قومی و بین الاقوامی ایشوز

کرونا وائرس اورپاکستان کے کامیاب اقدامات 

• جوکام ترقی یافتہ قومیں نہ کرسکیں وہ پاکستانیوں نے کردکھایا۔

• دنیا میں کروناکے ہرسومریضوں میں سے تین مریض موت کے منہ میں جارہے ہیں۔یہ بہت خطرناک شرح ہے۔

• دنیامیں بارہ کروڑ سے زیادہ انسان کوروناوائرس کاشکارہوچکے ہیں۔

• دنیامیں سب سے زیادہ مریض امریکہ میں ہیں جہاں اب تک تین کروڑ 52لاکھ سے زائد افراد کروناکاشکار ہوچکے ہیں، جن میں سے 5لاکھ 55ہزارسے زیادہ  موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔

• کروناسے متاثرہ ممالک میں پہلے نمبرپرامریکہ دوسرے پر برازیل، تیسرے پر  انڈیا ،چوتھے پرروس اورپانچویں نمبرپربرطانیہ ہے۔پاکستان دنیابھرمیں کروناسے  متاثرہ ممالک میں 31 ویں نمبرپرہے۔


پاکستانی قوم نے کم وسائل کے باوجود جس طرح کروناکامقابلہ کیا اور اسے شکست دی وہ دنیاکے لئے ایک مثال ہے۔لاک ڈاؤن کے دوران کروڑوں پاکستانی جن کے روزگارکاانحصارمحنت مزدوری پرتھاسب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ لیکن اس دوران بھائی چارے ،محبت اورقربانی کی ایسی مثالیں دیکھنے میں آئیں کہ عقل حیران رہ گئی۔ایک قومی جذبے اورعزم کے ساتھ کروناکا مقابلہ کیاگیا۔ دنیابھرکی طرح ہم بھی اب کروناکی تیسری اورخطرناک لہر کاسامناکررہے ہیں۔ اب تک بارہ کروڑ پچیس لاکھ انسان کروناوائرس کاشکارہوچکے ہیں ۔ عالمی سطح پرزبردست اقدامات کے باعث زیادہ ترممالک میں اس پرقابوپالیاگیاہے،لیکن خطرہ بہرحال موجود ہے ،کروناوائرس مسلسل اپنی شکل بدل رہاہے اورخطرناک ہوتاجارہاہے۔ہمارے برادر اوردوست ملک چین نے توکروناکے خلاف ایک مثالی جنگ لڑی اوردنیاکوحیران کر دیا۔ پاکستان نے چین کے تجربات سے بھی بہت کچھ سیکھا ۔ امریکہ سمیت بہت سے یورپی ممالک اس غلط فہمی کاشکارتھے کہ صحت کے بہترنظام کے باعث کروناان ممالک کے لئے زیادہ مہلک ثابت نہیں ہوگا۔ کروناچند ملکوں تک محدود رہے گا۔ اس میں بڑا کردار سابق امریکی صدر ٹرمپ کابھی تھا جنہوں نے کرونا وائرس کوسنجیدگی سے نہیں لیا۔دیکھتے ہی دیکھتے کروناوائرس نے امریکہ،برطانیہ فرانس ،اسپین سمیت پوری دنیا کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔کروناوائرس نے ترقی یافتہ ممالک کے صحت کے نظام کے کھوکھلے پن کوبھی عیاں کردیااورمعیشت کوبھی اربوں ڈالرزکانقصان پہنچایا۔ایک طرف وہ ممالک تھے جن کے پاس جدید طبی سہولیات موجود تھیں اوردوسری طرف پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک جن کے پاس وینٹی لیٹرز بھی نہ ہونے کے برابرتھے۔کم وسائل کے باوجود حکومت نے فیصلہ کیاکہ اس وائرس کامقابلہ کرناہے اوراسے شکست دینی ہے۔حکومتی سطح پراقدامات شروع کئے گئے،عوام کوآگاہی فراہم کی گئی اور بتایا گیاکہ کس طرح اس وائرس سے محفوظ رہناہے،ایک دوسرے سے سماجی فاصلہ اختیارکرناہے۔ظاہرہے ہمارے پاس کروناوائرس کی کوئی دوا یاویکسین موجود نہیں تھی۔صرف احتیاط اوراپنی قوت مدافعت کے ذریعے ہی اسے شکست دی جارہی تھی ۔20مارچ کووزیراعظم عمران خان اورخاتون اول کی کرونارپورٹ مثبت آنے کے بعد یہ احساس زیادہ شدت اختیارکرگیاکہ ابھی ہم سب کوبہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔سماجی فاصلہ اوراحتیاطی تدابیراختیارکرکے ہی ہم کروناوائرس کی تیسری لہرکوشکست دے سکتے ہیں۔
   اگرکروناوائرس سے متاثرہونیوالے ممالک کاجائزہ لیں توورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق21مارچ 2021ء تک کرونا نے دنیا کے 223 ممالک کواپنی لپیٹ میں لے لیاہے اورکرونامریضوں کی تعدادپوری دنیا میں بارہ کروڑ پچیس لاکھ سے بڑھ چکی ہے،جبکہ ستائیس لاکھ تین ہزارچھ سوبیس افرادجان کی بازی ہارچکے ہیں۔ ویب سائٹ ورلڈ میٹرزکے مطابق کرونامریضوں کی تعدادکچھ زیادہ ہے اوراسی تاریخ تک بارہ کروڑ 38لاکھ سے تجاوزکرچکی تھی۔اب تک 27لاکھ چارہزار 962افراد جان کی بازی ہارچکے ہیں۔آپ جب یہ تحریرپڑھ رہے ہوں گے ان اعدادوشمارمیں بھی کچھ اضافہ ہوچکاہوگا۔مرنے والوں کی تعداد کرونامریضوں کی تعداد کاتین فیصد بنتی ہے۔یعنی کروناکے ہرسومریضوں میں سے تین مریض موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔یہ بہت خطرناک شرح ہے۔
دنیامیں سب سے زیادہ مریض امریکہ میں ہیں جہاں اب تک تین کروڑ 52لاکھ سے زائد افراد کروناکاشکار ہوچکے ہیں، جن میں سے 5لاکھ 55 ہزار سے زیادہ موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔دوسرے نمبر پر برازیل، تیسرے پرانڈیا چوتھے پرروس اورپانچویں نمبرپربرطانیہ ہے۔ پاکستان دنیابھرمیں کروناسے متاثرہ ممالک میں 31ویں نمبرپرہے۔ یہ بہت حوصلہ افزاء ہے،پاکستان میں کرونااتناخطرناک نہیں جتنادنیاکے بعض دوسرے ممالک میں ہے۔ پاکستانی قوم کروناسے بہت حد تک بچی ہوئی ہے۔
  ہردس لاکھ آبادی میں سے کرونا سے مرنے والوں کی تعداد امریکہ میں ایک ہزار 671ہے۔انڈیا میں 115 جبکہ پاکستان میں یہ تعداد62 ہے۔ برطانیہ میں دس لاکھ کی آبادی میں سے ایک ہزار848شہری اس وائرس سے مارے گئے۔اٹلی میں 1738،اسپین میں 1559،فرانس میں 1412 افراد اس تناسب سے زندگی کی بازی ہارگئے۔تاہم وائرس کی شدت اورکمی کے ساتھ ساتھ ان اعداد وشمارمیں بھی روزانہ کی بنیاد پر کمی بیشی ہورہی ہے۔یورپ اورامریکہ میں یہ وائرس انتہائی خطرناک اورجان لیوا ثابت ہواہے۔
   اب چائنا کے بارے میں پڑھ لیں،جس پرالزام ہے کہ کروناوائرس ووہان سے پھیلا۔چین کروناوائرس سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں 88ویں نمبرپرہے۔تاہم مختلف ممالک کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے باعث اس میں بھی بہتری اورمتاثرہ لوگوں کی تعداد میں تنزلی ہورہی ہے۔چین میں کرونا کے کل مریض اب تک صرف 90ہزار83 ہیں۔جبکہ کل اموات چارہزار636 ہیں۔ دس لاکھ کی آبادی میں سے صرف تین لوگ کروناسے زندگی کی بازی ہارے۔ چین نے اپنی حکمت عملی سے اس وائرس کوکامیابی کے ساتھ شکست دی۔چین میں اب تک 16کروڑ لوگوں کے کروناٹیسٹ ہوچکے ہیں۔
سائنس دان مسلسل خبردار کررہے ہیں کہ کرونا پہلا یاآخری وائرس نہیں،دنیا کو اپناصحت کانظام بہتربنانے کی ضرورت ہے۔کروناوائرس شکلیں بدل رہاہے اورمسلسل طاقت پکڑ رہاہے۔کروناکی تیسری لہرجسے کروناکی برطانوی قسم بھی قراردیاجارہاہے پہلی اوردوسری لہرسے زیادہ مہلک ہے۔ گزشتہ بیس سال میں انسانوں نے چھ بڑے خطروں کا مقابلہ کیاہے ان میں سارس، مرس، ایبولا، ایوین انفلوئنزا اور سوائن فلو شامل ہیں۔ ہم نے ان پانچ کوتو آسانی سے شکست دیدی لیکن چھٹے وائرس نے پوری دنیا کوہلا کررکھ دیاہے۔سائنس دانوں کے مطابق یہ آخری وبانہیں،ہوسکتاہے اب جونیا وائرس آئے وہ کروناوائرس سے زیادہ خطرناک ہو۔اس لئے ہمیں اپنی قوت مدافعت بڑھانے کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات پربھی نظررکھنی ہوگی۔جہاں سے یہ خطرناک وائرس پیدا ہورہے ہیں۔جانوروں سے بہت سی بیماریاں انسانوں میں منتقل ہورہی ہیں ان میں سے کچھ کم خطرناک ہیں اورکچھ جان لیوا ۔اس کاحل یہ ہی ہے کہ دنیا ان خطرات سے نمٹنے کے لئے ریسرچ کے کام کوآگے بڑھائے۔انسان کی قوت مدافعت کواس حد تک بڑھایاجائے جوہرقسم کی بیماریوں اوروائرس کامقابلہ کرنے کے قابل ہو۔ہمیں اپنی خوراک کے معیار کوبھی بہتربناناہوگا اور طرززندگی کوبھی بدلناپڑے گا۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ دنیا اب ویسی نہیں رہے گی جیسے کہ کروناوائرس سے پہلے تھی۔ 
کروناوائرس کے متعلق عوام کو معلومات فراہم کرنے والی سرکاری ویب سائٹ کوویڈ ڈاٹ گورنمنٹ ڈاٹ پی کے (covid.gov.pk)کے مطابق 21مارچ تک پاکستان میں کروناوائرس کے کنفرم مریضوں کی تعداد 6لاکھ 30ہزار471 اور مر نے و الوں کی تعداد 13ہزار863 ہوگئی ہے۔آپ جب یہ تحریرپڑھ رہے ہوں گے خدشہ ہے کہ یہ تعداد کچھ بڑھ چکی ہوگی۔اب تک 5 لاکھ 83ہزار مریض صحت یاب ہوکر اپنی معمول کی زندگی گزاررہے ہیں۔حکومت نے اب تک جوٹیسٹ کئے ہیں ان کی تعداد 98لاکھ 17ہزار491ہے۔ پہلے کچھ لوگ ٹیسٹ کرانے میں ہچکچاہٹ کامظاہرہ کررہے تھے لیکن اب ہرشخص کی خواہش ہے کہ وہ یہ ٹیسٹ ضرور کرائے۔ دوسری طرف طبی عملے کے بعد بزرگ شہریوں کوبھی کروناویکسین لگانے کاکام جاری ہے،اس کے لئے ایک کمپیوٹرائزڈ اورمربوط طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے، اس میں بھی ہم نے کئی ترقی یافتہ ممالک کوپیچھے چھوڑدیاہے۔
اگرصوبوں کے حساب سے کرونامریضوں کی تعداد کودیکھاجائے توسب سے متاثرہ صوبہ سندھ ہے جہاں کروناوائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد دولاکھ 63ہزارسے زیادہ ہے۔پنجاب دوسرے نمبرپرہے جہاں دولاکھ مریض ہیں۔خیبرپختونخوا میں مریضوں کی تعداد 80ہزارسے زیادہ۔ بلوچستان میں 19ہزار 920،آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں4972۔اسلام آباد میں مریضوں کی تعداد52ہزارسے بڑھ چکی ہے۔(بحوالہ سرکاری اعدادوشمار 21مارچ 2021)
  چین سے خبریں آنے کے بعد کروناوائرس سے نمٹنے کے لئے حکومت نے فوری طورپراقدامات کرنے شروع کردیئے تھے ۔وفاقی وصوبائی حکومتوں کے درمیان بہترکوآرڈینیشن کے لئے ایک نیشنل کمانڈاینڈآپریشن سنٹرقائم کیاگیا ۔جس میں پاک فوج سمیت تمام اداروں اورافراد نے انتہائی لگن کے ساتھ دن رات کام کیااورکامیابی حاصل کی۔یکم اپریل 2020 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں منعقدہ خصوصی بریفنگ میں شرکت کی۔بریفنگ میں شرکاء کو کرونا وائرس سے بچاؤ کے تازہ ترین اقدامات اور وفاقی و صوبائی انتظامیہ کی مدد کے لئے ملک بھر میں فوجی جوانوں کی تعیناتی کے بارے میں آگاہی دی گئی۔اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ''عوام کے تحفظ کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں، ہم معاشرے کے کسی بھی طبقے کو اس وبا کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔فوجی جوان پاکستان کے ہر کونے میں شہریوں تک پہنچیں تاکہ انہیں نہ صرف وبا سے تحفظ بلکہ مصیبت کی اس گھڑی میں تسلی بھی ملے۔ ہم صرف ایک مربوط قومی جدوجہد سے ہی تمام کمزوریوں کو خطرہ بننے سے قبل دور کر سکتے ہیں، وقت پر کئے گئے اقدامات تمام پاکستانیوں کی سلامتی اور فلاح و بہبود کے لئے معاون ہوں گے۔''
وزیراعظم عمران خان نے بھی تین اپریل 2020 کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کا دورہ کیا۔وزیراعظم کے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے دورے کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی موجود تھے۔وفاقی وزیراسد عمر اور ڈائریکٹر جنرل آپریشن نے وزیراعظم کو کرونا کے باعث ملکی صورتحال پر بریفنگ دی۔وزیراعظم عمران خان خودانتہائی توجہ کے ساتھ کروناوائرس سے کئے جانے والے اقدامات پرنظررکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے بھی اس حوالے سے کئی بار مشاورت کی۔ جہاں فوری اقدامات کی ضرورت محسوس ہوئی وہاں بغیر کسی رکاوٹ کے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کئے گئے۔وزیراعظم عمران خان نے خود بھی اس بات کاکئی مرتبہ ذکرکیاہے کہ ان کی کامیاب سمارٹ لاک ڈاؤن پالیسی کاپوری دنیامیں خیرمقدم کیاگیا۔سمارٹ لاک ڈاؤن کے باعث مختلف شہروں میں صرف ان مخصوص علاقوں میں لاک ڈاؤن کیاگیاجہاں کرونامریضوں کی تعداد زیادہ تھی اورکروناپھیلنے کاخطرہ تھا۔لاک ڈائون کے دوران بے روزگارہونے والے لوگوں کے لئے کھانے پینے کاانتظام کرنابھی ایک چیلنج تھا۔حکومت نے غریبوں کے لئے احساس پروگرام شروع کیاجسے عالمی سطح پرسراہاگیا۔ایک طرف غریبوں اورضرورت مندوں کوان کے گھرمیں راشن فراہم کرنے کاانتظام کیاگیاتودوسری طرف احساس پروگرام کے تحت فی خاندان بارہ ہزار روپے فراہم کئے گئے۔اس حوالے سے ثانیہ نشتراوران کی ٹیم نے پروگرام کوکامیاب بنانے میں اہم کردارادا کیا۔ احساس پروگرام کمپیوٹرائزڈ ہے اورطریقہ کارانتہائی شفاف،جس کے لئے کسی سفارش کی بھی ضرورت نہیں۔کم وسائل کے باوجود حکومت اب تک ضرورت مندوں میں بائیومیٹرک سسٹم کے تحت اربوں روپے تقسیم کرچکی ہے۔
   آئین پاکستان کے تحت عوام کوصحت کی سہولیات کی فراہمی بنیادی طورپرصوبوں کی ذمہ داری ہے۔لیکن اس وباسے نمٹنے کے لئے صوبوں اور وفاق کے درمیان کوآرڈینیشن بہت ضروری تھا۔این سی اوسی کے قیام کابے حد فائدہ ہوا۔وفاق نے فوری طورپروینٹی لیٹرز،حفاظتی لباس سمیت ضروری طبی آلات کی فراہمی اورخریداری کے لئے اقدامات کئے۔صوبوں نے ایک دوسرے کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھایا۔کروناوائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال کے لئے آئسولیشن سنٹرزبنائے گئے۔ہم سب جانتے ہیں کہ ابتداء میں پاکستان میں کرونا ٹیسٹ کاانتظام نہ ہونے کے برابرتھالیکن اب تک ایک کروڑلوگوں کے ٹیسٹ ہوچکے ہیں اوریہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔میڈیکل عملے کے لئے حفاظتی کٹس کاانتظام کیاگیا۔طبی عملہ یقینی طورپراس محاذ پرفرنٹ لائن پرتھا۔جس کی اپنی حفاظت بھی بے حد ضروری تھی۔پاکستانی ڈاکٹرز اورطبی عملے نے جس طرح دن رات ایک کرکے اپنے فرائض انجام دیے اسے نہ صرف اندرون ملک بلکہ عالمی سطح پربھی سراہا جارہاہے۔ کئی نامورپاکستانی ڈاکٹرز اورعملے کے افراد ، مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے خود کروناکاشکارہوگئے اوراپنی جان قربان کردی۔ لیکن اس کے باوجود کہیں سے یہ اطلاع نہیں آئی کہ ڈاکٹرز نے اپنی جان بچانے کے لئے مریضوں کوطبی امدادفراہم کرنے سے انکارکیاہو۔ہم سب جانتے ہیں کورناکے تشویشناک مریضوں کے لئے وینٹی لیٹرزانتہائی ضروری ہوتے ہیں۔ایک طرف حکومت نے فوری طورپروینٹی لیٹرزخریدے دوسری طرف اندرون ملک بھی وینٹی لیٹرزکی تیاری کاکام شروع ہوگیا۔ اس کے لئے وزارت سائنس وٹیکنالوجی کے سائنسدانوں اورماہرین نے اہم کردار ادا کیا۔ اب اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں جہاں کروناوائرس کی ابتداء کے وقت چند وینٹی لیٹرزہی تھے اب ہم یہ وینٹی لیٹرز بیرون ملک برآمد کرنے کے بھی قابل ہوگئے ہیں۔
 کروناوائرس جس تیزی سے دنیامیں پھیلا اتنی ہی تیزی سے سازشی تھیوریزبھی پور ی دنیامیں پھیل گئیں یاجان بوجھ کرپھیلائی گئیں ۔ان کامقصد ایک ہی تھاکہ چین کوبدنام کیاجائے اورکروناکی آڑمیں چین پرتجارتی پابندیاں لگادی جائیں ۔وقت اورتحقیقات نے ان تمام سازشی تھیوریز کوغلط ثابت کردیا۔کروناکی وبانے ملکی سرحدیں نہ دیکھیں اوریہ چند دنوں میں ہی امریکہ اوریورپی ممالک میں بھی پھیل گیا۔ہلاکتیں اتنی کہ پوری دنیا خوف میں مبتلاہوگئی ۔ دنیاکے کئی بڑے اورمشہورہسپتال نعشوں سے بھرگئے۔پوری دنیا خوف کاشکارہوگئی ۔ہرکسی کویہ ڈرتھا کہ کہیں وہ کرونا کاشکار نہ ہوجائے ۔کئی طبی ماہرین اورسائنسدانوں نے پیشن گوئی کہ کروناکروڑوں انسانوں کونگل لے گا،جس نے خوف وہراس میں مزیداضافہ کردیا۔
  کرونانے جہاں سینماؤں،تفریح گاہوں اورمیدانوں کی رونقوں کواجاڑ کررکھ دیا وہیں عبادت گاہیں بھی ویران ہوگئیں۔سیاحت کی عالمی صنعت کوشدید دھچکاپہنچا ۔بہت سی بین الاقوامی شہرت یافتہ تقریبات منسوخ کردی گئیں،جن کا پوری دنیا کوانتظارہوتاتھا۔ اس وباسے تعلیمی ادارے بھی متاثرہوئے بغیر نہ رہ سکے۔آن لائن ایجوکیشن کے کلچرکوفروغ ملا۔کہیں آن لائن امتحانات لئے گئے توکہیں امتحانات ملتوی یامنسوخ کردیئے گئے۔ہم ایک ایسے دورسے گزررہے ہیں جس کاپہلے کبھی تصوربھی نہیں کیاتھا۔ہم سب کے لئے یہ ایک بالکل نیاتجربہ ہے، جو اب بھی جاری ہے،ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے رہ کر تیمارداری کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے فاصلہ اختیارکرتے ہوئے ایک دوسرے کاخیال رکھنا ہے۔
  کرونانے دنیاکی سوچ بھی بدل د ی ہے اوریہاں تک کہ کلچربھی بدل کررکھ دیاہے۔دوستوں اورعزیزوں کی محفلیں ختم ہوگئیں ،سماجی فاصلے کی اصطلاح عام ہوئی ۔ہرچہرے پرماسک نظرآنے لگا۔ہاتھ ملانے اورگلے ملنے سے بھی پرہیز کیاگیا۔جن ملکوں کے عوام نے ماسک پہننے اورسماجی فاصلے کوسنجیدگی سے نہیں لیا ،انہوں نے اس کی بھاری قیمت بھی چکائی ۔صرف اسپین اوراٹلی میں چند دنوں میں ہی ہزاروں لوگ لقمۂ اجل بنے توہوش آیا۔ پاکستانی قوم نے ووہان میں کئے جانے والے سخت لاک ڈاؤن سے اس بات کوسمجھ لیاتھاکہ اگرحکومت کے احکامات پرعمل نہ کیاتواس وبا کامقابلہ کرناممکن نہیں۔ سچی بات ہے پاکستانی قوم نے جتنے منظم اندازمیں اس کامقابلہ کیااس پرپوری دنیا حیران ہے ۔ وفاقی اورصوبائی حکومتوں نے فوری اقدامات کئے۔ہسپتالوں میں کروناکے مریضوں کے لئے علیٰحدہ وارڈز بنائے گئے۔کئی شہروں میں کرونا کے بڑے بڑے سنٹرزقائم کئے گئے۔ ڈاکٹرز اورطبی عملے نے کروناکوشکست دینے کے لئے دن رات کام کیا۔کروناکے خلاف وفاقی اورصوبائی حکومتیں ،تمام ادارے اورپوری قوم ایک پیج پرتھی ۔ پاکستانی قوم نے جس طرح کروناکا  اب تک کامیابی سے مقابلہ کیا ہے ہے وہ قابل تحسین ہے۔اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ پاکستانی قوم میں بے پناہ صلاحیت ہے اوروہ چاہے تومشکل سے مشکل چیلنج سے نمٹ سکتی ہے بس اسے مناسب رہنمائی کی ضرورت ہے۔


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلزکے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر اُن کی متعدد کُتب شائع ہو چکی ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 97مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP