسلمانوں کی حیاتِ نو کے اندیشے جاگ اُٹھے تھے۔ چنانچہ اسلام بیزاری نام نہاد روشن خیالی اور برائے نام ترقی پسندی کا جلی عنوان ٹھہری۔

 

اسلام کی انقلابی روح کوخوابیدہ رکھنے کی خاطر جو نئی سامراجی حکمتِ عملی وضع کی گئی اُس کی رُو سے دو طرح کی مُلائیت کو فروغ دیا گیا۔ اوّل مذہبی مُلائیت اور دوم سیکولر مُلائیت ۔ مذہبی مُلائیت کے سہارے دنیائے اسلام کے سلاطین و ملوک اپنا تخت و تاج بچانے کی خاطر سلطانئِ جمہور کی راہیں مسدود کرنے میں کوشاں ہیں۔ سیکولر مُلائیت کی سرپرستی کی خاطر مغربی ممالک نے ہمارے یہاں این جی اوزکے نام سے محفوظ پناہ گاہیں قائم کر رکھی ہیں جن میں بیٹھی تنگ نظر اور متعصب ’سپاہِ دانش‘ نے نام نہاد وسیع النظری کے پرچم اُٹھا رکھے ہیں۔اِن لوگوں نے انڈونیشیا کی تقسیم سے ایک نئی عیسائی ریاست کے قیام کا تو خیرمقدم کیا مگر تنازعۂ کشمیر کا ذکر آتے ہی یہ لوگ بھڑک اُٹھتے ہیں۔ بسااوقات تو بلاوجہ ، غیر متعلق بحث میں بھی تحریکِ آزادئِ کشمیر کی مذمت کا کوئی نہ کوئی پہلو ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ چند روز پیشتر ایک این جی او دانشور نے تعلیم کے فروغ کی اہمیت پر گفتگو کرتے وقت پاکستانی قوم کی مذمت کرتے ہوئے یہ کہا کہ اس قوم کے افراد کشمیر کے لیے مرنے کو تیار ہیں مگر پڑھنے لکھنے کو تیار نہیں۔ ٹی وی چینل نے اُن کے اِس قولِ زرّیں کو بار بار ، جا و بے جا سُنایا۔


مجھے تو اپنے کشمیری بھائیوں کے حقِ خود ارادیت کے لیے کٹ مرنے اور پڑھنے لکھنے میں انہماک میں کسی قسم کا کوئی تضاد نظر نہیں آتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس وقت تحریکِ آزادئ کشمیر کا سب سے بڑا رہنما ، سیّد علی گیلانی ایک سربکف مجاہدِ آزادی بھی ہے اور ایک نامور اہلِ قلم بھی۔ اِن دنوں اقبال کے فکر و عمل پر اُن کی تازہ ترین کتاب پوری اُردو دُنیا میں زیرِ بحث ہے۔ بھائی صاحب ! پڑھ لکھ کر غیرملکی مالی اور نظریاتی سرپرستی میں قائم کسی این جی او میں کرائے کا سپاہی بن جانا اور بات ہے اور تعلیم اور تفکر کے فیضان سے ایک مظلوم قوم کی آزادی کے لیے سر کٹانے پر ،ہر آن تیار رہنا اور بات ہے۔


پاکستان کے وزیراعظم نے اقوامِ متحدہ سے خطاب کے دوران کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی بڑی حد تک فراموش شدہ قرارداد کو پھر سے زندہ کر دکھایا ہے۔ اِس کے جواب میں بھارتی وزیراعظم نے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ کہہ کے گویا پاکستان اور بنگلہ دیش کو بھی بالواسطہ طور پر بھارت ہی کا اٹوٹ انگ کہہ دیا ہے۔ جاننا چاہیے کہ برصغیر اور آس پاس کے ممالک پر بھارت کی بالادستی کا خواب صرف بھارت کا خواب نہیں ہے بلکہ دُنیا کی اُن تمام قاہروجابر سامراجی قوتوں کا خواب ہے جو اِس اہتمام میں مصروف ہیں کہ کہیں اسلام کی حقیقی انقلابی روح ازسرِ نو بیدار ہو کر ’’سلطانی و مُلّائی و پیری‘‘کی گرفت سے مسلمانوں کو آزاد نہ کرا دے۔ یہاں مجھے اقبال کی نظم ’’ابلیس کی مجلسِ شوریٰ‘‘ یاد آتی ہے۔اِس نظم کے اختتامی حصے میں ابلیس اپنے فرزندوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ ہر آن مُلّائیت کے فروغ اور حقیقی اسلام کے اخفا کی تدابیر سوچتے رہیں اور اِن تدابیر کو مؤثر بنانے کے لئے نِت نئی حکمتِ عملی تشکیل دیتے رہیں تاکہ اسلام کی حقیقی روح محوِ خواب ہی رہے


توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسمِ شش جہات
ہو نہ روشن اُس خدا اندیش کی تاریک رات
خیر اسی میں ہے، قیامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر اَوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات
ہے وہی شعر و تصوف اس کے حق میں خوب تر
جو چُھپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات
ہر نفس ڈرتا ہوں اس اُمّت کی بیداری سے مَیں
ہے حقیقت جس کے دِیں کی احتسابِ کائنات
مست رکھّو ذکر و فکرِ صبُح گاہی میں اسے
پُختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے!


اس حکمتِ عملی اور یک طرفہ سوچ کو سمجھنے کے لئے چند معتبر آزاد دانشوروں کے کچھ مضامین انتہائی اہم اور مفید ہیں۔ ان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ خوشنما الفاظ کے پیچھے اکثر بدنما مفادات بھی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ فوری طور پر اِس موضوع پر محترمہ عافیہ شہربانو کا مضمون

Anti-heroes of Pakistani Liberalism،

اسفند یار قصوری کی تحریر بعنوان
The Hypocrisy of Pakistan's Self-declared Liberals 
اور یعقوب خان بنگش کاکالم 
The Pakistani Liberal
درِ دل پر دستک دینے لگے ہیں۔ بانئِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح مسلمہ طور پرایک انسان دوست، روشن خیال اور وسیع النظر سیاسی مدبر تھے۔ اُنھوں نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ اگر پاکستان کی موجودہ قیادت نے اپنی قوم کی شہ رگ کو دشمن کے پنجے سے آزاد کرنے کا مطالبہ کیا ہے تو وہ تحسین کے مستحق ہیں نہ کہ تردید کے!


پروفیسر فتح محمد ملک ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

[email protected]

یہ کالم 69 مرتبہ پڑھا ہے

اس کالم پر اپنے خیالات تحریر کریں

Success/Error Message Goes Here
برائے مہربانی اپنے اکاؤنٹ میں لاگ ان کریں اور اس مضمون پر اپنے خیالات تحریر کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road Sadar, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-1617

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP