متفرقات

چیف گیسٹ

  اسلام آباد جیسے غیر ثقافتی شہر میں آپ اگر چاہیں کہ آپ کو یہاں کے دانشوروں اور فنکاروں کی کوئی چھپی ہوئی ڈائریکٹری مل جائے تو یہ امریکہ کا ایران کے ساتھ خوشگوارروابط رکھنے کے مترادف ہے لہٰذاآپ اس سوال کا جواب یہی سمجھ لیں کہ ہمارے ثقافتی اداروں کا کام فنکاروں کی ڈائریکٹری چھاپنا نہیں بلکہ اپنے ڈائریکٹروں کی تنخواہیں چھاپنا ہوتا ہے، ہماری آرٹس کونسلوں کا فنکاروں سے اتنا ہی رشتہ اورتعلق ہے جتنا کہ ہمارے سفارت خانوں کا غیر ممالک میں بسنے والے ہم وطن پاکستانیوں سے ہوتا ہے۔ اسلام آباد میں دانشوروں اورفنکاروں کی ڈائریکٹری شائع ہو نے کی تو شائد اس لئے بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ یہ شہرفنکاروںکے بجائے سرکاری اہلکاروں کا شہر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں فنکاروں کی تعداد ہے ہی کتنی جو ڈائریکٹری شائع کی جائے؟ یہاں کے فنکاروں اور دانشوروں کی تعداد تو انگلیوں پہ گنی جاسکتی ہے۔ مگرماسی مصیبتے کو یہ شک ہے کہ دیگرشعبوں کی طرح ہماری تعلیم کا معیار بھی شائد اتنا گر چکا ہے کہ تعلیمی اداروں کے معلم بھی انگلیوں پہ گننا بھول چکے ہیں۔ ہمیں ماسی کی اس بات میں اُس وقت وزن محسوس ہوتا ہے جب کسی تعلیمی ادارے سے کسی معلم کا یہ فون آتا ہے کہ جناب ہمیں اپنے ادارے کے فنکشن کے لئے کسی فنکار کو بطور مہمان بلاناہے۔ اگر آپ نہیںآسکتے تو پلیز آپ ہمیں کسی اور فنکار کا نام اور فون نمبر بتا دیں ۔ یہ بھی ایک ثقافتی کہاوت بنتی جارہی ہے کہ اسلام آباد میںصرف وہی فنکار رہتے ہیں جو کہیں اور نہیں رہ سکتے۔ ان فنکاروں میں اکثریت ان کی ہے جو فنکاری کو سب سے آسان اور منا فع بخش کاروبار سمجھ کر اسے اس لئے اپناتے ہیں کہ انہیں اور کوئی کام نہیں آتا اور جسے کوئی اور کام آتا بھی ہو تو وہ مکمل اداکار کبھی نہیں بنتا ''آدھاکار'' ہی رہ جاتا ہے۔اسلام آبادمیں دفتری کارروائی تو صبح دس بجے شروع ہو سکتی ہے مگر ثقافتی کارروائی(فلم یا ٹی وی ڈرامے کی شوٹنگ) سہ پہر سے پہلے شروع نہیں ہوتی اور وہ اس لئے کہ آدھے فنکار لوگ بستروں پہ ہوتے ہیں اور باقی کے آدھے دفتروں یا دوکانوں میں۔ فنکاروں کے دیرسے اٹھنے اور دیر تک سونے کی بدولت اکثر فنکاروں کے شناختی کارڈ اس لئے نہیںبن پاتے کہ وہ بستر سے دو بجے اُٹھتے ہیں اور چار بجے شاختی کارڈ کا دفتر بند ہو جاتا ہے۔ فنکاروں کے فون اور بجلی گیس کے کنکشن بھی اسی لئے کٹ جاتے ہیں کہ وہ بنک اوقات میں کبھی بل جمع نہیں کرا پاتے۔  
اسلام آباد کی ادبی منڈی میں اعلیٰ مقام و مکان رکھنے والے بالکل اتنے ہی لوگ پائے جاتے ہیں جتنا کہ ہمارے ہاں کھانے  پینے کی اشیأ میں خالص اجزا پائے جاتے ہیں۔چنانچہ اسے غنیمت سمجھتے ہوئے ادبی محفلیں جمانے والے انہیں پے در پے چیف گیسٹ بنانے کے در پے رہتے ہیں۔ نئے اور ابھرنے والے دانشوروں اور فنکاروں نے اسلام آبادمیں چیف گیسٹ کی اس قلت کو محسوس کرتے ہوئے اپنے وزیٹنگ کارڈ پہ نام کے ساتھ ''چیف گیسٹ'' بھی لکھوانے کی ٹھان لی ہے۔ اسلام آباد میں چیف گیسٹ کی درجہ بندی بھی پائی جاتی ہے، دیگر '' بندیوں '' یعنی منصوبہ بندی، ناکہ بندی، اور ٹریفک کی پابندیوں میں چیف گیسٹ کی درجہ بندی وہ واحد بندی ہے جو کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ اونچے درجے کے سرکاری مہمانوں میں سب سے زیادہ مقبول اور موجود مہمان خصوصی ہمارے ایک وزیر پائے جاتے ہیں۔ ان کی مہمان بننے کی مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ انہیں اپنے دفتر میں ٹِک کربیٹھنے کا موقع ہی نہیں ملتا چنانچہ انہیں کسی فنکشن میں جاتے ہوئے کار میں ہی فائلیں رکھتے ہوئے دیکھا جا سکتاہے۔ ان کے بارے میں سرگم کا کہنا ہے کہ ان سے ملنے کی خواہش رکھنے والے چالاک ملاقاتی ان کے دفتر جانے کے بجائے شہر کی کسی بھی سڑک پہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ کچھ دیر بعد وزیر صاحب کسی فنکشن کا سرکاری مہمان بننے کے لئے یہاں سے دن میں کئی بار گزریں ہی گزریں۔ ادبی پروگراموں میں پروفیسرانور مسعوداور افتخار عارف جیسے معتبر دانشور وں کے علاوہ ثقافتی یا موسیقی کے پروگراموں میں چیف گیسٹ کے لئے دور دور تک بلکہ گوجر خان تک کوئی نام ذہن میں نہیں آتا۔ مرحوم طفیل نیازی کے بعد اس شعبے میںچیف گیسٹ بننے کی جگہ وزارت پرائس کنٹرول کی طرح کافی عرصہ سے خالی پڑی ہوئی ہے۔ زنانہ سکول کالجز میں ڈراموں کے مقابلوںکے لئے ثقافتی جج صاحبان تو بنے بنائے مل جاتے ہیںالبتہ ان میں اکثریت ان ججوں کی ہوتی ہے جن کے خود اپنے کیس ٹی وی پہ کام نہ ملنے کے مقدمے کی صورت میں پروڈیوسر وں کی عدالت میں لٹک رہے ہوتے ہیں۔سکول کالجز کے ثقافتی پروگراموں کے لئے لیلیٰ زبیری اور کنول نصیر صاحبہ اتنی بار چیف گیسٹ بن چکی ہیں کہ اس شعبے میں اب وہ چیف گیسٹ سے زیادہ چیف جسٹس لگنی شروع ہو گئی ہیں۔ اس کی ایک وجہ اسلام آباد میںنامور خواتین کی اس قدر کمی ہے کہ خاتون اداکارہ ٹی وی ڈرامے تو کیا ٹی وی پروڈیوسر کی آنکھ میںڈالنے کو نہیں ملتی۔ دوسری طرف رمضان اور محرم الحرام کے شروع ہونے سے پہلے جس طرح ہمارے ہاں گلی گلی بے تحاشہ شا میانے لگتے اور ہوٹل ہوٹل بے پناہ شاد یانے  (میوزیکل پروگرام) بجتے ہیں،ان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم لوگ خوشی کی منصوبہ بندی کرنے میں کتنے ایڈوانس واقع ہوئے ہیں۔ ان مہینوں کی آمدسے پہلے ہم اپنی شادیاںاور موسیقیاں دھڑا دھڑ کچھ اس طرح بھگتا رہے ہوتے ہیں جیسے جنگ یاہڑتال کی خبر سن کر گھرمیں ایڈوانس راشن ڈال لیا جاتا ہے۔ رمضان کے مہینے میں جہاں قوال خوش نظر آتے ہیں وہاںخاص گلوکار اور عام سازندے سر عام اداس پھر رہے ہوتے ہیں۔ کچھ اسی طرح ہمارے تعلیمی اداروںمیں گرمیاں ختم ہونے کے بعد غیر نصابی سرگرمیاں اس شدت سے شروع ہو جاتی ہیں کہ ان میںملوث لوگوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔ سکول، کالجز میںطلبأ و طالبات کے امتحانا ت ختم ہو تے ہی ان کے ٹیچرز کے امتحان شروع ہو جاتے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا امتحان اپنے سکول، کالج کے کسی ورائٹی پروگرام کے لئے کوئی فارغ اور اپنے خرچے پہ آسانی سے دستیاب ہونے والا چیف گیسٹ تلاش کرنا ہو تا ہے۔ یہ وہی دن ہوتے ہیں جن میں چیف گیسٹوں کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ بقول سرگم، دیگر اجناس کے برعکس چیف گیسٹ ایک ایسی جنس ہے جس کی قلت کے زمانے میں بھی وہی قیمت برقرار رہتی ہے جو عام پیداوار کے دنوں میں پائی جاتی ہے۔ چند موقع شناش لوگوں نے اس قلت کا فائدہ اُٹھانے کی بھی ٹھان لی ہے چنانچہ انہوں نے چیف گیسٹ کو کمرشل بنانے کے لئے غور و خوض شروع کر دیا ہے۔ عین ممکن ہے  آپ کو کچھ عرصے بعد اخبارات میں چیف گیسٹ کی دستیابی کے بارے میں کچھ اس طرح کے اشتہارات دیکھنے کو ملیںکہ،'' آپ کے شہر میں چیف گیسٹ کی قلت کا سدباب''پہلے بلایئے اور پہلے پایئے کی بنیاد پہ ایک قابل قبول صورت والاچیف گیسٹ دستیاب ہے، جس کے پاس سرکار کا دیا سب کچھ ہے جس میں سرکاری گاڑی، سرکاری پیٹرول کے علاوہ بے تحاشہ فارغ دفتری اوقات بھی شامل ہے۔ چیف گیسٹ ریسکیو ون فائیو کی طرح مشکل وقت میں ایک ہی ٹیلیفون کال پر موقع پہ پہنچ جاتا ہے جہاں اسے بلایا جائے''۔انکل سرگم کا کہنا ہے کہ شہرت یافتہ چیف گیسٹ کی عمر کے ساتھ ساتھ   دعوت کی جگہ بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ مثلاً کسی گرلز کالج کی قسمت اورانویٹیشن کارڈ میں وہی مردانہ چیف گیسٹ لکھا جاتا ہے جس کی عمر پچاس سے اوپر ہو۔ کچھ چیف گیسٹ جو شکل و صورت سے بے ضرر لگتے ہیں انہیں کبھی کبھار اس پابندی سے چھوٹ بھی مل جاتی ہے ، البتہ ہمارے کچھ دوست ایسے بھی ہیں کہ جن کی شکل اور چال ڈھال دیکھ کر گرلز کالج کی انتظامیہ سوچ میں پڑ جاتی ہے کہ انہیں لیڈی چیف گیسٹ کی لسٹ میں شامل کیا جائے یا مردانہ چیف گیسٹ کی لسٹ میں؟ سرگم کے اندازے کے مطابق ،''پردوں اور مردوں ''کی پابندی والے زنانہ کالج احتیاطاً ہماری کشور ناہید کوبے حد چاہنے کے باوجود اپنے کسی زنانہ فنکشن میں چیف گیسٹ بنانے سے کتراتے ہیں۔چنانچہ کشور ناہید بھی انتقاماً مردانہ پروگراموںکی چیف گیسٹ بننے میں خوشی اور سکون محسوس کرتی ہیں۔ زنانہ کالجز کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ کسی خاتون کو ہی بطور چیف گیسٹ مدعو کرے اور اگر خاتون دستیا ب نہ ہو تو پھر کسی ایسے مرد کو تلاش کیا جائے جو عمر رسیدہ ہو مگر اتنا بھی نہ ہو کہ اسے ہاتھ پکڑ کر اسٹیج تک پہنچایا جائے۔ بقول ماسی مصیبتے، عمر رسیدہ چیف گیسٹ بنا نے میں زنانہ و مردانہ سکول کالجز کو کئی فائدے نظر آتے ہیں اور وہ یہ کہ ایک تو عمر رسیدہ بندے بے ضرر ہو تے ہیں اور دوسرا یہ کہ ان میں اکثر شوگر کے مریض ہوتے ہیں جو فنکشن کے بعدپلائی جانے والی چائے کے دوران صرف پھیکی چائے ہی پینے پہ مجبور ہوتے ہیں ، چنانچہ ان کی مجبوری اور بیماری کا پُورا پورا فائدہ اُٹھاتے ہوئے سکول کالج کے سٹاف ممبرز،چائے کے ساتھ رکھے کیک بسکٹ اور سموسے وغیر خود ہی پھڑکا جاتے ہیں۔ کچھ شر میلے قسم کے وضع دار چیف گیسٹ استقبالئے میں دی گئی چائے پیسٹری کھانے سے دریغ  تونہیں کرتے مگر چائے میں چینی اور منہ میں کیک یامٹھائی  ڈالنے سے پہلے شوگر کنٹرول کی گولی رکھ لیتے ہیں تاکہ بیماری یا کمزوری کسی طرح ظاہر نہ ہو۔ بات ہورہی تھی تعلیمی اداروںکے پروگراموں     کے لئے مہمانانِ خصوصی کی قلت کی، جس کے لئے ہر سال ان اداروں کو مشکل کا سامناکرنا پڑتا ہے۔ اس قلت کو دور کرنے کے لئے ہماری منسٹری آف ایجوکیشن اگر چاہے تو اپنے زیر کفالت چیف گیسٹ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ بھی قائم کر سکتی ہے جس میں مہمان خصوصی بننے کے خصوصی آداب سکھلائے جائیں اورچیف گیسٹ بننے کے شوقین خواتین و حضرات کو بتلایاجائے کہ ہنگامی حالات میںچیف گیسٹ بننے کے لئے کیسے تیار رہنا چاہئے۔ 


مضمون نگار پاکستان کے مشہور ٹی وی آرٹسٹ اور پروگرام ڈائریکٹر ہیں۔ معروف Puppetٹی وی شو 'کلیاں' ان کی وجہ شہرت بنا۔ آپ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 77مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP