متفرقات

چھور،اِدھر ڈوبے، اُدھر نکلے

جیپ میں بیٹھتے ہی میں نے مڑ کر دیکھا اور ایک آہ کے ساتھ Desert Warfare School کے گیٹ  پر نظر ڈالی اور دل ہی دل میں ایک عہد کیا کہ معاملات زندگی اور مسائلِ روزگار کتنے کٹھن کیوں نہ ہوں یہاں کبھی دوبارہ نہیں آئوں گا۔ جنوری 1994میں یونٹ نے مجھے ریگستانی جنگ میں مہارت حاصل کرنے کے لئے  عمر کوٹ کی تحصیل چھور میں پاک آرمی کے قائم Army Desert Warfare School بھیجا۔ 1994کے سال کاپہلا دن میں نے چھور کے صحرا کے بلند ترین ریگستانی ٹیلے سے قلابازی لگاکر شروع کیا ۔ہمارے رحم دل استاد ہمیں ان ریت کے ٹیلوں کے بارے میں جاننے کے لئے لے آئے ۔اور پھرسر سے پاوُں تک ریت کھانے سے ہمیں ریت کی کیمیائی خصوصیات کو سمجھنے کا بھرپور موقع فراہم کیا ۔



1994 میں چھور کینٹ تک پہنچنا ایک مشکل عمل تھا ۔میں نے کراچی سے چھور جانا تھا اس جگہ پہنچنے کے لئے مجھے کافی راہ نمائی کی ضرورت پڑی۔لوگ چھور کینٹ کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے۔کراچی سے حیدرآباد ، حیدرآباد سے میر پور خاص، میرپور خاص سے عمر کوٹ، یہ ایک دلچسپ اور قدرے حیران کن سفر تھا۔ کراچی کے شہری ماحول سے عمر کوٹ تک کی گہری مقامی تہذیب ایک منفرد تجربہ تھا۔ سرخ سرخ مرچوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے اور لوگوں کی بھرمار تھی۔ یہ لوگ قریب پاس کے گائوں سے آئے تھے اور شام تک خریداری کر کے واپس جانا تھا۔کوئی سامان بیچنے کو، کوئی خریدنے کو آیا تھا۔ سر پر پگڑی کی سی ٹوپی اور رنگ روپ سخت گرم موسمی اثر میں تھے۔
 عمر کوٹ شام کے وقت پہنچا ۔ بہت بھوک لگ رہی تھی ۔ سنا تھا یہاں کھانے کے کئی ہوٹلوں پر حلال کھانا نہیں ملتا، اس لئے احتیاط برتی۔ میں نے احتیاط کرتے ہوئے  ایک مٹھائی کی دو کان کا انتخاب کیا اور کچھ مٹھائی خریدنا مناسب سمجھا کیونکہ اس میں خطرہ کم تھا ۔جب میں نے مٹھائی سیر ہو کر کھائی اور دوکان دار سے کچھ اور مٹھائی خریدی تو اُس نے انتہائی فخریہ انداز میں بتایا کہ میری مٹھائی پورے عمر کوٹ میں مشہور ہے ۔اور کیوں نہ ہوجب گائو ماتا کا پرساد کسی  چیز پر پڑ جائے تو ذائقہ تو آئے گا ۔میں نے یہ سنا تو میرے منہ میں موجود مٹھائی اپنا ذائقہ کھوتی ہوئی محسوس ہوئی ۔مٹھائی نہ اُوپر آرہی تھی نہ حلق کے اندر یہ بہت بڑا امتحان تھا۔ جو میں آخر کار پاس کر گیا۔
کچھ دیر بعد فوجی رنگ میں ایک صحرائی گاڑی جسے یونی ماگ کہتے ہیں، جھومتے ہوئے نمودار ہوئی اور اگلے لمحے ہم اس کے پیچھے بیٹھے عمر کوٹ سے چھور روانہ ہوئے ۔
چھور ابھی بنیادی سہولیات سے محروم تھا۔بجلی جنریٹر پر تھی اور سڑکیں نہ ہونے کے برابر ۔رہنے کے لئے کمرے کمزور حالت میں۔ اگلے دن رسمی گفتگو کے بعد ہمارے استادوں نے پوچھنا شروع کیا کہ یونٹ میں کوئی غلطی کی تھی جو اس کورس پر آئے ہو ۔مجھے یہ بات بہت ناگوار گزری اور میں نے قدرے جوش سے کہا کہ سر میں یہاں صحرائی جنگ کی حکمت عملی سیکھنے آیا ہوں۔ انہوں نے ہنس کر کہا کہ حکمت عملی تو سیکھ ہی لو گے پہلے تمہیں نیک عملی سکھائی جائے گی اور اس کے بعد ہمیں ایک ماہ کے کورس نے صراط مستقیم پر چلنا سکھا دیا۔ اس کی واضح وجہ یہ تھی کہ اسی طرح آپ صحرا میں ایک ہدف سے دوسرے ہدف تک جا سکتے ہیں۔ ورنہ اگرذرا سے بھولے نہیں تو وہاں گئے جہاں کسی کو بھی آپ کی خبر نہیں ملے گی۔ گرمیوں میں چھور 45-50 ڈگری تک تپتاہے لیکن ا س کے رہنے والے لوگ گوپوں (تنکوں کی جھونپڑی )میں رہتے تھے۔جو اس گر می میں برداشت کرنا حیران کن تھا ۔ان بیابانوں میں صرف مقامی لوگ ہوتے یا پھرفوجی صحرا کی سیاحت کرتے نظر آتے۔ 
چھور کی ایک حسین یاد ''  دُکھی'' ٹرین کی ہے جس کا نام دُکھی اس کی بجنے والی سیٹی سے تھا۔ میلوں دور یہ آوازصحرا  میں سنی جاتی اور یوں لگتاکہ واقع کوئی دُکھ کااظہار کر رہا ہے۔یہ  narrow gaugeریلوے ٹریک میر پورخاص سے چھور تک ا تا اور پھر یہاں سے کھوکھراپار  کے صحرائوں میں پہنچتا۔ اس ٹرین پرپانی کے بڑے بڑے ٹینک بھی ہوتے جن سے کھوکھراپار کے صحرا کے درمیان جتنے گائوں ہوتے وہ ریلوے ٹریک پر پانی لینے آتے ۔ خاص بات یہ تھی کہ ہم نے وہاں ٹرین کی سیٹی کی آواز سننے کے بعد جانوروں کو بھی ٹریک پر آتے دیکھا۔ ٹرین آہستہ آہستہ چل رہی ہوتی اورپانی کے نلکوں سے آہستہ آہستہ بہتے پانی سے جانور منہ لگا کر پانی پی رہے ہوتے۔ یہ انسان، جانور اور قدرت کے تعلق کاباکمال نظارہ تھا۔ صحرا میں زندہ رہنے کی کوشش میں  انسان اور جانور ایک دوسرے کے خوف سے زیادہ تپتے صحرا سے لڑ رہے  تھے اور اس نے انِ دونوں کو قریب کر دیا تھا ۔ ا ن جانوروں میں ہرن، گائیں،تیتر اور چکور ہوتے ۔
میں اکثراپنی پُر تشدد ٹریننگ کے دوران جانوروں کو دیکھا کرتا اور خیال آتا کہ اللہ نے ہمیں بہترین جانداروں میں پیدا کیا ہے لیکن آج ہم اگر ہرن یا گائے ہوتے تو کم ازکم ٹریننگ کے رگڑے سے توجان چھوٹ جاتی۔ہمارے نصیب اچھے تھے کہ جنوری کا موسم تھا لیکن اُتنے بھی زیادہ اچھے نہیں کیونکہ دن کو تو صحرا ٹھیک ہوتا رات پڑتے ہی سیاچن کا احساس دلاتا۔
کورس میں کئی نئی باتیں سیکھنے کو ملیں خاص طور پرستاروں کی مدد سے اپنی منزل کو تلاش کرنا اور صحرا میں توویسے بھی آسمان پہلے سے زیادہ گہرا نیلا اور ستارے روشن ہوتے۔ ہم سارے اپنے نقشے اُٹھائے اُوپر کی طرف منہ کیے ہوئے جا رہے ہوتے کوئی کسی ستارے کے پیچھے جارہا ہوتا تو کوئی دوسرے ستارے پر ۔
 ستاروں پر کمند ڈالنے کی مثال ہم پر صادق آتی تھی۔ ساری رات ہم مختلف ستاروں کی اشکال کا موازنہ کرتے اور پھر اس کے رُخ کے مطابق اپنے ہدف تک پہنچتے۔ کبھی یہ شکلیں گڈمڈ ہو جاتیں اور ہم اِدھر سے ڈوبتے اور اُدھر سے نکلتے۔ایک رات کی ٹریننگ میں ایک مست طبیعت فوجی میرا ساتھی بنا ۔اُس نے نقشے پر اپنی جمع تقسیم کی اورپھر ایک ستارے پر اپنا رخ بنایااور میں اس کی عملی فضیلت اور اعتماد کو دیکھتے ہوئے اپنی calculation کر کے اس کے ساتھ ہو لیا ۔ہم چلتے رہے اور پھر چلتے ہی رہے لیکن منزل تھی کہ آنے کو نہیں دے رہی تھی ۔ ہماری منزل جو 5کلو میٹر کے فاصلے پر تھی ساری رات چل کر بھی ہم نہ پہنچ سکے جب صبح کی روشی نمودار ہونے لگی تو ہم اپنی منزل پر پہنچے اوریہ دیکھ کر ہم حیران رہ گئے کہ ہم چھور سے23 کلومیٹرکا فاصلہ طے کر کے عمر کوٹ پہنچ گئے ہیں اور جس ستارے پر میرے ساتھی نے سمت کا تعین کیا تھاوہ ستارہ نہیں بلکہ بہت دور بجلی کا کھمبا تھا اور ہمیں پھر اندازہ ہوا کہ یہ ستارہ بار بار آف کیوں ہو جاتا تھا۔ کیونکہ وہاں پر لوڈ شیڈنگ دبا کر ہو رہی تھی ۔ہم دونوں نے پہلے ایک دوسرے پر بہت لعنت ملامت کی اور اس کے بعد دونوں زور زور سے ہنسنے لگے ۔پہلی وجہ تھکاوٹ اور دوسری ہماری حماقت تھی۔ ہم روڈ کے قریب ہی تھے۔ راستے میں گزرتے ٹرک کو جسے چھورمیں کیکڑا کہتے ہیں،روکا وہاں سے چھور واپس پہنچے۔
ایک دن ہمیں پیاس نے بہت ستایا اور ہمارے پینے کا پانی بھی ختم ہو گیا۔ اتفاق سے ایک گائوں قریب تھا۔ ہم نے وہاں کنواں دیکھا اور پانی کا ڈول ڈال دیا، پانی اتنی گہرائی پر تھا کہ ڈول میلوں کنویں میں جاتا رہا۔ اب باری اس کو اوپر لانے کی تھی۔ جتنی پیاس تھی وہ ہم بھول گئے اور پانی کے ڈول کو کھینچنے میں ہی خرچ ہو گئے۔  جب ڈول اوپر آیا تو اس میں پانی کے ساتھ کبوتروں کے انڈے بھی پڑے ہوئے تھے جو ڈول کے دیوار سے ٹکرانے سے اس میں گر گئے تھے اور کچھ دیر بعد چند کبوتر بھی پھڑ پھڑاتے ہوئے نکلے۔
ایک دن Navigation Exercise پر ہم ایک علاقے میں گھوم رہے تھے  میں اپنے قدم گنتا ہوا جا رہاتھا  کہ سامنے پائوں کے قریب ایک لکڑی کی شاخ پڑی نظر آئی ، سکھلائے ہوئے طریقے کے مطابق ہمیں بالکل دائیں بائیں نہیں جاناتھا سومیں نے سیدھا جاتے ہوئے اس لکڑی پر پائوں رکھنا چاہا لیکن جیسے ہی میرا پائوں اس پر پڑنے والا تھا وہ لکڑی ایک سانپ کی طرح کھڑی ہو گئی اور مجھے احساس ہوا کہ یہ تو واقعی بڑا سانپ ہے۔ اب میری گنتی جو کہیں 72, 71, 70 پہ تھی وہ ایسی بھولی کہ میں اپنی سمت سے اُلٹا بھاگنا شروع ہو گیا۔ سردی کے موسم میں سانپ عام طور پر دن کے وقت دھوپ میں سستاتے اور قدرے سُست ہوتے تھے اس لئے شاید میری جان بچ گئی ورنہ انجام خطرناک ہوتا۔ ویسے بھی ہم جب کبھی کہیں آرام کرنے کے لئے بیٹھتے تو وہاں سانپوں کی اتری ہوئی کھالیں ملتیں جو وہ جھاڑیوں سے رگڑ کر اتارتے تھے۔ اس میں کوئی منچلا دوست کہتا کہ یہ سانپ 100 برس کے ہوتے ہوں گے اور اب وہ انسان کے روپ میں آتے ہوں گے سو اس لئے صحرا میں کوئی خوبصورت نازنین نظر آئے تو وہ دراصل ناگن ہو گی۔ ہم سارے پورے کورس کے دوران ان جھاڑیوں کے پیچھے بیٹھی ناگن کو ڈھونڈتے رہے لیکن سوائے صحرائی کیڑوں کے اور کُچھ نہ مِلا۔
ایک رات کی ٹریننگ کے دوران ہمیں صحرا میں مورچے کھودنے اور دفاع لینے کا کہا گیا۔ ساری رات مورچہ کھودتے اور کسی کے مورچے کے کونے پر پائوں پڑنے سے ریت کی وجہ سے وہ جگہ ٹوٹ جاتی۔ ہم تمام سخت تنگ تھے کہ رات کوایک طرف سے گھنٹیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ کچھ دیر بعد ایک مقامی بزرگ شخص اپنی بکریوں کے ریوڑکے ساتھ نمودار ہوا۔ بزرگ نے پہلے سندھی میں پوچھا لیکن جواب نہ ملنے پر انہوں نے اُردو میں کلام شروع کر دیا۔ انہیں ہماری بے بسی کا اندازہ ہو گیا تھا اور انہوں نے کہا کہ آئیے ایک طرف ہو جائیں اس کے بعد انہوں نے کمال مہارت سے خندق کھودی اور آس پاس کے جھاڑیوں کو استعمال کرتے ہوئے اس کو مضبوط مورچہ بنایا۔ ہم حیران ہوئے اور اس فنِ مہارت کی وجہ پوچھی تو ہنس کر کہنے لگے کہ آپ سے پہلے جتنے کورس آتے تھے ان تمام کی میں نے مدد کی تھی۔ مجھے ''Son of The Soil''کے معنی اس دن پتہ چلے۔ یہ سویلین اورفوج کا باہمی تعلق ہے جو وطن کے کسی بھی علاقے کی دفاع میں اہم اور معاون ہوتا ہے۔
ہم نے کام کے بعد بزرگ کے ساتھ ساری رات گپیں لگائیں۔ ان کا ستاروں کا علم، صحرا میں موسمی تبدیلیوں کے بارے میں تجربہ اور دُنیا کی آگاہی حیران کُن تھی۔ جب ہم نے اُن کے باخبر ہونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے ساتھ پڑے ہوئے ریڈیو کو دیکھا کہ میر ا یہ ساتھی ہے۔مشکل حالات انسان کو مضبوط کرتے ہیں یہ اس صحرا کا سبق تھا۔
آخر میں کورس سے الوداع ہوتے ہوئے ہم یہ بہت بڑا تجربہ لے کر جا رہے تھے کہ چاہے کُچھ ہو جائے یہاں پھر مت آنا۔۔۔


مضمون نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 311مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP