انٹرویو

ڈاکٹر انعام الحق جاوید

نیشنل بک  فاؤنڈیشن کتاب اور قاری کے رشتے کو مضبوط کرنے
 کی تگ و دو کا سفر جاری رکھے گی۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید
نیشنل بک  فاؤنڈیشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر، ماہر تعلیم اوراردو ادب کے ممتاز شاعر و ادیب ڈاکٹر انعام الحق جاوید سے صبازیب کی ہلال کے لئے گفتگو

بے شک دور جدید میں دنیا ایک ہتھیلی میں سمٹ چکی ہے اور معلومات حاصل کرنا انگلی کی ایک جنبش کی مرہون منت ہے۔ لیکن مستند معلومات کے لئے کتاب کی اہمیت سے آج بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ آج بھی مہذب معاشرے اپنی آنے والی نسلوں کو کتاب کی افادیت کے بارے میں نہ صرف بتاتے ہیں بلکہ ان کے سامنے عملی نمونے کے طور پر خود بھی کتابیں پڑھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل میں کتابیں پڑھنے کا رجحان بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔ پاکستان میں اس کی مثال نیشنل بک فاؤنڈیشن کا ادارہ ہے جہاں سے ہر سال کروڑوں روپے کی کتابیں لاکھوں افراد خرید رہے ہیں اسی رجحان کو دیکھتے ہوئے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی سربراہی میں''امن انقلاب بذریعہ کتاب'' کے سلوگن کے تحت کردار سازی، شخصیت سازی، بہتر معاشرے کی تشکیل اور پاکستان کے روشن مستقبل اور سافٹ امیج کو متعارف کرانے کے لئے ایک ہزار مفید، معلوماتی، معیاری اور کم قیمت کتب شائع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو ابھی تک کامیابی سے جاری ہے۔ڈاکٹر انعام الحق جاوید 2014 سے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔ اس سے قبل وہ اکادمی ادبیاتِ پاکستان، مقتدرہ قومی زبان، علامہ اقبال ا وپن یونیورسٹی اور الخیر یونیورسٹی میں نمایاں عہدوں پر فائز رہ کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیںڈاکٹر انعام الحق جاوید درجنوں کتابوں کے مصنف ہیں جبکہ شاعری میں بھی ان کا شمار صفِ اول کے شعراء میں ہوتا ہے۔ مزاحیہ شاعری میں بھی یہ ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ انہیں ادبی خدمات کے اعتراف میں صدارتی ایوارڈ پرائیڈ آف پرفارمنس بھی مل چکا ہے۔
 کتاب کی اہمیت و افادیت کے حوالے سے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے کردار کے متعلق ڈاکٹر انعام الحق جاوید سے ہماری ایک نشست ہوئی جس کا احوال درج ذیل ہے۔

س۔     آپ کی نظر میں کتاب لکھنے کا مقصد کیا ہے؟
 بات یہ ہے کہ انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو اس دنیا سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔ میرے اساتذہ نے مجھے پڑھایا بچپن سے لے کر اب تک یہ اس دنیا نے دیا۔ میری یہ خواہش ہے کہ دنیا نے تو مجھے بہت کچھ دیا لیکن میں دنیا کو کیا دے کر جارہا ہوں۔ یہ اس کا ایکشن اور ری ایکشن ہے۔ میں دوسروں کو بھی کہتا ہوں کہ جو دنیا نے آپ کو دیا ہے وہ دنیا کو بھی دیں۔ اگر دنیا سے آپ کو دولت ملی ہے تو دنیا کو آپ دولت کی شکل میں کیا دے کر جا رہے ہیں۔ علمی شکل میں دیا ہے تو آپ کیا دے کر جا رہے ہیں اگر آپ اپنا عہدہ بنا کر سب کچھ لے کرچلے گئے تو آپ نے تو نئی نسل کو کچھ نہیں دیا۔ یہ سب کچھ وہ تجربات ہی ہوتے ہیںچاہے وہ شاعری کی شکل میں ہوں، نثر کی شکل میںہوں، سفر نامے کی شکل میںیا اقوال کی شکل میں جو بھی حاصل کیا ہے وہ دوسروں کے ساتھ شیئر کردینا چاہئے تاکہ دوسرے بھی اس سے استفادہ کریں۔ میرا بھی کتاب لکھنے کا مقصد یہی ہے۔ شاعری میں بھی میرا مؤقف یہی ہے۔ شعر کا لفظ شعور سے نکلا ہے اور شعر وہ ہوتا ہے جو آپ کو شعور دیتا ہے۔ شعور یعنی دانش اور دانائی کی بات کرتا ہے۔ جیسے میاں محمد صاحب کے شعر ہیں، جیسے علامہ اقبال کے شعر ہیں، جیسے غالب کے شعر ہیں۔ میں نے اپنی زیادہ تر کتابوں میں دانش اور دانائی کی باتیں ہی کی ہیں۔ یہ دانش اور دانائی کی باتیں ہی دوسروں کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں اور ان کی زندگی بدل جاتی ہے۔ شعر آپ کو ہمت دیتا ہے حوصلہ دیتا ہے اور شعور دیتا ہے۔ یہ ایک رسیونگ کلمہ ہوتا ہے۔ شعر تو آپ نے بہت پڑھے ہوں گے۔ بہت سے اساتذہ نے نصیحتیں بھی کی ہوں گی اچھی باتیں ذہن میں آئی بھی ہوں گی لیکن بات یہ ہے کہ کیا آپ کی زندگی ان سے تبدیل ہوئی ہے لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے جب آپ رسیونگ اینڈ پر ہوتے ہیں اور آپ کو وہ بات اپنی طرف کھینچ لیتی ہے اور آپ کی زندگی بدل جاتی ہے۔ یہی سب سوچ کر میں نے بھی شعر لکھے اور کتابیں لکھیں۔ یہاں تک کہ نیشنل بک فائونڈیشن میں آنے کے بعد میں نے تختیوں پراقوال زریں لکھوائے اور انہیں یہاں جگہ جگہ نصب کروایاکیونکہ یہ چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ کوئی پتہ نہیں ہوتا کہ کون سی بات کب اثر کر جائے اور انسان کی زندگی  بدل جائے۔
س۔     نیشنل بک  فاؤنڈیشن کے قیام کا مقصد کیا تھا فائونڈیشن کی بہتری کے لئے آپ نے کیاکیا کام کئے؟
نیشنل بک  فاؤنڈیشن 1972ء میں قائم کی گئی جس کا مقصد کتاب بینی اور 'کتاب کلچر' کو فروغ دینا تھا۔اب تو ہم فیڈرل، ٹیکسٹ بک بورڈ کے طور پر بھی کام کررہے ہیں۔ ہماری شائع کی ہوئی تقریباً 72 کتابیں ملک کے مختلف کالجوں اور بیرون ملک میں بھی پڑھائی جارہی ہیں۔
 میری خواہش ہے کہ کتابیں خوبصورت اور معیاری ہونے کے ساتھ ساتھ سستی بھی ہوں تاکہ ہر کسی کی رسائی ان تک ہوسکے۔میں نے نیشنل بک فائونڈیشن کی دکانوں پر کتابوں کی ترسیل اور نمائش کے نظام کو بہتر کیا۔ ان دکانوں میں زیادہ سے زیادہ موضوعات پر کتابوں کی دستیابی کو ممکن بنایا ہے اور سیل کا نیا فول پروف کمپیوٹرائزڈ نظام وضع کیا گیاہے۔ اس طرح ملک بھر میں موجود این بی ایف کے 24آئوٹ لِٹس (outlets) اور مختلف شہروںمیں لگائے گئے کتب میلوں میں سے قارئین نے کروڑوں روپے کی کتابیں پڑھنے کے لئے خریدیں۔ اس کے علاوہ این بی ایف نے موبائل بک شاپس کے ذریعے دور دراز علاقوں میں رہائش پذیر افراد کے لئے کتب ان کے دروازے تک پہنچانے کا بندوبست بھی کررکھا ہے۔ اس سلسلے میں Books on wheels کے نام سے کے پی گورنمنٹ سے بسیں حاصل کی گئیں۔ جو اسی صوبے کے مختلف علاقوں مردان، نوشہرہ، سوات، بنوں، چارسدہ، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، مانسہرہ، مالاکنڈ اور خیبرپختونخوا کے دیگر دوردراز علاقوں کے مکینوں کے لئے "Books at your door step"  کے نظریے کو عملی جامہ پہنا رہی ہیں۔ انہی بسوں کے ذریعے چترال اور دیگر دشوار گزار علاقوں کے علاوہ آئی ڈی پیز کے لئے خیبر ایجنسی میں بھی تین روزہ بُک  کیمپ لگایا گیا جہاں آئی ڈی پیز فیملیزبشمول بڑوں اور بچوں کو مفت کتابیں فراہم کی گئیں۔ ''ریڈرز کلب'' کے نظام کو کمپیوٹرائزڈ کرکے اس کی ممبر شپ کے دائرے کو پورے ملک میں وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سکیم سے فائدہ اٹھا کر 50 اور 55 فیصد رعایت پر کتابیں اپنے اپنے علاقوں سے خرید سکیں۔ اس سلسلے میں این بی ایف نے اپنے چوبیس آئوٹ لِٹس (outlets) کے علاوہ ملک بھر میں 100 سے زائد بک شاپس کو پینل پر لیا ہے اور خریداری کی حد 6 ہزار کردی گئی ہے۔
س۔    نوجوان نسل کو کتاب پڑھنے کی طرف راغب کرنے کے لئے نیشنل بک فائونڈیشن نے اب تک کیا اقدامات کئے؟
اس سلسلے میں نیشنل بک  فاؤنڈیشن نے اپنی بک شاپس کی تزئینِ نو کی ہے اورانہیں اپ ڈیٹ کرکے انہیں کلب کا درجہ دیا گیاہے۔ جہاں کتابیں پڑھی جاسکتی ہیں اور پسند کی کتاب تلاش بھی کی جاسکتی ہے۔ مختلف شہروں میں موجودہ این بی ایف کی بک شاپس کو انٹرنیشنل بک کلبز کی طرز پر بنایا گیا ہے جن میں جدید تقاضوں کے مطابق خریداروں کے لئے بنک کارڈ کے استعمال اور وائی فائی کی سہولیات کے علاوہ موقع پر ریڈرز کلب کی ممبر شپ حاصل کرنے کے لئے ویب کیمرے، کمپیوٹر اور دیگر جدید سہولیات فراہم کی گئیں ہیں۔ ہر سال 800 سے زائد مرتبہ کتابوں کی نمائش کا اہتمام کیاجاتا ہے۔ اس کے علاوہ ''ای بک'' پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ این بی ایف کی نئی ویب سائٹ بنائی گئی ہے فیس بک اور ٹویٹر اکائونٹس سے روانہ ہزاروں لوگ استفادہ کررہے ہیں۔ کتاب کلچر کے فروغ کے لئے نیشنل بک فائونڈیشن کا سفر تیزی سے جاری ہے۔ اسے اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے لئے مختلف منافع بخش سکیموں پر بھی عمل شروع کردیا گیا ہے جس کے تحت 2014 سے اب تک انتہائی معقول منافع حاصل کیا جارہا ہے۔
س۔    ایک دانشور اور ماہر تعلیم کی حیثیت سے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک کی تعلیمی پالیسی دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے؟
ج۔    میرے خیال سے ہمارا تعلیمی معیار اتنا بھی گرا ہوا نہیں جتنا یہاں لوگ شور کررہے ہوتے ہیں۔ بہتری کی گنجائش ہر جگہ ہوتی ہے۔ ہمارا ملک ترقی کررہا ہے اور بہت سے ممالک سے بہت بہتر حالات میں ہے۔ 195 ممالک میں سے ہمارا ملک ساتواں ہے جس نے ایٹم بم بنایا۔ ہم نے فرانس کی مدد سے ایٹمی آبدوز بنائی، بہت سے ممالک ہم سے بہتر ہو کر بھی یہ سب نہیں کرسکے۔ یہ سب کچھ اسی تعلیمی معیار سے ہی ممکن ہوا ہے۔
س    کیا کتاب کے ذریعے پُرامن انقلاب لایا جاسکتا ہے؟
اس میں بالکل بھی کوئی شک نہیں۔ ایک ہزار معیاری اور مفید کتابیں چھاپنے کا عزم لے کر ہم نے جو کام شروع کیا ہے اس کے تحت ہم کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں نیشنل بک فائونڈیشن کتاب اور قاری کے رشتے کو مضبوط کرنے کی تگ و دو کا سفر جاری رکھے گی۔
س۔    ہلال کے قارئین کے لئے کوئی پیغام؟
 میں ہمیشہ ایک ہی نصیحت کرتا ہوں کہ دوسروں کا خیال رکھیں، ہم اکثر یہ کہتے ہیں کہ Take Care یعنی اپنا خیال رکھنا یہ تو ہر کوئی رکھتا ہے۔ بات یہ ہے کہ آپ دوسروں کا خیال رکھیں۔ ان کے لئے تکلیف کا باعث نہ بنیں۔ میں اگر پی ایچ ڈی ہو کر بھی گاڑی غلط سائیڈ سے ٹرن کروں گا تو مجھ میں اور ایک اَن پڑھ انسان میں کیا فرق رہ جائے گا۔ راہ چلتے ہوئے ہاتھ میں پکڑے ہوئے چھلکے اگر کسی کوڑے کی ٹوکری میں پھینکنے کے بجائے میں سڑک پر پھینک دوں گا تو یہ دوسروں کے لئے تکلیف کا سبب بن سکتے ہیں۔ جب میں یہاں نیشنل بک فائونڈیشن آیا تو یہاں گملوں میں بہت سے پودے لگے ہوئے تھے۔ کچھ گملے خالی بھی تھے۔ کچھ میں چھوٹے پودے تھے کچھ میں بڑے۔ میں نے سب پودوں کا خیال رکھا اور خالی گملوں میں ایسے پودے لگوائے جن سے فائدہ حاصل ہو۔ خالی زمین پر پھل دار درخت لگوائے تاکہ یہاں سے لوگ پھل حاصل کر سکیں۔لہٰذا انسان کو خیرِکثیر بننا چاہئے ایک ایسا خوبصورت انسان جو معاشرے کے کام آسکے، جو ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔

یہ تحریر 87مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP