یوم یکجہتی کشمیر

کشمیریوں پرہندوستان کے گھنائونے مظالم

2020کا سال اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ غروب ہو چکا ہے۔ یہ سال بھی سابقہ تمام سالوں کی طرح مظلوم کشمیریوں کے لئے بہت بھاری ثابت ہوا۔ بھارتی افواج نے مظلوم نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے کہ غیر جانبدار بین الاقوامی ادارے بھی ان کے لئے آواز اٹھانے پر مجبور ہوئے۔ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کے ساتھ ساتھ بھارتی افواج نے آزاد کشمیر کی عوام بالخصوص لائن آف کنٹرول کے قریب رہنے والے سویلین لوگوں کو بھاری اسلحے سے نشانہ بناتے ہوئے ان کی زندگی کو عذاب بنا رکھاہے۔



اگر چہ لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال اور بلالحاظ فائر نگ بھارتی افواج کا گزشتہ کئی سالوں سے معمول ہے لیکن مختلف سطحوں پر دونوں ممالک کے درمیان کئے گے معاہدوں کے باوجود بھارتی افواج شرانگیزی سے باز نہیں آتیں۔ بھارتی افواج اپنے جرائم کو چھپانے کے لئے اس فائرنگ کاجواز آزاد کشمیر سے دراندازی کو بناتی ہیں جبکہ صورتحال اس کے قطعی برعکس ہے۔ 2006سے لائن آف کنٹرول پر باڑ لگانے کے بعد اور ہر گزرے دن کے ساتھ اس کو مزید مضبوط اورجدید ٹیکنالوجی کی مدد سے فعال کرنے سے در اندازی کا کوئی امکان نہیں رہتا۔ تقریباً 800 کلو میٹر  طویل اور مشکل ترین پہاڑی علاقوں سے گزرتی ہوئی یہ باڑ مضبوط کانٹے دار تاروں سے بنائی گئی ہے جس کو کسی بھی قسم کے اوزاروں سے کا ٹنا قطعی ناممکن ہے۔ مزید برآں اس پر روشنیوں کا مستقل بندوبست کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کیمروں کی تنصیب بھی یقینی بنائی گئی ہے۔بارودی سرنگوں کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔ ڈرونز بھی لائن آف کنٹرول کی فضائی پہرے داری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔جوبعض اوقات پاکستانی حدود میں داخل ہونے سے نشانہ بازوں کا شکار ہو کر زمیں بوس ہو جاتے ہیں۔ صرف  2020 میں بھارتی افواج نے لائن آف کنڑول پر 3450 بلااشتعال خلاف ورزیاں کیں۔ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 25 سول افراد شہید ہوئے جن میں بچے، بوڑھے اور خواتین بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ 257 افراد شدید زخمی بھی ہوئے۔ اور یہ زخمی افراد اچھے خاصے صحت مند تھے جو اس فائر نگ کے نتیجے میں اپنے صحت مند اعضا سے محروم ہو گئے اور اپنے خاندان کی کفالت سے بھی محروم ہو گئے۔ پاکستانی وزارت خارجہ اکثر اوقات بھارتی ایمبسی اور مندوبین کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتی رہتی ہے لیکن وہ اپنی سنگدلی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔2019 میں جب مودی حکومت نے370 اور آرٹیکل35-Aکی منسوخی کی اس کے ذہن میں یہی بات تھی کہ وقتی طورپر احتجاج آئے گا جس کو پر تشدد کارروائیوں کے ذریعے دبا لیا جائے گا اور اسرائیلی طرز پر ہندو بستیوں کوبساکر آبادی کے تناسب کو تبدیل کر کے ہمیشہ کے لئے اس مسئلے سے جان چھڑوا لی جائے گی۔لیکن ابھی تک کی صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ نہتے اور مظلوم لیکن بہادر کشمیری بھارتی حکومت اور درندہ بھارتی افواج کے سامنے سر نگوں ہونے کو تیار نہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مختلف آپریشنز کے نتیجے میں 300 کے قریب دہشت گرد مقبوضہ کشمیر میں صرف 2020 میں مارے گئے۔جبکہ حقیقتاً یہ صرف وہ معصوم نوجوان تھے جو کہ مختلف تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم تھے یا کاروبار میں والدین کا ہاتھ بٹا رہے تھے۔ بھارتی قابض فوج نے ان کو مختلف مقامات سے اٹھا کر عقوبت خانوں میں رکھااور پھر مختلف بہانوں سے شہید کر دیا۔جبکہ اصلی مقابلے میں بھارتی غنڈہ فوج کو بھاری نقصان اور ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔ اس کی ایک مثال مئی 2020 میں ضلع کپواڑہ میں مجاہدین کے ساتھ ہونے والی جھڑپ ہے، جس میں ایک بھارتی کرنل، ایک میجر دو فوجی اور ایک پولیس انسپکٹر مارے گئے جبکہ مجاہدین محفوظ طریقے سے نکل گئے بعد میں دو معصوم جوانوں کو شہید کر کے مقابلے کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ۔ اس طرح بھارتی فوج تین اطراف سے نقصان اٹھا رہی ہے ۔ ایک تو مجاہدین کے ہاتھوں مارے جانے والے بھارتی افسر اور جوا ن ہیں، دوسری خود کشی اور کئی دل برداشتہ اور چھٹی نہ ملنے کی وجہ سے پریشان حال فوجیوں کے ہاتھوں مارے جانے والے افسر اور جوان ہیں، جبکہ تیسری  طرف پاکستانی فوج کی طرف سے بھارتی فوج کی بلاشتعال فائر نگ کا جواب ہے جس سے 2020 میں 50 کے قریب فوجی جہنم واصل ہو چکے ہیں۔
 اس کے علاوہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا کر ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ بچے، عورتیں اور بوڑھے خوراک، دودھ اور ادویات کے لئے بلبلا رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں عوام کے روزگار کا دارومدار بالعموم فروٹ اور سیاحتی انڈسڑی سے ہے۔بھارتی حکومت اور ظالم بھارتی افواج کے غیر انسانی اقدامات کی بدولت یہ دونوں شعبے با لکل ختم ہو چکے ہیں۔ صرف سیب، آڑو اور دوسرے پھلوں کے ہزاروںبا غات تباہ ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔
در حقیقت یہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے تاکہ مقبوضہ علاقے کے باشندوں کی اکانومی کو تباہ کر دیا جائے اور وہ اپنی زمین اور جائیدادیں اونے پونے ہندو آباد کاروں کوبیچنے پر مجبور ہو جائیں ۔ دوسری طرف بھارتی فوج اسی دہشت گردی کا مظاہرہ لائن آف کنڑول پر کر رہی ہے۔ لائن آف کنڑول کے دونوں طرف بسنے والے کشمیری مسلمان ہیں۔ بھارتی فوج دراندازی کے  الزام کی آڑ میں بلا امتیاز ہر طرح کے ہتھیاروں سے مختلف اوقات میں تمام سیکٹروں میں فائرنگ شروع کر دیتی ہے۔ 
اس فائر نگ کے نتیجے میں سویلین آبادی کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ آزاد کشمیر میں نیلم وادی سیاحوں کے لئے خصوصی دلچسپی کا بہت بڑا مرکز ہے۔ چنانچہ 2020میں بھارتی فوج نے نیلم وادی کو خصوصی طور پر اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا ۔ جس سے سیاحتی انڈسڑی کو ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچا۔ اسی طرح جان بوجھ کر جانوروں کو نشانہ بنانا بھی اسی مذموم مقصد کا حصہ ہے۔ تاکہ لوگوں کے روزگار کو نقصان پہنچا کر انہیں حکومت وقت کے خلاف صف آرا کیا جائے۔ اس  فا ئرنگ کی وجہ سے بہت سے گھروں میں آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے  ہی دیکھتے لکڑی کے بنے ہوئے گھر جل کر راکھ ہو گئے ۔ بھارتی فوج کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں زیادہ سے زیادہ سول آبادی کو نشانہ بنائے ۔ پاک فوج  بھارتی  فوج کی اس طرح کی کا رروائیوں کا بھر پور جواب دینے کے لئے ہمہ وقت چوکس ہو تی ہے جواباً بھارتی فوج کی انہی چوکیوں اور پو سٹوں کو نشانہ بنایا جا تا ہے جہاں سے آزاد کشمیر کی سول آبا دی پر بلا اشتعال فا ئر نگ یا دیگر بھاری اسلحے کا استعمال کیا جا تا ہے۔ پا ک فو ج کی طرف سے کی گئی ہر جو ابی کارروائی کے نتیجے میں بھارتی فو ج کے بنکر اور چو کیاں ہی تبا ہ نہیں ہو تیں بلکہ اخلاقی پستی کا شکار بھارتی فو ج کو خا صا  جا نی نقصان بھی اٹھا نا پڑتا ہے علا وہ ازیں اس طرح کے مو قعے پر پا ک فو ج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں لا ئن آف کنٹرول کے قریب کشمیری آبادیوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہوتا ہے۔جن میں مسلما نوں سے زیا دہ سکھ اور ہند و آباد ہیں ورنہ پاک فو ج کے لئے بہت آسان ہے کہ وہ لا ئن آف کنٹرول کے پار بھارتی فو ج کے ٹھکانوں کے ساتھ ہر عمارت کو تباہ کردے ۔ لیکن پا کستان 2003 کے فا ئر بندی کے دو طرفہ معاہدے پر عمل پیرا رہتے ہوئے اس با ت کو یقینی بنا تا ہے کہ اشتعال انگیزی کی مر تکب مخصوص بھارتی فو جی چو کیو ں کو نشا نہ بنا ئے ۔ تا ہم افسو س عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر ہے جو مقبو ضہ کشمیر میں کشمیری عوام کے خلاف بھارتی فوج کے جنگی جرائم کی طرح آزاد کشمیر میں سو ل آبادی پر بھارتی فوج کی طر ف  سے آئے روز کی جانے والی بلا اشتعال فا ئرنگ اور گو لہ با ری پر بھی خا مو شی اختیا ر کئے ہوئے ہے۔
بھارتی فوج کی ایسی ظالمانہ پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان حکومت اور فوج نے ایک جامع منصوبہ بنایا ہے تاکہ بھارتی فوج کی سازش کو ناکام کیا جائے ۔ اس منصوبے کے تحت لائن آف کنڑول کے ساتھ ساتھ آبادی کے تناسب کے لحاظ سے محفوظ اور مضبوط بنکرزکی تعمیر کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ ان بنکرز کی تعمیر کا سلسلہ 2018میں شروع کیا گیا۔ اور ان پر خطیر رقم خرچ کی جارہی ہے۔اب تک تقریباً4200 بنکرز کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جبکہ تقریباً18000 بنکرز بنائے جائیں گے ۔ جیسے ہی بھارتی فوج فائرنگ کا آغاز کرتی ہے ۔لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ ان بنکرز میں پناہ لے لیتے ہیں۔ دوسری  طرف مقبوضہ کشمیر میں بے گھر ہونے والے کشمیریوں کا کوئی پرسان حال نہیں انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے 25 نومبر 2020 کو جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق ناجائز قابض بھارتی فوج سکیورٹی کے نام پر مجاہدین کو پناہ دینے جیسے الزامات  لگا کر غریب کشمیریوں کے گھر وںکو مسمار کرنے کا سلسلہ مقبوضہ کشمیر کے مختلف اضلاع کے پسماندہ علاقوں میں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری رکھے  ہوئے ہے ۔ متاثرین کی  زیادہ تعداد بھیڑ بکریاں پال کر اپنے روزگار کا بندوبست کرتی ہے ۔یا پھر چھوٹے کاشتکار ہیں جن کا انحصار سیب کے باغات اور فالتوزمین  پر گرمیوں کے موسم میں مختلف فصلوں کی کاشت پر ہوتا ہے ۔ قابض بھارتی فوج باغات کو بھی کاٹنے میں مصروف ہے ۔خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے کہ بندوق  کے زور  پر خالی کرائی جانے والی ان زمینوں پر بھارت سرکا ر اسرائیلی طرز پر فلسطینیوں کی زمینوں پر  یہودی بستیاں تعمیر کرنے جیسے منصوبوں کے مطابق  ہندوئوں کے لئے  بستیاں آباد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ گھروں کو مسمار کرنے سے پہلے نا جائز قابض  بھارتی فوج کے دستے علاقے کو گھیرے میں لے کر مجاہدین کو تلاش کرنے کی آڑ میں خوف و دہشت پھیلاتے ہیں ۔ مکینوں کو جن میں عورتیں بچے  بوڑھے وجوان سب شامل ہوتے ہیں۔ انہیں نکال کر ایک طرف اکٹھا کر کے بٹھا دیا جاتا ہے۔ مردوں کو وقت دیا جا تا ہے کہ وہ اپنے گھروں سے جو کچھ اٹھانا یا نکالنا چاہتے ہیں اٹھا لیں کو ئی مزاحمت کرے تو اسے تشدد کر تے ہوئے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا جاتا ہے اور پھر گھروں کو مسمار کر کے زمین کو ہموار کر دیا جا تا ہے  اس دوران کشمیری روتے پیٹتے دہائیاں دیتے رہ جاتے ہیں۔ انہیں یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ شدید سردی کے موسم میں وہ اپنے بچوں کو لے کر کہاں جائیں ۔اپنی بھیڑ بکریوں کو ہانک کر کدھر لے جا ئیں ۔ بے بس و لاچار کشمیری کہتے ہیں انہیں یوں بے گھر کرنے کے بجائے گڑھے کھود کر زندہ دفن کر دیا جائے۔
عا لمی برادری کی اسی خا مو شی سے شہہ پا کر  بھارتی فو ج نے آزاد کشمیر میں 22 نو مبر 2020 کو لا ئن آف کنٹرول کے قریب ضلع کوٹلی کے جگجوت نا می گائوں میں شادی کی تقریب کو راکٹو ں اور ما رٹر گو لو ں سے نشانہ بنا یا ۔جس کے نتیجے میں6 خو اتین 4 بچے اور2 مرد بھی زخمی ہو گئے ۔ بعد ازاں سات سالہ بچی حورین زخمو ں کی تاب نہ لاتے ہوئے اللہ کو پیاری ہو گئی ۔ اس کی والد ہ ساجدہ کو ثر بھی زخمیو ں میں شامل تھی ۔ ضلع کو ٹلی کی انتظامیہ کے مطا بق کرونا وبا کی وجہ سے حکو مت کی طرف سے لگائی گئی پا بندیو ں کے باعث تقریب میں  صرف قریبی عزیز و اقارب شریک تھے ۔ جس کی وجہ سے نقصان کم ہوا، ورنہ جانی نقصان زیادہ بھی ہو سکتا تھا ۔ آزاد کشمیر میں شادی کی تقریب کو نشانہ بنائے جانے کی خبر سوشل میڈیا پر ہر طرف پھیلی تو بھارت کے اپنے اندر سے بھارتی فوج کو شدید تنقید کا  نشانہ بنایا گیا جو لداخ میں چینی فوج کے سامنے بھیگی بلی بن کر جواب دینا تک بھو ل جا تی ہے اور مقبو ضہ کشمیر میں نہتے کشمیریو ں پر ظلم ہو آزاد کشمیر میں سول آبا دی کو نشانہ بنا نا ہو تو پھر اس کی مردانگی جا گ اٹھتی ہے ۔ بھارت میں سو شل میڈیا پر بہت سے بھارتیو ں نے اپنی فو ج کی پیشہ ورانہ استعداد ہی نہیں ان کی اخلاقی تر بیت و معیار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں کہ تربیت یا فتہ فو ج تو دو ران جنگ ،سول آبادی خاص کر خواتین اور بچیو ں کو بھی کسی صورت نشانہ نہیں  بناتی تو یہ کس طرح کی فوج ہے جس کا زور صرف نہتے سول افراد، عورتوں اور بچوں پر چلتا ہے لیکن بھارت کے ظالم ہندوانتہا پسند حکمران ہوں یا بھارتی فوج جب تک عالمی سطح پران کے خلاف آواز بلند نہیں ہوگی یہ اپنی بربریت اور لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف کشمیری سول آبادی کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی ترک نہیں کریں گے۔ ||


 

یہ تحریر 97مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP