قومی و بین الاقوامی ایشوز

کشمیر ایجنڈا ۔۔۔ بین الاقوامی ردعمل

پاکستان آزاد ہوئے 72 برس بیت گئے۔ ان بہتر سالوں میں کئی بہاریں دیکھنے کو ملیں، کئی رعنائیاں اس دھرتی کی زینت بنیں لیکن ان خوشیوں کے لمحات میں سوز کی گھڑیاں بھی کم نہیں ہیں۔ کیونکہ یہ آزادی مکمل نہیں ہوتی، جب تک ہمارے وہ کشمیری بھائی جو ہمارا حصہ ہیں، آزاد نہیںہیں۔ آج بھی جہاں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں، لاکھوں گھر شعلوں میں جَل رہے ہیں، ہزاروںسر برہنہ کئے جارہے ہیں، وہ کشمیر اس ملک کی شہ رگ ہے۔ میرا کشمیر آج بھی انتہا پسندی کا نشانہ بن رہا ہے۔ گزشتہ دنوں بھارت کی طرف سے اختیار شدہ ہٹ دھرمی سے جو قیامت صغریٰ بپا ہوئی اس کا ازالہ چاہ کے بھی ناممکن ہے لیکن اقوامِ عالم کا اس مسئلے پر مثبت رجحان اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت بدلنے کا اقدام مودی کے گلے پڑگیا ہے کیونکہ کشمیری نہ صرف حق پرہیں بلکہ مظلوم بھی ہیں۔ اُن کو صرف انتہا پسندی کا نشانہ بنایاجارہا ہے۔
بھارتی اقدامات کو بہرطور دُنیا بھر میں ناپسند کیا جارہا ہے، جس کا اظہار برٹش براڈ کاسٹ نیوز ایجنسی نے بھی کیا ہے۔



"Indian Prime Minister Narendra Modi has always fashioned himself as an advocate of federalism-someone who believes in giving the country's states more independence. But the revocation of special status to Jammu and Kashmir as the Indian state was known and the move to split it into two union territories while imposing an unprecedented lockdown there is being seen by many as a major weakening of India's federal structure."
(BBC News -Aug 18, 2019)

سوشل میڈیا اور فارن میڈیا پربھارت کی جانب سے کی جانے والی جارحیت  کی مخالفت اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ عالمی برادری مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہے اور وہاں ہونے والے مظالم کی مکمل مخالفت کرتی ہے۔

Mr. Modi is playing a dangerous game. His sunny vows of tranparency aside, the stripping of Kashmir's autonomy was done in darkness and in the most coercive way possible.

"Mr Modi's promise of "new heights" might turn out to be a dark day for Kashmir and for India's democracy. The value of any goal must be doubted if it can be achieved only by these dark, oppressive means."
(The Washington Post- Aug 16 2019)

امریکی میڈیا نے بھی بھارت میں مسلمانوں کو دبانے کی گھنائونی سازش کو بے نقاب کردیا۔ ''نیویارک ٹائمز'' کے مطابق مہاجرین کے نام پر مسلمانوں کو حراست میں لینے کی تیاریاں کی گئی ہیں۔ ہزاروں افراد کو غیرقانونی قرار دے کر حراست میں لیا جاچکا ہے جس میں بھارتی فوج کے سابق مسلمان اہلکار بھی شامل ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق مودی کے اس ہتھکنڈے سے بھارتی مسلمان خوف کا شکار ہیں۔
" More than four million people in India, mostly Muslims, are at risk of being declared foreign migrants as the government pushes a hardline Hindu nationalist agenda that has challenged the country's pluralist traditions and aims to redefine what it means to be Indian. State authorities are rapidly expanding foreigner tribunals and planning to build huge new detention camps. Hundreds of people have been arrested on suspicion of being a foreign migrant. But the government party of PM Narendra Modi is not backing down. Members of India's Muslim minority are growing more fearful by the day."               
   (The New York Times-  Aug 17, 2019)
پاکستان کی طرف سے مداخلت کے مطالبے کے بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال کے لئے ایک بند کمرے میں اجلاس طلب کیا۔1965 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اقوامِ متحدہ نے مسئلہ کشمیر پر بات چیت کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل Antonio Guterres نے اس سلسلے میں بیان جاری کیا کہ وہ ہونیوالی تمام پیشرفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اس کے علاوہ انہوںنے شملہ معاہدے پر بھی زور دیا۔ جس میں کہاگیا ہے کہ کشمیر دوطرفہ معاملہ ہے۔سیکرٹری جنرل نے تمام جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے باز رہیں جن سے کشمیر کی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔
The Secretary-General has been following the situation in Jammu and Kashmir with concern and makes an appeal for maximum restraint.
The position of the United Nations on this region is governed by the Charter of the United Nations and applicable Security Council resolutions.
The Secretary-General also recalls the 1972 Agreement on bilateral relations between India and Pakistan, also known as the Shimla Agreement, which states that the final status of Jammu and Kashmir is to be settled by peaceful means, in accordance with the Charter of the United Nations.
The Secretary-General is also concerned over reports of restrictions on the Indian-side of Kashmir, which could exacerbate the human rights situation in the region.
The Secretary-General calls on all parties to refrain from taking steps that could affect the status of Jammu and Kashmir.


 (United Nations- Aug 08,2019)
اگرچہ یہ ملاقات نیویارک میں بند دروازوں کے پیچھے ہوئی ہے، تاہم چینی سفیر جانگ جون(Zahng Jun) نے چیمبر سے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت دونوں پر کسی بھی یکطرفہ اقدام سے گریز کرنے پر زور دیا ہے۔ جس سے خطے میں مزید خرابی ہوسکتی ہے۔
Ambassador Zhang said Council members had "expressed their serious concern" concerning the current situation in Jammu and Kashmir...The Kashmir issue should be resolved properly through peaceful means, in accordance with the UN Charter, the relevant Security Council resolutions and bilateral agreements." 
(United Nations- Aug 16,2019)
 اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں روسی فیڈریشن کی طرف سے بھی مثبت طرزِ عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ 



مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے کرفیو اور پابندیوں کو کئی روز ہوگئے، لاک ڈائون اور ذرائع مواصلات کی پابندی بھی بدستور قائم ہے۔ پابندی کے خلاف کشمیریوں کا احتجاج اور اس پر ان کی شہادتیں جاری ہیں لیکن مودی حکومت نہ تو پیچھے ہٹنے کے لئے تیار ہے اور نہ ہی کسی حل کی جانب۔
اس سلسلے میں یورپین یونین کے خارجہ اُمور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہFederica Mogherini نے پاک و ہند کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی اور خطے میں بڑھتے ہوئے تنائو سے گریز کرنے پر زور دیا۔ 
The High Representative of the European Union for Foreign Affairs and Security Policy/Vice-President of the European Commission, Federica Mogherini, spoke by telephone with the Minister of External Affairs of India, Subrahmanyam Jaishankar, and the Minister for Foreign Affairs of Pakistan, Shah Mahmood Qureshi. 
 
In both calls, she underlined the importance of avoiding an escalation of tensions in Kashmir and in the region. To this end, dialogue between India and Pakistan through diplomatic channels is crucial.
"The European Union supports a bilateral political solution between India and Pakistan over Kashmir, which remains the only way to solve a long-lasting dispute that causes instability and insecurity in the region".
(European Union- Aug 08, 2019)
اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ذریعے بھی خصوصی نمائندوں اور ماہرین کا اس صورت حال کی جانچ پڑتال کے لئے تقرر کیاگیا جس میں ماہرین کے مختلف بیانات سامنے آئے۔
"The shutdown of the internet and telecommunication networks, without justification from the Government, are inconsistent with the fundamental norms of necessity and proportionality," 
"The blackout is a form of collective punishment of the people of Jammu and Kashmir, without even a pretext of a precipitating offence."
"Such detentions could constitute serious human rights violations."  
(UN experts)
(UN News- Aug 22, 2019).



حال ہی میں کشمیر کے مسئلے پر او آئی سی کا بیان پاکستان کے مؤقف کی جیت اور بھارت کی شکست ہے اور یہ بیانات سوشل میڈیا پر اس بات کو واضح کررہے ہیں کہ مسلمانوں کو مذہبی سطح پر تکلیف پہنچائی جارہی ہے اور انسانی حقوق کی پامالی اور خلاف ورزی کی جارہی ہے۔



مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال فوج کا پہرہ اور لاک ڈائون سے وادی میںجو حالات ہیں اُس کو کسی صورت بھی امن قرار نہیں دیاجاسکتا۔ بین الاقوامی سطح پر آنے والے مثبت رجحانات اِس بات کو ظاہر کرتے ہیںکہ اس طرح کی صورت حال نہ صرف پاک وہند بلکہ خطے کے امن کے لئے خطرہ ہے اور اس کا حَل صرف مذاکرات سے ممکن ہے لیکن یہ بات واضح رہے کہ اگرپھر سے کسی ناپاک ارادے کی کوشش کی گئی تو یقینا ہمارا جواب اس بار پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔


یہ تحریر 63مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP