اداریہ

کشمیر، شہ رگ ِ پاکستان

بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ان کا مؤقف کشمیر کے حوالے سے بالکل واضح اور غیر مبہم تھا۔ قائداعظم مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی منشاء کے مطابق چاہتے تھے۔اِس میں کوئی دو آراء نہیں کہ کشمیریوں کے دل1947سے پہلے اور بعدمیں بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتے تھے اور آج بھی دھڑکتے ہیں۔ لیکن تقسیم کے وقت ڈوگرہ حکمرانوں، کا نگریسی رہنمائوں اور سب سے بڑھ کر برطانوی وائسرائے کی ملی بھگت کی وجہ سے جموں و کشمیر آج بھارتی افواج کے غاصبانہ قبضے میں ہے۔ اس کے باوجود کہ 1948 میں بھارت کے اس وقت کے وزیرِاعظم خود مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ میں لے کر گئے جہاں کثرتِ رائے سے قرار داد منظور کی گئی جس کے مطابق کشمیری عوام کو استصوابِ رائے سے اس مسئلے کو حل کرنے کا حق دیاگیا، بھارت کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کو چنداں اہمیت نہیں دی گئی۔ وطنِ عزیز پاکستان کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مؤقف ہمیشہ اصولی اور قانونی رہا ہے اور اُس نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حق کے لئے آواز اٹھائی ہے۔ بھارت اور پاکستان کے مابین مسئلہ کشمیر پر1948، 1965،1971کی تین بڑی جنگیں لڑی جا چکی ہیں اس کے علاوہ  1999 میں معرکہ کارگل بھی پیش آچکا ہے جس میں افواجِ پاکستان نے دلیرانہ انداز میں دشمن کو سبق سکھایا اور کشمیری بھائیوں کو یہ باور کرایا کہ پاکستان ہردم اُن کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
پاکستان نے سفارتی اور بین الاقوامی سطح پر ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو اُجاگر رکھا اور بھارتی ظلم و ستم کی مذمت کی ہے۔ پاکستان سیکڑوں سفارتی و دیگر وفود کو لائن آف کنٹرول کے دورے کروا چکا ہے لیکن بھارت نے ہمیشہ ایسے وفود کی حوصلہ شکنی کی ہے اور انہیں دوروں کی اجازت نہیں دی ۔ حال ہی میں یورپی یونین ڈس انفولیب رپورٹ کے ذریعے منظرعام پر آنے والی انڈین کرانیکلز سے بھارت کا بھانڈا پھوٹ گیا اور دنیا کو معلوم ہوا کہ کچھ عرصہ قبل بھارت نے یورپین یونین کے جن وفود کے مقبوضہ کشمیر میں دورے کروائے وہ بھی بدنیتی پر مبنی تھے اوروہ اقوامِ متحدہ سمیت بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے کروائے گئے تھے۔بہر کیف دنیا جان گئی ہے کہ بھارت نہ صرف مقبوضہ کشمیر، بھارت میں مقیم مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے بلکہ بین الاقوامی برادری کو بھی اس حوالے سے غلط اعداد و شمار پیش کرکے اپنے گھنائونے کردار کا مظاہرہ کررہا ہے۔
اگست2019 میں جس طرح بھارت نے  آرٹیکل370 اور آرٹیکل35-A ختم کرکے کشمیریوں کے حقوق غصب کئے اور پھر ڈومیسائل لاء کے ذریعے مسلمان کشمیریوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کررہا ہے،اس  سے بھی اس کے مکروہ عزائم کُھل کر سامنے آئے ہیں۔ پاکستان نے بہر طور بھارت کے ان اقدامات کی نہ صرف بھرپور مذمت کی ہے بلکہ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی برادری کے سامنے بھی مؤثر سفارتکاری کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو مزید اُجاگر کیا ہے، جس سے صرف جنوبی ایشیا ئی خطے میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں بھارت ایک بدنامِ  زمانہ غاصب کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
 کشمیریوں کی لگن زندہ ہے، وہ عزمِ  آزادی سے سرشار ایک ایسی قوت کا روپ دھار چکے ہیں جس سے وہ جلد یا بدیر آزادی کے حصول میں سُرخرو ہوں گے اُن کی کامیابی کے لئے پاکستانی قوم بھرپور انداز میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر سال 5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر قومی و سرکاری سطح پر منایا جانا اس کی مُنہ بولتی تصویر ہے۔ان شاء اﷲ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام کو انصاف ملے گا اور وہ اپنی جدوجہد میں کامیاب ٹھہریں گے اور کشمیر کے باسی آزاد فضائوں میں سانس لیں گے. ||

یہ تحریر 206مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP