متفرقات

پرندے کیوں نہیں آتے

نوجوان طلباء کا ٹولہ اس مخبوط الحواس بزرگ کو دیکھ کر ہنس رہا تھا جو ان کی یونیورسٹی کے سامنے فوجی انداز میں گیٹ کی جانب منہ کرکے سلیوٹ کررہا تھا اور پھر لیفٹ رائٹ، لیفٹ رائٹ کے انداز میں چلتا ہوا کوئی سو میٹر تک جاتا اور پھر واپس آ جاتا۔ وہ اپنے کام میں ا س قدر مگن تھا کہ اس کو کسی کی بھی یہ پروا نہ تھی کہ کوئی اس کو دیکھ کر مسکرا رہاہے یا کوئی اپنے موبائل سے اس کی وڈیو بنا رہا ہے۔ وہ اپنے کام میں مگن رہا اور دس بارہ منٹوں کے بعد اس نے دُور پڑا ہوا اپنا پلاسٹک کا تھیلا اٹھایا اور کاغذاٹھا اٹھا کر اس میں ڈالنے لگا۔  وہ ہر قسم کے طنز اور قہقہوں سے بے نیاز اپنے کام میں اس طرح مگن تھا کہ گویا یہ کام ہی اس کی زندگی ہے۔ اس نے زمین پر پڑے ہوئے کچھ کاغذ اکٹھے کر کے اپنے  تھیلے میں ڈالے تو وہ زمین پر نظر پڑتے ہی چونکنے والے اندازمیں سگریٹ کے اس ٹکڑے کی جانب بڑھا جو کسی نے پی کرآدھا پھینک دیا تھا۔ اس نے جیب سے ماچس نکال کر سگریٹ سلگائی اور اپنی راہ لی ۔سبھی طلباء اس پُر اسرار بوڑھے پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے اپنے گھر وں کو چل دیئے گو کہ تماشہ ختم ہو گیا تھا لیکن سرمد کو یہ بات بری طرح کھٹک رہی تھی کہ یہ کوئی عام بوڑھا نہیں ہے۔ یہ بہت پہنچی ہوئی چیز ہے، اس سے ملنا چاہئے ،اپنے ارادے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اس نے اپنے کالج کے چند دوستوں سے مشورہ بھی کیا لیکن کوئی بھی اس کی بات سے متفق نہ ہو رہا تھا کیونکہ آ ج کل شہر میں مخبو ط الحواس بوڑھوں کی کوئی کمی نہ تھی، کسی نہ کسی چوراہے پر ایسے کاغذ چننے والے او ر نشہ کرنے والے لوگ موجود ہوتے ہی ہیں۔ سرمد کے دوستوں نے اس کی تجویز کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ہمیں کیا پڑی ہے کہ ہم اپنا وقت ایک ایسے کام کے لئے برباد کریں جس کا نہ کوئی سر ہے نہ پائوں۔ دل برداشتہ سرمد کے ذہن سے وہ خبطی بوڑھا نکل نہ پا رہا تھا اس کی داڑھی اور سر کے کچھ سفید بال اور پھر میلے کچیلے کپڑوں سے لگ رہا تھا کہ وہ کئی روز سے نہایا بھی نہیں ہوگا۔ سرمد کو نہ جانے کیوں وہ بوڑھا کوئی عام کاغذ چننے والا نہ لگ رہا تھا ، 
 ایک دن جمعہ کی نماز کے بعد وہی تماشہ سرمد اور اس محلے کے رہنے والے نمازیوں کو دیکھنے کو مل گیا لیکن آج اس بوڑھے کا انداز فوجی سلیوٹ اورپریڈ سے ہٹ کر مسجد کی مناسبت سے سجدہ کرنے والا تھا۔ وہ گرم زمین پر ننگے پائوں ننگے سر گھٹنوں کے بل رکوع میں جاتا اور پھر تپتی زمین پر سجدہ کر دیتا۔ اس کا سجدہ اور رکوع دوسرے نمازیوں سے مختلف نہ تھا لیکن اس کا قبلہ درست نہ تھا، وہ قبلہ رو نہ تھا بس اپنی لگن میں ہی نماز پڑھ کر سلام پھیر کر ایک جانب چل دیا۔ کئی درد دل رکھنے والوں نے اس کے سجدے میں جانے کے بعد پیسے بھی پھینکے لیکن اس نے سلام پھیرنے کے بعد کوئی بھی پیسہ نہ اٹھا یا بلکہ پیسوں کی طرف دیکھ کر مسکر ایا اور  ایک جانب چل دیا۔ اب تو سرمد کو پورا یقین ہو گیا تھا کہ وہ کوئی عام انسان نہیں ہے وہ اس بوڑھے سے ضرور ملناچاہتا تھا۔ اس نے ایک بار پھر اپنے دوستوں سے ساری بات کی اور ان کو اس طرح راضی کر لیا کہ چھٹی والے دن اس بوڑھے کو ڈھونڈ کر ملا جائے اور اس سے کچھ باتیں کی جائیں ۔ 
  ایک دن ان کی مراد بر آئی ان کو وہ مخبو ط الحواس بوڑھا ایک ٹی سٹال پر مل گیا۔ وہ اپنے انداز میں ورزش کرنے میں مصرو ف تھا ۔وہ کبھی بے تکے انداز میں دوڑنے لگتا اور کبھی اٹھک بیٹھک کرنے لگتا۔ لوگ اس کی حرکات سے محظوظ بھی ہو رہے تھے اور چائے والے کی بھی خوب چاندی ہو رہی تھی ۔سرمد نے اپنے دوستوں کی طرف دیکھا تو انہوں نے ایکا کر کے بوڑھے کو روک لیا۔ اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ وہ کئی کلو میٹر دورسے بھاگتا ہوا آیا ہے۔ وہ بری طرح سے ہانپ رہا تھا اور سرمداور باقی نوجوانوںکو دیکھ بھی رہا تھا۔ اس نے گویا ہار ماننے والے انداز میں خود کو ان کے حوالے کر دیا۔ وہ اس کو لے کر ایک میز کی جانب بڑھے جس کے گرد چھ سات کرسیاں پڑی ہوئی تھیں۔ ایک کرسی پر اس بوڑھے کو بٹھا کر چائے کا آرڈر دے دیاگیا۔ وہ سب کے چہروں کی جانب باری باری دیکھ رہا تھا جیسے پوچھ رہا ہو کہ مجھے میرے کام سے کیوں روکاہے اور تم کیا چاہتے ہو ؟
  '' بابا جی آ پ کاغذکیوں چنتے ہیں کیا آپ کی کوئی اولاد نہیں ہے ؟ '' سرمد کے دوست کی جانب سے پہلا سوال سن کر بوڑھے نے ایک پر سکون سانس خارج کی کہ جیسے اس کو ان نوجوانوںسے کسی اور مشکل سوال کی توقع ہو ، وہ ہولے سے مسکرایا اور بولا : '' پہلے چائے تو آنے دو ....میں ایسے ہی مفت میں کسی بھی سوال کا جواب کیوں دے دوں  ؟''  وہ قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا تو سرمد اور باقی دوست بھی ہنس دیئے، انہوں نے اثبا ت میں سر ہلا دیئے کچھ دیر بعدگرما گرما چائے اتنی گرمی میں بھی بھاپ اڑاتی ہوئی کپوں میں پڑی ان کے سامنے میز پر موجود تھی ۔ 
''  یہ میری ڈیوٹی ہے  ۔''  وہ دھیرے سے بولا تو سبھی اس کی جانب متوجہ ہو گئے 
 ''  ڈیوٹی ......؟ '' وہ سبھی حیرت سے بول اٹھے تو وہ مسکر ایا اور چائے کا گرم گرم گھونٹ اپنے حلق میں انڈیلتا ہوا بولا: '' جس طرح کوئی بڑا افسر اپنے چھوٹے ملازم یا نوکر کی کوئی ڈیوٹی لگاتا ہے کہ وہ یہ کام کرے، یہ کرے، ایسا کرے ویسا کرے، یہ نہ کرے وہ نہ کرے، ایسے ہی ایک بڑے صاحب نے میری ڈیوٹی لگائی ہے کہ میں کاغذ چنوں اور اس سے اپنا رزق تلاش کروں بس وہ مجھے دے رہا ہے اور میں اپنا کام ایمانداری سے کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔'' وہ چائے پینے میں مصروف ہو گیا تو سرمد نے ایک اور دوست کی جانب دیکھا جیسے کہہ رہا ہو کہ اب تم سوال کرو، وہ پس و پیش سے کام لیتا ہوا عاجزی سے بولا: '' اور آپ کے بچے .....بیوی گھر والے وہ سب کہاں ہیں ؟''وہ یہ سن کر زور دار قہقہہ لگا کر ہنسا اور چائے کو ایک ہی گھونٹ میں ختم کرکے اس نے اپنا ہاتھ سرمد کے کپ کی جانب بڑھایا لیکن جھجک گیا۔ سرمد اس کی حرکت کو سمجھتے ہوئے اپنا کپ اس کے سامنے کرتا ہوا بولا ، ''  یہ آپ کے لئے ہی ہے ،پی لیں '' اس نے کپ اپنی طرف کھسکایا او ر بولا ۔'' تم لوگ میرے بچے ہی ہو، میرا گھر یہ سارا ملک میرا گھر ہی ہے اور بیوی وہ کہاں سے آئے گی بھلا ..... میں نے شادی ہی نہیں کی ......'' وہ اپنی ہی بات پر اپنے ہی ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسنے لگا ۔ 
 دو کپ چائے پینے کے بعد وہ بولا:  '' اب تم لوگ جائو پھر کبھی بیٹھیں گے پھر ڈھیروں باتیں کریں گے ،بس اپنے ارد گرد سے ہوشیار رہو دشمن بہت شاطر اور چالاک ہے تمہاری صفوں میں گھس چکا ہے ۔ ''یہ کہہ کر وہ ایک جانب کو چل دیا اس نے کچھ دور جا کر اپنا پلاسٹک کاتھیلا اٹھایا او ر ایک سڑک کراس کر کے منظر سے غائب ہو گیا۔ 
  کچھ دن ہی گزرے ہوںگے کہ شہر کی سب سے بڑی امام بارگاہ میں ایک مجلس کے دوران خود کش بم دھماکے نے انسانی جسموں کے چیتھڑے اڑا دیئے۔ ہر طرف خون ہی خون بکھر گیا، انسانیت بے گوروکفن لاشوں پر ماتم کناں ہو کر رہ گئی تھی۔ ہر آنکھ اشکبا ر تھی، ہر دیوار اور در آنسو بہا کر اس دھماکے میں شہید ہونے والوں کو خراج پیش کرنے میں پیش پیش تھا۔ لیکن قاتل ہمیشہ کی طرح نامعلوم ہی تھا۔ شہر بھر کی فضا سوگوارتھی سرمد اپنے دوستوں کے ساتھ گھر کی بالکنی میں بیٹھا اس حادثے پر بات چیت میں مصروف تھا کہ اس کی نظر باہر سڑک پر بابا جی پر پڑ گئی۔ وہ چونکا تو اس کے دوستوں نے بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں بوڑھے کو دیکھ لیا تھا۔ وہ کاغذ چننے کا تھیلا اپنے کاندھے پر لٹکائے اس پوش ایریا میں جانے کیسے آن گھسا تھا۔ سرمد نے نیچے جا کر اس کو پکارا تو وہ رک گیا اور مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور اس کے پاس آگیا۔ سرمد نے اس کا ہاتھا پکڑ کر باہر پڑی ہوئی کرسی پر بٹھایا اوراپنے دوستوں کوبھی نیچے بلا لیا، ملازم کو چائے کا کہہ دیا گیا تھا ۔
''  بزدل وار کر ہی گیا ۔'' بابا جی بڑ بڑائے تو سرمد کے کان کھڑے ہو گئے وہ دھیرے سے بولا: ''آپ کل والے دھماکے کی بات کر رہے ہیں باباجی ۔''  وہ اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا اور بہت افسوس سے بولا : '' کیا ہو گیا ہے مسلمان کو اپنے ہی بھائی کا قاتل بن گیا ہے ۔'' سبھی اس کی طرف دیکھ کر گنگ رہ گئے تھے۔ سرمد نے ہمت کی او ر پوچھا : '' آپ کا مطلب ہے کہ کل والا دھماکہ ایک مسلمان نے کیا ہے  ؟''
  ''  ہاں '' وہ افسردگی سے بولا ۔ '' لیکن کیوں بابا جی ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کا ناحق خون کیوں بہائے گا  ۔''یہ سوال سرمدکے دوست نے کیا تھا سبھی اثبات میں سر ہلا کر بابا جی سے اس سوال کی بابت جواب کے طلبگار بن کر ان کی جانب دیکھنے لگے تھے ، 
'' مایا ...... صرف دولت کی خاطر ...شیطان کو خوش کرنے کے لئے اپنی آخرت خرا ب کر رہے ہیں۔ دشمن کے ہاتھوں کھلونا بن کر ایک اَن دیکھی بساط کے مہرے بن کر رہ گئے ہیں ۔'' 
 ان کی سمجھ میں تو کچھ نہ آیا لیکن چائے آگئی تھی۔ بابا جی کے سامنے ایک بڑا مگ رکھا گیا جس میں دوسرے کپوںکی نسبت چائے زیادہ تھی۔ وہ خوش ہو کر سرمد اورباقیوں کی طرف دیکھنے لگے جیسے کہ ان کے دل کی مراد پوری ہو گئی ہو۔  
   '' ہم نے تو سنا تھا کہ جب ابرہہ نے بیت اللہ پر اپنے لائو لشکر کے ساتھ چڑھائی کی تھی تو اللہ نے اپنی فوج بھیجی تھی ''سرمد نے بات شروع کی تو بابا جی اس کی جانب ایسے متوجہ ہوئے جیسا کہ اب بہت بڑی بحث ہونے والی ہے ۔ '' وہ چھوٹے چھوٹے پرندے اپنے منہ میں پتھروں کی کنکریاں لے کر ابرہہ کی فوج پر اللہ کا قہر بن کر برس پڑے تھے۔ اب بھی تو مسلمان مر رہا ہے اب بھی ظلم وستم کا بازار گرم ہے۔ اب اللہ تعالیٰ اپنی اس فوج کو کیوں نہیں بھیجتے، بابا جی اب وہ پرندے کیوں نہیں آتے  ؟''سرمد کی آنکھوں میں تیرنے والی نمی نے اس کے باقی ساتھیوں کو بھی نمناک کر دیا تھا۔ بابا جی نے سکون سے چائے کا ایک گھونٹ پیا اور آہستگی سے بولے : '' مساجد، مندر، چرچ اور دیگر عبادت گاہیں اداسی اور سوگواری کا پیرہن اوڑھے عبادت کرنے والے انسانوں کی مرہون منت ہو کر رہ گئیں تھیں۔ وضو خانوں میں ا ب پانی کی چھن چھن کرتی آواز اور ٹونٹیوں سے نکلنے والے ٹھنڈے پانی کے فوارے بھی خشک ہو کر رہ گئے تھے۔ صفوں پر مٹی اور دھول نے اپنا قبضہ جما کر اس بات کو اور بھی پختہ کر دیا تھا کہ اللہ کے خوف سے بڑھ کر بھی ایک خوف ایسا ہے جو انسانوں کے دل و دماغ میں گھر کر گیا ہے اور وہ خوف موت کا ہے۔ بے وقت اور اذیت سے بھر پور موت جو کسی بھی وقت کسی بھی عبادت کرنے والے کو اپنے خوفناک پنجوں میں جکڑ سکتی ہے۔ اس خوف نے وطن عزیز کی گلیاں، بازار، کوچے او رمیلے ٹھیلے سب ویران کر کے رکھ دیئے تھے۔ کوئی بھی اپنے بچوں کو اپنے سامنے ذبح ہوتے نہ دیکھ سکتا تھا اور بچے  بھی اپنے والدین کے سروں کے فٹبال بنا کر کھیلنے والے کھلاڑیوں کو سامنے دیکھ کر سسکنے کی سکت نہ رکھتے تھے۔ خوف زدہ حلیے والے نان سٹیٹ ایکٹرز وطن کی ہر گلی کوچے میں اپنی شریعت نافذ کرنے نکل پڑے تھے ۔ان وطن دشمنوں اور اسلام کے ٹھیکے داروں کو ہمسایہ ملک ہندوستان کی پشت پناہی حاصل تھی وہ بر ملا اس بات کا اظہار کرتے تھے کہ وہ پاکستان میں خون اور آگ کی ہولی پاکستانیوں کے جسموں سے کھیلیں گے اور اپنی ہر ایک کامیاب کارروائی پر ایک بھر پور جشن بھی منائیں گے اور وہ ایسا کرنے میں کافی حد تک کامیاب بھی ہو چکے تھے۔ ان کا ٹھکانہ کالجز مدرسوں، سکولوں اور یونیورسٹیوں کے وہ طلباء ہوتے تھے جو اپنی فیسیں یا اپنے اخراجات سے تنگ رہتے تھے وہ ان کو بہت سارے روپوں اور غیر ملکی کرنسی کا لالچ دے کر ان کوایک سب سے بڑی نوید یہ بھی سناتے کہ جنت میں حوریں ان کی منتظر ہیں۔ '' بابا جی بنا رکے اپنی بات کو جاری رکھے ہوئے تھے لیکن کبھی کبھی ان کی آواز بھرا جاتی تھی۔ وہ اپنے لہجے پر قابو پاتے اور چائے کا ایک گھونٹ پی کر اپنی بات کو وہیں سے شروع کرتے جہاں سے تسلسل ٹوٹتا تھا۔ ''ان کا منصوبہ فی الحال کامیاب ہو رہا تھا۔ بہت سے شہروں میںاہم شاہراہوں پر خود کش دھماکے اور ریموٹ بم دھماکوں سے آئے روز گونجنے والی فضا ان کی کامیابی کو دن بہ دن بڑھاوا دے رہی تھی ، جو بھی گھر سے گیا تھا اس کے واپس آنے کی کوئی بھی امید نہ ہوتی تھی۔ زندگی ہر روز جینے کے لئے سسکتی ہوئی اپنے قاتل کی طرف سماجت بھری نظروں سے دیکھتی اور مر جاتی تھی لیکن قاتل تو قاتل ہی ہوتا ہے، وہ ظالم اور بے ترس انسان بن کر انسانوں کے خون کی ندیاں بہاتے، اپنے اس قبیح فعل پر فخر کرتے اور انسانیت کی لاشوں پر ناچتے تھے۔ ان کو یہ بھی یا د نہیں تھا کہ ایک انسان کی موت پوری انسانیت کی موت کے مترادف ہے ان کو یہ بھی نہیں یاد تھا کہ ایک انسان کی زندگی بچانا پوری انسانیت کی زندگی بچانے برابر ہے ۔ان کا دین، ایمان، شریعت اور اسلام سے اعتبار اٹھ چکا تھا وہ  روپیہ پیسہ لالچ اور ہوس کی جاگیریں بنانے میں دن رات مصروف تھے ۔ لیکن ہر فرعون را موسیٰ است کے مصداق اللہ کریم  نے ان کی لہو اگلنے والی بندوقوں کی نالیاں موڑتے ہوئے ایسے موسیٰ پیدا کئے کہ جن کو دیکھ کر اب ان کی روحیں بھی کانپ رہی ہیں اور ان کے بدنوں میںجان بھی باقی نہیں رہی ہے۔ اللہ کریم نے اپنے پرندے اس بار ابابیل کی صورت میں آسمان سے نازل کرنے کے بجائے انسانوں کی ایک ایسی فوج تیار کی جو دین اسلام کے قاتلوں کے لئے خوف اور دہشت کی علامت بن کر سامنے آئی اس انسانی فوج کو اپنے سامنے پا کر دشمن دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو گیا۔ اس کے دانت نہ صرف کھٹے ہوگئے ہیں بلکہ ٹوٹ ہی گئے ہیں۔ '' بابا جی نے ایک لمبی سانس لے کر دو ر آسمان کی طرف دیکھا اور روتی ہوئی آنکھوں سے ان کی طرف دیکھ کر دکھ سے گویا ہوئے : '' پہلے جب اللہ کی فوج پرندوں کی شکل میں آئی تھی توایک طرف حق تھا اور دوسری جانب باطل۔
بابا جی اپنی جگہ سے اٹھے اور پُراعتماد لہجے میں بولے ،'' اب وہ پرندے اللہ کی فوج بن کر پاکستان کی حفاظت کرنے کے لئے اپنا روپ بدل چکے ہیں۔ اب وہ پرندے انسانی روپ میں آ چکے ہیں اور وہ باطل کو مٹا کر ہی دم لیں گے۔'' 
  ایک ماہ کے دوران شہر کے بڑے کالج میں دو خود کش بمباروں نے اپنا قبیح عمل کرتے ہوئے بہت سے معصوم بچوں کی جانیں لے لی تھیں۔ پورے ملک میں سوگ کی فضا چھا گئی تھی لیکن پھر ایک دن بزدل دشمن گھیر لیا گیا ایک یونیورسٹی میں کچھ لوگ اسلحہ لے کر داخل ہوئے اور اپنے ہتھیاروں کو استعمال کرتے ہوئے اندھا دھند گولیاں برسانے لگے لیکن تیار اور اطلا ع پر اپنی پوزیشنیں لے کر ان کو نیست و نابود کرنے والی پاکستانی فوج کے جوانوں نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا او ر ان سب کو جہنم واصل کر دیا اس تما م ایکشن میں پاک فوج کے دوجوان شہادت کا اعلیٰ رتبہ پاکر اللہ کے حضور سر خرو ہو چکے تھے لیکن سرمد اور اس کے ساتھیوں کے لئے شدید حیرت کا جھٹکا اس وقت لگا جب میجر ضرغام کی تصویر پورے ملک کے ٹی وی چینلز پر بار بار دکھائی دینے لگی۔ وہ جام شہادت نوش فرما چکے تھے اور سرمد سمیت اس کے سبھی دوست جانتے تھے کہ میجر ضرغام وہی با با جی تھے جو بھیس بدل کر اپنی ڈیوٹی بڑی محنت اور جانفشانی سے کرتے تھے۔ نہ کبھی دھوپ دیکھی اور نہ کبھی دنیا کی پروا کی کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اپنی معصومانہ حرکتوں کی بدولت عام عوام کی توجہ حاصل کرنے والے میجر ضرغام کے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی جو ان سب کو ایک ہی پیغام دے رہی تھی کہ اب اللہ کی فوج پرندوں کی صور ت میں کبھی نہیں آئے گی اب اللہ کی فوج نے انسانی روپ دھار کر پاکستان میں جنم لے لیا ہے۔ اب پرندے کبھی نہیں آئیں گے لیکن پاکستان کی حفاظت اور سا  لمیت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے کسی بھی بھیس میں ہر اس جگہ موجود  ہیں جس جگہ سے پاکستان کے وقار اور سا  لمیت کو خطرہ ہوگا۔


 [email protected]


 

یہ تحریر 103مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP