متفرقات

پسنی کے ساحل کا کومل روپ

کرہِ ارض پر عجائباتِ عالم کی گِرہ کھلتی ہے اور اس کا طِلسم اور لذت وہی جانے جو پہلی مرتبہ اس وصل کے مرحلے سے گزرا ہو۔کسی گمنام ساحل کے کنارے یا ایک موجود مگر اوجھل جزیرے کے پاس خاموشی سے تنہائی میں شب گزارنا کتنا رومانوی احساس ہے۔ ستاروں کی گردش کے زائچے تخلیق کرنا اور بروجِ سماوی کے اسرار کھولنا بے خودی کا عظیم مرحلہ ہے۔ پائریٹس آف دی کیربین کے مدہوش مسافروں کی طرح ستاروں کے تصرفات کو جاننا ہر سیاح کی خواہش ہو سکتی ہے۔سمندر کے نادیدہ گوشوں کی سرسراہٹ اور دیواروں جیسی اُٹھتی عظیم اور خوفناک لہروں کا سامنا کرنا ایک حیرت انگیز مشاہدہ ہوتا ہے۔یہ لہریں زمین کا خلا (جو اس کے نزدیک ایک بلیک ہول ہے) بھرنے کو دوسرے نامعلوم ساحل سے اُبھر اُبھر کر شدت سے ساحل کو کچل کر آگے بڑھنے کو تیار ہیں۔یہ پوری ساحلی پٹی بلوچستان کی بے پناہ خوبصورتی کا پیکر ہے جو کنڈ ملیر، اورماڑہ، پسنی، گوادر تک جاتی ہے۔ان کے بلند ہوتے پانیوں کا شور انسانی خاموشی کی نئی معنویتوں کو آشکار کرتا ہے۔یہ پانی جمی ریت پر نمکین ذائقے بکھیرتے ہوئے آگے بڑھنے کو بے تاب لگتا ہے۔مگر بے بس قیدی کی مانند سر جھکائے طے شدہ اصولوں کی پاسداری کرتا ہے۔
کوسٹل ہائی وے کے ایک جانب بلوچستان کے صحرائی و پہاڑی علاقے ہیں اور دوسری جانب بحیرہ عرب کا نیلگوں پانی ٹھاٹھیں مارتا ہے۔ان مٹی کے دریائوں اور چٹیل میدانوں کے نا ہموار راستوں سے گزرتے ہوئے وہ مست شاعر یاد آ گیاجو  شہ مرید اور جام درک جیسا نامور عاشق اور شاعر تھا۔ جو اِسی نخلستان میں ایک مجذوب کی مانند خاک اُڑاتا رہا، وہ بلوچستان کا شاعر مست توکلی تھاجس نے سمو کو ٹوٹ کر چاہا مگر قُرب حاصل نہ کر سکااور سمو کی قبر کا مجاور بن کر تا دمِ مرگ وہیں پڑا رہا۔یہ عشق کی داستان بھی عجب ہے کہ وہ سندھ سے لاہور تک سمو کے عشق میں دیوانہ وار پھرتا رہا۔وہ ناخواندہ ہوکر بھی ایک مفکر اور فلسفی تھا۔وہ ایسا دانش ور تھا جو اپنے قبائل پر ہونے والے مظالم کی زبان بن جاتا۔وہ سیلانی تھا اور اپنے مشاہدات کو اپنی شاعری میں پِرو دیتا تھا۔ 
سمّو بلوچستان کے مری قبیلہ کی کلوانڑیں شاخ سے تعلق رکھتی تھی۔وہ بشکیا کی بیٹی تھی۔ بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ پہاڑوں کی گھاٹیوں میں ننگے پائوں پھرنے والی سمو کو مست توکلی نے وارث کی ہیر جیسا مرتبہ دیا۔یہی حال اُس کے بھائی پیرک کا تھا جو ایک عظیم موسیقار تھا۔وہ گراں ناز کا عاشق تھا۔
اچانک بریک لگنے سے میرا دھیان بٹ گیااور میں سمو اور مست توکلی کی اس داستان سے باہر نکل کر رائیگانی پر سوچنے لگا۔
ہمارا اگلا پڑائو پسنی کا ساحل جڈی تھا۔ہم اورماڑہ سے تین گھنٹوں میں اس ساحل پر پہنچ گئے۔پسنی کا ساحل کراچی سے تقریباً پانچ سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جبکہ پسنی سے گوادر تک دو گھنٹے کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔جڈی کا مطلب پہاڑ ہے اور یہ ساحل پہاڑوں کے گِرد بنا ہُوا ہے۔شہر سے تقریباً پانچ کلو میٹر دور جڈی کے دامن میں واقع یہ مقام انتہائی دلکش ہے۔پسنی کو بلوچستان کا لکھنؤبھی کہا جاتا ہے کیوں کہ اس میں فنونِ لطیفہ کو پروموٹ کرنے والی تنظیمیں کام کرتی ہے۔شعراء اور اُدباء کی تعداد اِس شہر میں پورے بلوچستان کی نسبت زیادہ ہے۔ یہاںازم آرمان گروپ بھی مجسمہ سازی کے فن کی ترویج کے لیے کام کرتا ہے۔اس ساحل کی چکنی مٹی کے سینڈ آرٹ کی مدد سے مجسمے بنا کر دنیا میں نمائش کے لیے پیش کیے جاتے ہیں جو قابلِ دید ہوتے ہیں۔اجنتا و ایلورا کے مجسمہ سازوں کا تاثر اُبھرتا ہے، اُن کے فن پاروں کو دیکھ کر گونگے بھی بول کر داد دیتے ہیں۔میں اِن فن پاروں کو دیکھ کر ہسٹریا کی بیماری میں مبتلا ہو گیا تھا۔مجھے وہم ہونے لگا کہ میں اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہوں اور اِن ساحلوں پر بنے یہ ریت کے مجسمے میرے وجود کا حصہ ہیں۔میں دو حِصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔میرے اندر سے مجسمہ نکل کر اِن ساحلوں پر لیٹا ہوا تھااور میں خود اپنے فن پارے کو داد دے رہا تھا۔میری یہ کیفیت بہت دیر تک رہی۔ایک مجنوں بہت دور تک بھاگتا رہااور بالآخر کہیں غائب ہو گیا۔

پسنی کا تروتازہ سمندر جمالیاتی اظہار پر آمادہ تھا۔وہ تمام تر شیڈز کی نمود کرنا چاہتا تھا۔میرے لیے تو ساحل حیرتوں کا اک جہان تھا کہ کہیں نیلگوں، کہیں بھورا  اورکہیں ہلکے گلابی رنگ کا پانی میرے پائوں چھو کرمجھے اپنی طرف کھینچتا جاتا۔میں اُس دن پُرجوش سندھو ساگر کی زبان سمجھنے لگا تھا۔دنیا میں ایک دوسرے کو سمجھنا ہی تو سب سے مشکل کام ہے۔کبھی انسانی کالونیوں سے پرے(جہاں سمندر اپنی شروعات کرتا ہے) اِن ساحلوں پر وقت گزارا جائے تو بے خود لہروں کی حیات افروز مستی آشکار ہوتی ہے۔ان چھلکتے جوشیلے پانیوں کی دُھنیں سماعتوں میں رَس گھولتی ہیں۔یہ بے پایاں سمندر صرف خوش رنگ پوشاک پہن کر ہی نہیں دِکھاتا بلکہ اپنے اندر آبی جانداروں کی فصلیں بھی پیدا کرتا ہے۔ایسے نایاب جانوروں کی پلٹونوں کو بھی رزق دیتا ہے جو ابھی انسانی نظر میں اجنبیت کی دہلیز پر ہیں۔جب ماہی گیر مستول کھڑا کر کے بادبان کھول دیتے ہیں اور چپو گھما کر سمندر میں اپنی قسمت آزماتے ہیں تو پرشور دھاروں میں سے مچھلیوں کی مختلف اقسام برآمد ہوتی ہیں۔اُجلے لباس میں کیکڑے جو بنفشی، کبھی سیاہ اور کبھی آسمانی رنگ کے ہوتے ہیں۔اِن نہ ختم ہونے والے ذخائر میں سے جھینگے اور سیپ کے خزانے نکالے جاتے ہیں۔اِن مچھلیوں کے جزیروں سے مچھیرے اپنا اور اپنے خاندانوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ اپنے جہازوں کو لنگر انداز کرتے ہیں پھر اِن آبی جانوروں کو اپنے جہاز کے عرشے پر خشک کرتے ہیں۔بحری بگلے اپنا رزق تلاش کرتے ہوئے ان جہازوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔اس طرح ماہی گیروں کے شام و سحر گزرتے ہیں۔لیکن ان ساحلوں پر دن بھر کی تھکن کے بعد چھاگلوں میں سے بدیسی مئے نوشی کے دَور چلتے ہیں۔مچھلی کا گوشت اور نشے میں دُھت یہ مچھیرے معیشت کی بلائے ناگہانی سے آزاد ہو جاتے ہیں۔پھر صراحی کے ڈاٹ کُھلتے ہی خستہ حال مفلس سمندری داستانیں چھیڑتے ہیں۔مٹکوں کی شراب سے ملاحوں کے نگر پُر فضا جزائر میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ وہ سمندر کی پُرآشوب کہانیاں سناتے ہیں۔سمندری قزاقوں کے واقعات سُن کر کھارے پانیوں کے کنارے تمثیل کا نیا منظر اُبھرتا ہے۔ریگِ ساحل کے راہرو کبھی ٹرائے کے کنارے اُترتی کشتیوں کے قِصے بیان کرتے ہیں تو کبھی محمد بن قاسم کی داستان ۔یہ ساحلوں پر بسنے والے لوگ ہوائوں کے مزاج آشنا ہیں۔متانت بھری ٹھنڈی ہواؤں کو خدا کی رحمت سمجھتے ہیں اور کبھی کف آلود موجوں سے ہی دو دن کے بعد ہونے والے واقعات کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔کبھی یہ لوگ ستاروں کی زبان بھی سمجھتے تھے مگر اب اِن کو جی پی ایس سسٹم سمجھ آ گیا ہے۔صرف چند کلومیٹر سمندر کے اندر جاتے ہی آسمان اور پانی کا رنگ ایک ہو جاتا ہے۔سربہ فلک لہریں خشکی کے حصے کو کھا جانے کی دُھن میں ساحل کی جانب بڑھتی ہیں۔مگر عمودی ساحلی چٹانیں ان کی شعلگی کو ٹھنڈا کردیتی ہیں۔

پسنی شہر میں بلوچ قوم پرستوں کی بڑی تعداد سیاحوں سے محبت کرتی ہے۔کچھ انتشار پھیلانے والے افراد کوسکیورٹی فورسز نے قابو میں کر رکھا ہے۔پاکستانی فوج کی قربانیوں سے یہ خطرناک ترین علاقے بھی اب امن کا گہوارہ ہیں۔سیاح بلا خوف و خطر سفر کرتے ہیں اور قدرتی ماحول سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ساحلوں کی لہریں سیاحوں کے دِلوں میں کبھی کبھار خوف کے راگ چھیڑتی ہیں۔ایک لمحے کو تصور کیجیے کہ پرندوں کی پھڑپھڑاہٹ خاموش ہو چکی ،حشرات رینگ رینگ کر دم توڑ چکے ، جانور ڈریگن جیسی مشینری کے ہاتھوں اپنی جان گنوا چکے ہیں اور پرانے نجومیوں کی آخری پیش گوئیاں پوری ہو چکی ہیں۔اب صرف خدا باقی ہے۔یہ ساحل اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ کائنات کچھ بھی نہیں، صرف پانی ہے ۔مجھے ان ساحلوں سے ملنے اور ان سے ہم کلام ہونے کا موقع ملا ہے۔ مجھے اِن ساحلوں نے ہر گزرتی شام میں اپنا جمالیاتی رنگ دکھایا۔یہ ساحل ہنگامِ ازل کے گیت بھی سناتے ہیں اور حشر برپا کرتے مستقبل کے در بھی وا کرتے نظر آتے ہیں۔

اِن علاقوں کا لینڈ سکیپ بہت مختلف ہے کہیں چٹیل میدان شروع ہو جاتے ہیں تو کہیں چلتن کے پہاڑوں جیسا خشک علاقہ دِکھائی دیتا ہے۔کہیں بے ترتیب ندی نالے تو کہیں ساحلی حُسن کے دلکش نظارے شروع ہوجاتے ہیں۔یہ عظیم الشان گہرا نیلا سمندر میدانی علاقوں کے سیاحوں کو اپنے جادوئی حسن کی گرفت میں لے لیتا ہے، کہیں جانے نہیں دیتا۔اگرچہ ماہی گیروں کی کشتیاں بھی تیرتی نظر آتی ہیں۔مگر زیادہ تر یہ ساحل گُمنامی کی دھند میں لپٹے انسانی قدموں کو ترستے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔پسنی کا ساحل بھی آسٹریلیا کے وائٹ ہیون بِیچ جیسا ہے۔وہ ساحل صرف سفید ریت جبکہ یہ ساحل زرد اور سفید رنگ کا ایسا امتزاج ہے جس پر قوس قزح کا گمان ہوتا ہے ۔اس پرننگے پائوں چلنے سے پورے وجودمیں ایک ٹھنڈک اُتر آتی ہے اور یہ ساحل کم گرم اور طراوت کا احساس دِلاتا ہے۔پسنی کے مغربی علاقے میں واقع دیغان کا تاریخی اور قدیم قبرستان بھی موجود ہے جو شہر کا ایک قدیم قبرستان ہے۔ جس کی تاریخ سے زیادہ تر مقامی نابلد ہیں۔

پسنی کے جنوب مغرب میں واقع پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ استولا موجود ہے جو پسنی شہر سے 39 کلومیٹر دور ہے۔ یہ جزیرہ سمندری مخلوق کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، جہاں نہ صرف سائبیریا سے نقل مکانی کرنے والے پرندے کثرت سے اُترتے ہیں۔بلکہ نایاب ہونے والی سمندری مخلوق بھی پائی جاتی ہے۔چاندنی راتوں میں گھونگھے اپنی سیپیاں کھول دیتے ہیںاور دیگر آبی مخلوق پر بھی چاندنی اپنی نرماہٹ کی چادر تان لیتی ہے۔اِن ساحلوں کے کناروں پر اور پانیوں کے اندر بے شمار مچھلیوں اور نباتاتی و حیواناتی جانداروں کی اقسام پائی جاتی ہیں۔کشتی سازی کے فن میں ماہر یہ لوگ مختلف اقسام کی کشتیاں بناتے ہیں جِن میں یکدار،  رنچن، لانچ، بُچ اور دیگر شامل ہیں۔ماہی گیر اپنے مختلف سائزوں کے جال بنا کر مچھلی پکڑنے کے کاروبار میں استعمال کرتے ہیں۔چند نوجوان تھری ڈی آرٹ کے نمونے ساحل کی ریت پر بناتے ہیں اور یہ شہکار نمونے دیکھنے والوں کو حیرت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔تھری ڈی آرٹ کے لیے فنکار اس ساحل کو سب سے بہترین مانتے ہیں۔

ملاحوں کی دنیا بھی عجب ہے۔وہ اپنی اپنی ناؤ کی طنابیں کھینچ کر لنگر چڑھاتے ہیں۔ماہی گیر جال پھینک کر مچھلیاں پکڑنے اس نیلگوں سمندر میں اترتے ہیں۔دو صدیوں سے آباد اس ساحلی کنارے پر لوگ اب اپنے فشنگ نیٹ پر انحصار کر کے سحر دم نکلتے ہیں کہ اِن کے خیموں میں زندگی کا تسلسل اسی مشقت پر منحصر ہے۔اس کنارے پر شام کے وقت جب مشعلیں روشن ہوتی ہیں تو ارضِ کالدیا کے ساحلی علاقوں کے ملاحوں کی یاداُبھرتی ہے جو قندیلوں اور مشعلوں کو روشن کر کے سمندر کے مدوجزر سے آگاہی رکھتے تھے

اسی ساحل پر سائبیریا سے نقل مکانی کرنے والے آبی پرندے بھی اترتے ہیں۔اس کے علاوہ گرین کچھوے، سی سٹار، اور آبی پودے بھی پائے جاتے ہیں۔یہ ساحل خوبصورتی میں آسٹریلیا اور کینیڈاکے ساحلوں سے کسی طور کم نہیں ۔پہلی نگاہ میں مونا لیزا کا تبسم اِن ساحلوں پر نمودار ہوتا ہے۔دھوپ کا رنگ بھی اس ساحل کے آس پاس گھنے سائے کی سی ٹھنڈک کا احساس دلاتا ہے۔پسنی سے استولا تک کشتیوں کے ذریعے اس جزیرے تک پہنچنے میں چار گھنٹے لگ سکتے ہیں۔استولا کا مقام سیاحت کے لیے بے پناہ خوبصورتی کا باعث ہے۔یہاں سے باآسانی مچھلی کا شکار اور اسکوبہ ڈائیونگ کی جا سکتی ہے۔جون سے اگست تک سمندر کی لہروں کا جوش آسمانوں کو چھوتا ہے مگر باقی مہینوں میں پانیوں کی دیوی شانت رہتی ہے ۔فطرت کے جمالیاتی قفل کو کھولنے کے لیے سفر ایک چابی ہے اور ذوقِ نظر کا سفر تاحال جاری و ساری ہے۔ ||


مضموں نگار، شاعر، سفرانچہ نگاراور دو کتابوں کے مصنف ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 71مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP