متفرقات

پاک چین دوستی

کاشغر شہر روز بروز ترقی کی راہ پر گامزن ہے جہاں ایک طرف فلک بوس عمارتیں بن رہی ہیں تو دوسری طرف عوام کے لئے خوبصورت پارکس۔ شام کے وقت بڑی تعداد میں عوام ان خوبصورت پارکس کا رخ کرتے ہیںان میں' مائوزے تنگ پارک' سب سے زیادہ خوبصورت پارک ہے۔ مائوزے تنگ یہاں کے عوام کا ایسا بڑا لیڈر گزراہے جس نے چین کو آج اس مقام تک پہنچایا ہے۔ پارک کی مین شاہراہ پراس عظیم رہنماکا قد آور مجسمہ نصب کیا گیاہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ، خصوصاً غیرملکی سیاح، اس مجسمے کے ساتھ تصویریں بناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ راقم اب تک چار مرتبہ خنجراب کے راستے چین گیا ہے۔ اور راقم نے ہر سال اس ملک کی بڑھتی ہوئی ترقی دیکھی ہے۔ چین کو ترقی کے میدان میں سب سے آگے لانے میں مائوزے تنگ جیسے رہنما کا اہم کردار ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں ستر فی صد سے زائد مصنوعات چین کی استعمال ہورہی ہیں اور اب سی پیک بن جانے کے بعد ان مصنوعات کی ما نگ میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ چونکہ  سی پیک میں جہاں پاکستان کو بیس فی صد فائدہ ہے، تو وہاں چین کو سی پیک سے اَسّی فی صد فائدہ حاصل ہوگا اور اس اہم منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اس پر تیزی سے کام جاری ہے۔یہ منصوبہ٢٠٣٠تک پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے گاجن میں اہم شاہراہوں کی تعمیر کے علاوہ ریلوے ٹریک اور شاہراہ کے ساتھ ساتھ گیس کی پائپ لائن بچھانابھی شامل ہے۔ 
کاشغر کا ٹافون پارک بھی سیاحوںکی توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے ۔ شام کے بعد سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اس پارک میں پہنچ جاتی ہے جبکہ عوام بھی دن بھر کی تھکاوٹ دور کرنے اس پارک میں ڈیرے ڈال لیتے ہیں۔ یہاںایک خوبصورت جھیل ہے جس کے ایک طرف مختلف اقسام کی مچھلیوں کی بڑی تعداد موجود ہے تو دوسری طرف کشتیوں میں اس جھیل کی سیر کا اپنا ہی ایک مزہ ہے۔ اس کے علاوہ آس پاس کافی، کولڈ ڈرنک اور کھانے پینے کے چھوٹے ہوٹل بھی موجود ہیں جب کہ ادھر اُدھرنظردوڑایں تو آسمان کوچھونے والی عمارتیں نظر آتی ہیں حالانکہ دو سال قبل جب میں چین گیا تھا تو کاشغر میں مجھے اس طرح کی عمارتیں بہت کم نظر آئیں۔ سی پیک کی وجہ سے چین کے بڑے کاروباری افراد نے اپنے کارخانوں کو بیجنگ سے کاشغر شفٹ کر لیا ہے کاشغر سے بیجنگ تک سات گھنٹے کی فلائٹ ہے تو اس سے اندازہ لگائیں کہ بیجنگ سے کاشغر تک روڈ کے سفر میں تقریباًایک ہفتہ سے زیادہ لگتا ہوگا۔ سی پیک سے پاکستان اور چین ترقی کی راہ پر گامزن ہوںگے۔ اب چین کی مصنوعات گوادر کے راستے چند دنوں میں یورپ کے ممالک میں پہنچ جائیں گی ۔
سی پیک کی وجہ سے جہاں پاکستان ترقی کے ایک نئے دور میں شامل ہو گا وہاں چین کے صوبے سنکیانگ کے بالائی علاقے کاشغر اور تاشقرغان کے لاکھوں عوام کو بھی اس سے فائد ہ حاصل ہوگا۔چین کے بالائی صوبے سنکیانگ کو ملک کا سب سے پسماندہ صوبہ قرار دیا جاتا رہا ہے اور اس وجہ سے اس علاقے کے عوام کو سی پیک سے فائدہ پہنچانے اور ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لانے کے لئے ابھی سے اقدامات شروع کر دئیے گئے ہیں۔ کاشغر اور تاشقرغان میں بہت بڑی عمارتوں اور کارخانوں کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے اور سڑکوں کا جال بچھایا جارہا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ کاشغر اور تاشقرغان چین کے بہت ہی غریب علاقوں میں شامل ہوتے تھے١٩٨٠سے لے کر٢٠٠٢تک پاکستان خصوصاً گلگت  بلتستان سے چین جانے والے افراد جب کاشغر پہنچتے تو کاشغر کے لوگ ان کابے حد احترام کرتے اور پاکستان سے آنے والے مسافروں سے سب سے پہلے یہ سوال کرتے تھے کہ آپ اپنے ساتھ پاکستان سے اخروٹ اور بادام تو نہیں لائے اگر کوئی مسافر یہ ڈرائی فروٹ لایا ہوتا تو اسے منہ مانگی قیمت دے کر ڈرائی فروٹ خریدتے اور اپنے گھر لے جاتے۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے ڈرائی فروٹ میں خوبانی کی بھی بہت مانگ تھی۔ پھر آہستہ آہستہ کاشغر شہر میں زراعت کے شعبوں سے وابستہ افراد نے بھی اپنے باغات میں اخروٹ اور بادام کے پودے لگانے شروع کر دئیے۔ آج کل شہر کے آس پاس کے دیہاتوں کے علاوہ شہر کے اندر سڑکوں کے کنارے بھی اخروٹ کے بڑے درخت نظر آتے ہیں اور مقامی کاشت کار اپنی محنت میں مصروف ہیں اور آج کاشغر کی مارکیٹوں میں وہاں کی اپنی پیداوار اخروٹ اور بادام کوسستے داموں فروخت کیا جارہا ہے۔ سنکیانگ ہے تو ایک صوبے کا نام مگر اس صوبے کی آبادی کروڑوں میں ہے۔ ان لوگوں کی آج ترقی میں آگے نکلنے کی اصل وجہ ان کی قیادت تھی۔ چین ہم سے دو سال بعد آزاد ہوا تھا مگر آج ترقی کے میدان میں دیکھا جائے تو چین نے دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اس وقت پوری دنیا میں ستر فی صد مصنوعات چین کی فروخت ہوتی ہیں اور چین نے پوری دنیا کی مارکیٹ میں اپنا قبضہ جمایا ہوا ہے ۔بتا یا جاتا ہے کہ چین کے انقلابی لیڈر ماؤزے تنگ نے اپنی قوم کو چار اصول بتائے تھے جن میں برداشت، تسلسل ،خود انحصاری اور عاجزی شامل ہیں۔ یہ چار وں خوبیاںچین کے بانی ماؤزئے تنگ میں بھی موجود تھیں۔ چین کے بانی کی برداشت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کا بہادر سے بہادر انسان بھی اپنی اولادکی موت پر آنسو کنڑول نہیں کر سکتا۔ کوریا کی جنگ میں مائوزے تنگ نے اپنا چھوٹا بیٹا Mao Anyingجو آرمی میں لیفٹیننٹ تھے کو جنگ میں بھجوا دیا۔ ٢٥نومبر ١٩٥٠کو یہ نوجوان کوریاکے خلاف جنگ لڑتے ہوئے مارا گیا۔ بیٹے کی لاش واپس آئی تو یہ کہہ کر رونے سے انکار کیا کہ میں اس غم میں اکیلا نہیں ہوں میرے جیسے ہزاروں والدین کے بچے اس جنگ میں مارے گئے۔ میں پہلے ان کے آنسو پونچھوں گا۔ 
مائوزے تنگ کے بارے میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ انہیں انگریزی زبان پر عبور حاصل تھا۔مغرب میں چھپنے والی اچھی کتابوں کو منگواکر پڑھتے تھے ۔ ایک بار رچرڈ نکسن چین میں مائوزے تنگ سے ملنے گئے تو ماوزے تنگ نے ان کو ان کی کتابیں دکھا ئیں۔ نکسن یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ مائوزے تنگ نے نہ صرف ان کی کتابیں پڑھ رکھی تھیں بلکہ اوراق پر فٹ نوٹس بھی تھے اور بعض جگہوں پر سوالیہ نشان بھی مگر اس تمام تر انگریزی دانی کے باوجود ماوزے تنگ نے کسی دوسر ے شخص کے سامنے انگریزی کا ایک لفظ تک نہیں بولا اس کی وجہ چین اور چینی زبان سے محبت تھی۔ وہ کہتے تھے کہ میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوںچین گونگا نہیں،اس کی ایک زبان ہے اوراگر دنیا ہمارے قریب آنا چاہتی ہے یاہمیں سمجھنا چاہتی ہے تو اسے  ہماری زبان سمجھنا اور جاننا ہوگی۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اتنے بڑے عالمی لیڈر نے پوری زندگی میں ایک یا دو ملکوں کا دورہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں چین کا لیڈر ہوں، چین میں رہوں گا چنا نچہ ان کی جگہ چواین لائی دوسرے ممالک کے دورے کرتے تھے اور ان کی برداشت کی انتہا دیکھئے وہ انگریزی زبان سمجھتے تھے لیکن جب انہیں انگریزی زبان میں کوئی لطیفہ سنایا جاتا تھا تو خاموش ہوجاتے ، لیکن جونہی اس لطیفہ کا چینی زبان میں ترجمہ کیا جاتا تو کھلکھلاکر ہنستے تھے۔ یہ وہ لیڈر شپ تھی جس نے  پوری زندگی تین جوڑے کپڑے اور دو جوڑے جوتوں میں گزاری اور اپنی زندگی کی آخری ساعتیں تین مرلے کے گھر میں گزاریں۔ جس نے اپنے ملک کو سپر پاور بنا دیا، جس نے اپنے ازلی دشمنوں کو' میڈ ان چائنہ' پر مجبور کیا چین آج ایک ایسا ملک بن گیا ہے کہ امریکہ جیسا ملک آج اپنے قومی دن پر آتش بازی کا سامان چین سے منگواتا ہے ۔آج دنیا میںستر فی صد مصنوعات چین کی فروخت ہوتی ہیں یہ جان کر ہمیں حیرت ہوگی کہ پاکستان کے ذریعے چین کے لوگوں نے دنیا دیکھنا شروع کی۔ پی آئی اے پہلی انٹرنیشنل ایئرلائن تھی جس کے جہاز نے سب سے پہلے ١٩٦٠میںچین کی سرزمین کو چھوا ،پی آئی اے کے جہاز کی چین میں لینڈنگ پر پورے چین میں جشن منایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان نے صدر ایوب کے دور حکومت میں چین کو تین جہاز فروخت کئے۔ ان میں سے ایک جہاز مائوزے تنگ استعمال کرتے تھے۔ پاکستان پہلا ملک ہے جس نے چینی مصنوعات کی امپورٹ کی اجازت دی۔ یہ وہ چین ہے جو ہم سے دو سال بعد آزاد ہوا۔ آج یہ ملک ترقی کے میدان میں اتنا آگے نکل چکا ہے کہ امریکہ جیسے ملکوں کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں اور چین ایک ایسا ملک ہے جس نے ہر مشکل میں ہمارا ساتھ دیا۔ کاش ہمارے حکمران بھی مائوزے تنگ کی طرز کی حکومت کرتے اور خود کو امیر سے امیر تر بنانے کے بجائے اپنے عوام کا سوچتے ۔ موجودہ حکومت کے اٹھائے گئے اقدامات سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اب ہمارا ملک بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا اور امید ہے کہ وقت کے حکمران ملک کے غریب عوام کے بارے میں اچھے اقدامات اٹھائیںگے اور ہمارا ملک بھی ایک ترقی یافتہ ملک ہوگا لیکن اس کے لئے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سخت محنت کرنی ہوگی ۔


 [email protected]

یہ تحریر 419مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP