قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاک چائنہ سٹریٹجک پارٹنر شپ :  ماضی، حال اور مستقبل کے تناظر میں

ملکوں کے باہمی تعلقات میں وقت اور حالات کے ساتھ تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے پیچھے کئی محرکات ہوتے ہیں۔ مگر اندرونی اور بیرونی عوامل سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اندرونی عوامل میں حکومتوں کی اور بیرونی عوامل میں عالمی سٹریٹجک ماحول میں تبدیلی شامل ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد دُنیا میں امریکہ اور سابقہ سوویت یونین دو سُپر پاورز کی حیثیت سے عالمی سیاسی منظر نامے پرنمودار ہوئیں دُنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے ان دونوں سپر پاورز کے درمیان سیاسی، عسکری، معاشی اور نظریاتی شعبو ں میں محاذ آرائی کا ایک دور شروع ہوا جسے کولڈوار (سرد جنگ) کہا جاتا ہے۔ ان دو سپر پاورز میں سرد جنگ کے ماحول نے دُنیا کے باقی ممالک کے خارجہ تعلقات پر گہرا اثر ڈالا اور وہ اپنے قومی مفادات کے پیش نظر اِن دو سپر پاورز میں سے کسی ایک کے ساتھ منسلک ہوگئے یا غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کرلیا۔ بیسویں صدی کے آخری عشرے کے آغاز پر دیوارِ برلن کے انہدام اور مشرقی یورپ کے ممالک میں کیمونسٹ حکومتوں کے خلاف بغاوت اور سابقہ سوویت یونین کے شیرازے بکھرنے کی وجہ سے ''سرد جنگ'' کا خاتمہ ہوگیا۔ یہ تبدیلی  بین الاقوامی سیاست میں ایک بھونچال سے کم نہ تھی اور اس نے دنیا کی تقریباً ہر ریاست کو اپنے خصوصاً ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ لینے پر مجبور کردیا۔ اسی طرح نائن الیون کے دہشت گردی کے واقعات نے عالمی سیاست کو یکسر تبدیل کردیا۔ اس کا بھی قوموں کے باہمی تعلقات پر گہرا اثر پڑا۔ لیکن پاکستان اور چین کے درمیان عین اُسی وقت قائم ہونے والی دوستی جب ''سرد جنگ'' عروج پر تھی، ان ہیجان خیز تبدیلیوں سے متاثر نہ ہوئی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی جڑیں اور بھی گہری ہوتی گئیں۔اسی طرح گزشتہ 70 برسوں میں پاکستان اور چین میں کئی حکومتیں آئیں اور گئیں۔ لیکن دونوں ملکوں کے دوستانہ تعلقات اور باہمی تعاون میں رخنہ نہ پڑ سکا بلکہ ہر آنے والی نئی حکومت نے اسی دوستی کی بنیاد کو اور بھی مضبوط کیا۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بناء پر پاک چین تعلقات کو دوستی کی انوکھی(Unique) مثال کہا جاتا ہے۔عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ پاک چین دوستی کی بنیاد 1960 کی دہائی کے وسط میں رکھی گئی تھی، جب دونوں ملکوں نے 1963 میں سرحدی معاہدے پر دستخط کئے تھے اور اسلام آباد سیبیجنگ ایئرپورٹ پر پی آئی اے کو پرواز شروع کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ دونوں معاہدے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پربھی دُور رس نتائج کے حامل تھے کیونکہ پاکستان اور چین نے شمال میں اپنی مشترکہ سرحد کی نشان دہی کرکے اس پر اُس وقت معاہدہ کیا تھاجب ایک برس قبل سرحدی تنازع کی وجہ سے  بھارت اور چین کے درمیان جنگ چھِڑ چُکی تھی۔ جنگ کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات سخت کشیدہ تھے۔ دوسری طرف چین کا اپنے ایک اور اہم ہمسایہ ملک سابقہ سوویت یونین کے ساتھ نظریاتی تنازعہ عروج پر تھا۔ سوویت یونین کی طرف سے 1962 کی سرحدی جنگ میں چین کے مقابلے میں بھارت کی حمایت نے چین کے لئے مزید مشکلات کھڑی کر دی تھیں۔ لیکن سب سے زیادہ خطرہ امریکہ کی معاندانہ اور اشتعال انگیز پالیسیوں کی وجہ سے تھا۔1949 میں جب مائوزے تنگ کی قیادت میں چین کی کیمونسٹ پارٹی نے امریکہ کی حمایت اور مدد کے ساتھ لڑنے والی چیانگ کائی شک کی نیشنلسٹ فوج کو شکست دے کر عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی، تو امریکہ نے نہ صرف چین کی نئی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا بلکہ چین کے گِرد گھیرا تنگ کرنے کی پالیسی کے تحت چین کو دنیا سے الگ تھلک کرنے کی کوشش کی۔ ویت نام کی جنگ میں امریکی مداخلت سے حالات اور بھی کشیدہ ہوگئے کیونکہ امریکہ کی طرف سے چین پر ویت نام میں امریکہ کے خلاف لڑنے والے گوریلاز کو امداد فراہم کرنے کا الزام عائد کیاجارہا تھا۔1954 میں سیٹو(سائوتھ ایسٹ ایشیا ٹریٹی آرگنائزیشن) کا فوجی اتحاد قائم کرکے امریکہ نے چین پر فوجی دبائو ڈالنے کی کوشش کی۔ امریکہ ، برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، فلپائن کے علاوہ پاکستان بھی اس اتحاد میں شامل تھا۔ ان حالات میں چین کے ساتھ پرُامن طریقے اور مذاکرات کے ذریعے پاکستان کی طرف سے مشترکہ سرحد کی نشاندہی کرکے ایک معاہدے پر دستخط کرنا ایک ایسی مثال تھی جس کی بعد میں بھارت کے علاوہ باقی تمام ہمسایہ ممالک نے تقلید کرتے ہوئے چین کے ساتھ سرحدی معاہدات کئے۔ اسی طرح بیجنگ اور اسلام آباد کے درمیان پی آئی اے کی باقاعدہ پروازوں کا آغاز کرکے پاکستان نے چین کو نہ صرف خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ ، بلکہ اس سے بھی آگے افریقہ  تک رسائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔
1963 کے سرحدی معاہدے اور پاکستان کے راستے چین کے ساتھ ایئر لنک  کے قیام نے چین کے خلاف امریکہ کی Containment Policyکو کافی حد تک غیر مؤثرکردیا۔ پاکستان کے اس دوستانہ اقدام کو چین نے آج تک نہیں بھلایا۔ ایک ایسے وقت میں جب امریکہ نے چین کے خلاف سفارتی اور تجارتی  بائیکاٹ کا اعلان کررکھا تھا۔ پاکستان نے عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے صرف دو سال بعد یعنی 1950 میں چین کی نئی حکومت کو تسلیم کیا۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ چین نے سیٹو میں پاکستان کی شمولیت کو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پر اثرانداز نہیں ہونے دیا۔ حالانکہ امریکہ نے یہ معاہدہ چین پر فوجی دبائو ڈالنے کے لئے کیا تھا مگر 1955 میں انڈونیشیا میں افروایشیائی کانفرنس کے موقع پر جب پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم محمدعلی بوگرہ نے چینی وزیرِاعظم چواین لائی کو یقین دلایا کہ پاکستان سیٹو کے پلیٹ فارم سے چین کے خلاف کسی فوجی کارروائی میںحصہ نہیں لے گا، تو چینی رہنما مطمئن ہوگئے۔ اس کے بعد چین سیٹو کی مذمت کرتا رہا مگر اس میں پاکستان کی شمولیت کو کبھی ہدفِ تنقیدنہیں بنایا بلکہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں سیاسی، سفارتی اور تجارتی سطح پر پیشرفت ہوتی رہی۔1956 میں پاکستان کے وزیرِاعظم حسین سہروردی کا دورئہ چین اس کی ایک مثال ہے۔ ابتداء سے ہی چین کی خارجہ  پالیسی کی ایک ممتاز خصوصیت یہ رہی ہے کہ چین نے اپنے ہمسایہ اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرتے وقت ہمیشہ دو طرفہ تعلقات کے اصو ل کو ترجیح دی اورکسی تیسرے ملک کے ساتھ تعلقات کو اس پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی۔ جنوبی ایشیا میں پاک چائنا دوستی کا ارتقاء اس کی زندہ اور روشن دلیل ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جن دنوں ''ہندی چینی بھائی بھائی'' کے نعرے گونجتے تھے، اُن دنوں بھی پاکستان اور چین کے تعلقات میں معمول کے مطابق گرم جوشی پائی جاتی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دیگر بڑی طاقتوں کے برعکس، چین نے جنوبی ایشیا کو کبھی بھی بھارت کی آنکھ سے نہیں دیکھا بلکہ بھارت سمیت  خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو سختی سے دو طرفہ بنیادوں پر استوار کئے رکھا۔ اس وقت جنوبی ایشیا میں بھارت سمیت خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی چین کے مختلف شعبوں مثلاً تجارت ، سرمایہ کاری اور ثقافت میں تعلقات موجودہیں۔ لیکن چین نے کسی ملک کے ساتھ اپنے تعلقات کو کسی تیسرے  ملک کے ساتھ تعلقات سے مشروط نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین دوسرے ملکوں خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، کے ساتھ تعلقات قائم کرتے وقت نہ صرف باہمی مفاد بلکہ مساوات اور باہمی احترام کا اصول بھی مدنظر رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دُنیا کے تمام خطوں میں خواہ وہ جنوبی ایشیائی ، مشرقِ وسطیٰ یا افریقہ ہو، چین کی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ چین کے گزشتہ 70 سال کے تعلقات کی اہم خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ دونوں ملکوں نے اندرونی اور  بیرونی حالات اور تبدیلیوں کو باہمی دوستی پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی۔ سرد جنگ کا خاتمہ اور سابقہ سوویت یونین کا شیرازہ بکھر جانا کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے تقریباً تمام ممالک کو اپنے خارجہ تعلقات کی نوعیت اور سمت تبدیل کرنا پڑی لیکن پاکستان اور چین کے قریبی تعلقات میں کوئی رخنہ نہ پڑا، بلکہ دونوں ملکوں نے نئے عالمی نظام کے تقاضوں کے مطابق اپنے دو طرفہ تعلقات کو اور بھی مضبوط کرلیا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سلامتی (سکیورٹی) کے مفہوم میں بھی بنیادی تبدیلیاں رُونما ہوئیں اور اس کے معنی کو وسیع تناظر میں دیکھا جانے لگا۔ دُنیا کے تمام ممالک نے اپنی قومی ترقی اور خارجہ تعلقات کی ترجیحات کو ازسرِ نو مرتب کرنا شروع کیا جس میں معاشی ترقی کو اس کا جائز مقام دیاگیا۔1960کے عشرے میں قائم ہونے والے پاک چین تعلقات کافوکس زیادہ تر ملٹری ٹو ملٹری تعاون پر رہا ہے۔ اب بھی ملٹری کے شعبے میں تعاون پاک چین دوستی کا سب سے اہم ستون اور دونوں  ملکوں کے درمیان قریبی تعاون کی سب سے اہم بنیاد ہے کیونکہ اس وقت پاکستان اپنی تینوں مسلح افواج کے لئے اسلحہ اور ہتھیاروں کی 74فیصد تک مقدار چین سے درآمد کرکے پوری کرتا ہے۔ پاکستان اور چین میں ملٹری تعاون جاری ہے اور اسے مزید گہرا کیاجارہا ہے۔ اس مقصد کے لئے دونوں ملکوں کی عسکری قیادت میں اعلیٰ سطح پر برابر رابطہ قائم ہے۔ گزشتہ سال نومبر میں چین کے وزیرِ دفاع وی فنگ شی (Wei Fengshe) نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران چینی وزیرِ دفاع نے نہ صرف چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی بلکہ وہ صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان سے بھی ملے۔ اسی دورے کے دوران چین کی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) اور پاکستان آرمی کے درمیان ایک ایم او یو پر بھی دستخط کئے گئے جس کا مقصد خطے میں نئے خطرات اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان عسکری شعبے میں تعاون  کی ایک اور شکل دونوں ملکوں کی مشترکہ فوجی مشقیں ہیں۔  گزشتہ سال دسمبر میں دونوں ملکوں کی فضائیہ کے درمیان صوبہ سندھ میں مشترکہ مشقیں''شا ہین IX منعقد کی گئی تھیں۔اب تک پاکستان چینی ہتھیاروں سے اپنی بحری اور فضائی افواج کی ضروریات پوری کرتا رہا ہے لیکن اب پاکستان نے اپنی زمینی فوج کے لئے بھی چین سے بھاری ہتھیار حاصل کرنا شروع کردیئے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان نے چین سے حاصل کردہ VT-4 بیٹل ٹینکوں کے پہلے بیچ کو اپنی بری فوج میں شامل کیا ہے۔ پاک چین دوستی کی بنیاد کو مزید مستحکم کرنے کے لئے دونوں ملکوں نے اب معاشی تعلقات کو بھی فروغ دینا شروع کردیا ہے۔2006 میں ایف ۔ٹی۔ اے پر دستخط کرکے اس حکمت عملی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں آج چین تقریباً 18 بلین ڈالر سالانہ دوطرفہ تجارت کے ساتھ پاکستان کا سب سے بڑا ٹریڈنگ پارٹنر ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان معاشی تعاون کی سب سے بڑی مثال ''پاک چائنا اکنامک کاریڈور''(CPEC)کے تحت چین نے پاکستان میں انفرا سٹریکچر کی تعمیر اور توانائی کے شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔اپنے دوسرے فیز میں چین اور پاکستان زراعت ، صنعت اور آبی وسائل کی مینجمنٹ میںمشترکہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں گے۔ فوجی اور معاشی شعبوں میں قریبی تعاون کے ساتھ ساتھ پاکستان اور چین کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان عالمی اور علاقائی مسائل پر مشاورت کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔ حال ہی میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ساتھ چین کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد '' پاک چین سٹریٹجک ڈیڈ لاک'' کے تحت باہمی دلچسپی کے اُمور خطے کی صورت حال خصوصاً افغانستان اور دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔ 
آج سے تقریباً  ستر سال قبل پاک چین دوستی کی بنیاد رکھنے کے بعد پاکستان اور چین دونوں میں تیسری نسل جوان ہو چکی ہیں۔ مگر ایک دوسرے کے لئے محبت اور احترام میں کوئی فرق نہیں آیا۔اس عرصہ میں عالمی سیاسی اُفق پر کئی بنیادی تبدیلیاں رُونما  ہوچکی ہیں مگر پاکستان اور چین کے تعلقات متاثرنہیں ہوئے، بلکہ ان تبدیلیوں کے اثرات کو جذب کرتے ہوئے یہ تعلقات مضبوط ہو کر سٹریٹجک تعاون میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ خلیج فارس، مشرقِ وسطیٰ اوربرِاعظم افریقہ کے ممالک کے ساتھ چین کے بڑھتے ہوئے تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات سے چین کے لئے پاکستان کی اہمیت میں اور بھی اضافہ ہوچکا ہے۔ افغانستان کی غیر یقینی صورت حال، جنوبی ایشیااور بحرِ ہند کی چین کے خلاف امریکہ کی حکمتِ عملی میں شمولیت سے پاکستان اور چین کے درمیان سٹریٹجک پارٹنر شپ اور بھی ضروری ہوگئی ہے۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ پاکستان اور چین اُبھرتے ہوئے نئے چیلنجز اور خطرات سے آگاہ ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری اقدامات کررہے ہیں۔ ||


مضمون نگار معروف تجزیہ نگار اور کالم نویس ہیں۔
  [email protected]
 

یہ تحریر 120مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP