متفرقات

کرۂ ارض پر حسین مگر گمنام گوشہ

ویسے تو پورا گلگت  بلتستان خوبصورتی کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے ،عمیق نظروں اور دلچسپی سے بھرپورکوششوں کے ذریعے اس پورے خطے کو سیاحت کے حوالے سے عالمی توجہ کا مرکز بنایا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ ملکی و علاقائی معیشت کی بڑھوتری کے ذریعے مقامی آبادی کے طرزِ زندگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔گلگت  بلتستان میں سیاحت کے وسیع مواقع ہیں ۔یہاں پر خوبصورت میدان، بلند و بالا پہاڑی سلسلے ،جنگلات ،قدرتی جھیلیںاور بہترموسمی تغیرات وہ عوامل ہیںجو یہاں آنے والوں کے لئے کشش کا باعث ہیں ۔گلگت  بلتستان کے تمام اضلاع کے دیہی علاقوں میں درجنوں ایسی خوبصورت وادیاں ہیں جو آج تک دریافت نہیں ہوسکیں ۔سوت داس بھی ایک ایسی وادی ہے جو آج تک حکومت و اکثریتی عوام کی آنکھوں سے اوجھل رہی



۔یہ جنت نما گوشہ ضلع دیامر کے علاقہ داریل کا گیٹ گیال سے متصل ہے اور قراقرم ہائی وے پر راولپنڈی جاتے ہوئے شتیال کے دائیں طرف واقع ہے۔یہ گوشہ کافی اونچائی پر ہے۔ خوش قسمتی یہ ہے کہ گزشتہ سال گلگت  بلتستان میں ای ٹی آئی

(Economic Transformation Initiative)

نامی پراجیکٹ کے ذریعے اس علاقے میں 18کروڑکی لاگت کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس میں 10کلومیٹر سڑک تیارہوکر فعال ہے۔جبکہ 12 کلومیٹرواٹر چینل پرکام بھی آخری مراحل میں ہے  اور ہدف یہ ہے کہ اس حاصل کردہ پانی سے 19000کنال بنجر اراضی کو آباد کیا جائے گا۔اس منصوبے کی تکمیل سے عوام کی زرعی ضروریات پوری ہوں گی اور یقینا اس سے خود انحصاری کے رویے کو فروغ دینے کا عمل پختہ ہوگا۔ان تمام حوالوں سے ہٹ کر سوت داس کو ایک نظر دیکھنے کے بعد یہ یقین ہو جاتا ہے کہ قدرت اس جگہ پر مہربان ہے اور فطرت نے ایک منصوبے کے تحت خوبصورت طریقے سے اس جگہ پر پہاڑی کی صورت میں ایک بنی بنائی سٹیج گاڑ دی ہے۔یہ خوبصورت گوشہ ہر آنے والے مہمان کا دل سے استقبال کرتا ہے۔ جبکہ کوئی بھی نیا آدمی یہاں پہلا قدم رکھنے کے بعد قدرت کی صناعی کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا ہے ۔اس گوشے پر فٹ بال، کرکٹ اور پولو کے بنے بنائے قدرتی گراؤنڈز موجود ہیں جن کی صرف دیکھ بھال کرنی ہے۔گزشتہ دنوں داریل امن فاؤنڈیشن کے متحرک نوجوانوں نے اسی مقام پر مختلف کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا ۔پولو کے فائنل میچ کے مہمان خصوصی فورس کمانڈر گلگت  بلتستان میجر جنرل احسان محمود تھے ،موصوف کی آمد سے جہاں پروگرام کو چار چاند لگ گئے وہاں احسان محمودکی علاقے سے گہری وابستگی بھی عیاں  ہوگئی ۔ جنرل احسان محمود کی گلگت  بلتستان سے خاص محبت ہے وہ چاہتے ہیں کہ یہاں کے نوجوان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے زندگی کے میدانوں میں آگے بڑھیں۔اُن کا خواب ہے کہ گلگت  بلتستان امن کا گہوارہ بنیں اور سیاحت یہاں کا اہم و فعال شعبہ بن جائے تاکہ مقامی آبادی معاشی لحاظ سے بہتر ہو۔جنرل احسان محمود ان تمام عوامل کی بڑھوتری وبہتری کے لئے عوام اور حکومت کے ساتھ مل کر بھرپور تعاون بھی کرنا چاہتے ہیں جوکہ خوش آئند امر ہے۔

یہ امر مخفی نہیں کہ گلگت  بلتستان کی آبادی کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے سیاحت کا شعبہ ہی کافی ہے جس کے لئے بہتر حکمت عملی،پرامن فضا،شعوری و تعلیمی رویوں کا فروغ اولین اور لازمی محرکات ہیں ۔جنوبی ایشیا میں واقع نیپال کی معیشت اور روزگار کا زیادہ دارومداروہاں کے پہاڑوں اور سیاحتی مقامات پر ہے۔ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورزم کونسل

(WTTC)

کی گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق نیپال کے جی ڈی پی میں وہاں کے شعبہ سیاحت کی جانب سے 189بلین کا سالانہ تعاون شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیپال کی سیاحت سے اب تک چار لاکھ ستائیس ہزار مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملے ہیں ۔گلگت  بلتستان میں سیاحت کے مواقع نیپال سے زیادہ ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لئے عوامی و حکومتی سطح پر بھرپور کردار ادا کیا جائے،مقامی آبادی کو کاروباری معاشی اور مہمان نوازی کے شعورسے لیس کیا جائے ،شرح خواندگی کو بڑھانے کے لئے مربوط کوششیں کی جائیں تاکہ خطے کے گمنام خوبصورت گوشے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرسکیں۔ گلگت  بلتستان میں دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلوں کوہ ہمالیہ،قراقرم اور ہندوکش کے علاوہ درجنوں چھوٹی بڑی چوٹیاں ہیں جن میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹواور نانگا پربت بھی شامل ہے۔اس خطے میں دنیا کی چھت دیوسائی ،سیکڑوں گلیشئرز اور کئی سیاحتی چٹیل قالین نما میدان اور جھیلیں اپنے اندر بے پناہ خوبصورتی رکھتے ہیں۔ سوت داس کی طرح ان گنت مزید گوشے اس خطے میں اپنا وجود رکھتے ہیں جو ہنوز قومی و بین الاقوامی آنکھوں سے اوجھل ہیں۔ اگر ان گمنام گوشوں کو دریافت کرکے بہتر حکمت عملی کے ذریعے ان پر توجہ دی جائے تو صرف گلگت  بلتستان کی سیاحت ہی ملکی بجٹ میںخطیر حصہ داری، کا حق ادا کر سکتی ہے۔


[email protected]


وفا کی کہانی تمام لکھنا
وطن کو میرا بھی سلام لکھنا
جو لڑے ہیں، سرحد پر کھڑے ہیں
اُنہی فہرستوں میں نام لکھنا
امن مرہونِ منت غازیوں کے
شہیدوں کے لہو کا انعام لکھنا
فصیلِ چمن کی محافظ میری شب
بقا میں اس کی کٹتے ایام لکھنا
جسدِ خاکی کی سانسیں رہیں باقی
تو دشمن کو ناکام لکھنا
حُرمتِ زمین پر، گر ٹپکے قطرہ قطرہ
لہو کا میرے، یہ اندازِ احترام لکھنا
زاہد کے سجدے معتبر لکھو
منفرد مجاہدوں کا قیام لکھنا

(میجرعلی احمدملک)

یہ کالم 129 مرتبہ پڑھا ہے

اس کالم پر اپنے خیالات تحریر کریں

Success/Error Message Goes Here
برائے مہربانی اپنے اکاؤنٹ میں لاگ ان کریں اور اس مضمون پر اپنے خیالات تحریر کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road Sadar, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-1617

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP