قومی و بین الاقوامی ایشوز

پلوامہ : پاک بھارت کشیدگی اور امن کے راستے

  مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے والے پلوامہ حملے کے بعد بھارتی جارحیت اورپاکستان کے جرأت مندانہ مؤقف نے دنیاکی آنکھیں کھول دی ہیں۔ پاکستانی شاہینوں نے چندمنٹوںمیں بھارت کے دو مگ طیارے گرا کر فضا میں اپنی برتری ثابت کردی۔پاکستان نرم لہجے میں باربارکہہ رہاتھاکہ وہ جنگ نہیں چاہتالیکن اگرجنگ مسلط کی گئی تواس کاجواب دیاجائے گا۔دونوں ملکوں میں باقاعدہ جنگ تونہ ہوئی لیکن ان چند دنوںں کی اعصابی جنگ سے بھارت کااصل چہرہ اوربھارتی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت دنیا کے سامنے آگئی ۔بھارتی سورماؤں کواحساس ہوگیاکہ وہ پاک فوج کامقابلہ نہیں کر سکتے۔ کل تک جھوٹے دعوے کرنے والے بھارتی دفاعی تجزیہ نگار آج پاکستانی فوج خصوصاً ائیرفورس کی مہارت کے قائل نظرآرہے ہیں۔بھارت کے متعصب وزیراعظم نریندرمودی پلوامہ حملے کے بعدبڑھکیں ماررہے تھے،لیکن ان کے ناکام مشن نے امیدوں پرپانی پھیردیا۔ان کے ارمان دل میں ہی رہ گئے۔ اب بھارتی دانشوراورتجزیہ نگاربھی اس بات کوتسلیم کررہے ہیں کہ پلوامہ حملہ اوراس کے بعد بھارتی جارحیت ،مودی کاالیکشن سٹنٹ ہے۔مودی نے اپنے سیاسی مقاصد اور انتخابات میں کامیابی کے لئے یہ ساراڈرامہ رچایا۔بھارتی حکومت کاخیال تھا وہ پاکستان کودباؤ میں لے آئے گی لیکن اس کایہ خواب چکناچورہوگیا۔جگ ہنسائی اس وقت ہوئی جب پاکستان کے شاہینوں نے بھارت کے دو مگ طیارے مارگرائے ۔ایک طیارے کاملبہ مقبوضہ کشمیر کے اندرجبکہ دوسرے طیارے کا ملبہ آزادکشمیر کی حدودمیں گرا۔پائلٹ ابھی نندن کوپاک فوج کے جوانوں نے مقامی لوگوںسے بچایاجہاں سے اسے ہسپتال منتقل کیاگیا۔ابھی نندن نے بھارت پہنچنے کے بعد اپنے پہلے بیان میں پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اورحسن سلوک کی تعریف کی اوریہ بھی کہا کہ اس پرکوئی جسمانی تشدد نہیں ہوا۔ پاکستانی فوج کے جوانوں نے اس سے اچھا برتاؤکیاجس کے چرچے عالمی میڈیامیں بھی ہورہے ہیں۔



بھارتی ونگ کمانڈرابھی نندن کویکم مارچ کوواہگہ بارڈرپربھارت کے حوالے کیاگیا۔ اس تقریب کوپاکستانی اورغیرملکی نیوزچینلز نے براہ راست دکھایا۔دنیا نے دیکھا پاکستان نے کس شان سے ونگ کمانڈرابھی نندن کو بھارت کے حوالے کیا۔یقینی طورپرانھیں پاکستان کااحسان مند ہوناچاہئے۔ پاکستان چاہتاتواس معاملے کوگھسیٹ سکتاتھا،لیکن وزیراعظم عمران خان نے اعلیٰ ظرفی کامظاہرہ کرتے ہوئے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی پائلٹ کوواپس بھیجنے کااعلان کیا۔
   بھارتی حکمرانوں کاخیال تھا انھیں پاک فوج پرعددی برتری حاصل ہے اوران کے پاس اسلحہ بھی پاکستان سے زیادہ ہے۔ لہٰذاپاکستان ان کے دباؤ میں آجائے گا۔چنددنوں کی اعصابی جنگ اوربھارتی طیارے گرانے کے معاملے نے یہ ثابت کردیاکہ پاکستانی فوج کی پلاننگ اوردفاعی صلاحیت بھارت سے کہیں زیادہ بہترہے۔کم اسلحہ اورتھوڑے وسائل کے باوجود پاک فوج بھارت سے زیادہ پیشہ ور اورمستعد ہے۔بھارتی تجزیہ نگاراورریٹائرڈ فوجی افسر اس بات کوتسلیم کررہے ہیں کہ پاکستان لڑاکاطیارے،ٹینک ،میزائل اورگولہ بارود خود بنارہاہے ،جبکہ بھارت دنیا سے خرید رہاہے ۔پاکستان دفاعی ٹیکنالوجی میں خودانحصاری کے قریب ہے جبکہ بھارت اس سے کوسوں دور۔پاکستان کے بنائے ہوئے ایف١٧ تھنڈرطیارے بھارتی فضائیہ پرغالب آئے ہیں۔ پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی اورایٹمی صلاحیت بھی بھارت سے بہت بہتر ہے۔ دنیاکوایک مرتبہ پھریہ احساس ہوگیاہے کہ صرف دفاعی بجٹ اورفوج کی تعداد بڑھاکرکوئی فوج طاقت ورنہیں ہوسکتی اس کے لئے پیشہ ورانہ صلاحیتوں اوراہلیت کاہونازیادہ ضروری ہے۔ہم اپنے دشمن کواس سے زیادہ جانتے ہیں۔ہمیں اس کی کمزوریوں اورخامیوں کاپتہ ہے۔
  ونگ کمانڈرابھی نندن مگ طیارے ٢١ بیسن کاپائلٹ تھا،اس کے طیارے کوپاک فضائیہ کے شاہینوںنے٢٧فروری کی صبح جوابی کارروائی کے دوران گرایاتھا۔طیارہ نشانہ بنائے جانے کے بعدبھارتی پائلٹ پیراشوٹ کی مدد سے آزاد کشمیر کے علاقے میں اترا،جسے شہریوں نے پکڑکرپاک فوج کے جوانوں کے حوالے کردیاتھا۔اس سے پہلے ٢٥اور٢٦ فروری کی درمیانی شب بھارتی طیارے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی حدود میں داخل ہوئے اوربھاگتے ہوئے ایک ویرانے میں ایمونیشن گراکرفرارہوگئے، جس سے متعدد درختوں کونقصان پہنچا۔بھارتی حکومت اورمیڈیا نے جھوٹا پروپیگنڈا شروع کردیاکہ اس حملے میں تین سوافراد مارے گئے ہیں،لیکن جلد ہی ان کاجھوٹ بے نقاب ہوگیا۔عالمی میڈیا اوراپوزیشن رہنماؤں نے مودی سرکارسے اس دعوے کے ثبوت طلب کئے تووہ کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے ۔چند دن گزرنے کے بعد بھارتی وزراء نے خودتسلیم کرلیا کہ یہ محض پروپیگنڈا تھا، پاکستان کوبھارتی جارحیت سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔بھارتی وزیر سرندراجیت سنگھ اہلووالیہ نے یہ کہہ کرجان چھڑائی کہ ان کی جماعت بی جے پی اورحکومت نے ایساکوئی دعوی نہیں کیاتھا۔
 سچ کہتے ہیں جھوٹ کے پیرنہیں ہوتے اورسچ کوزیادہ عرصہ چھپایانہیں جاسکتا۔بھارتی جارحیت کے چنددنوں بعد ہی سچ سامنے آناشروع ہوگیا۔ بھارتی وزیراعظم مودی کورافیل طیارے یاد آگئے۔بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے اس کرپشن کیس میں مودی کوآڑے ہاتھوں لیا۔بھارتی وزیراعظم مودی جنوبی ایشیا کوجنگ کی آگ میں دھکیل کربرتری کاجوخواب دیکھ رہے تھے وہ توپورا نہیں ہوا ،لیکن بھارتی معاشرے اورفوج میں موجود تضادات کھل کر سامنے آگئے۔بھارتی فوجیوں کی ایسی ویڈیوزمنظرعام پرآئیں جن میں وہ اپنے افسران کے خلاف پھٹ پڑے ۔ان بھارتی فوجیوں نے یہ تک کہہ دیاکہ ان کے افسروں نے انھیں اپنے کتے نہلانے کے لئے رکھا ہواہے۔کارگل میں مرنے والے بھارتی فوجیوں کی کئی بیوائیں بھی میدان میں آگئیں اوربھارتی فوجی افسران کے اصل کرتوت عوام کے سامنے رکھ دئیے ۔یہ شکوہ بھی کیاکہ جنگ کی باتیں کرنے والے لیڈروں کومعلوم ہی نہیں کہ عام بھارتی فوجی کتنے برے حالات میں زندگی گزاررہاہے۔بھارتی سیاست دان چند نشستیں جیتنے کے لئے ایک ارب سے زیادہ انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔
  اس سارے معاملے کاپاکستان کوزبردست فائدہ پہنچاہے۔دنیاکواس بات کااحساس ہواہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہوناباقی ہے۔مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا توجنوبی ایشیامیں کوئی بڑاسانحہ رونما ہو سکتا ہے۔مقبوضہ کشمیر کے عوام کسی قیمت پربھارت کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں۔ بھارت تحریک آزادی کشمیر کوکچلنے کے لئے وحشیانہ طاقت اورخطرناک ہتھیاروں کااستعمال کررہاہے جس کے باعث ا س کے خلاف نفرت بڑھتی جارہی ہے اورنوجوان ہتھیاراٹھانے پرمجبورہیں۔اقوام متحدہ سمیت دنیا کے کئی ممالک اورسربراہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کی پیشکش کی ہے اورمسئلہ کشمیر کوجلد ازجلد حل کرنے کی ضرورت پرزوردیاہے۔ کسی بھی طرح دیکھا جائے اس ساری صورتحال میں فاتح پاکستان ہے اورشکست بھارت کوہوئی ہے ۔ 
 اس سے پہلے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میںخودکش حملے کاکسی کوسیاسی فائدہ ہواہے تووہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اوران کی جماعت بھارتیہ جنتاپارٹی ہے۔مودی ایک طرف تو مگرمچھ کے آنسوبہارہے ہیں اوردوسری طرف بھارتی عوام کے جذبات بھڑکارہے ہیںتاکہ ان کی جماعت کو زیادہ سے زیادہ ووٹ ملیں۔بھارت میں یہ الیکشن کاسال ہے اور نریندر مودی ہارا ہوا الیکشن جیتنے کے لئے کچھ بھی کرنے کوتیارہے ۔پلوامہ کے واقعہ پرخود بھارت میں شک وشبہات کااظہارکیاجارہاہے۔اسے بھارتی انتخابات سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی قراردیاجارہاہے۔مودی حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔اب انتخابات جیتنے کے لئے بھارتی ووٹرزکے جذبات سے کھیلا جارہاہے ۔پاک بھارت کشیدگی کوہوادی جارہی ہے۔بعض حلقوں کے مطابق یہ سارا ڈرامہ بھارتی اداروں نے خود رچایاتاکہ اس کاملبہ پاکستان پرڈال کربدنام کیاجائے ۔ بلاشبہ یہ واقعہ پاکستان کے خلاف بھارت کی سازش تھا۔ مودی سرکاری کواس واقعہ کافائدہ جبکہ پاکستان کونقصان ہوا۔پلوامہ حملے کے بعدایک بات ثابت ہوگئی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک مقامی نوجوان چلارہے ہیں،انھیں شکست دینابھارتی فوج کے بس کی بات نہیں۔اس واقعے کے بعد کشمیریوں پربھارت کی زمین تنگ کردی گئی، سینکڑوں کشمیری نوجوانوں کومختلف کالجوں اوریونیورسٹیوں سے نکال دیا گیا۔ بھارت میں کشمیریوں کے لئے روزگارکے دروازے بندکردیئے گئے ،ہوٹلوں کے استقبالیہ پرلکھ کر لگا دیا گیا کہ کسی کشمیری اورپاکستانی کو کمرہ نہیں دیاجائے گا۔کئی بھارتی ڈپٹی کمشنرزنے حکم جاری کیاکہ کشمیری اورپاکستانی فوری طورپرواپس چلے جائیں ،کشمیریوں اورپاکستان کوایک ساتھ جوڑدیاگیا۔بھارتی سرکاراورانتہاپسند ہندوؤں نے خود تسلیم کرلیا کہ مقبوضہ کشمیر اوروہاں رہنے والے کشمیریوں کاتعلق بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان سے ہے۔
ایک ایسے موقع پرجب پاکستان میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے دورے کی تیاریاں زوروشورسے جاری تھیں پلوامہ کاڈرامہ رچا کر پاکستان کواس میں پھنسانے کی کوشش کی گئی ۔بھارت کاخیال تھا کہ اس طرح وہ پاکستان کوبدنام کرکے عالمی ہمدردیاں حاصل کرلے گا،لیکن بھارت کی یہ کوشش ناکام ہوگئی ۔بھارتی جارحیت اورجنگ کے خدشے کے بعد دنیا بھرسے ایک ہی پیغام آرہاہے کہ پاکستان اوربھارت بیٹھ کربات چیت کے ذریعے اپنے مسائل حل کریں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیریس اورامریکی صدرڈونلڈٹرمپ سمیت تمام عالمی رہنماؤں نے مذاکرات پر زور دیا ہے۔ دنیاکے کئی ممالک کے سربراہان مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں۔دنیاجانتی ہے کہ اگرمسئلہ کشمیر حل نہ ہواتوخطے میں کسی وقت بھی جنگ کی آگ بھڑک سکتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر اوربھارت کے دوسرے شہروں میں مسلمانوں اورکشمیریوں کے خلاف جوپرتشددمظاہرے اوراحتجاج ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔مقبوضہ کشمیر میں انتہاپسندہندوؤں نے بھارتی فورسزکی نگرانی میں مسلمانوں کی گاڑیاں نذرآتش کردیں اورانہیں تشددکانشانہ بنایا۔ انتہاپسند ہندوؤں کے خوف سے چھ ہزار سے زیادہ کشمیری مساجدمیں پناہ لینے پرمجبورہوگئے ۔سیکڑوں کشمیری طلبہ وطالبات کوتعلیمی اداروں سے نکال کرواپس مقبوضہ کشمیربھیج دیاگیا ۔خطے میں امن کی بات کرنے والے نجوت سنگھ سدھواورٹینس سٹارثانیہ مرزاکوبھی تنقید کانشانہ بنایاگیا۔ثانیہ مرزاکوپاکستان کی بہو قراردے کربھارتی شہریت ختم کرنے کامطالبہ کیاگیا۔عاطف اسلم سمیت بہت سے پاکستانی فنکاروں کوفلموں سے نکال دیاگیا۔یہاں تک کہ بھارت میں پاکستان سپرلیگ کے میچزدکھانے پربھی پابندی لگادی گئی، پاکستان سے تجارت بندکردی گئی ،پاکستان کے خلاف سرکاری طورپرایک فضابنائی گئی۔ بھارتی سرکار نے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھرثابت کیاکہ ہندواورمسلمان دوعلیحدہ علیحدہ قومیں ہیں اوران کااکٹھارہناممکن نہیں۔بھارتی حکومت اورانتہاپسند ہندوؤںکے رویّے پربھارتی سکھ بھی کہنے پرمجبورہوگئے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ وہی کچھ ہورہاہے جو اندراگاندھی کے قتل کے بعد سکھوں کے ساتھ ہواتھا ۔
 وزیراعظم عمران خان نے ١٩فروری کوقوم سے خطاب میں بھارت کوپلوامہ میں نیم فوجی اہلکاروں پرہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات کے لئے مکمل تعاون کی پیشکش کی لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بھارت کو خبردار بھی کردیاکہ اگربھارت نے کوئی جارحیت کی توپاکستان جواب دینے کے بارے میں سوچے گانہیں بلکہ جواب دے گا ۔وزیراعظم عمران خان نے قوم کے جذبات اورامنگوں کی ترجمانی کی تھی۔ایک ایسے وقت میں جب بھارتی قیادت اوربھارتی میڈیامسلسل پاکستان کوسبق سیکھانے کاراگ الاپ رہاتھا،بھارتی قیادت کویہ بتاناضروری تھاکہ اگربھارت نے پاکستان کے خلاف کوئی جارحیت کی تواسے اس کافوری جواب ملے گا۔وزیراعظم عمران خان کایہ خطاب مختصر لیکن بہت جامع تھا،انہوں نے بھارتی قیادت کے پیروں سے زمین نکال دی اور انھیں بتادیاکہ پاکستان پرحملہ کرناتودورکی بات ایساکرنے کاسوچیں بھی نہ۔ وزیراعظم عمران خان کایہ کہنابھی درست ہے کہ ''جنگ شروع کرناآسان ہے لیکن جنگ ختم کرناانسان کے اختیارمیں نہیں ہوتا''۔بھارتی پائلٹ کوبھی اسی جذبے کے تحت چھوڑاگیا۔
  پاکستان نے مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کے حل کے لئے بھارت کوکئی مرتبہ مذاکرات کی پیشکش کی لیکن بھارت کارویہ متکبرانہ رہاہے۔بھارت مذاکرات سے مسلسل انکارکرتارہاہے۔وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے نہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل کررہاہے اورنہ امریکہ ،چین سمیت کسی تیسرے ملک کی نگرانی میں اس پربات کرنے کے لئے تیارہے۔بھارت کی اس ہٹ دھرمی اورمیں نہ مانوں پالیسی نے خطے میں امن کوداؤ پرلگادیاہے۔بھارتی جارحیت کے بعدروس اورسعودی عرب سمیت کئی ممالک نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کی پیشکش کی لیکن بھارت نے سب کومستردکردیا۔
  بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اورکشمیری عوام کے قتل عام میں ملوث ہے۔اقوام متحدہ اورایمسنٹی انٹرنیشنل کی متعدد رپورٹس میں بھی بھارتی مظالم کاذکرہے۔دوسری طرف بھارت مقبوضہ کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرناچاہتاہے۔بھارتی منصوبہ ہے کہ قوانین میںتبدیلی کرکے مقبوضہ کشمیرمیں پورے بھارت سے غیرکشمیریوں کولاکرآبادکیاجائے اورکشمیرمیں کشمیریوں کوہی اکثریت سے اقلیت میں بدل دیاجائے۔
  بھارت جتنے وسائل دوسرے ممالک میں مداخلت اوراپنااثرورسوخ بڑھانے پرخرچ کررہاہے اگران کانصف بھی اپنے اندرونی استحکام پرخرچ کرے توشاید بھارت کو مشکلات کاسامنانہ کرناپڑے،لیکن خطے میں پولیس مین کاکرداراداکرنے کے لئے وہ ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں زیادہ مداخلت کررہاہے ۔ افغانستان اورپاکستان کے بعض علاقوں خصوصاً بلوچستان میں بھارتی مداخلت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔بہت سے بھارتی رہنماؤں نے اس بات کوتسلیم کیاہے کہ بھارت بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرناچاہتاہے بعض بھارتی رہنماؤں کی یہ خواہش ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی بلوچستان اورخیبرپختونخوا میں اپنی مداخلت مزیدبڑھائے،تاکہ پاکستان کو دباؤ میں لایاجاسکے۔پاکستانی قوم ان سازشوں سے آگاہ ہے اوران کا مقابلہ کرنے کے لئے تیارہے۔ بھارتی رہنماؤں خصوصاً وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران انتہاپسندوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کاطوفان برپاکررکھاہے۔ وہ جوش خطابت میں وہ وہ باتیں اوردعوے کررہے ہیں جوکسی ملک کے وزیراعظم کو زیب نہیں دیتیں۔ مودی دھمکیاں دینے کے ماہر ہیں بلندوبانگ دعوے کرتے ہوئے وہ کئی زمینی حقائق کونظراندازکردیتے ہیں۔ وہ اس بات کوبھی بھول جاتے ہیں کہ ان کی شعلہ بیانی خطے کوجنگ کی آگ میں دھکیل سکتی ہے۔وہ جوش سے بھر پور اورہوش سے عاری تقریروں میں اپنے ووٹروں کے دل کوخوب لبھاتے ہیں۔ بھارت کے سیکولراورغیرجانب دار حلقے اس بات کوتسلیم کرتے ہیں کہ مودی کے وزیراعظم بننے سے بھارت مضبوط نہیں کمزورہواہے۔بھارت عملًا یہ ایک ہندوریاست میں تبدیل ہوچکاہے،انتہاپسندہندواپنی مذہبی بالادستی قائم کرناچاہتے ہیں۔اس ہندوریاست میں ہندوؤں کے علاوہ ہرشہری کم تر اور اچھوت ہے۔مسلمان ہوں یاسکھ ،مسیحی ہوں یاشودر نریندرمودی کی متعصب پالیسیوں نے ان کی زندگیاں جہنم بنادی ہیں۔ اقلیتوں کابھارت پرسے اعتماد اٹھ گیاہے۔
  بھارت کے ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل دپیندراسنگھ ہوڈا نے نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے اس بات کوتسلیم کیاکہ'' پلوامہ حملے میں بھارتی بارود ہی استعمال ہوا۔یہ ممکن نہیں کہ اتنی بڑی تعدادمیں بارودی مواد سرحد پارسے لایاجاسکے، اس خود کش حملے میں ساڑھے سات سوپاؤنڈبارود استعمال کیاگیاتھا''۔
   دوسری طرف مقبوضہ کشمیرمیں تعینات انڈین فوج کے کمانڈرلیفٹیننٹ جنرل کے ایس ڈھلوں نے بڑھک ماری کہ ''کشمیری مائیں اپنے بچوں کو ہتھیار ڈالنے پرمجبورکریں کیونکہ ہتھیارنہ پھینکنے والوں کاانجام موت ہے۔''لیکن ان کی اس دھمکی کے جواب میں ہزاروںکشمیر ی ماؤں نے اعلان کیاکہ وہ آزادی کے لئے اپنے آخری لخت جگرکی قربانی دینے سے بھی دریع نہیں کریں گی۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ کشمیر ی نوجوان ہتھیارپھینکنے کے بجائے قابض بھارتی فوجوں کا مقابلہ کررہے ہیں۔ جنگ مسائل کاحل نہیں،جنگ مسائل کوبڑھاتی اور وسائل کوتباہ وبرباد کرتی ہے۔جنگ سے بچناچاہئے جتنابھی بچا جا سکتا ہے۔ مسائل کے حل کے لئے بالآخرمذاکرات کی میز پرہی آناپڑتاہے۔لیکن اس بات کو بھارت کے لئے سمجھنابھی ضروری ہے۔کوئی بھی آزاد ریاست یہ پسند نہیں کرتی کہ کوئی دوسراملک اس کے علاقے پر حملہ کرے اوروہ خاموش تماشائی بنی دیکھتی رہے۔ پاکستان نے بھی بھارت کو بتا دیا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اگربھارت نے دوبارہ جارحیت کی تواسے جواب ضروردیاجائے گا۔
   نریندرمودی کے جنگی جنون کے خلاف بھارت کی اپوزیشن جماعتیں بھی میدان میں آگئی ہیں۔مودی کی جنگجوانہ پالیسیوں کوآڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے۔ بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیراعلی ممتابینرجی نے وزیراعظم مودی کے چہرے سے نقاب کھینچ دیاانہوںنے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ'' جب بھی عام انتخابات کاوقت قریب آتاہے توآپ پاکستان کے خلاف جنگ کاماحول پیداکردیتے ہیں۔بی جے پی پلوامہ واقعے کواپنے حق میں استعمال کرنے کے لئے منفی حربے استعمال کررہی ہے''۔اسی طرح ایک کانگریسی رہنما وینوامیپارا نے کہاکہ ''جب بھی الیکشن قریب آتے ہیں بی جے پی اپنے فوجیوں کومرواناشروع کردیتی ہے۔ ٢٠٠٢ء کے انتخابات سے پہلے گودھرا حملے کرائے گئے،بی جے پی کواگلی فلم کے لئے سکرپٹ چاہئے اس لئے پلوامہ حملہ کرایا گیا۔'' اسی طرح ایک ویڈیومنظرعام پرآئی ہے جس میں بھارتیہ جنتاپارٹی کے رہنما آپس میں گفتگوکررہے ہیں کہ انتخابات میں کامیابی کے لئے پاکستان پرحملہ کردیناچاہئے ،بھارت کے چند فوجی مرجائیں توکوئی حرج نہیں، پاکستان مخالف بیانیے سے بی جے پی مضبوط ہوگی اوراسے زیادہ ووٹ ملیں گے۔ بھارت میںاپوزیشن جماعتوں کے کئی رہنمامودی سے یہ سوال پوچھ چکے ہیں کہ وہ تین سوسیٹوں کے لئے اپنے کتنے فوجی مروائیں گے؟ 
  پلوامہ حملے کاتجزیہ کیاجائے تواس سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ بھارت اس حملے میں پاکستان کوملوث کرکے عالمی سطح پرپاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرناچاہتاتھا۔لیکن اس مرتبہ بھارت نے جس ملک کادروازہ بھی کھٹکھٹایاایک ہی جواب ملاکہ آپ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں۔دنیا کے زیادہ ترممالک اس بات کوسمجھ گئے ہیں کہ خطے میں امن کے لئے مسئلہ کشمیر کاحل ضروری ہے۔بھارت ،پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرکے دنیاکی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتارہاہے۔لیکن مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک جس طرح عوامی حمایت اورمقبولیت حاصل کرچکی ہے اسے نظراندازکرناممکن نہیں ہے۔
  بھارت آج خود عالمی تنہائی کاشکارنظرآرہاہے۔کشمیر کے معاملے پرکوئی مہذب ملک بھارت کاساتھ دینے کوتیارنہیں۔دوسری طرف پاکستان کے عالمی طاقتوں اوردوست ممالک سے تعلقات روزبروزمضبو ط ہوتے جارہے ہیں ،وہ خطے میں اوردنیامیں ایک اہم کھلاڑی کے طورپرابھررہاہے۔مشرق وسطیٰ میںبھی پاکستان کاکردار بڑھ رہاہے ۔پاک چین دوستی دنیا کے لئے ایک مثال بن چکی ہے۔ایک روشن مستقبل پاکستان کے دروازے پردستک دے رہا ہے۔ سی پیک گیم چینجراورصنعتی انقلاب کی نوید ہے۔امریکہ سے تعلقات میں بھی بہتری آرہی ہے،امریکہ کواحسا س ہورہاہے پاکستان کے بغیر افغانستان اور خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔روس کے ساتھ کئی معاہدے ہوئے ہیں ،روس اورپاکستان کے تعلقات ماضی کے مقابلے میں بہت خوشگوار ہیں،یہ بات بھارت کوپریشان کررہی ہے۔مسلم ممالک سعودی عرب،ایران، قطر ،یواے ای، ترکی، ملائیشیا آپس کے اختلافات کے باوجود پاکستان کے قابل اعتماد دوست ہیں۔
 دوسری طرف بھارت کاحال یہ ہے کہ آزادی کی تحریکیں مسلسل عوامی حمایت حاصل کررہی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں آزادی کی ایک دونہیںبلکہ کئی تحریکیں چل رہی ہیں۔ان میں کشمیر کے علاوہ پنجاب،تامل ناڈو،بہار،اڑیسہ،ہماچل،مہاراشٹر،آسام،ناگالینڈاورمنی پور وغیرہ شامل ہیں۔  آسام کے کئی علاقوں میں علیحدگی پسندوں کاکنٹرول ہے ،نکسل باڑی تحریک مسلسل زور پکڑ رہی ہے ۔ان تحریکوں میں سب سے مضبوط تحریک مقبوضہ کشمیر میں چلنے والی تحریک آزادی ہے،جسے عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ بھارت نے تحریک آزادی کشمیر کوکچلنے کے لئے ہرحربہ استعمال کیا۔بھارتی فورسز جتنی طاقت استعمال کررہی ہیں ،ردعمل اتناہی شدید ہورہاہے ۔دلی سرکار کا خیال تھا کہ معصوم بچوں اورخواتین کے چہرے پیلٹ گن سے مسخ کرنے پر کشمیری خوف زدہ ہوجائیں گے لیکن ان کی جدوجہداوربھارتی فورسز سے نفرت بڑھتی جارہی ہے۔اس تحریک میں مقامی کشمیری نوجوان زیادہ نمایاں ہیں اس کااعتراف غیرملکی میڈیا بھی کئی بارکرچکاہے۔بھارت کے لبرل اور غیر جانب دار حلقے اوردانشوربھی اپنی حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے کرایاجائے،مسئلہ کشمیر کاکوئی فوجی حل نہیں۔یہ مسئلہ طاقت سے نہیں بات چیت سے ہی حل ہوگا۔بھارت اپنے لاکھوں فوجی تعینات کرکے اورہرسال اربوں روپیہ خرچ کرنے کے باوجود آزادی کی تحریک کودبانہیں سکا۔بدقسمتی سے بعض انتہاپسند بھارتی لیڈراب بھی اس غلط فہمی کاشکار ہیں کہ گولی کے ذریعے اس تحریک کوختم کیاجاسکتاہے،لیکن تاریخ بتاتی ہے آزادی کی تحریکوں کوکچلنے کے لئے جتنی ریاستی طاقت استعمال کی جاتی ہے یہ تحریکیں اتنی ہی پھلتی پھولتی ہیں اور حریت پسند نوجوان ان تحریکوں کاہراول دستہ بنتے ہیں۔بھارت کومسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔ پاکستان کے خلاف جارحیت کر کے اس نے دیکھ لیا کہ وہ طاقت کے ذریعے پاکستان کودباؤ میں نہیں لاسکتا۔ بھارتی فوجیں کشمیر ی نوجوانوں کامقابلہ نہیں کرسکتیں ،پاکستانی فوج کاکیامقابلہ کریں گی ۔ اگردنیااس خطے کوجنگ سے بچاناچاہتی ہے تواسے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنامؤثرکردار ادا کرناہوگاورنہ جارحانہ بھارتی عزائم کے باعث خطے میں جنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے۔


 مضمون نگار سینیئر صحافی ہیں اورایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔ قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

[email protected]
 

یہ تحریر 45مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP