ستمبر سپیشل

پرواز میری ضامن ِ فصلِ بہار قوم

ایک ہندو مصنف روی راکھی اپنی کتاب"The war that never was"میں اعتراف کرتے ہوئے لکھتا ہے:
پاکستان کی فضائیہ ہمیشہ بھارتی فضائیہ کے مقابلے میں چھوٹی رہی۔ محدود وسائل کی بناء پر پاکستان نے ہمیشہ تھوڑی قوت سے بہترین نتائج حاصل کئے۔ ستمبر65کی جنگ میں پاک فضائیہ کے پاس B57 کے دو سکواڈرن کے 24 طیارے تھے جنہوںنے 48 کینبرا طیاروں کے تین سکواڈرن میں سے آدھے ختم کردیئے۔ تعداد میں کہیں کم ہونے کے باوجود پاکستان کے جنگی طیاروں نے2800 حملہ اُڑانیں کیں جبکہ اُس کے مقابلے میں چارگنا بڑی بھارتی فضائیہ نے7000 اُڑانیں بھریں۔ اس سے پاک فضائیہ کے زیادہ حملوں کا اظہار ہوتاہے۔



 مئی1961 میں پاک فضائیہ کے پاس F-104سٹار فائٹر آگئے جو آواز سے دُگنی رفتار میک(1500mph) (Mach-2) 2 کے ساتھ پرواز کی صلاحیت رکھتے تھے۔ پاک فضائیہ نے ستمبر 65 کی جنگ میں اپنی بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوںکا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو حیران کردیا اور ہر معرکہ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
یکم ستمبر1965 کو چھمب کے محاذ پر پاک فضائیہ اور بھارتی فضائیہ کے درمیان پہلی فضائی جھڑپ ہوئی۔ پاک فضائیہ کے صرف دو عدد ایف86 طیاروںنے پاکستانی فوجی مورچوں پر حملہ کرنے والے چار بھارتی ویمپائر طیاروں کو ٹھکانے لگادیا۔ پہلی فضائی جھڑپ کا آغاز سکواڈرن  لیڈر سرفراز احمد رفیقی اور فلائٹ لیفٹیننٹ امتیاز احمدبھٹی نے کیاتھا اور اس جھڑپ کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ اس واقعے کے بعد بھارت نے فضائی حملوں میں ویمپائر طیاروں کا استعمال بالکل ختم کردیا۔
3 ستمبرکو 11:05 پر پسرور ایئر فیلڈ پر بھارتی لڑاکا سکواڈرن کے فائٹر کمانڈر سکواڈرن لیڈر برج پال سنگھ سکند نے ایک فضائی معرکے میں F-104 سٹار فائٹر کے آگے سرنڈر کردیا۔ جس کے ہوا باز فلائٹ لیفٹیننٹ حکیم اﷲ تھے جو تقریباًدو دہائی کے بعد پاک فضائیہ کے چیف بنے۔ سکندکو پانچ ماہ جنگی قیدی رکھ کر چھوڑ دیاگیا اور وہ بعد میں بھارتی فضائیہ کے ایئر مارشل کے رینک تک پہنچے۔
4ستمبرصبح 5:25 منٹ پر فلائٹ لیفٹیننٹ آفتاب عالم خان نےF-104 سٹار فائٹر اُڑاتے ہوئے چار مسٹیئرطیاروں میں سے ایک کو تباہ کردیا اور دوسرے کو بُری طرح نقصان پہنچایا۔ اس مشن کو سکیسر سے ریڈار پر فلائٹ لیفٹیننٹ فاروق حیدر کنٹرول کررہے تھے۔ فلائٹ لیفٹیننٹ آفتاب عالم خان نےF-104 سٹار فائٹر سے دیکھا کہ ان کے سامنے سے درختوں کی اونچائی پر اڑتے ہوئے چار مسٹیئرطیارے گزررہے ہیں۔ لہٰذا آفتاب نے تیزی سے پینترا بدل کر ایک گرادیا اور دوسرے کو بری طرح نقصان پہنچایا۔ باقی دو نے فرار ہونے میں امان سمجھی تاکہ اپنے بقیہ پائلٹوں کوF-104 سٹار فائٹر کی دہشت کی کہانی سُنا سکیں۔ اس وقت موسم صاف نہیں تھا بلکہ گرد آلود ہونے کی وجہ سے زیادہ دُور تک نہیں دیکھا جاسکتا تھا۔ یہ انتہائی کم بلندی پر ہوا سے دُگنی رفتار کے ساتھ اُڑانے والے جہازوں کا دشمن پر پہلا دبدبہ تھا اور میزائل کے ذریعے گرائے جانے والا پہلا  معرکہ جس نے دشمن پر F-104 کی دھاک بٹھا دی۔
 میرے پروں میں قوتِ پروازِ جبریل 
شہپر سے توڑ ڈالوں میں ہر کفر کی فصیل
6ستمبر کی صبح سکواڈرن نمبر19 کے چھF-86 سیبر طیاروں نے دشمن کے زمینی دستوں پر واہگہ کے محاذ پر حملہ کیا لاہور پرقبضہ کرنے کی تمنا لئے ہوئے    دشمن کے ٹینک جی ٹی روڈ کو روندتے ہوئے سرعت سے آگے بڑھ رہے تھے۔ سیبر طیاروں کی اس فارمیشن میں سکواڈرن  لیڈر سجاد حیدر اور ان کے ساتھ فلائٹ لیفٹیننٹ ایم اکبر، دلاور حسین، غنی اختر، فلائنگ آفیسر خالد لطیف اور راشد چودھری شامل تھے۔ بھارتی آرمی کے بکتر بند دستوں کا خیال تھا کہ ان کے جہاز اُن کی مدد کریں گے۔ مگر 5 انچ راکٹ پہلی مرتبہ پاک فضائیہ نے استعمال کئے اور دشمن کا حلیہ بگاڑکر رکھ دیا۔
6ستمبر پٹھانکوٹ سٹرائیک۔ شام پانچ بج کر پانچ منٹ پر سکواڈرن نمبر19 کے آٹھ F-86 سیبر طیاروں نے، جن کی قیادت سکواڈرن لیڈر سجاد حیدر کررہے تھے، دشمن کے ایک بڑے فضائی اڈے پٹھانکوٹ پر حملہ کیا۔ ہمارے ہرہواباز نے نہایت مہارت کے ساتھ ہینگرزمیں کھڑے ہوئے بھارتی جہازوں کو نشانہ بنایا اور غوطہ لگا کرسٹرائفنگ شروع کردی۔ پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔ ونگ کمانڈر ایم جی تواب جو فائٹر جہازوں کو Escort کررہے تھے اور دو میں سے ایک جہاز اڑارہے تھے خود مشاہدہ کیا کہ 14 ہینگرز جلتے ہوئے شعلوں کے ملبے میں تبدیل ہوچکے ہیں اور دوسری طرف بھارتی فضائیہ کی جانب سے بھی اس بات کی تائید ہوئی کہ اُن کے تقریباً تمام مگ21  اس حملے میں تباہ ہوگئے۔ کیونکہ بعد میں لڑائی کے دنوں میں دشمن کے مگ21کو کبھی اُڑتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی محافظت کا فریضہ دو سیبر طیارے کررہے تھے جس میں سے ایک ونگ کمانڈر ایم جی تواب اڑا رہے تھے جو بعد میں بنگلہ دیش ایئرفورس کے چیف بنے۔ جبکہ حملہ آور دستے کی قیادت سکواڈرن لیڈر سجاد حیدر کررہے تھے۔ فلائٹ لیفٹیننٹ ایم اکبر، مظہرعباس، دلاورحسین، غنی اکبر اور فلائنگ آفیسر ارشد چودھری، خالد لطیف اور عباس خٹک جو بعد میں پاک فضائیہ کے چیف بنے ان کا بھرپور ساتھ دے رہے تھے۔
ہیرو کی شہادت 6 ستمبر شام چھ بجے: پاک فضائیہ سکواڈرن نمبر5 کے آٹھ سیبر طیاروں کو ہلواڑہ بیس پر حملے کے لئے تعینات کیا گیا مگر چند ناگزیر وجوہات کی بناء پر صرف تین ہی روانہ ہوسکے۔ جن کی قیادت سکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی کررہے تھے۔ ہلواڑہ بیس کے بالکل قریب ان کا آمنا سامنا دس سے بھی زیادہ بھارتی ہنٹر طیاروں سے ہوگیا۔ سرفراز رفیقی نے بڑی تیزی سے ایک ہنٹر کو گرا دیا اور قریب تھا کہ دوسرے کو بھی نشانہ بنائیں مگر اچانک اُسی لمحے اُن کی توپیں خراب ہوگئیں۔ لہٰذا آپ فوری طور پرپیچھے کی طرف ونگ مین پوزیشن میں چلے گئے اور اپنے نمبر2 سیسل سے کہا کہ تم آگے کی طرف آجائو اور میں تمہاری ٹیل کلیئر کرتا ہوں اور اسی کوشش میں آپ نے جامِ شہادت نوش کیا۔اسی دوران سیسل نے ایک اور ہنڑمارگرایا۔ مگر اب بھی آٹھ سے زیادہ ہنڑ بقیہ دو پاک فضائیہ کے سیبر طیاروں پر چاروں طرف سے حملہ کررہے تھے۔ اس دوران فلائٹ لیفٹیننٹ یونس حسن کا جہاز بھی تباہ ہوگیا اور انہوںنے بھی اپنے لیڈر کی پیروی کرتے ہوئے پاک وطن پر اپنی جان نثار کردی۔
قربان میں ہوجائوں گا ناموسِ وطن پر
سج جائے گا پھر ملک کا پرچم بھی کفن پر
میں خاک ِ کفِ پائے شہیدانِ وطن ہوں
للکارکے دیکھے تو کوئی سربکفن ہوں
اور اس طرح تین سیبر طیاروں میں سے صرف سیسل سرگودھا بیس پلٹنے میںکامیاب ہوئے مگر دس سے زیادہ ہنٹر طیاروں میں سے پانچ تباہ کردیئے گئے۔ 
کلائی کُنڈا بمبار بیس پر حملہ 7ستمبر:  ڈھاکہ بیس پر کھڑے پانچ سیبر طیاروں نے بھارتی بمبار طیاروں کے مستقر کلائی کنڈا پر حملہ کیا اور جب  ہمارے سیبر طیارے بھارتی ہوائی اڈے پر پہنچے تو دیکھا کہ بے شمار بمبار طیارے اُڑان بھرنے کے لئے لائن اَپ ہو چکے ہیں، تو انہوں نے ایک لحظہ ضائع کئے بغیر فارمیشن لیڈر سکواڈرن لیڈر شبیر ایچ سید کی ہمراہی میں فلائٹ لیفٹیننٹ عبدالبصیر، طارق حبیب، عبدالحکیم اور فلائنگ آفیسرافضل خان نے مل کر  ہلہ بول دیا جس کا تذکرہ بعد میںبھارتی فضائیہ کے چیف بننے والے ایئر چیف مارشل پی سی لال نے اپنی یادداشتیں لکھتے وقت ایک ''ناقابلِ فراموش سبق''   "A Sharp Lesson"  کے حوالے میں کیا کہ پاک فضائیہ کے ہوا بازوں نے چراغ پور (کلائی کُنڈہ بیس) پر اچانک حملہ کرکے ہمارے بے شمار کینبرا بمبار اور ہنٹر طیارے اُڑان بھرنے سے پہلے ہی زمین پر تباہ کردیئے۔
اے پاک وطن میلی نظر تجھ پہ جو ڈالے
اُس شخص کو کردوں میں جہنم کے حوالے
دشمن کے لئے موت کے نیزے کی چبھن ہوں
میں حیدری شمشیرہوںاوسان شکن ہوں
سیبر بمقابلہ مسٹیئر۔7ستمبر شام تین بج کر 48 منٹ:فلائٹ لیفٹیننٹ اے ایچ ملک نے سرگودھا کے نزدیک حملے کے لئے آئے ہوئے مسٹیئر کو تباہ کردیا۔ جبکہ ان کے نمبر 2 فلائنگ آفیسر خالد اقبال نے دوسرے مسٹیئر کا خطرناک حد تک زمین کے انتہائی قریب پرواز کرتے ہوئے دور تک پیچھا کیا کیونکہ جب سیبر نے لینڈ کیا تو اس کا نچلا حصہ پتوں سے ٹکرا ٹکرا کر ہرا ہو چکا تھا۔ 
بگڈوگرا پر حملہ10ستمبر شام پانچ بج کر تیس منٹ پر:  نمبر 14 سکواڈرن کے چار سیبر طیاروںنے جو ڈھاکہ میں تعینات تھے بھارتی مستقر بگڈوگرا پر حملہ کیا اور دشمن کے چار طیارے جو اڑان بھرنے کے لئے تیار کھڑے تھے تباہ کردیئے اور ساتھATC بلڈنگ اور ہینگر کو شدید نقصان پہنچایا۔ سکواڈرن لیڈر سید شبیر،  فلائنگ آفیسرسالم، فلائٹ لیفٹیننٹ فاروق ایف خان جو بعد میں پاک فضائیہ کے چیف بنے۔ اس کے علاوہ فلائنگ آفیسر حسن اختر جیسے شیر دل ہواباز اس فارمیشن میں شامل تھے۔
امرتسر ریڈار کی تباہی: نمبر11 سکواڈرن کے چار سیبر طیاروں نے ونگ کمانڈر شمیم انور کی قیادت میں امرتسر شہر پر لگے ہوئے ریڈار پر اچانک حملہ کردیا کیونکہ یہ ریڈار  بھارتی ہوابازوں کی مسلسل پاکستان پر حملہ کرنے کے لئے اور پاکستانی طیاروں کی پیشگی اطلاع دینے میں دشمن کی بڑی خاص مدد کررہا تھا اس مشن میں نمبر2 سکواڈرن لیڈر منیر الدین احمد تھے۔ جن کے جہاز کو زمینی توپوں کی شدید گولہ باری سے سخت نقصان پہنچا اور اس طرح دلاوری کے ساتھ انہوںنے وطن پر اپنی جان قربان کردی۔ نمبر3 امتیاز بھٹی اور نمبر4 سیسل چوہدری تھے۔
13ستمبر کو پاک فضائیہ کے چار سیبر طیاروں نے سکواڈرن لیڈر علائوالدین احمد جنہیں پیارسے'بُچ' (Butch)کہا جاتا تھا، کی قیادت میں دیکھا کہ گُرداسپور ریلوے سٹیشن پر اسلحے سے بھری ٹرین کھڑی ہے۔ بے شمار ٹرین ویگین ڈبوں میں زمین فوج کی مدد کے لئے مہلک اسلحہ لے جایا جارہا ہے۔ لہٰذا ہمارے ماہر ہوابازوں نے چُن چُن کر ویگن ڈبوں کا نشانہ لیااور راکٹ برسائے گرداسپور کا ریلوے سٹیشن بہت جلد دھماکوں سے گونج اُٹھا اور جگہ جگہ شعلوںاور دھوئیں کے بادل نظر آنے لگے۔ بدقسمتی سے  'بُچ' کا طیارہ اسلحے سے بھری ویگنوں کا نشانہ لیتے ہوئے کچھ نیچے آگیا۔ اس طرح دھماکوں سے پھٹتی ہوئی ٹرین کا ایک ٹکڑا طیارے سے ٹکرایا اور وہ تباہ ہوگیا۔ علائوالدین بُچ کی کال سنی گئی کہ وہ ایجیکٹ کررہے ہیں مگر وہ کبھی وطن نہ لوٹ سکے۔ ان کی شجاعت ودلیری کے اعتراف میں بعداز شہادت اُنہیں ستارئہ جرأت سے نواز گیا۔
19 ستمبر، لاہور کا ہوائی معرکہ: یہ وہ معرکہ ہے جسے اہلِ لاہور نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ دشمن کے آٹھ طیاروں کے مقابلے میں ہمارے چار سیبر فضا میں نظر آئے۔ بھارتی طیاروں میں چار ہنٹر اور چار جی نیٹ طیارے تھے جس میں سے دو ہنٹر طیارے تو فوری گرالئے گئے۔ اس فارمیشن کے لیڈر ایس اے چنگیزی، فلائٹ لیفٹیننٹ اے ایچ ملک، ایس این اے جیلانی، امان اﷲ خان تھے اور ایئر ڈیفنس کنٹرولر اعجاز اے خان تھے جو سکیسر سے ہوائی معرکہ کنٹرول کررہے تھے۔
21ستمبر۔ آخری کینبرا حملہ آور طیارے کا خاتمہ : صبح صادق سے قبل ستمبر1965 کے معرکے کے تیسرے عشرے میںسرگودھا پر حملہ کیاگیا۔ جسے پاک فضائیہ سٹار فائٹر نے سرحد کے قریب فاضلکا ایریا میں نشانہ لے کر گرا دیا۔ پائلٹ جہاز سے کودنے میں کامیاب ہوگیا مگر پکڑا گیا۔ اس کینبرا طیارے کو 32000 فٹ کی بلندی پر نشانہ بنایاگیا مگر جب یہ کینبرا طیارہ زمین بوس ہورہا تھا۔ اپنے جلتے بدن کے ساتھ10000 فٹ کی بلندی پر موجود بادلوں کے درمیان سے گزرا تو ہر طرف فضائوں میں رقص کرتی ہوئی روشنیوں سے ایک مسحورکن  سماں بندھ گیا۔ دشمن کے اس جہاز کو گرانے والے ہوا باز کا اسمِ گرامی تھا سکواڈرن لیڈر جمال اے خان جو بعد میں پاک فضائیہ کے چیف بنے اور کنٹرولر سکواڈرن لیڈر انور احمد تھے۔ بعد کے اعداد و شمار نے تصدیق کی کہ پوری دنیا میں سٹار فائٹر کے ذریعے رات کے وقت میزائل سے گرایا جانے والا یہ دشمن کا واحد طیارہ تھا۔
16ستمبر لاہور جمخانہ میں جشن منانے کا خواب: جب سفاک دشمن نے دیکھا کہ اس کا لاہور جمخانہ میں جشن منانے کا خواب کسی طرح بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوپارہا تو وہ جلو اور اٹاری کے درمیان اپنا بھاری توپ خانہ لے آیا تاکہ اس کے ذریعے سے لاہور کے تاریخی شہر پرو حشیانہ گولے داغے جاسکیں۔ لہٰذا دشمن کے مذموم ارادوں کو خاک میں ملانے کے لئے نمبر32 ونگ نے سرگودھا سے اپنے سیبر طیاروں کو بھیجا۔ واہگہ سرحد کے قریب اس ہوائی معرکے کی قیادت سکواڈرن لیڈر دائود پوتاکررہے تھے اوران کا ساتھ دے رہے تھے فلائٹ لیفٹیننٹ امان اﷲ خان۔ منصور یوآئی حسین، سیف الاعظم، پرویز، سلیم شیخ اور فلائنگ آفیسر آفتاب راجہ اور قادر۔ جنہوںنے دشمن کو بے پناہ نقصان پہنچا کر اپنے ارادوں میں ناکام کردیا۔
ایم ایم عالم: ستمبر1965 کی جنگ میں سکواڈرن لیڈر محمدمحمود عالم نے سب سے بڑا نمایا ں کارنامہ سرانجام دیا اور ستمبر65 کے ہوائی معرکے کے فاتح اعظم قرار پائے جنہوںنے اپنے سیبر طیارے سے مجموعی طور پر دشمن کے نو جہاز تباہ کئے جن کی تصدیق بعد میں بھی ہوگئی اور دو جہاز اس کے علاوہ بھی جن کے بارے میں کافی حدتک یقین ہے کہ انہیںبھی تباہ کردیا گیا تھا۔ ایم ایم عالم سکواڈرن کے ممتاز تجربہ کار پائلٹ سمجھے جاتے تھے انہوں نے گنری (Gunnery) مقابلوں میں بھی اعزاز حاصل کیا۔ پوری دنیا میں کسی بھی ایک مشن میں سب سے زیادہ  جہاز گرانے والے واحد جانباز ہوا باز ہیں۔
ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی:دشمن نے چونڈہ کے محاذ پر ٹینکوںکا سب سے بڑا اژدہام لگادیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہ ٹینکوں کی سب سے بڑی معرکہ آرائی تھی جس میں ہمارے سیبر طیاروںنے فیصلہ کن کردار ادا کیا اور ٹینکوں کی یلغار کو قبرستان میں تبدیل کردیا۔
افلاک میں ہوں شعلۂ رخشاں دمِ پرواز
پرواز میں ہے برقِ بلاخیز کا انداز
میں شعلہ صفت، شعلہ فشاں، شعلہ بدن ہوں
ہر دشمنِ ملت کے لئے دارورسن ہوں
 

یہ تحریر 61مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP