صحت

ڈینگی بخار 

ڈینگی بخار کا سبب بننے والا مادہ مچھر جسے Aedes Aegypti کہتے ہیں، لاطینی امریکہ سے مصر منتقل ہوا۔ ڈینگی بخار کی 1950 ء میں پہلی بار ایشیائی ممالک میں شناخت کی گئی۔ پھر یہ وائرس فلپائن، تھائی لینڈ سے ہوتا ہو اتیزی کے ساتھ پاکستان ، بھارت ، افریقہ ، مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیاء کے سو سے زائد ممالک میں پھیل گیا ۔1995 ء کے بعد سے ڈینگی بخار کی شدت میں اضافہ پایا گیا ہے ۔
ڈینگی وائرس کا سبب بننے والی مادہ مچھر جس کے جسم پر سیاہ رنگ کی دھاریاں موجود ہوتی ہیں ، پانی کے ٹینکوں ، گملوں ، نکاسی آب کے راستوں ، بارش کے پانی، جھیل ، ساکن پانی ، صاف پانی کے بھرے ہوئے برتنوں وغیرہ میں انڈے دیتی ہیں اور یہ مچھر زیادہ ترا نسان پر طلوع آفتاب یا غروب آفتا ب کے وقت حملہ آور ہوتے ہیں ۔ 
ڈینگی بخار چونکہ چار مختلف وائرسز سے ہوتا ہے اور اگر کوئی مریض کسی ایک قسم کے وائرس سے صحت یاب ہو چکا ہو تو وہ اس مخصوص وائرس سے تو زندگی بھر کے لئے محفوظ ہو جاتا ہے لیکن دیگر تین اقسام کے وائرس اسے کسی بھی وقت پھر سے انفیکشن میں مبتلا کر سکتے ہیں اور ایک تحقیق کے مطابق وہ دوبارہ Dengue Hemorrhagic Fever  کا شکار ہو سکتا ہے ۔
یہ مچھر تقریباََ 22 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں انڈے نہیں دیتے جس کی وجہ سے ان کی افزائش کا عمل رک جاتا ہے ۔ تاہم ان کے دیئے جانے والے انڈے محفوظ رہتے ہیں جو اپنی نسل کی افزائش کے لئے سازگار موسم کا انتظار کر تے ہیں۔اگست سے دسمبر تک ان مچھروں کے انڈوں کی تیزی سے افزائش ہوتی ہے ۔ 
ڈینگی بخار کی علامات وائرس کے جسم میں داخل ہونے کے تین سے سات دن بعد سامنے آتی ہیں ۔ڈینگی بخار کی علامات میں نزلہ، زکام ، شدید بخار، بھو ک نہ لگنا، آنکھوں کے پیچھے درد ہونا، جسم میں شدید درد، پٹھوں اور جوڑوں میں شدید درد، جسم پر سرخ دھبوں کا نمودار ہوجانا ، سانس لینے میں دشواری ، رنگ کا پیلا پڑجانا ، پیٹ میں درد اور مریض کے خون میں Platelets اور سفید خلیات کی کمی واقع ہوجانا شامل ہے ۔ ڈینگی بخار کے چار مراحل ہوتے ہیں ۔ پہلے مرحلے میں مریض کو شدید بخار اور سر  میں سخت درد اور گھٹنو ں اور جوڑوں میں درد شروع ہو جاتا ہے ۔ دوسرے مرحلے میں شدید بخار اور جسم میں درد کے ساتھ ساتھ بڑی آنت، مسوڑھوں اور جلد سے خون بھی بہنے لگتا ہے ۔ تیسری مرحلے میں نظام دوران خون بھی بہت بری طرح متا ثر ہو تا ہے۔ جبکہ چوتھے اور آخری مرحلے میں مریض کے لئے بہت تکلیف دہ چیزیں ہوتی ہیں۔ جس میں شدید بخار اور درد کی وجہ سے قوت مدافعت میں بہت کمی ہو جانے کی وجہ سے مریض کئی دوسری بیماریوں میں بھی باآسانی مبتلا ہونے لگتا ہے اور زیادہ خون کا رسائو ، شاک اور اچانک بلڈ پریشر میں کمی کا سبب بھی بن سکتا ہے ،جس سے مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے ۔
اس بخار کو بریک بون فیور(Break Bone Fever) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس بخار کے دوران مریض کی ہڈیوں اور پٹھوں میں شدید درد ہو جا تا ہے اور پھر مرض کی شدت میں اس قدر اضافہ ہو جاتا ہے کہ منہ اور ناک سے خون بہنا شروع ہو جاتا ہے ۔ ڈینگی بخار عموماََ ان لوگوں میں زیادہ ہوتا ہے جن کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے ۔ 
اس کے علاوہ شدید انفیکشن کی حالت میں ڈینگی ہمیرجک فیور(Dengue hemorrhagic fever) ہو جاتا ہے ۔جو ایک قسم کا ڈینگی انفیکشن ہے جس میں دو سے سات دن کے لئے بہت تیز بخار ہو جاتا ہے اور مریض کوقے کے ساتھ پیٹ میں درد اور سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے ۔ اس حالت میں Platelets کی تعداد میں کمی کی وجہ سے خون رسنا شروع ہو جاتا ہے اور زیادہ خون کارسائو، شاک اور اچانک بلڈ پریشر میں کمی کا سبب بن سکتا ہے ۔جس سے موت واقع ہو جاتی ہے ۔ ایسی حالت میں مریض کو فوری طور پر ہسپتال میں داخل کروا دینا چاہیئے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگر مریض کا بروقت اور مناسب علاج ہو جائے تو ڈینگی ہمیرجک فیور سے اموات کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے ۔
ڈینگی وائرس خون میں شامل Platelets کو متاثر کرتا ہے ۔ عام حالات میں یہ Platelets انسانی جسم میں تقریباََ 5 سے دس دن تک رہتے ہیں اور جسم میں ان کی ضرورت پڑنے پر ان کی جگہ نئے خلیات بناتے ہیں لیکن ڈینگی وائرس سے متاثرہ فرد میں یہ ڈینگی کے وائرس نئے خلیات بنانے کی جسمانی صلاحیت کو تباہ کر دیتے ہیں۔ ایک نارمل شخص کے فی مائیکرو لیٹر خون میں Platelets کی تعداد تقریباََ150,000  سے450,000   ہونی چاہیے لیکن ڈینگی میں مبتلا افراد میں اس کی تعداد کم ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ جس میں فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہPlatelets کی تعداد پچاس ہزار سے بھی کم ہونے پر صورتحال جان لیوا بھی ہو سکتی ہے ۔ 
ڈینگی وائرس ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل نہیں ہو سکتا ہے ۔ اس وائرس کے ایک انفیکشن کا دورانیہ اس وقت مکمل ہوتا ہے جب مچھر وائرس کے ساتھ انسان کو کاٹتا ہے اور وائرس کو خون میں منتقل کر دیتا ہے ۔ جس سے وہ انسان ڈینگی میں مبتلا ہو جاتا ہے جبکہ دوسرے انسان میں اس وائرس کے پھیلنے کا خطرہ اس وقت ہوتا ہے جب ایک مچھر جس میں ڈینگی کے وائرس پہلے سے موجود نہیں ہوتے ، ڈینگی کے مریض کو کاٹ لیتا ہے اور پھر یہ وائرس اس متاثرہ فرد سے مچھر میں بھی منتقل ہو جاتا ہے اورپھر جب وہ مچھر کسی صحت مند انسان کو کاٹتا ہے تووائرس اس فرد میں بھی منتقل ہو جاتا ہے ۔ اس لئے یہ لازمی ہوتا ہے کہ ڈینگی کے مریضوں کو سب سے الگ رکھا جائے تاکہ ڈینگی کے وائرس کو صحت مند افراد تک پھیلنے سے روکا جاسکے ۔
 جدید تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ یہ بخار زیادہ خطرناک نہیں ہوتا ہے اور ضروری دیکھ بھال اور باقاعدہ علاج سے صرف ایک سے دو ہفتے کے دوران مریض شفایاب ہو سکتا ہے ۔ اس لئے جیسے ہی مندرجہ بالا علامات میں سے کوئی علامت ظاہر ہو، مریض کو جس قدر ممکن ہو پانی اور مشروبات وغیرہ پلانا چاہئیں اور فوری قریبی میڈیکل سینٹر سے رابطہ کرنا چاہیے ۔ڈینگی بخار میں ایسی غذائیں مریض کو دینی چاہئیں جو قوت مدافعت میں اضافہ کا باعث بنتی ہیں ۔ زودہضم اور ہلکی غذائیں استعمال کریں اور مر چ مسالے کا استعمال کم سے کم کرنا چاہیے ۔ 
مریض کو بخار کی صورت میں کوئی بھی دوا خود سے دینے سے گریز کرنا چاہیے مگر ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق علامات کو دور کرنے والی اور درد کو کم کرنے والی عام ادویات مریض کو دی جاسکتی ہیں ۔مریض کواسپرین (Aspirine) کا استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے خون پتلا ہو جاتا ہے اور پھر اندرونی طور پر خون کے بہائو یا رسائو کاسبب بن سکتا ہے ۔کچھ پرائیوٹ ڈاکٹر مریض کو ڈینگی بخار کے لئے طرح طرح کی دوائیاں دے دیتے ہیں جن میں اینٹی ملیریا اور مختلف اینٹی بائیوٹک بھی شامل ہیں جو ڈینگی کے بخار میں بالکل بھی نہیں دینی چاہیے ۔Platelets کی کمی کی صورت میں مزید Platelets کی فراہمی فوری طور پر کرنا چاہیے ۔
ڈینگی مچھر سے احتیاط ہی اس مرض سے بچنے کا واحد ذریعہ ہے اور احتیاطی تدابیر میں ہفتے میں دو سے تین بار گھر ، دفاتر اور دکانوں میں صفائی کر کے مچھر مار سپرے کرناچاہیے ۔ گھر کے ہر کونے اور بستروں اور صوفہ سیٹ وغیرہ کے نیچے ٹھیک طریقے سے سپرے کرنا چاہیے ۔ یہ مچھر عموماََ صبح اور شام کے اوقات میں زیادہ کاٹتے ہیں ،اس لئے ان اوقات میں خصوصی احتیاط کرنی چاہیے ۔مچھروں سے بچنے کے لئے دروازے اور کھڑکیوں پرجالی لگوائیں ،اور دروازوں اور کھڑکیوں کے پردوں پر اور پردوں کے پیچھے مچھر مارسپرے کرناچاہیے ۔
ڈینگی پھیلانے والے مچھرچونکہ صاف پانی میں رہتے ہیں لہٰذا پانی کی ٹینکی ، بالٹیوں اور دوسرے برتنوں کو ڈھک کر رکھنا چاہیے ۔ کسی بھی پانی ذخیرہ کرنے والے برتن میں ایک ہفتہ سے زائد پانی نہیں رکھنا چاہیے ۔ گھروں کے اندر اور باہر پانی جمع نہ ہونے دیں ۔ ڈینگی مچھر استعمال شدہ ٹن کے خالی ڈبوں اور گاڑیوں کے ٹائروں میں بھی پرورش پاسکتے ہیں ۔لہٰذا اس قسم کی چیزوں میں جن میں پانی ہو انہیں خالی رکھنا چاہیے ۔ پودوں کے گملوں اور کیاریوں  کے آ س پاس بھی پانی زیادہ عرصہ تک جمع نہیں رہنے دینا چاہیے ۔مچھر کے حملہ سے بچنے کے لئے پوری آستین والی قمیض اور مکمل ڈھکا ہوا لباس پہننا چاہیے اور مچھر بھگانے والا لوشن استعمال کرناچاہیے ۔
ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کے لئے مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں اور بچوں، حاملہ خواتین اور عمر رسیدہ افراد کو آرام کے اوقات میں مچھر دانی میں آرام کرنا چاہیے ۔ صبح اور شام کے اوقات میں پارک میں چہل قدمی کے لئے جوگر اور جرابیں استعمال کریں ۔
صفائی نصف ایما ن ہے اور ہم اپنے گھروں اور علاقوں کو صاف ستھرا رکھ کر اور ڈینگی سے بچائو کی تدابیر اختیار کر کے ہم اس بیماری کا شکار ہونے سے بچ سکتے ہیں ۔ ہم اپنے اردگرد ماحول کی صفائی ستھرائی کا خیال کر کے نہ صرف ڈینگی بخار بلکہ بہت سی دیگر بیماریوں سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں. ||


 مضمون نگارمائیکرو بیالوجسٹ ہیں اورمختلف اخبارات میں کالم لکھتی ہیں ۔
[email protected]

یہ تحریر 227مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP