قومی و بین الاقوامی ایشوز

کرۂ ارض کا بٹوارہ۔۔ پناہ گزین کہاں جائیں

لفظ ہجرت سے ایک تقدس اور پاکیزگی کا تصور ذہن میں آتا ہے لیکن ہجرت کرنے والے ہی جانتے ہیں کہ وہ کس کرب سے گزرتے ہیں۔ ہر ہجرت کے ساتھ ایک لازوال ادا سی اور کرب ورثے میں ملتا ہے کیونکہ بچپن کے سنگی ساتھی اور لڑکپن کا ساون لٹے ہوئے سامان کی مانند پیچھے چھوڑ کر آنا پڑتا ہے۔ لفظ مہاجر کو اگر آپ لفظ پناہ گزین سے بدل دیں تو یہ کرب سوا ہو جاتا ہے۔ بیس جون کو ہر سال پناہ گزینوں کا دن منایا جاتا ہے۔ دنیا میں جنگ ،ظلم، بیماری اور خوف سے اپنی جان و عزت بچا کر بھاگنے اور کسی سرحد کے پار رہنے کی جگہ تلاش کرنے والے کو پناہ گزین کہا جاتا ہے۔ کرہ ارض کا تو بٹوارہ ہو چکا ،  سرحدیں کھنچ چکیں۔ ان سرحدوں کی پامالی کرنے والی جنگیں تو نہ رک پائیں لیکن ان جنگوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے پناہ گزینوں کو روک لیا گیا۔ تمام سرحدوں نے انہیں اپنے اندر داخل ہونے سے روک دیا، تو کیوں نہ کرہ ارض کے اس بٹوارے میں ان لوگوں کے لئے جو جنگ ظلم اور خوف کی پیداوار ہوتے ہیںایک الگ جنت تعمیر کی جائے ۔ 
  اس کرۂ ارض کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ  ہرایک منٹ میں بیس انسان جنگ کی تباہ کاریوں کی بنا پر اپنا گھر بار چھوڑ کر پناہ گزینوں کی فہرست میں شامل ہو رہے ہیں۔ چالیس ہزار سے زائد لوگ ہر روز بے گھر ہو کر پناہ گزینوں کی لسٹ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس بحران کے نتیجے میں صرف افغانستان، شام اور سوڈان میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد 11 ملین سے بڑھ چکی ہے۔ یو این ایچ سی آر کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں پناہ گزینوں کی کل تعداد  70.8ملین تک پہنچ چکی ہے۔ جن میں سے اِکتالیس ملین آئی ڈی پیز ہیں جبکہ25.9 ملین پناہ گزین اور 3.5ملین اسائیلم سیکرز کی فہرست میں شمار ہوتے ہیں۔ 4 ملین لوگ اسٹیٹ لیس کے سٹیٹس پر ہیں۔ سب سے زیادہ پناہ گزینوں کی یلغار تین ممالک افغانستان، سوڈان اور شام سے ہو رہی ہے۔ پناہ گزینوں کو پناہ دینے والے ممالک میں ایران، پاکستان، ترکی، جرمنی اور لبنان سر فہرست ہیں۔ ہر دو سیکنڈ میں ایک انسان کو اپنے ملک اور گھر سے زبردستی بے دخل ہونا پڑتا ہے۔
پاکستان پناہ گزنیوں کے اس بوجھ کو گزشتہ تین دہائیوں سے برداشت کر رہا ہے۔ تقریباً25 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین پناہ کی تلاش میںپاکستان آئے۔ پاکستان نے اپنے افغان بہن بھائیوں کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کیا۔ ان کو اپنے شہروں میں بسایا۔ پاکستان شائد دنیا کا وہ واحد ملک ہو گا جہاں افغان پناہ گزینوں کو انضمام کا مسئلہ درپیش نہیں ہوا۔ وہ جس شہر میں بھی گئے، وہاں اپنے ذاتی کاروبار بھی کئے اور پاکستانی شہریوں سے شادیاں بھی ہوئیں یعنی بالکل گھل مل گئے۔ بہت کم شہر ایسے ملیں گے جہاں افغان بستیاں الگ سے آباد ہوں ورنہ ان کو سارے ملک میں آزادی سے گھومنے پھرنے کی اجازت ہے۔ بلکہ کھانے اور کپڑے کے کاروبار کے بڑے بیوپاری پاکستانی افغان ہی ہیں۔ اب یہاں ان کی تین نسلیں جوان ہو چکی ہیں۔ پاکستان میں صرف افغان مہاجرین ہی نہیں بلکہ سیلاب ، زلزلے اور دہشت گردی کی جنگ کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ گھر سے بے گھر ہوکر آئی ڈی پیز کی فہرست میں شامل ہوئے۔ دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشنز نے کامیابیاں حاصل کیں اور ہم نے دہشت گردی کی یہ جنگ جیتی۔ اس کے بعد آئی ڈی پیز کی بحالی اور گھر واپسی کا کام شروع ہوا جس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔ 2005 کے زلزلے نے ملک کے بڑے حصے کو نقصان پہنچایا لیکن پاک فوج اور شہریوں کی مشترکہ کوششوں سے ہم اس صدمے سے بھی باہر نکل آئے اور دوبارہ سے انفرا سٹرکچر کو کھڑا کیا۔ پھر دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں جو علاقے تباہ ہوئے ان علاقوں کی بحالی کوئی آسان کام نہ تھا لیکن ہماری فوج آگ میں تپ کر کندن بن چکی ہے۔ شدید مصائب کے باوجود ہمارے فوجی جوانوں نے سوات کی رونقیں بحال کر دیں۔ پاکستان نے ایک ہی وقت میں نہ صرف باہر سے آنے والے لاکھوں بے گھروں کو پناہ دی بلکہ ساتھ ہی ساتھ اندرون ملک بے گھر ہو جانے والوں کو اپنے گھروں کو واپس بھی بھیجا۔
دوسرے ممالک میں بے گھر ہونے والوں کو پناہ مل بھی جائے تو انضمام کا مسئلہ پھر بھی رہتا ہے۔ جرمنی جیسے ترقی یافتہ ملک میں پناہ گزینوں کی زندگی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ وہاں بھی انٹیگریشن کے بڑے مسائل ہیں۔ ان کو شہر سے دور دراز ایک صاف ستھری جگہ پر پناہ دی گئی ہے جہاں کنٹینرز کے گھر بنائے گئے ہیں ۔ ان کے کھانے پینے رہن سہن کی تمام سہولیات موجود ہیں۔ بچوں کے کھلونے تک موجود ہیں لیکن انہیںاس جگہ سے باہر نکل کر شہر میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ کیونکہ بڑی تعداد شامی نوجوانوں کی ہے لہٰذا وہ نہیں جانتے کہ ان کا ماضی کیا تھا اس لئے دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر ان کو انضمام کی اجازت نہیں دی جا سکتی جب تک کہ یہ اس قابل نہ ہو جائیں۔ جنگ عظیم کے بعد جرمنی میں نوجوانوں کی تعداد بہت کم رہ گئی تھی۔ خاص طور پر جوان مرد آبادی کا کم حصہ رہ گئے تھے۔ کیونکہ جنگ عظیم میں جرمنی کے نوجوان مردوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ جرمنی مہاجرین، خاص کر جوان نسل، کو اپنے ملک میں خوش آمدید کہتا ہے۔ 
امریکہ میں ٹرمپ کی آمد کے بعد مہاجرین پر کڑی پابندیاں لگائی گئی ہیں یہی وجہ ہے کہ وہاں پناہ گزینوں کو داخل ہونے سے اس وقت روکا گیا جب جنگوں کے نتیجے میں بے گھر لوگوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی امریکہ کے اعداد و شمار کے مطابق ایریزونا میں 64، کیلیفورنیا میں 72 ، فلوریڈا میں71 ، نیویارک 52  اور واشنگٹن میں 48فیصد کمی آئی ہے۔ آکسفیم کے اعداد و شمار کے مطابق 1975 سے اب تک امریکہ 3 ملین سے زائد خاندانوں کو خوش آمدید کہہ چکا ہے۔ لیکن اب پابندی اور خاص طور پر مسلم آبادی پر مشتمل مہاجرین کو داخلے سے روکا جا رہا ہے۔ بلکہ ایل سلوا ڈور، ہنڈراس اور گوئٹے مالا کی امداد بند کرنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔ 
  اصول تو یہ ہونا چاہئے کہ جن ممالک کے تنازعے کے نتیجے میں جنگ کی آگ بھڑکے اور لوگ بے گھر ہوں، ان ہی ممالک پر فرض ہونا چاہئے کہ وہ ان بے گھر ہونے والے افراد کو اپنے ملک میں پناہ دیں۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔  اگر یہ اصول بنا لیا جائے تو جنگوں میں خاصی کمی واقع ہو جائے۔ مثال کے طور پر شام میں بھڑکنے والی آگ کے ذمے دار ممالک شامی مہاجرین کو اپنے ملک میں بسانے کے پابند ہوں ۔
  اس سال اقوام متحدہ کی جانب سے  ورلڈ ریفیوجی ڈے کا تھیم Step with Refugees   رکھا گیا ۔ تاکہ اس دن ان کے ساتھ ایک قدم بڑھایا جائے۔ دنیا کے سب سے بڑے سیاحتی مقام ایفل ٹاور سے متصل پارک کی گھاس پر ورلڈ ریفیوجی ڈے کے موقع پر دنیا کے پناہ گزینوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہاتھوں کی ایک زنجیرنما پینٹنگ بنائی گئی۔ ان ہاتھوں نے ایک دوسرے کو مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔ آرٹسٹ کا کہنا ہے کہ اس نے کوشش کی کہ تقسیم ہوتی اس دنیا میں امید اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا پیغام دیا جائے۔ لیکن اقوام متحدہ کو یہ پیغام دنیا کی سپر پاورز اور امیر ترین ممالک کو دینا چاہئے کیونکہ جب تک دولت مند ممالک اپنا دل بڑا نہیں کریں گے پناہ گزینوں کے لئے جگہ کم ہی رہے گی۔ تنگ نظری اور تعصب اس مسئلے کا حل نہیں اور اگر آپ اس مسئلے کا مستقل حل چاہتے ہیں تو پھراس کرہ ارض کو جنگ کی ہول ناکیوں سے پاک کریں۔

یہ تحریر 342مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP