قومی و بین الاقوامی ایشوز

کشمیری موت سے بے خوف کیوں ہوگئے؟

وزیر اعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں انڈین سکیورٹی فورسز پر خودکش حملے کے بعد اپنے پالیسی بیان میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ ''کیا وجہ ہے کہ کشمیری نوجوان اس سطح پر پہنچ چکے ہیں کہ انہیں موت کا بھی خوف نہیں رہا''۔ وزیر اعظم کا مذکورہ سوال بے محل نہیں تھا۔ پلوامہ میں انڈین سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والا کشمیری عادل ڈار20 برس کا نوجوان تھا۔ خوش حال گھرانے سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان عسکریت کی جانب راغب کیوں ہوا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آسان لیکن انڈیا کے لئے سمجھنا شائد مشکل ہے۔



یہ کہانی صرف عادل ڈار کی نہیں، گزشتہ چند برسوں کے دوران ایسے متعدد کشمیری نوجوان منظر عام پر آئے ہیں، جنہوں نے موت کی پروا کئے بغیر کشمیر پر انڈیا کے ناجائز قبضے کو چیلنج کیا۔ جولائی 2016ء میں 20سالہ نوجوان برہان مظفر وانی شہید ہوئے تھے، جس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں زبردست احتجاجی تحریک کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ اس دوران نہ صرف سکولز و کالجز کے طلبہ نے احتجاجی مظاہروں میں انڈین سکیورٹی فورسز کا مقابلہ کیا، بلکہ طالبات بھی اس میدان میں پیچھے نہ رہیں۔ کم عمر کشمیری طالبات کی جانب سے انڈین فورسز پر پتھرائو کی تصاویر ذرائع ابلاغ کے توسط سے پوری دنیا دیکھ چکی ہے۔ اس تناظر میں یہ پہلو قابل غور ہے کہ انڈیا مسلسل یہ تکرار کرتا ہے کہ ''کشمیری پرامن ہیں، حالات پاکستان خراب کر رہا ہے''۔ گزشتہ برسوں میں کشمیری نوجوانوں نے جس طرح تحریک چلائی اور آزادی کے لئے مالی و جانی قربانیاں پیش کیں، اس سے بھارتی دعوے کی حقیقت آشکار ہوگئی۔
یہ امر حیران کن ہے کہ آزادی کی خاطر قربانیاں پیش کرنے والے کشمیری نوجوانوں کی فہرست میں عام طلبہ ہی نہیں پی ایچ ڈی اسکالر بھی شامل ہوچکے ہیں۔ اکتوبر 2018ء میں کشمیری پی ایچ ڈی اسکالر منان بشیر وانی شہید ہوئے تھے، انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی پروگرام ادھورا چھوڑ کر عسکریت کی راہ اپنائی تھی۔ اسی طرح مئی 2018ء میں کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ سماجیات کے پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیع بٹ انڈین فورسز سے ایک مقابلے کے دوران شہید ہوگئے تھے۔ کیا یہ تمام واقعات غور و فکر کے لئے کافی نہیں کہ آخر کشمیریوں نے قلم کی جگہ بندوق کیوں تھام لی؟ کیا وجہ ہے کہ کشمیری نوجوانوں کے لئے موت کو گلے لگانا مشکل نہیں رہا؟ یہ اور اس جیسے دیگر سوالات اگر عام افراد کے ذہنوں میں ابھرسکتے ہیں تو انڈیا کے پالیسی میکر یا تھنک ٹینک اس پر غور کیوں نہیں کرتے؟ مزید کس بات کا انتظار کیا جا رہا ہے؟ انڈیا نے مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کی خاطر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔ 'افسپا' جیسے کالے قوانین کا سہارا بھی لیا۔ کشمیری رہنمائوں اور نوجوانوں سے جیلیں بھردی گئیں۔ کشمیریوں کو تجارتی خسارہ اٹھانا پڑا، ان کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ پیلٹ گن کے استعمال سے کشمیریوں کی بینائی چھینی گئی۔ اگر ظلم کے یہ تمام سلسلے کشمیریوں کو اپنے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹاسکے، تو مزید جبر کا کوئی آپشن بھی کارآمد ثابت نہیں ہوسکتا۔



کشمیر کے موجودہ منظر نامے کو سمجھنے کے لئے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ قابل توجہ ہے۔2016ء کے مظاہروں کے بعد کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لینے کی خاطر انڈیا کی ایک پانچ رکنی تحقیقاتی کمیشن نے رپورٹ مرتب کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ ''کشمیریوں کو انڈیا پر اعتماد نہیں رہا اور بداعتمادی کی یہ خلیج بڑھتی جا رہی ہے''۔ کمیشن نے رپورٹ کے بنیادی نتائج میں کہا کہ جتنے بھی کشمیریوں سے انہوں نے ملاقاتیں کیں، ان سب نے مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیا اور کہا کہ جب تک اس کا سیاسی حل تلاش نہیں کر لیا جاتا، وادی میں موت اور تباہی کا سلسلہ زیادہ شدت سے جاری رہے گا۔ رپورٹ میں مزید کہاگیا کہ ''نوجوانوں میں کچھ تو انڈیا سے مذاکرات کرنے پر تیار ہی نہیں ہیں اور ان کے روز مرہ کی بول چال کے الفاظ ہی بدل گئے ہیں، جن میں ہڑتال، کرفیو، شہادت اور برہانی وانی کے الفاظ کا استعمال حاوی رہتا ہے''۔ رپورٹ میں ایک نوجوان کا نام ظاہر کئے بغیر اس کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ''سب سے اچھی چیز جس کے ہم شکر گزار بھی ہیں، وہ ہتھیاروں کا استعمال ہے، جس میں پیلٹ گنیں شامل ہیں، جس نے ہمارا ڈر اور خوف نکال دیا۔ ہم اب شہادتوں پر جشن مناتے ہیں''۔ 
ان حالات میں اگر انڈیا یہ سمجھتا ہے کہ وہ کشمیریوں کو جھکانے اور پاکستان کو تنہا کرنے میں کامیاب ہوجائے گا، تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ کشمیری آزادی سے کم کسی مطالبے پر آمادہ نہیں۔ ان کی دلی آرزو آج بھی وہی ہے جو سات عشرے قبل تھی۔ دراصل بھارت طاقت کے نشے میں چور ہے۔ موجودہ وزیراعظم نریندر مودی اپنے اقتدار کے آخری ایام میں بھی مسلسل ہزیمت کے باوجود منہ سے آگ اگل رہا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ آئندہ انتخابات میں کامیابی کا آسان راستہ پاکستان دشمنی پر مبنی عوامی جذبات کو بھڑکانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے امن کی خاطر مثبت پیغام کا انڈیا نے ہمیشہ منفی جواب دیا۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ پاکستان و انڈیا دونوں ایٹمی طاقت کے حامل ہیں۔ اگر خدا نخواستہ جنگ کی آگ بھڑکتی ہے تو بقول وزیر اعظم عمران خان: ''بات نہ میرے ہاتھ میں رہے گی اور نہ مودی کے''۔ جنگ دونوں ریاستوں کے مفاد میں نہیں۔ وزیر اعظم کا اپنے بیان میں یہ نکتہ اہم تھا کہ ''جنگ شروع کرنا آسان ہے، لیکن اسے ختم کرنا انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ جنگوں کے لئے لگائے گئے اندازے ہمیشہ غلط ثابت ہوئے ہیں''۔ لہٰذا انڈیا کشمیر کے موجودہ حالات کے تناظر میں حوصلے سے کام لیتے ہوئے اس سوال پر غور ضرور کرے کہ ''کشمیری موت سے بے خوف کیوں ہوگئے؟'' یقیناً وہ اس کے اسباب سے آگاہ ہوگا اور اس کے نقصان کا ادراک بھی رکھتا ہوگا، لیکن بدقسمتی سے جنگی جنون میں مبتلا ہونے کے باعث اس پہلو پر مثبت پیش رفت سے عاری ہے۔


مضمون نگار جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ایم فل کر رہے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 34مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP